Bashar Hashmi
250 posts

Bashar Hashmi
@iambasharhashmi
Faith, Unity, Discipline and Nuclear 💯 Pakistan Zindabad 🇵🇰
Pakistan Katılım Ocak 2025
33 Takip Edilen23 Takipçiler


معرکہ حق آپریشن بُنۡيَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ کی تقریب میں @OfficialDGISPR لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب @TararAttaullah ایک ساتھ 🇵🇰
#BunyanUmMarsoos

اردو

@soldierspeaks کون سے پاکستانی نفرت کرتے ہیں؟ وہ پی ٹی آئی کے لونڈے لپاڑے؟ یا پھر ملک سے باہر بیٹھے تیرے جیسے چند دگڑ دلے؟
اردو

Today's Pakistan is entirely different from 1971; it possesses modern weapons and the capability to inflict far greater damage, admitted Indian politician Shashi Tharoor following the failure of Operation Sindoor.
#BunyanUmMarsoos
English

🚨 مئی کا معرکہ اور پروپیگنڈے کی دھول
جب سرحدوں پر بارود کی بو ہو اور دشمن کے ڈرونز فضاؤں میں منڈلا رہے ہوں، تو کچھ لوگ گھروں میں بیٹھ کر طنز کے تیر چلانے کو ہی "دانشورانہ جہاد" سمجھتے ہیں۔
آپریشن بنیان المرصوص یہ کسی ایک فرد کی کامیابی نہیں، بلکہ اس مربوط دفاع کا نام ہے جس نے 12 مئی کی صبح دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا۔ جب بھارتی مگ-21 اور رافیل کے ملبے گرے، تو وہ کسی سیاسی ڈیزائن سے نہیں بلکہ پاکستانی شاہینوں کی ہمت سے گرے تھے۔
دشمن نے ڈرونز کے ذریعے سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کی بزدلانہ کوشش کی، لیکن ہمارے ایئر ڈیفنس نے وہ جال توڑ دیا۔ جو لوگ مدرسوں اور تنصیبات کی تباہی کا مبالغہ آرائی پر مبنی جشن منا رہے ہیں، وہ شاید بھول گئے کہ اس دفاع کے لیے کتنے جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
سپہ سالار کی قیادت میں فوج نے جس پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا، اسے تمغوں اور القابات کی ضرورت نہیں۔ عہدوں کی بندر بانٹ کے افسانے صرف وہ لوگ گھڑ رہے ہیں جنہیں سرحد پر کھڑے جوان کی وردی سے زیادہ سیاست میں دلچسپی ہے۔
سلام ہے ان محافظوں کو!
جو سرحد پر جاگتے ہیں تاکہ ہم سوشل میڈیا پر بیٹھ کر آزادی سے تنقید کے نشتر چلا سکیں۔ تنقید ضرور کریں، لیکن ریاست کے دفاع اور شہداء کی قربانیوں کو سیاسی طنز کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔
#BunyanUmMarsoos

اردو


🚨🇮🇳وہ رات جب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف بھارتی سازش ناکام ہوئی
پاکستان کی ایٹمی تاریخ کا یہ باب کسی جاسوسی فلم سے کم نہیں، جب 1980 کی دہائی کے وسط میں کہوٹہ کی لیبارٹریوں میں ایٹم بم کی تیاری اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہی تھی۔ اس دوران بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' نے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کے لیے کہوٹہ کے ارد گرد ایک وسیع جاسوسی جال بچھایا ہوا تھا، یہاں تک کہ کہوٹہ کے قریب حجام کی دکانوں پر بیٹھے جاسوس وہاں سے گزرنے والے سائنسدانوں کے بالوں کے نمونے تک اکٹھے کر رہے تھے تاکہ تابکاری کے اثرات کی جانچ کی جا سکے۔ جب آئی ایس آئی نے اس خطرناک نیٹ ورک کا سراغ لگایا اور اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق کو رپورٹ دی کہ بھارت ان معلومات کی بنیاد پر کہوٹہ پر فضائی حملے کی تیاری کر رہا ہے، تو جنرل ضیاء نے انتہائی سرد جنگ کی مہارت دکھاتے ہوئے ایک سنسنی خیز فیصلے کی منظوری دی۔
ایک ہی رات کے اندر ملک بھر میں ایک خاموش مگر بھرپور کریک ڈاؤن شروع کیا گیا جس کا مقصد بھارتی انٹیلیجنس نیٹ ورک کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنا تھا۔ اس آپریشن میں 'را' کے درجنوں تربیت یافتہ ایجنٹوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنایا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کا سالوں سے بنایا گیا جاسوسی ڈھانچہ ایک ہی رات میں زمین بوس ہو گیا۔ اس برق رفتار کارروائی نے نہ صرف بھارت کو اندھیرے میں دھکیل دیا بلکہ اسے وہ ٹھوس ثبوت بھی فراہم نہ ہونے دیے جن کی آڑ میں وہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس تزویراتی کامیابی نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو وہ ڈھال فراہم کی جس کی بدولت ملک بحفاظت ایٹمی قوت بننے کی منزل تک پہنچ سکا۔
اردو

🚨🇮🇳بھارتی جنرل نے پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست تسلیم کر لی
بھارتی میجر جنرل (ریٹائرڈ) راجن کوچر کا حالیہ بیان بھارت کے فوجی اور سیاسی حلقوں میں ایک ہلچل مچا چکا ہے، جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ مئی 2025 کی جنگ میں پاکستان نے بھارت کو عبرت ناک اور شرمناک شکست دی۔ جنرل کوچر کے اس اعتراف نے مودی حکومت کے ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے جن میں بھارتی فوج کی برتری کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ میدانِ جنگ میں پاکستانی افواج کی دفاعی حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کے سامنے بھارتی عسکری قوت بے بس نظر آئی۔ اس اعتراف کو بین الاقوامی سطح پر بھارت کے لیے ایک بڑی سفارتی اور دفاعی سبکی تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن اب تبدیل ہو چکا ہے۔
#BunyanUmMarsoos
اردو

🚨🇮🇳 بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خدشات
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور بی جے پی (BJP) کے نئے وزیرِ اعلیٰ، سوویندو ادھیکاری کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد خطے میں شدید سیاسی تناؤ پایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور مبصرین کی جانب سے مسلسل یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیاں اور مسلم مخالف بیانیہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کر رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جس طرح عالمی سطح پر غزہ میں انسانی بحران اور نسل کشی جیسے اقدامات پر بحث ہو رہی ہے، اسی طرح بھارت میں بھی اشتعال انگیز تقاریر اور امتیازی قوانین کے ذریعے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں کسی بڑے انسانی المیے کے جنم لینے کا خطرہ ہے۔
مغربی بنگال کی سابق وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی اسے جمہوریت کی تباہی اور نفرت کی سیاست سے تعبیر کیا ہے، جو خطے کے امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
اردو







