Sabitlenmiş Tweet
A.H. Khan 🇵🇰
26.5K posts

A.H. Khan 🇵🇰
@khn_72
Jang & Geo Group Media Worker - Youtuber- Pakistan Zindabad No DM ❌اتبعني وتابع العودة 💯
Karachi Katılım Ekim 2011
6.2K Takip Edilen5.4K Takipçiler
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi

مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں
جب لندن میں BCCI نے اپنا کاروبار بند کیا اس وقت میں اس بنک میں ڈائریکٹر تھا ۔
بنک نے الوداعی تقریب ایک شاندار ہوٹل میں کی اور تمام ڈائریکٹرز کی بیواؤں کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان ہوا ،
جب بیواؤں کو باری باری ایک ایک کروڑ دینے کے لئے بلایا جانے لگا تو میں نے زندگی میں پہلی بار
سہاگنوں کو بیواؤں پر رشک کرتے ہوئے دیکھا ۔
میری زوجہ محترمہ جو میرے ساتھ ہی بیٹھی تھیں انتہائی ناگواری سے میری طرف دیکھتے ہوئے گویا کہہ رہی ہوں کہ
"کمبخت تم سے اتنا بھی نہ ہو پایا"😀
🤭🤭
اردو
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi

On this blessed Day of Arafah, wishing peace, mercy and countless blessings to Muslims around the world. 🤍
Please keep me and my family in your prayers as well. 🤲
#DayOfArafah #Hajj

English
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi

اک مشہور پبلشر نے احمد فراز کو فون کیا
پوچھا کہ
" آپ اپنی خودنوشت کیوں نہیں لکھتے؟ "
اگر آپ لکھیں
اس میں ان ساری خواتین کا ذکر بھی ہو جن سے آپ کے مراسم رہے ہوں
تو ہم آپ کو تین لاکھ روپے دیں گئے
فراز کا جواب آیا
" پانچ لاکھ روپے تو وہ سب خواتین مجھے آپ بیتی نہ لکھنے پر دینے کے لیے تیار ہیں "
آغا ناصر کی کتاب " گمشدہ لوگ " سے اقتباس
اردو کلاسیک
اردو
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi

جھگڑا تب اگر ہوتا تو شاید میں آج زندہ بھی نہ ہوتی کیونکہ ہمارے گھر کے ارد گرد نناوے فیصد اردو بولنے والے رہتے تھے، اگر نفرت ہوتی تو وہ ہمیں چھوڑتے؟
اُلٹا ان کے بچے کرفیو کے دنوں میں چھتیں پھلانگ پھلانگ کے ایک دوسرے کو گروسریز لا کے دیتے تھے، میں نے خود کرفیو کے دنوں میں مہاجر پڑوسیوں کے بچوں کے ساتھ چھت پر پتنگیں اڑائیں اور ایک دوسرے کو وی سی آر کی کیسیٹس دیں۔ یہی پروٹیکشن سندھیوں نے اپنے پڑوس کے اکا دکا مہاجروں کو دی۔
ایک دوسرے پر گولیاں برسانے کی وہ سیاست اندھی تھی۔ میں نے اٹھائیس ستمبر بھی دیکھا، یکم اکتوبر بھی دیکھا۔ سارے فسادات بھی دیکھے، اور بارہ مئی ۲۰۰۷ بھی دیکھا، اس کے بعد تین نومبر بھی دیکھا، ستائیس دسمبر بھی دیکھا۔
اور میرا یہ سب دیکھنے کے بعد صرف ایک تجربہ ہے کہ نفرت اندھی ہوتی ہے، جو کہ کم از کم میں کسی سے بھی نہیں کرسکتی کیونکہ میرے پاس ابھی تک آنکھیں ہیں-
میں نے تو اُن سے بھی نفرت نہیں کی جنہوں نے مجھے ڈائریکٹ نقصان پہنچایا، میں بس اللّہ پر معاملہ چھوڑ کے آگے بڑھ جاتی ہوں۔
Nadia Mirza@nadia_a_mirza
اس وقت کراچی کے مسائل پر بات کرنے اور حکومت پر تنقید کرنے کو لسانی رنگ دے کر صوبے میں لسانی تعصب کو خود پیپلز پارٹی ہوا دے رہی ہے شاید اٹھائیسویں ترمیم سے بچنے کے لیے سندھ کارڈ کھیلنا ہو جیسا نہروں والے معاملے پر ہوا تھا ۔ لیکن اس موقع اور الطاف حسین کا نام لینا بِلاجواز تھا جنکا اب کراچی کی سیاست میں کوئی رول نہیں ۔ آپکا تجزیہ بلکل درست ہے ۔ سندھی اور اردو بولنے والوں کا اب کوئی جھگڑا نہیں کتنے ہی خاندانوں میں اب آپس میں شادیاں ہو چکی ہیں۔
اردو
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi

سورة البقرة کی پہلی پانچ آیات ترجمہ کے ساتھ ایک نہیں کم از کم دو سے تین بار پڑھیں، آپ کو سارا فلسفہ سمجھ آجائے گا زہنی کوفت پریشانی سب ختم ہوجائے گی اور کلئیرٹی کے ساتھ چیزیں سمجھ آئیں گی،اللہ پاک کہتے ہیں یہ بلند رتبہ کتاب(قرآن مجید) کوئی شک نہیں حقیقت ہے اس میں ہدایت ہےمتقین کےلیے، پھر اگلی دو آیتوں میں متققین کی چھ صفات بتائیں اور پانچویں آیت میں اللہ پاک کہتے ہیں یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور کامیابی پانے والے ہیں۔۔۔اللہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق دے آمین ثم آمین

