Ibne Jamali
141 posts

Ibne Jamali
@ibne_jamali
سر راہ چلتے چلتے 🚶🏽🕊️✨
Seoul, Republic of Korea Katılım Aralık 2025
16 Takip Edilen1 Takipçiler
Ibne Jamali retweetledi
Ibne Jamali retweetledi
Ibne Jamali retweetledi

آؤ پھر سے خوش رہنا شروع کرتے ہیں
اپنی زندگی کو سادہ بنائیے
تعلق بحال کیجئے،
دوست بنایئے،
دعوت گھر پر کیجئے،
بے شک چائے پر بلائیں،
یا پھر آلو والے پراٹھوں کا ناشتہ ساتھ کیجئے،
دور ھونے والے سب چکر چھوڑ دیجئے،
واٹس ایپ فیس بک زرا کم استعمال کیجئے ، آمنے سامنے بیٹھئیے،
دل کی بات سنیئے اور سنائیے، مسکرائیے۔
یقین کیجئے خوشی بہت سستی مل جاتی ہے -
بلکہ مفت،
اور پریشانی تو بہت مہنگی ملتی ہے
جس کیلئے ہم اتنی محنت کرتے ہیں،
اور پھر حاصل کرتے ھیں۔
خوشی ہرگز بھی چارٹر طیارے میں سفر کرنے میں نہیں ھے۔ کبھی نئے جوتے پہن کر بستر پر رھیئے پاؤں نیچے رکھے تو جوتا گندا ھوجائے گا۔
بس محسوس کرنے کی بات ہے ،
ہمسائے کی بیل تو بجائیے -
ملئے مسکرائیے،
بس مسکراھٹ واپس آجائے گی، دوستوں سے ملئے دوستی کی باتیں کیجئے
ان کو دبانے کیلئے ڈگریاں، کامیابیاں، فیکٹریوں کا ذکر ھرگز مت کیجئے۔
پرانے وقت میں جایئے جب ایک ٹافی کے دوحصے کرکے کھاتے تھے
،فانٹا کی بوتل آدھی آدھی پی لیتے تھے.
ہم نے کیا کرنا چائے خانہ کا جہاں پچاس قسم کی چائے ہے۔
آؤ وہاں چلیں جہاں سب کیلئے ایک ہی چائے بنتی ہے ملائی مارکے، چینی ہلکی پتی تیز۔
آؤ پھر سے خوش رہنا شروع کرتے ھیں.
خوش رہنے کے لئے بچوں جیسے بن کے تو دیکھئ
چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھئے-
ٹوٹ کر گر گیا تو کونسی قیامت آجائے گی۔۔۔۔۔۔

اردو

کچھ لوگ آپکے دماغ کی ضرورت ہوتے ہیں اور کچھ آپکے دل کی احتیاج ہوتے ہیں۔لیکن کوئی ایک شخص ہوتا ہے جو آپکی کل ضروریات کا خلاصہ ہوتا ہے آپکی سوچ کو روشنی بخشتا اور دل کو غذا۔ 💙
—————————————
هناك أشخاص يحتاجهم عقلك
وهناك أشخاص يحتاجهم قلبك
وهناك شخص يلخص لك كل أحتياجاتك فيستنير به عقلك ويتغذى به قلبك

اردو

@UrduVirsa مہر صیب !
تساں نال بیٹھک کرنی پیسی ! رب سوہنے نوں منظور ہویا تے اسی سال ۔ انشا ءاللہ
زبردست خراج عقیدت 🤲🏼🌺
اردو
Ibne Jamali retweetledi

