
Enkidu Reborn
18K posts

Enkidu Reborn
@enkidureborn
Taking the legacy to new heights!
Calgary, Alberta Katılım Haziran 2022
492 Takip Edilen153.7K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet

ہم وہی ہیں جن کے موبائل فون کا وال پیپر عمران خان ہے۔ جنکے فون کے کور کے پیچھے تحریک انصاف کا جھنڈا ہے۔ بیڈروم کے دراز میں ایک پاکستان کےجھنڈے کا بیج رکھا ہوا ہے ایک تحریک انصاف کا۔ ہماری الماریوں میں عمران خان کی تصویر والی شرٹ لٹک رہی ہے۔ ہمارے سینوں میں عمران خان محبوب بن کر بیٹھا ہے۔
ہم وہی ہیں جو اسکے ہر جلسے اسکی ہر ریلی میں پہنچتے رہے۔ دور ہوتے تو اسکے جلسے والے دن سارا دن ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے۔ جیسے جیسے کراوڈ بڑھتا جاتا ہمارے اندر خون کی مقدار اور گردش دونوں بڑھتی جاتی۔ پھر جب وہ تقریر کرتے ہوئے ہاتھ اٹھاتا کیمرہ اسکی پشت پر ہوتا سامنے ہزاروں لاکھوں کا جگ مگ جگ مگ مجمع ویڈیو یا تصویر ٹھک ہماری ٹائم لائن پر ہوتی ہمارے سٹیٹس پر ہوتی ہماری سٹوری پر ہوتی۔
ہم وہی ہیں جو کبھی عمران خان کی گاڑی سے لپک لپک جاتے تھے۔ ہم وہی ہیں جو شیلنگ اور پولیس گردی کی دیوار کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے۔ ہم وہی ہیں جو اسکی ایک آواز ایک کال پر لبیک کہتے رہے۔ وہ ہم جیسے ہی تھے جو نو مئی کو شہید ہوئے، چھبیس نومبر کو شہید ہوئے ، پولیس گردی ، فوج گردی اور دہشتگردی کے پیچھے والی وردی کا نشانہ بنے۔
ہم ڈرا ضرور دیے گئے ہیں۔ ہمیں واقعی خوفزدہ کیا گیا ہے۔ ہمیں اپنی بوڑھی ماں کا خیال آجاتا ہے۔ ہمیں اپنے ضعیف والد کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ جوان بیٹی یا بہن کا خیال آتا ہے۔ ان کے نام پر ہمیں دھمکایا جاتا ہے۔ خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ چپ کروایا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم زرا سہمے سہمے سے رہتے ہیں۔
لیکن ہم ہیں تو وہی۔ ملک کے طول و عرض میں اسکی آواز سننے کو پہنچنے والے ، اسکو دیکھنے جانے والے ، اسکے جلسوں میں تل دھرنے کی جگہ ختم کرنے والے ، اسکے پولنگ بکس پرچیوں سے بھرنے والے ، اسکے نام پر آلو بینگن گوبھی کو جتوانے والے۔ ہم اپنی جگہ پر جمے ہوئے ، ڈٹے ہوئے۔ اپنی تکلیفوں ، اپنی کمزوریوں اور فوج کی وحشتوں کو اندر ہی اندر گھولتے ہوئے۔
تم جس دن مکمل ناکام ہوجاؤ گے ، ہم موت کی طرح تمہارے سامنے آکھڑے ہوں گے۔ وہی ، عمران خان کی تصویر کے وال پیپر والے ، کور کے پیچھے جھنڈے والے ، دراز میں پڑے بیج والے ، الماری میں لٹکی شرٹ والے ، سینے میں دھڑکتے عمران والے ۔
اردو

@enkidureborn مزاج پہ گراں بار نا گزرے تو پوچھوں؟
پاکستان جیسے سعودیہ کو ایٹمی چھتری فراہم کرتا ہے
ہمارے KPK کے نئے بلونگڑے وفاق کا ساتھ دیتے ہیں
کم و بیش ویسے ہی آپ ان رنگروٹوں کی تمبی گرنے سے بچاتے ہو
رنگروٹ تو کھسروں کے ساتھ پکڑے گئے تھے، مگر بھائی آپکی کیا مجبوری ہے؟
اردو

