Abdullah
1.5K posts

Abdullah retweetledi
Abdullah retweetledi

بہاولنگر میں رہنے والے سپیرے آغا حمید کا نام سن کر ایک عرصہ تک خوف کھاتے رہے
قصہ یہ تھا کہ کچھ عرصہ پہلے آغا حمید نیکر اور بنیان پہنے اپنی باری کے مطابق صحن میں کھڑے برتن دھو رہے تھے کہ ایک سپیرا بین بجاتا ہوا ادھر آ نکلا، اشارے سے سپیرے کو اندر بلایا ۔ سپیرا سانپ کی پٹاری اٹھا کر صحن میں آ گیا پٹاری کا ڈھکنا کھول کر سانپ کو باہر نکالا اور سانپ کے گن بتلانے شروع کر دیئے۔ آغا حمید نے پروفیسر لودھی کو اشارہ کیا اس نے دروازہ بند کر دیا اور خود اندر جا کر پروفیسر غضنفر کا پستول اٹھا لائے اور آتے ہی ایک ہوائی فائر کر دیا۔ سپیرا یہ صورت حال دیکھ کر گھبرا گیا آغا حمید اس سے کہنے لگے:
پٹاری بند کر اور اٹھ کر برتن صاف کر نہیں تو میں تجھے گولی مار دوں گا
سپیرے نےجلدی سانپ پٹاری میں رکھا اور سہم کر بیٹھ گیا۔ آغا حمید نے پھر پستول لہرا کر کہا۔ " گولی مارنا میرے لیے بہت آسان ہے پولیس آئی تو کہوں گا کہ سپیرا سانپ پھینک کر لوٹنا چاہتا تھا اس لیے میں نے گولی ماری ہے۔
سپیرا آغا حمید کی بات سن کر گھبرا گیا سپیرا اٹھا اور جا کر برتن دھونے لگا، اس نے کپڑے بھی دھوئے ، گھر کی صفائی کی شام کے وقت فارغ ہوا۔ آغا حمید نے اس کے ہاتھ پر پچاس کا نوٹ رکھا اور کہا حق حلال کی کھایا کر۔
سپیرا اپنی پٹاری اٹھا کر گھر چلا گیا اور سارے سپیروں کو بلا کر اپنے ہاتھوں پر پڑے چھالے دکھائے اور رو رو کر کہنے لگا شہر جانا مگرپروفیسروں کے گھر کی طرف نہ جانا، ورنہ برتن دھونے پڑیں گے.
(احمد عقیل روبی کی کتاب کھرے کھوٹے سے اقتباس)

اردو
Abdullah retweetledi

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے
گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے
خار چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھے
شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے
سرد ہواؤں سے تو تھے ساحل کے ریت کے یارانے
لو کے تھپیڑے سہنے والے صحراؤں کے ٹیلے تھے
تابندہ تاروں کا تحفہ صبح کی خدمت میں پہنچا
رات نے چاند کی نذر کیے جو تارے کم چمکیلے تھے
سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لیے
آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے
تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتا
ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے
کون غلام محمد قاصرؔ بے چارے سے کرتا بات
یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے
غلام محمد قاصر

اردو
Abdullah retweetledi

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہوگی
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے
پتھرو آج مرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے
اب مری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے
تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصرؔ
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
حکیم ناصر