جاسوسی ڈائجسٹ کے بانی، سسپنس، سرگزشت، پاکیزہ ڈائجسٹوں کے مالک و مدیر معراج رسول صاحب کی تحریر:
26 جولائی کی رات کو جاسوسی ڈائجسٹ کی آخری کاپی کی تیاری میں خاصی دیر ہو گئی تھی اس لئے دوسرے دن ناشتے وغیرہ سے فارغ ہوتے ہوتے دوپہر ہو گئی، پرچے سے نمٹنے کے انتظار میں جو کام رکے پڑے تھے ان کی تکمیل میں دن گزر گیا، دفتر جانے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ یہ خیال بھی نہیں تھا کہ قدرت ابن صفی کو ابدی زندگی عطا کر چکی ہے۔ دوسرے دن صبح صبح اخبار میں ابن صفی کی تصویر دیکھ کر خوشگوار سی حیرت ہوئی، خیال آیا کہ شاید اخبار والوں کی نظر میں ابن صفی بھی بڑے آدمی قرار پا گئے، دوسرے ہی لمحے یہ خوشی غم میں بدل گئی، دل کو دھچکا لگا، یوں محسوس ہوا جیسے نہ جانے کون سی متاعِ عزیز ہاتھ سے چھن گئی۔ دِل یقین کرنے کو تیار نہ تھا کہ خبر صحیح ہے۔ دماغ بضد تھا کہ آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں، درست ہے۔ بالآخر دل ہار گیا، حقیقت تسلیم کرنا پڑی۔ یہ خیال کر کے اور زیادہ افسوس ہوا کہ براہِ راست یہ اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ متعلقہ افراد کیوں اتنے لا پرواہ ہو گئے۔ کم سے کم ان کی رخصت میں تو شریک ہوا جا سکتا تھا۔ آخری دیدار تو کیا جا سکتا تھا۔ بعد کی اطلاع سے ثابت ہوا کہ ذمّے دار لوگوں نے تو اپنی ذمے داری کو پوری طرح نبھایا تھا لیکن اپنے ہی دفتر کے ایک صاحب نے غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اطلاع دینے کی تکلیف گوارا نہیں کی۔
ارشادِ خداوندی ہے کہ ہر نفس کے لئے موت کا ذائقہ ہے، لیکن کچھ لوگ یہ ذائقہ چکھنے کے باوجود مرتے نہیں۔ ابن صفی انہی لوگوں میں سے ہیں جو لاکھوں دلوں میں بسا ہو، دماغوں پر چھایا ہو، جس کے تذکرے ہر خورد و کلاں کی زبان پر ہوں اسے کیسے زندوں سے مردوں میں شامل کر دیں جس کی تحریریں ہم اب بھی پڑھ سکتے ہیں۔ دلچسپ جملوں، طنزیہ فقروں، دلکش تحریروں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، اسے غیر موجود کیسے مان لیں۔ کس دل سے کہیں کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں ہے۔
بعض لوگوں کا اندازِ بیاں کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ کہتے کچھ ہیں سمجھ میں کچھ آتا ہے، جو لکھنا چاہتے ہیں اسے اچھی طرح بیان نہیں کر پاتے۔ پچھلے دنوں ایک اخبار میں کسی خاتون کا مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ذِکر کچھ ابنِ صفی کی گھریلو زندگی کا تھا۔ ممکن ہے خاتون کا مقصد وہ نہ ہو جو ان کے لب و لہجے اور اندازِ بیان سے جھلکتا تھا۔ تحریر سے تو یوں معلوم ہوتا تھا جیسے موصوفہ کو ابن صفی کے نظریات، خیالات اور طرزِ زندگی سے زبردست شکایت تھی کہ آخر وہ کیوں دقیانوسی خیالات کے حامل تھے (موصوفہ کے خیال میں) بھٹکے ہوئے جدید نظریات کو انہوں نے فیشن کے نام پر کیوں نہیں اپنایا تھا۔ روایات و اقدار کو کیوں سینے سے لگائے رہے۔
حیدر آباد یا کسی اور شہر کے ایک تعزیتی جلسے کا حال پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔ اس جلسے میں کسی صاحب نے یہ کہہ دیا کہ اردو میں جاسوسی ناولوں کی ابتدا ظفر عمر بی اے نے کی تھی۔ افسوس! انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ظفر عمر مصنف نہیں مترجم تھے۔ کسی مترجم کو اولیّت کی سند نہیں دی جا سکتی۔ ظفر عمر نے تو مشہور فرانسیسی مصنّف مارس لیبلانک کے کردار آرسین لوپن کو اردو کا جامہ بلکہ پاجامہ پہناتے ہوئے "بہرام" سے تبدیل کر دیا تھا۔ ان کا ناول "نیلی چھتری" مارس لیبلانک کے ناول کا ہو بہو ترجمہ ہے۔ کارنامہ جات آرسین لوپن کو بھی انہوں نے بہرام کے کارنامے کے نام سے اردو میں پیش کیا تھا۔ یوں تو سلطانہ ڈاکو، بہرام کا خفیہ خزانہ اور اسی قبیل کی دوسری کتابیں اردو میں پہلے سے موجود تھیں لیکن باقاعدہ جاسوسی ناولوں کی ابتدا ابن صفی ہی نے کی، ایسے ناول جنہیں ہر اعتبار سے غیر ملکی ناولوں کے مقابلے میں پیش ہی نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان سے بہتر قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق ان سے لطف اندوز ہوتا ہو۔ لوگوں میں پڑھنے کا غیر معمولی شوق پیدا کرنے میں ابن صفی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ایک زمانے میں ان کا بارہ آنے والا ناول پچاس پچاس روپے میں فروخت ہوتا تھا۔ لائبریری والے ایک روپیہ اور آٹھ آنے گھنٹے کے حساب سے ان ناولوں کو کرائے پر دیتے تھے۔ قارئین انہیں کتنا پسند کرتے تھے اور ان کے دل میں ابن صفی کی کتنی عزت تھی اس کا اندازہ ان کے نام آئے ہوئے خطوط سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ لوگ ہر مسئلے پر ان کی رائے جاننا چاہتے تھے۔ ہر الجھن میں ان کی رہنمائی کے متمنی رہتے تھے۔ قارئین انہیں صرف مصنف ہی نہیں بلکہ دوست، ساتھی اور رہنما بھی سمجھتے تھے۔ ابن صفی نے اپنی تحریروں میں جن اصولوں کا پرچار کیا ہے اور جن اخلاقی اقدار کے چراغ جلائے ہیں وہ تا ابد روشن رہیں گے اور آئینہ خانۂ دل ان کے عکس سے یونہی منور رہے گا۔
معراج رسول، بانی جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز، ستمبر 1980ء۔
مضمون بشکریہ محمد نعمان صاحب۔
تعاون بشکریہ ڈاکٹر حامد حسن، صاحب، اکرام عمران صاحب۔
منقول