پختونخواہ کے مشیر خزانہ جناب مزمل اسلم فرماتے ہیں:
تیل کی قیمتیں بڑھنے پر “ وفاق” کا ساتھ دیا جائے۔ اس پریس کانفرنس میں جناب شفیع جان بھی جناب مزمل اسلم کے ساتھ بیٹھے تھے۔
سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ آپ بار بار “وفاق” کا ساتھ دیتے ہیں “وفاق” کبھی آپ کا ساتھ کیوں نہیں دیتا؟
آپ نے عسکری منرلز بل میں “وفاق” کا بھرپور ساتھ دیا۔
آپ نے عمران خان کی منظوری کے بغیر بجٹ پیش اور پاس کرنے کے لیے “ وفاق “ کا بھرپور ساتھ دیا۔
آپ نے “ وفاق” کی آئی ایم ایف ڈیل کے لیے 150 ارب روپے کا سرپلس رکھا اور اسے پختونخواہ کے غریب عوام پر خرچ نہیں کیا۔
اب آپ تیل کی قیمتیں بڑھنے پر “ وفاق “ کا ساتھ دیتا چاہتے ہیں۔
یہ جو “وفاق” کا ساتھ ہے جب جب یہ دیا جائے تو بدلے میں “وفاق” کا ساتھ لیا جائے۔ ورنہ پھر عوام الناس کو بار بار یاد دہانی کروائی جائے گی کہ تحریک انصاف کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفائی ہونے سے قبل آپ معیشت کے میدان میں تحریک انصاف کے حق میں ٹویٹس وغیرہ کیا کرتے تھے اور تیمور جھگڑا کو روکنے کے لیے آپ کو ایک دوسرے صوبے سے لاکر پختونخواہ کی معیشت پر بٹھایا گیا ہے اور شاید اس کا مقصد یہی ہے کہ آپ “وفاق” کا ساتھ دیتے رہیں۔
اردو

جس وقت پاک فوج اکبر بگٹی پر چڑھ دوڑی تھی تو اس وقت پاک فوج کے اس حملے کی مخالفت کرنے والے ملک دشمن ، غدار اور بھارتی ایجنٹ ٹھہرائے جارہے تھے۔ حالات اور نتائج نے پاک فوج کو غلط ثابت کیا اور جنہیں پاک فوج غدار کہہ رہی تھی وہ درست ثابت ہوئے۔
جس وقت پاک فوج بنگالی زبان کو قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کرنے والوں پر گولیاں چلا رہی تھی اس وقت پاک فوج مخالفت کرنے والوں کو غدار ، ملک دشمن اور بھارتی ایجنٹ قرار دے رہی تھی۔ بعد میں پاک فوج کو تاریخ اور نتائج دونوں نے غلط ثابت کیا۔
جب پاک فوج بندوق کی نوک پر بنگالیوں کے حقوق چھین رہی تھی ، وہاں ظلم و ستم کررہی تھی تو کچھ سرپھرے تھے جو اسکی مخالفت کرتے تھے۔ پاک فوج انہیں غدار اور ملک دشمن ٹھہراتی رہی۔ نتائج نے ثابت کیا وہ غدار اصلی محب وطن تھے جو ملک کو دو لخت ہونے سے بچانا چاہتے تھے۔
کچھ لوگوں نے ہر دور کے ہر مارشل لاء اور فوجی حکومت کی مخالفت کی۔ انہیں ہر دور کی فوجی حکومت نے غدار اور ملک دشمن قرار دیا۔ ہر مارشل لاء کا خاتمہ جمہوریت سے ہوا جس نے بالآخر ثابت کیا کہ ناقدین غدار نہیں محب وطن تھے۔
اب بھی جو لوگ پاک فوج کو ادھر ادھر الجھنےسے گریز کے مشورے دیتے ہیں ، پرائی جنگوں میں کودنے سے باز رہنے کا کہتے ہیں وہ غدار اور ملک دشمن ٹھہرائے جارہے ہیں۔ لیکن وقت اقر نتائج ثابت کریں گے کہ ملک دشمن کون اور محب وطن کون۔
اردو

کسی عوامی تحریک کا آغاز کرنا ، احتجاج کرنا ، عوام کو موبلائز کرنا دو چیزوں کا متقاضی ہے۔ ایک سنجیدگی دوسرا قربانی۔ اگر پختونخواہ اسمبلی نتائج کی پرواہ کیے بغیر قانون سازی کی مدد سے اس تحریک میں جان ڈالتی ہے تو اس کا مطلب ہے کوشش سنجیدہ ہے۔
اگر محض رجسٹریشن کرنی ہے اور ہمخیال ولاگرز اور سوشل میڈیا اکاونٹس کی مدد سے ہوا بنانے کی کوشش کرنی ہے تو اس کا مطلب ہے بس تنقید سے بچنے کے لیے خانہ پری کی جارہی ہے۔ قومی و دیگر صوبائی اسمبلیوں و سینیٹ میں تحریک انصاف کے دو سو کے قریب اراکین کی سنجیدگی بھی دکھائی دے جائے گی۔
اردو
Enkidu Reborn retweetledi