اردو
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi

سابق پاکستانی ہیڈ کوچ اور حیدرآباد کینگزمین کے کوچ نے عاقب جاوید کو راز کھول دیا پاکستان کے سابق ہیڈ کوچ اور پی ایس ایل میں حیدر آباد کنگز کے کوچ آسٹریلیا کےجیسن گلپسی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی شکست کا زمہ دار عاقب جاوید کو ٹھہرا دیا
جیسن گلپسی نے اپنے پیغام میں کہا جب مجھے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنایا تو میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی اجازت سے ڈومیسٹک کرکٹ میں نئے تیز رفتار فاسٹ بولر تلاش کرنے کی کوشش شروع کی میں نے پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہتا ہوں عاقب جاوید نے میرے کام میں دخل اندازی کی کوشش کرنا شروع کیا تھا جس پر مجبوراً مجھے مستعفی ہونا پڑا تھا عاقب جاوید نے ٹیسٹ میچز کیلئے پاکستان میں اسپین باولنگ پچ تیار کردئیے وقتی طور پر تو یہ کام آئی لیکن اس کا نقصان پاکستان کرکٹ کو اب ہورہا ہے کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں آپ کے پاس کم سے کم دو گیند باز ایسے ہونے چاہئے جو 150 اسپیڈ کےقریب گیند کرا سکے پاکستان کے پاس ایسے باولر ڈومیسٹک کرکٹ میں ہے اگر ان پر کام کیا جائے تو پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ایک بار پھر آگے جاسکتا ہے
#PAKvsBAN #cricket #PakistanCricket

اردو
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi

غور طلب، بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بلاول بریگیڈ کے یہ ننھے مُنے کارندے، جو کراچی کے مسائل پر آواز اٹھانے والے ہر شخص کو “الطافی” اور “گٹکا خور” جیسے القابات دے کر اُسے سندھ دشمن ثابت کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے تھے، پچھلے 5 دن سے CPSC کے نتائج کے خلاف پورے سندھ میں ہونے والے احتجاج پر مکمل خاموش ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ سندھ کے نوجوانوں کو “الطافی” کا لیبل دے نہیں سکتے، اور اگر انکے احتجاج کو جھٹلائیں گے تو PPP کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی۔
50 روپے per tweet والوں کیلئے واقعی مشکل وقت آ گیا ہے۔ 🙂
But literally these people are not worthy of mentioning by genuine people like @SindhuSorath

اردو
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi

پیپلز پارٹی کا طرز تعمیر:
جیسے آج یونانی طرز تعمیر، رومن طرز تعمیر، گوتھک طرز تعمیر اور مغل طرز تعمیر طالب علموں کو پڑھایا جا رہا ہے، اسی طرح ایک دن آئے گا کہ پیپلز پارٹی کا طرز تعمیر بھی آیندہ نسلوں کو پڑھایا جائے گا۔
رتن تلاو میں چند ماہ پہلے پیور بچھایا گیا تھا۔ پیور کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ پانی جذب کر لیتا ہے۔ پیپلز پارٹی سیوریج کے مسئلے کا کوئی حل نکالنے پر آمادہ نہیں تھی اس لیے اس نے جگہ جگہ پیور لگا دیے۔ ان پیوروں نے ڈامر والی سڑک سے زیادہ دن نکال لیے لیکن پھر یہ بھی ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا۔
لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
یہ رتن تلاو کے مرکزی بازار کی تین تصاویر ہیں۔ پہلی تصویر اس حصے کی ہے جہاں پیور باقی رہ گیا۔ باقی دو ان حصوں کی جنھیں کھود کر تباہ کر دیا گیا۔ یہاں کل پانی کی لائن بچھانے کے لیے پیور کھود دیا گیا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ حکومت یہ یاد نہیں رکھ سکی کہ پہلے ہر قسم کی لائن بچھانی ہے اور اس کے بعد گلی پکی کرنی ہے۔ یہ اس کا سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر ہے یعنی طرز تعمیر۔
پہلے سڑک بنتی ہے۔ پھر پانی والے پھرکی لیتے ہیں اور سڑک کھود کر پانی کی لائن ڈال دیتے ہیں۔ گیس اور سیوریج لائن والے ڈیڑھ دو سال انتظار کرتے ہیں۔ جب سڑک پھر سے پکی کر دی جاتی ہے تو گیس لائن والے پھر سڑک کھود دیتے ہیں۔ پھر سڑک بنتی ہے تو سیوریج والے کھود دیتے ہیں۔ پھر سڑک بنتی ہے تو پانی کی لائن یا سیوریج لائن پاٹ جاتی ہے اور سڑک پھر سے کھود دی جاتی ہے۔
یوں ٹھیکے دار کے پیسے اور پیپلز پارٹی سرکار کی کمیشن کی رقم کی آمد مسلسل جاری رہتی ہے۔ عوام بھی بے حس ہو چکے ہیں جیسے افریقہ کے کسی قحط زدہ علاقے میں کوئی شخص مر رہا ہو اور اس کے اردگرد لوگ اسے معمول کا واقعہ سمجھ کر اپنی روٹی کی فکر کر رہے ہوں۔
کراچی کو کھود کھود کر مارا جا رہا ہے اور ہم تماشا دیکھنے پر مجبور ہیں۔
سید کاشف رضا



اردو
A.H. Khan 🇵🇰 retweetledi







