Abdullah

1.5K posts

Abdullah banner
Abdullah

Abdullah

@pak488

I m pakistani

Katılım Ağustos 2019
164 Takip Edilen221 Takipçiler
Abdullah retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
اردو ورثہ کی طرف سے آپ اور آپکے اہل خانہ کو عید کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں۔ رب کریم سے دعا ہے کہ آپ کو خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں والی عید عطا کرے اور ہر آنے والی عید اور ماہ و سال آپ کیلئے صحت، تندرستی، ترقی اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئے۔ آمین
اردو ورثہ tweet media
اردو
29
16
364
38.2K
Abdullah retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
بہاولنگر میں رہنے والے سپیرے آغا حمید کا نام سن کر ایک عرصہ تک خوف کھاتے رہے قصہ یہ تھا کہ کچھ عرصہ پہلے آغا حمید نیکر اور بنیان پہنے اپنی باری کے مطابق صحن میں کھڑے برتن دھو رہے تھے کہ ایک سپیرا بین بجاتا ہوا ادھر آ نکلا، اشارے سے سپیرے کو اندر بلایا ۔ سپیرا سانپ کی پٹاری اٹھا کر صحن میں آ گیا پٹاری کا ڈھکنا کھول کر سانپ کو باہر نکالا اور سانپ کے گن بتلانے شروع کر دیئے۔ آغا حمید نے پروفیسر لودھی کو اشارہ کیا اس نے دروازہ بند کر دیا اور خود اندر جا کر پروفیسر غضنفر کا پستول اٹھا لائے اور آتے ہی ایک ہوائی فائر کر دیا۔ سپیرا یہ صورت حال دیکھ کر گھبرا گیا آغا حمید اس سے کہنے لگے: پٹاری بند کر اور اٹھ کر برتن صاف کر نہیں تو میں تجھے گولی مار دوں گا سپیرے نےجلدی سانپ پٹاری میں رکھا اور سہم کر بیٹھ گیا۔ آغا حمید نے پھر پستول لہرا کر کہا۔ " گولی مارنا میرے لیے بہت آسان ہے پولیس آئی تو کہوں گا کہ سپیرا سانپ پھینک کر لوٹنا چاہتا تھا اس لیے میں نے گولی ماری ہے۔ سپیرا آغا حمید کی بات سن کر گھبرا گیا سپیرا اٹھا اور جا کر برتن دھونے لگا، اس نے کپڑے بھی دھوئے ، گھر کی صفائی کی شام کے وقت فارغ ہوا۔ آغا حمید نے اس کے ہاتھ پر پچاس کا نوٹ رکھا اور کہا حق حلال کی کھایا کر۔ سپیرا اپنی پٹاری اٹھا کر گھر چلا گیا اور سارے سپیروں کو بلا کر اپنے ہاتھوں پر پڑے چھالے دکھائے اور رو رو کر کہنے لگا شہر جانا مگرپروفیسروں کے گھر کی طرف نہ جانا، ورنہ برتن دھونے پڑیں گے. (احمد عقیل روبی کی کتاب کھرے کھوٹے سے اقتباس)
اردو ورثہ tweet media
اردو
20
80
565
66.3K
Abdullah retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے خار چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھے شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے سرد ہواؤں سے تو تھے ساحل کے ریت کے یارانے لو کے تھپیڑے سہنے والے صحراؤں کے ٹیلے تھے تابندہ تاروں کا تحفہ صبح کی خدمت میں پہنچا رات نے چاند کی نذر کیے جو تارے کم چمکیلے تھے سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لیے آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتا ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے کون غلام محمد قاصرؔ بے چارے سے کرتا بات یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے غلام محمد قاصر
اردو ورثہ tweet media
اردو
11
144
794
51.8K
Abdullah
Abdullah@pak488·
@UrduVirsa ہم اسے ناصر کاظمی کی غزل سمجھتے تھے ۔ شکریہ اردو ورثہ ❤️
اردو
2
0
14
1.2K
Abdullah retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہوگی نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے پتھرو آج مرے سر پہ برستے کیوں ہو میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے اب مری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصرؔ غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے حکیم ناصر
اردو ورثہ tweet media
اردو
29
317
1.7K
108.1K
Abdullah
Abdullah@pak488·
@UrduVirsa کیا شاعری اور آواز ہے حقیقت
اردو
0
0
1
299
Abdullah retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
اب تو اپنی محفل میں کچھ، تاجر ہیں کچھ سوداگر... جن پر ہم کو فخر تھا وہ سب، دوست گئے وہ یار گئے... استاد نصرت فتح علی خان کی خوبصورت آواز ♥️
