عمران خان سے اعلی سطح پر اتنی رازداری سے مذاکرات جاری ہیں کہ ہر دوسرے تیسرے صحافی اور ایکٹوسٹ کو نہ صرف اس کی خبر ہے بلکہ یہاں تک پتہ ہے کہ کیا کیا بات ہوئی۔
یوں لگتا ہے ایک ڈس انفارمیشن سیل ان اچھے لوگوں کو ایسے فیڈ کر رہا ہے کہ انہیں سچ میں لگتا ہے کہ انکی رسائی سچ تک ہو گئی ہے
کھچ مارنا سمجھتے ہیں؟
گلگت بلتستان الیکشن میں پی ٹی آئی کو کمپین سے روک کر انہوں نے کھچ ہی ماری ہے۔ کمپین کے باوجود شاید پی ٹی آئی اتنے ووٹ نہ جنریٹ کر پاتی جتنے عوام اب ری ایکشن میں ڈالے گی۔
اسی لیے کہتے ہیں عقل نئیں تے موجاں ای موجاں۔
کام وہی ہے جس میں یوتھیوں کو ملکہ حاصل ہے۔ آٹھ فروری دوہرانا ہے اور نسبتا کم حلقوں میں دوہرانا ہے۔ تحریک انصاف کے امیدواران اور انکے نشانات کو ریپیٹ موڈ پر ڈال دیں۔
اس وقت اگر کسی پارٹی کی سپورٹ گلگت بلتستان میں ہے تو وہ پی ٹی آئی ہے۔ چار سال سے کوشش جاری ہے عمران خان کو کرش کرنے کی مگر اللہ کا کرم یہ ہے کہ مقبولیت بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ 2024 میں 2/3 اکثریت سے جیتے تھے، جون 7 کو کلین سویپ کریں کے الیکشن، انشاءاللہ! جبران الیاس
عید کے تینوں دن گزر گئے۔ عمران خان کی نہ تو اہلخانہ سے ملاقات ہوئی اور نا ہی وکلاء سے۔ کون کون سے تبصرہ پاڑ آپ کو ملاقات کی خبریں سنا رہے تھے اچھی خبریں سنا رہے تھے؟
جس تناسب سے پٹرولیم مہنگا کیا تھا اس تناسب سے سستا کیوں نہیں ہو سکتا ؟
137 روپے بڑھایا تھا تو 137 روپے سستا کیوں نہیں کیا ؟
55 روپے بڑھ سکتا ہے تو 55 روپے کم کیوں نہیں ہو سکتا ؟
عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے
عمران خان 1029 دن جیل میں رہ کر بھی اپنے نظریے اور اصول کی جنگ جیت گیا ہے لیکن یہ قوم اپنے حق کی جنگ ہار چکی ہے۔
اس قوم کے لیے اب کوئی عمران خان نہیں بنے گا۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو کمی ہوئی ہے اس کے مطابق کم از کم 100 روپے قیمت کم ہونی چاہیے تھی۔
یہاں صرف 22 روپے کمی کر کے ”عوام کو عید کا تحفہ“ کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور عقل و شعور سے عاری ایک جاہل طبقہ اُس پر ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ رہا ہے۔
عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے جہاں پنجاب حکومت کے کاموں پر تعریف لینے کی کامران شاہد کی کوشش معصومیت سے ناکام بنا دی وہیں عمران خان کے متعلق شعر میں کہہ دیا
دل اس کو دیا ہے وہی اس میں رہے گا
ہم لوگ امانت میں خیانت نہیں کرتے
پی ٹی آئی کے بزدل سالاروں کو ان سے سبق سیکھنا چاہیئے
کوکین استعمال کرنے والوں کا نام پردے میں۔ رشوت خوروں کا نام پردے میں۔ بھتّہ خوروں کا نام پردے میں۔ زانیوں کا نام پردے میں۔ ڈکیتوں کا نام پردے میں۔ رکھیلوں کا نام پردے میں۔۔۔۔
سب کا نام پردے میں مگر ایک عام شہری کو ٹریفک ٹکٹ بھی ملے تو کراچی سیف سٹی کیمرے اُس کی گاڑی چلاتے بیوی سمیت تصویر ٹی وی پر چلا دیتے ہیں۔
اگر تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں مہم نہیں چلانے دی جاتی تو پختونخواہ حکومت دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے لیے گلگت بلتستان جانے کے زمینی رستے روک دے، گلگت بلتستان جانے کا ہر رستہ پختونخواہ سے گزر کر جاتا ہے۔
ہیں جی سہیل آفریدی؟
اسحاق ڈار نے امریکہ میں بیان دیا کہ پاکستان سے محبت کا اظہار کریں اور اپنا سرمایہ پاکستان لیکر آئیں سوال یہ ہے کہ پاکستان سرمایہ لیکر کیوں آئیں ؟ ڈار صاحب آپ کا اپنا سرمایہ بیرون ملک پڑا ہے کس کس ملک پڑا ہے کتنا پڑا ہے کیوں پڑا ہے کب پاکستان کا رہے ہیں اس سوال کا تو جواب دیں ۔
عمران ریاض خان
پاکستان کی کاٹن انڈسٹری کو کس نے تباہ کیا؟
پاکستان جہاں کپاس کی پیداوار 15 ملین بیلز تھی 2025 میں یہ گر کر صرف 5.6 ملین بیلز رہ گئی یعنی 63 فیصد کی تباہ کن کمی۔
کاشت کا رقبہ بھی 33 فیصد کم ہوا ہے۔ 3 ملین ہیکٹر سے کم ہو کر 2 ملین ہیکٹر رہ گیا۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی کپاس تھی۔ شوگر ملز کے چند طاقتور خاندانوں کی خاطر سبسڈیز، پانی کی ترجیحی الاٹمنٹ اور غلط پالیسیوں نے کسانوں کو گنے کی طرف دھکیل دیا۔ نتیجہ: اربوں ڈالر کا نقصان، صنعت تباہ اور لاکھوں کسان برباد۔
اور شوگر ملز انہی خاندانوں کی ہیں جو ابھی حکومت میں بیٹھے ہیں۔ اب یہ گندم اور چاول کے ساتھ بھی وہی کرنے جا رہے ہیں جو کاٹن کے ساتھ کیا تھا۔ اور یہ سب خود کو ملک کا ٹھیکیدار کہنے والوں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