اردو

@UrduVirsa @BeautyOfPaki سب کچھ گر ٹھیک ہو کیا تو ،
یاد کو پھر کس نے یاد کیا 😉
اردو

@Hussnain_Tweets جب ہو گا تب لکھنا
پاکستان کو dhit کے سوا کچھ اجھا لگتا نہیں !
اردو
Ibne Jamali retweetledi

جناب استاد اکرام عارفی کی غزل
بزبان شاعر ❤️
میری محبتوں سے ، پرے اور لوگ تھے
اس کی کسوٹیوں پہ کھرے اور لوگ تھے
ہم ہی مرے تھے اہل محبت کی جنگ میں
جب گنتیاں ہوئیں تو مرے اور لوگ تھے
یہ کون لوگ ہیں جو میرے آس پاس ہیں
میں جن کو ڈھونڈتا ہوں ارے اور لوگ تھے
شمع سخن بجھی تو ستاروں سے بھر گئے
ہم بزم خاموشی میں دھرے اور لوگ تھے
اردو
Ibne Jamali retweetledi

اعتبار ساجد کی غزل
باتوں باتوں میں بِچھڑنے کا اِشارہ کر کے
خود بھی رویا وہ بہت ہم سے کنارہ کر کے
سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں انجامِ خلوص
پھر اسی جُرمِ محبت کو دوبارہ کر کے
جگمگا دی ہیں تیرے شہر کی گلیاں میں نے
اپنے ہر اشک کو پلکوں پہ ستارہ کر کے
دیکھ لیتے ہیں چلو حوصلہ اپنے دل کا
اور کچھ روز تیرے ساتھ گزارہ کر کے
ایک ہی شہر میں رہنا، مگر مِلنا نہیں
دیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارا کر کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیارے احباب آپ کو یہ غزل پسند آئے تو، لائک، ریپوسٹ ، کمنٹ ضرور کیا کریں ۔ شکریہ

اردو
Ibne Jamali retweetledi

ایک زمین/ ردیف پر آٹھ غزلیں پڑھیں
شام تک صُبْح کی نظروں سے اُتر جاتے ہیں
اِتنے سمجھوتوں پہ جِیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
ہم تو بے نام اِرادوں کے مُسافر ٹھہرے
کچھ پتا ہو تو بتائیں کہ کِدھر جاتے ہیں
گھر کی گِرتی ہُوئی دِیوار ہے ہم سے اچھّی
راستہ چلتے ہُوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں
اِک جُدائی کا وہ لمحہ، کہ جو مرتا ہی نہیں
لوگ کہتے تھے سبھی وقت گُزر جاتے ہیں
پھر وہی تلخئ حالات مُقدّر ٹھہری
نشے کیسے بھی ہوں کُچھ دِن میں اُتر جاتے ہیں
وسیم بریلوی
===========
جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں
لوحِ ادراک پہ کچھ اور ابھر جاتے ہیں
حسن سے لیجئے تنظیمِ دو عالم کا سبق
صبح ہوتی ہے تو گیسو بھی سنور جاتے ہیں
ہم نے پایا ہے محبت کا خمارِ ابدی
کیسے ہوتے ہیں وہ نشے کہ اتر جاتے ہیں
اتنے خائف ہیں مے و مہ سے جنابِ واعظ
نامِ کوثر بھی جو سنتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں
مے کدہ بند، مقفل ہیں درِ دَیر و حرم
دیکھنا ہے کہ شکیلؔ آج کدھر جاتے ہیں
شکیل بدایونی
===============
درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں
زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں
چھت کی کڑیوں سے اُترتے ہیں مرے خواب مگر
میری دیواروں سے ٹکراکے بکھر جاتے ہیں
اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی
سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں
راسته روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سے
کوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں
نرم آواز، بھلی باتیں، مہذب لہجے
پہلی بارش میں ہی یہ رنگ اُتر جاتے ہیں
جاوید اختر
========================
شکیل جمالی
لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں
عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں
موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا مگر آج
اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں
زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے
لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں
پاؤں میں اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم
دل جدھر ٹھیک سمجھتا ہے ادھر جاتے ہیں
کیا جنوں خیز مسافت تھی ترے کوچے کی
اور اب یوں ہے کہ خاموش گزر جاتے ہیں
یہ محبت کی علامت تو نہیں ہے کوئی
تیرا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نادر لکھنوی
سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیں
نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں
لاکھوں کا خون بہائیں گے وہ جب ہوں گے جواں
جو لڑکپن میں لہو دیکھ کے ڈر جاتے ہیں
جنبش تیغ نگہ کی نہیں حاجت اصلاً
کام میرا وہ اشاروں ہی میں کر جاتے ہیں
ان کو عشاق ہی کے دل کی نہیں ہے تخصیص
کوئی شیشہ ہو پری بن کے اتر جاتے ہیں
برق کی طرح سے بیتاب جو ہیں اے نادرؔ
تار گھر کس کی وہ لینے کو خبر جاتے ہیں
==≠===================
احمد نثارؔ
ہم بھی گمنام کسی نام پہ مرجاتے ہیں
اور مر کر بھی تِرا نام ہی کر جاتے ہیں
جانے کس نام سے رشتوں کو نبھانا ہے ہمیں
اور کس نام سے ایام گذر جاتے ہیں
وقت کی شام کسی نے نہیں دیکھی لیکن
شام کا وقت تِرے نام ہی کر جاتے ہیں
جس طرف جاکے کوئی لوٹ کے آیا ہی نہیں
جانے کیوں لوگ اسی راہ گذر جاتے ہیں
اپنی منزل کا پتہ پوچھتے پھرتے پھرتے
جانے کس راہ پہ جانا تھا کدھر جاتے ہیں
زیست کو زیست کی صورت نہیں دیکھی ہم نے
چاہت ِ زیست لیے جیتے ہیں مر جاتے ہیں
میرے اندر بھی کئی موج ابھر تے ہیں نثارؔ
جانے کیوں کر میرے اندر ہی اتر جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حبسِ دنیا سے گزر جاتے ہیں
ایسا کرتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
کیسے ہوتے ہیں بچھڑنے والے؟
ہم یہ سوچیں بھی تو ڈر جاتے ہیں
دل جو ٹوٹے تو سرِ محفل بھی
بال بے وجہہ بکھر جاتے ہیں
اب نہ دیکھو میری بنجر آنکھیں
چڑھتے دریا تو اتر جاتے ہیں
دھوپ کا روپ رچانے والے
شام کو اور نکھر جاتے ہیں
اب نہ مڑ مڑ کر پکارو ان کو
لوگ رستے میں ٹھہر جاتے ہیں
خالی دامن سے شکایت کیسی؟
اشک آنکھوں میں تو بھر جاتے ہیں
تم کہاں جاؤ گے سوچو محسنؔ؟
لوگ تھک ہار کے گھر جاتے ہیں...!
محسنؔ نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چُپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں
اُن کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پِلاتے ہوئے مر جاتے ہیں
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں
عباس تابش
اگر یہ کاوش پسند آئے تو کمنٹ باکس میں اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔

اردو

@UrduVirsa @lastisland مہر صاحب !
تشریح کر کے چار چاند لگا دیے آنجناب نے ! 👌🏼❤️
اردو

@lastisland یہ اشعار انسان کی اندرونی الجھن، خود سے ملاقات کی تاخیر اور اپنے ہی حال کو لفظ دینے کی مشکل کو نہایت سادگی مگر اثر کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
عزم بہزاد کا کمال یہی ہے کہ وہ پیچیدہ جذبات کو عام فہم مگر دل میں اتر جانے والے انداز میں پیش کرتے ہیں۔
اردو

@Ragrey_shah دوسرے حصے کا جواب:
وہ لوگ لا دین نہیں ہوتے۔لا دین کا مرتبہ میں ان سے بلند سمجھتا ہوں۔
وہ اسلام بیزار کہلاتے ہیں۔ان کو سارا غصہ اللہ اور اسلام پر ہے۔وہ ملحد نہیں کہلاتے بلکہ انہیں میں اللہ تعالیٰ سے ناراض انسان سمجھتا ہوں۔
اردو

میں نے ایک بات نوٹس کی ہے جو بندہ مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے امیر بنتا ہے وہی عموماً ملحد یا لا دین ہوتا ہے۔ نہ غریب لادین بنتا ئے اور نہ ہی وہ جو جدی پشتی امیر ہوتے ہیں۔۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟
ایک اور اہم بات لادین ہونے کے بعد وہ صرف اسلام کے متعلق اول فول بولے گا جبکہ باقی کسی مذہب کے بارے کچھ نہیں کہتا۔۔۔ ایسا کیوں؟
اردو