Dear Insafians,
First of all, I wanted to apologize for the inconvenience of official website being inaccessible.
Secondly, I owe the truth to you all. Please see relevant facts below. I will also lead a PTI Space Session to answer questions and discuss with technical folks on the best way forward given the dependencies of .pk domains being operated from Pakistan where our website is already blocked by PTA (please note that recent firewall shutdown didn’t enable our website).
1) Website is “not” hacked. The domain is inaccessible.
2) We have “not” put anything on sale, please rest assured that we will be the last people to sell our souls for any personal gains, InshaAllah. The domain name insaf . pk is operated by PKNIC which is based in Pakistan. We have noted some process failures and will talk to them about it. InshaAllah, they will give us the domain back.
3) Usually when a domain is expiring, the web admins get emails and phone calls. We spoke to web admins, none of the admins got emails (no phone calls or sms seen either). It must be noted that similar domain expiration situations resulted in email warnings in 2020 and 2024. In 2026, there weren’t any emails to renew domain. One failure here candidly is that we should have known domain expiry date. Usually domains auto renew and if there are any issues, admins get warning emails. We will make our case to PKNIC and hope to achieve favorable result.
4) As a backup, we have purchased insafpk . org domain and configuring that to point to our web hosting provider right now. Within 24 to 48 hours, you will be able to access the website. Domain Name System (DNS) takes that amount of time for propagation worldwide. You can check by clicking the link in first comment of this thread. Again, the website was not hacked and is in its expected state.
5) Again, many apologies for inconvenience. Will share more details in a space session Thursday night.
English
Enkidu Reborn retweetledi

اب سے کچھ دیر پہلے کراچی میں میرے بڑے بھائی عمران تاج کو گھر میں دیوار پھلانگ کر سب کو معلوم نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں اس طرح گھر میں چوری کی طرح داخل ہو کر خواتین و بچوں کو ٹارچر کیا گیا۔ میرے بھیتیجے کوساتھ لیجانے کی کوشش کی گئی بھابی اور بہن کے فون ساتھ لے گئے۔
میرے بڑے بھائی کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ ارسلان تاج کا بھائی ہے ورنہ نہ ان کا سیاست سو کوئی تعلق ہے نہ ان پر کوئی پرچہ ہے۔-ان کو اسلئے اغوا کیا گیا کہ ارسلان تاج عمران خان کے ساتھ کیوں ہے اور وہ میرے بھائی کیوں ہے۔
آپ سب سے درخواست ہے کے میرے بڑے بھائی اور ان کی فیملی کیلئے دعا کریں کہ وہ جلد گھر آئیں۔
#ReleaseImranTaj
اردو

سوری میں نے آپ کا ٹویٹ ابھی دیکھا کیونکہ میں نے ٹاوٹس اور موجودہ نظام کے حامیوں کے ٹویٹر اکاؤنٹس میوٹ کیے ہوئے ہیں ،
میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں جہالت میں یہ سمجھتا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ صرف انہیں کو اٹھاتی ہے جنہوں نے کوئی جرم کیا ہو ،
میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں جہالت کی بنیاد پر سمجھتا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کبھی کسی بے گناہ کو نہیں اٹھاتی ،
میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں جہالت کی بنیاد پر یہ سمجھتا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اگر کسی کو اٹھاتی بھی ہے تو وہ ملک کی خاطر اٹھاتی ہے ،
میں اپنی اس جہالت پر کئی بار معافی مانگ چکا ہوں ،
عمران ریاض خان صاحب کے ساتھ جا کر پریس کلب کے باہر موجود بلوچ لاپتہ افراد کی فیملیز سے بھی معافی مانگ چکا ہوں ،
یہ بھی اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ کسی ایجنسی سے ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ کوئی مالی فائدہ نہیں لیا،
آپ یہ بتائیں کہ آپ نے اگر سیاسی جماعت ملک کا نظام بدلنے کے لیے بنائی ہے تو اسٹیبلشمنٹ تو کبھی نہیں چاہتی کہ موجودہ نظام بدلے ،
وہ آپ کو اے آر وائی پر پروگرام اور ملک بھر میں تقریبات کیسے کرنے دے رہے ہیں؟؟؟
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan
ٹیگ کر کے میری آواز صدیق جان صاحب تک پہنچانے میں مدد کریں۔ حسینیت اور یزیدیت کا فیصلہ امام حسین کے روضے پر ہی ہو جائے کہ کیا صدیق جان اور عمران ریاض واقعی اسٹیبلشمنٹ کی حقیقت نہیں جانتے تھے یا ڈالرز کے لیے وقت کے یزیدوں کے پالتو بنے ہوئے تھے؟ اور ان کے گرو عمران خان بھی۔
اردو

