Mohammad Akbar ابو عبداللہ

19.4K posts

Mohammad Akbar ابو عبداللہ banner
Mohammad Akbar ابو عبداللہ

Mohammad Akbar ابو عبداللہ

@mianakb

دل ھی تو ھے نا سنگ و خشت درد سے بھر نا آۓ کیوں

Katılım Ağustos 2014
311 Takip Edilen50 Takipçiler
Mohammad Akbar ابو عبداللہ
Once I buy gifts, I must be entitled to بوسہ. It's not rocket science. Men-women relationships depend on the give-and-take principle.
Maria Shah@Mariashahz

@MurtazaViews No means no, why did he give gifts if he had a problem. He should be punished. Once in a relationship doesn’t mean he gets a pass to harrass her for a lifetime

English
0
0
0
0
Mohammad Akbar ابو عبداللہ
مومنہ وی کوئ سچی مُچی مومنہ نہی لگدی
Ahmed raza@Ahmedra62775099

@MurtazaViews مومنہ اقبال اور ثاقب چدہڑ کا معاملہ ہمارے معاشرے کی کالی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہیں ثاقب چدہڑ نے مومنہ اقبال کو کئی سال تک شادی کا جھانسہ دے کر تعلق میں رکھا اور بعد میں جب تعلق کو باقاعدہ بنانے کی بات سامنے آئی تو مبینہ طور پر دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا

اردو
0
0
0
0
Mohammad Akbar ابو عبداللہ
بلکُل
Shiraz Hassan@ShirazHassan

لاہور میں آج اگر بھی کسی بزرگ، بچے یا راہ چلتے شخص سے کرشن نگر کا راستہ پوچھ لیا جائے تو وہ بغیر رکے بتا دے گا۔ چاہے نقشے میں وہاں اسلام پورہ لکھا ہو۔ دھرم پورہ اب بھی دھرم پورہ ہے، لکشمی چوک اب بھی لکشمی چوک۔ 19 مارچ 2026 کو وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر سے ایک پریس ریلیز جاری ہوئی جس میں کہا گیا کہ لاہور کے تاریخی علاقوں، سڑکوں اور بعض اداروں کے اصل نام بحال کیے جائیں گے۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ صرف اعلان ہے یا اس پر عملی کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ خبر دلچسپ تھی مگر ہمارے ہاں اسے زیادہ توجہ نہیں ملی۔ شاید اس لیے کہ لاہور والوں کے لیے یہ کوئی نئی یا چونکانے والی بات نہیں۔ یہاں کئی علاقوں کے سرکاری نام دہائیوں سے بدل چکے ہیں مگر روزمرہ زندگی میں وہ کبھی رائج نہیں ہو سکے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ بعض تبدیل شدہ نام خود لاہور والوں کو بھی معلوم نہیں۔ مجھے بھی اسی پریس ریلیز سے پتا چلا کہ لکشمی چوک کا سرکاری نام مولانا ظفر علی خان چوک رکھا گیا تھا۔ جین مندر کا نام بابری مسجد چوک ہے، یہ بھی ایک حالیہ دریافت ہے۔ اب اگر آپ یہ نام کسی رکشے والے کو بتا دیں تو عین ممکن ہے وہ چند لمحے آپ کو دیکھتا رہے کہ ’ایہہ پاغل تے نئیں‘۔ اب دو ماہ بعد یہی خبر انڈین میڈیا میں نمایاں انداز سے شائع ہوئی۔ وہاں اس کا زاویہ مختلف تھا۔ سرخیاں بنیں کہ پاکستان اسلام پورہ کو دوبارہ کرشن نگر اور مصطفیٰ آباد کو پھر دھرم پورہ بنا رہا ہے۔ گویا ایک ایسا ملک جس کی بنیاد مذہبی شناخت پر رکھی گئی تھی اب اپنے شہروں کے غیر مسلم ماضی کو دوبارہ تسلیم کر رہا ہے۔ انڈین میڈیا کے لیے یہ خبر حیران کن ضرور تھی کہ پاکستان میں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ انڈیا میں گزشتہ برسوں میں متعدد شہروں، سڑکوں اور تاریخی مقامات کے نام تبدیل کیے گئے۔ کئی نام ایسے تھے جو مسلم ادوار سے وابستہ تھے۔ بعض تبدیلیاں مقامی زبانوں کی بنیاد پر ہوئیں، جیسے اڑیسہ کا اوڈیشہ بننا، مگر بہت سی تبدیلیوں میں سیاسی و مذہبی ترجیحات بھی نمایاں تھیں۔ اسی کارن اب سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین بھی یہی دو ماہ پرانی خبر پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہی پرانی خبر جسے ہمارے میڈیا نے نظرانداز کیا۔ اس پس منظر میں لاہور کی خبر یقیناً غیر معمولی محسوس ہوتی ہے۔ مگر لاہور کو صرف مذہبی عینک سے دیکھنا ہمیشہ غلطی رہا ہے۔ یہ شہر مختلف ادوار کی تہذیبی تہوں سے بنا ہے۔ اس کے نام بھی اسی تاریخ کا حصہ ہیں۔ شہر کے نام محض شناختی تختیاں نہیں ہوتے۔ وہ اس بات کا ریکارڈ ہوتے ہیں کہ یہاں کون لوگ آباد رہے، کس زبان نے جنم لیا، کون سی ثقافت نے اثر ڈالا اور شہر نے کن زمانوں کو اپنے اندر جذب کیا۔ یہاں پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے شدید مسائل رہے ہیں، مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب وقت بدل رہا ہے۔ پنجاب کی شناخت بحال ہو رہی ہے اور اس کا دل لاہور پھر سے دھڑک رہا ہے! لاہور شاید اسی لیے اب بھی لاہور ہے!

فارسی
0
0
0
13
Mohammad Akbar ابو عبداللہ retweetledi
Kamran Yousaf
Kamran Yousaf@Kamran_Yousaf·
How Pakistan neutralise Israeli plan The latest article by former Saudi Intelligence Chief Prince Turki al-Faisal highlights why Riyadh resisted retaliating against Iran. His piece, in reality, is an endorsement of Pakistan's stance. When Iran started sending missiles and drones across the Gulf after the war erupted on Feb. 28, there was a genuine threat of an all-out war involving Muslim countries. That was when Pakistan stepped in. There was a meeting of foreign ministers from 12 Islamic countries in Riyadh on March 19. Gulf countries were furious. They wanted to hit back at Iran. There was so much anger that a representative of one country said that if Iran was nuked, they would not mind. However, Pakistan attempted to calm the nerves. The meeting, which was supposed to last for a couple of hours, continued for several hours. Pakistan tried to convince the Gulf countries that while Iran's strikes on its neighbours were condemnable, they must not forget the larger Israeli design. The Gulf foreign ministers were told that Israel wanted to ignite a larger conflict, pitting Muslim nations against each other. Responding to Iran's strikes would only serve the Israeli agenda. Most in the room understood Pakistan's position and eventually backed its mediation efforts. The article by the former Saudi intelligence chief reflected Pakistan's view, which it presented during the March 19 meeting.
English
36
552
1.8K
202.2K