اردو

Abdullah retweetledi
Abdullah retweetledi

😊 “ ادیب کی محبوبہ “ 😊
راجہ مہدی علی خان کی دلچسپ مزاحیہ نظم جس میں ۲۵ سے زائد شاعروں اور ادیبوں کا ذکر خوب صورتی سے کیا گیا ہے
...
تمہاری الفت میں ہارمونیم پہ میرؔ کی غزلیں گا رہا ہوں
بہتر ان میں چھپے ہیں نشتر جو سب کے سب آزما رہا ہوں
بہت دنوں سے تمہارے جلوے 'خدیجہ مستور' ہو گئے ہیں
ہے شکر باری کہ سامنے اپنے آج پھر تم کو پا رہا ہوں
لحاف 'عصمت' کا اوڑھ کر تم فسانے 'منٹو' کے پڑھ رہی ہو
پہن کے 'بیدی' کا گرم کوٹ آج تم سے آنکھیں ملا رہا ہوں
تمہارے گھر ن۔م راشدؔ کا لے کے آیا سفارشی خط
مگر تعجب ہے پھر بھی تم سے نہیں میں کچھ فیضؔ پا رہا ہوں
بہت ہے سیدھی سی بات میری نہ جانے تم کیوں نہیں سمجھتیں
قسم خدا کی کلام غالبؔ نہیں میں تم کو سنا رہا ہوں
تمہاری زلف سیہ پہ تنقید کس سے لکھواؤں تم ہی بولو
'شری عبادت بریلوی' کو میں تار دے کر بلا رہا ہوں
میں تم پہ ہوں جاں نثار اخترؔ قسم ہے 'منشی فدا علی' کی
بہت دنوں سے میں تم پہ ساحرؔ سے جادو ٹونے کرا رہا ہوں
اگر ہو تم 'ہاجرہ' تو پھر مجھ سے مل کے 'مسرور' کیوں نہیں ہو
تمہارے آگے 'اوپندر ناتھ اشک' بن کے آنسو بہا رہا ہوں
حسیں ہو زہرہ جمال ہو تم مجھے ستا کر نہال ہو تم
تمہارے یہ ظلم 'قرۃالعین' کو بتانے میں جا رہا ہوں
مری محبت کی داستاں سن کے رو پڑے جوشؔ ملسیانی
سکھا کے پنکھے سے ان کے آنسو ابھی وہاں سے میں آ رہا ہوں
مری تباہی پہ چھاپ دیں گے نقوش کا ایک خاص نمبر
طفیلؔ صاحب کے پاس سارے مسودے لے کے جا رہا ہوں
وزیر آغاؔ پٹھان ہیں ساتھ ساتھ یاروں کے یار بھی ہیں
پکڑ کے وہ تم کو پیٹ دیں گے میں کل انہیں ساتھ لا رہا ہوں
'حکیم یوسف علی' نے جب میری نبض دیکھی تو رو کے بولے
جگرؔ ہے زخمی تباہ گردے یہ بات تم سے چھپا رہا ہوں
ملیح آباد آج جا رہا ہوں میں جوشؔ لاؤں کہ آم لاؤں
ہیں دونوں چیزیں وہاں کی اچھی میں لاؤں کیا تلملا رہا ہوں
جو حکم دو 'واجدہ تبسم' کا کچھ تبسم میں تم کو لا دوں
تمہارے ہونٹوں پہ غم کی موجوں کو دیکھ کر تلملا رہا ہوں
فسانۂ عشق مختصر ہے قسم خدا کی نہ بور ہونا
فراقؔ گورکھپوری کی غزلیں نہیں میں تم کو سنا رہا ہوں
مری محبت کی داستاں کو گدھے کی مت سرگزشت سمجھو
میں 'کرشن چندر' نہیں ہوں ظالم یقین تم کو دلا رہا ہوں
پلاؤ آنکھوں سے تاکہ مجھ کو کچھ آل احمد سرورؔ آئے
بہت ہیں غم مجھ کو عاشقی کے بنا پئے ڈگمگا رہا ہوں
راجہ مہدی علی خان

اردو
Abdullah retweetledi


Abdullah retweetledi

ایوب رومانی کی مشہور غزل جسے گلوکار شوکت علی نے گایا تھا۔
جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
صحنِ گل چھوڑ گیا، دل میرا پاگل نکلا
جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا
دل میں موجود رہا، آنکھوں سے اوجھل نکلا
اک ملاقات تھی جو دل کو صدا یاد رہی
ہم جسے عمر سمجھتے تھے، وہ اک پل نکلا
وہ جو افسانۂ غم سن کے ہنسا کرتے تھے
اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا
ہم سکون ڈھونڈنے نکلے تو پریشان رہے
شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا
کون ایوب پریشان ہے تاریکی میں
چاند افلاک پہ، دل سینے میں بے کل نکلا
ایوب رومانی

اردو

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ ❤️
مدینےکا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
جبیں افسردہ افسردہ، قدم لغزیدہ لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ
غلامانِ محمّدﷺ دُور سے پہچانے جاتے ہیں
دلِ گرویدہ گرویدہ، سرِ شوریدہ شوریدہ
کہاں میں اور کہاں اُس روضۂِ اقدس کا نظارہ
نظر اُس سمت اٹھتی ہے مگر دُزدیدہ دُزدیدہ
بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ
پروفیسر سید اقبال عظیم

اردو