اردو
17
206
723
48K
Abdullah retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
😊 “ ادیب کی محبوبہ “ 😊 راجہ مہدی علی خان کی دلچسپ مزاحیہ نظم جس میں ۲۵ سے زائد شاعروں اور ادیبوں کا ذکر خوب صورتی سے کیا گیا ہے ... تمہاری الفت میں ہارمونیم پہ میرؔ کی غزلیں گا رہا ہوں بہتر ان میں چھپے ہیں نشتر جو سب کے سب آزما رہا ہوں بہت دنوں سے تمہارے جلوے 'خدیجہ مستور' ہو گئے ہیں ہے شکر باری کہ سامنے اپنے آج پھر تم کو پا رہا ہوں لحاف 'عصمت' کا اوڑھ کر تم فسانے 'منٹو' کے پڑھ رہی ہو پہن کے 'بیدی' کا گرم کوٹ آج تم سے آنکھیں ملا رہا ہوں تمہارے گھر ن۔م راشدؔ کا لے کے آیا سفارشی خط مگر تعجب ہے پھر بھی تم سے نہیں میں کچھ فیضؔ پا رہا ہوں بہت ہے سیدھی سی بات میری نہ جانے تم کیوں نہیں سمجھتیں قسم خدا کی کلام غالبؔ نہیں میں تم کو سنا رہا ہوں تمہاری زلف سیہ پہ تنقید کس سے لکھواؤں تم ہی بولو 'شری عبادت بریلوی' کو میں تار دے کر بلا رہا ہوں میں تم پہ ہوں جاں نثار اخترؔ قسم ہے 'منشی فدا علی' کی بہت دنوں سے میں تم پہ ساحرؔ سے جادو ٹونے کرا رہا ہوں اگر ہو تم 'ہاجرہ' تو پھر مجھ سے مل کے 'مسرور' کیوں نہیں ہو تمہارے آگے 'اوپندر ناتھ اشک' بن کے آنسو بہا رہا ہوں حسیں ہو زہرہ جمال ہو تم مجھے ستا کر نہال ہو تم تمہارے یہ ظلم 'قرۃالعین' کو بتانے میں جا رہا ہوں مری محبت کی داستاں سن کے رو پڑے جوشؔ ملسیانی سکھا کے پنکھے سے ان کے آنسو ابھی وہاں سے میں آ رہا ہوں مری تباہی پہ چھاپ دیں گے نقوش کا ایک خاص نمبر طفیلؔ صاحب کے پاس سارے مسودے لے کے جا رہا ہوں وزیر آغاؔ پٹھان ہیں ساتھ ساتھ یاروں کے یار بھی ہیں پکڑ کے وہ تم کو پیٹ دیں گے میں کل انہیں ساتھ لا رہا ہوں 'حکیم یوسف علی' نے جب میری نبض دیکھی تو رو کے بولے جگرؔ ہے زخمی تباہ گردے یہ بات تم سے چھپا رہا ہوں ملیح آباد آج جا رہا ہوں میں جوشؔ لاؤں کہ آم لاؤں ہیں دونوں چیزیں وہاں کی اچھی میں لاؤں کیا تلملا رہا ہوں جو حکم دو 'واجدہ تبسم' کا کچھ تبسم میں تم کو لا دوں تمہارے ہونٹوں پہ غم کی موجوں کو دیکھ کر تلملا رہا ہوں فسانۂ عشق مختصر ہے قسم خدا کی نہ بور ہونا فراقؔ گورکھپوری کی غزلیں نہیں میں تم کو سنا رہا ہوں مری محبت کی داستاں کو گدھے کی مت سرگزشت سمجھو میں 'کرشن چندر' نہیں ہوں ظالم یقین تم کو دلا رہا ہوں پلاؤ آنکھوں سے تاکہ مجھ کو کچھ آل احمد سرورؔ آئے بہت ہیں غم مجھ کو عاشقی کے بنا پئے ڈگمگا رہا ہوں راجہ مہدی علی خان
اردو ورثہ tweet media
اردو
17
110
527
63.6K
Abdullah retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے احمد فراز
اردو ورثہ tweet media
اردو
33
325
1.7K
135.9K
Abdullah retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
ایوب رومانی کی مشہور غزل جسے گلوکار شوکت علی نے گایا تھا۔ جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا صحنِ گل چھوڑ گیا، دل میرا پاگل نکلا جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا دل میں موجود رہا، آنکھوں سے اوجھل نکلا اک ملاقات تھی جو دل کو صدا یاد رہی ہم جسے عمر سمجھتے تھے، وہ اک پل نکلا وہ جو افسانۂ غم سن کے ہنسا کرتے تھے اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا ہم سکون ڈھونڈنے نکلے تو پریشان رہے شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا کون ایوب پریشان ہے تاریکی میں چاند افلاک پہ، دل سینے میں بے کل نکلا ایوب رومانی
اردو ورثہ tweet media
اردو
23
145
990
65.9K
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ ❤️ مدینےکا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ جبیں افسردہ افسردہ، قدم لغزیدہ لغزیدہ چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ غلامانِ محمّدﷺ دُور سے پہچانے جاتے ہیں دلِ گرویدہ گرویدہ، سرِ شوریدہ شوریدہ کہاں میں اور کہاں اُس روضۂِ اقدس کا نظارہ نظر اُس سمت اٹھتی ہے مگر دُزدیدہ دُزدیدہ بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ پروفیسر سید اقبال عظیم
اردو ورثہ tweet media
اردو
38
431
2.3K
106.9K