@OfficialShehr دو پیکٹ موم بتیوں کے میری طرف سے قبول فرمائیں۔
اردو

عمران خان کی اہلیہ نے توشہ خانہ سے تحائف لیے۔ اگرچہ ڈھیلے ڈھالے سے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے لیے۔ لیکن عمران خان جیسے آدمی کی جانب سے نہیں لیے جانے چاہییں تھے۔ عمران خان پر غداری کے دس ہزار کیسز اسکی شان ہیں۔ لیکن توشہ خانہ جیسا کیس اس کا بنتا نہیں۔ مرحوم صحافی کو اس کیس میں فوج اور ایجنسیوں کی بے جا حمایت حاصل رہی۔ فوج نے پھر اپنی روایتی بے شرمی کا بھی بھرپور استعمال کیا اور قیمتیں بڑھا چڑھا کر پیش کیں اور گھڑی کی فروخت کو توہین مذہب سے منسلک کرنے کی کوشش کی۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائیں۔
اس میں فوج کا ماوتھ پیس بنے صحافیوں کے لیے بھی سبق ہے۔ اور یوتھیوں سے گالیاں نا نکالنے کی درخواست ہے۔
اردو

پاک فوج سے منسلک دنیا کا کوئی بھی کام ہوجائے تو ذمہ داری لینے سے انکار سے لیکر تسلیم کرنے تک مندرجہ ذیل مراحل آتے ہیں۔
سب سے پہلے ؛ یہ ہوا ہی نہیں
پھر اگلے مرحلے میں ؛ یہ ہم نے نہیں کیا
پھر مزید رائتہ پھیلنے پر ؛ یہ دشمن کا کام ہے
پھر مزید ثبوت آنے پر ؛ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے
پھر مکمل ننگے ہوجانے پر ؛ وہ سارے دہشتگرد تھے
اردو

عدم اعتماد میں فوج کا ساتھ نہیں دے رہے ؟ تم غدار ہو ۔
سٹاک مارکیٹ معیشت اوپر گئی ہے نہیں مان رہے؟ تم غدار ہو۔
تم لانگ مارچ کررہے ہو؟ تم غدار ہو۔
تم نے اسمبلیاں تحلیل کردی ہیں؟ تم غدار ہو۔
تم الیکشن کا مطالبہ کرتے ہو؟ تم غدار ہو۔
عمران خان کے عدالت سے اغواء پر احتجاج کرتے ہو؟ تم غدار ہو۔
احتجاج اغواء کرنے والوں کے دفاتر کے باہر کرتے ہو؟ تم غدار ہو۔
تم سانحہ مشرقی پاکستان کا اور کارگل کا ذکر کرتے ہو؟ تم غدار ہو۔
حمود الرحمن کمیشن رپورٹ یاد دلاتے ہو؟ تم غدار ہو۔
تم ہمیں ہماری پراکیسز اور غلط پالیسیز یاد دلاتے ہو؟ تم غدار ہو۔
تم بار بار گروتھ ریٹ کی نشاندہی کرتے ہو؟ تم غدار ہو۔
تم بار بار بلوچستان کے حالات کا ذکر کرتے ہو؟ تم غدار ہو۔
تم سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہو؟ تم غدار ہو۔
تم ہمیں امریکی جنگ لڑنے کے طعنے دیتے ہو؟ تم غدار ہو۔
تم دل میں ہمیں برا کہتے ہو؟ تم غدار ہو۔
ملک ہم سے نہیں چل رہا؟ تم غدار ہو۔
اردو

ہاں جی مجھے نفرت ہے پاکستانیوں کی حرکتوں سے نفرت ہے جی۔ مغربی ممالک میں جہاں جہاں پاکستانی اکثریت میں ہیں وہ ٹاون وہ گلیاں باقی آبادیوں کے مقابلے میں بہت گندی ہیں ، وہ علاقے جرائم اور منشیات کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستانیوں کی دوسری اور تیسری نسل بھی پڑھ لکھ کر اچھی نوکریاں کرنے کی بجائے فوڈ سٹیمپس ، ویلفئیر ، ٹیکس ریفنڈز اور یونیورسل کریڈٹ کے جگاڑ کررہی ہوتی ہے۔ اقوام عالم میں پاکستانیوں کی شناخت ایک مہذب قوم کی نہیں ہے۔ مجھے اس سب سے نفرت ہے جی۔
پاکستان میں لوگ صفائی کا خیال نہیں رکھتے۔ کچرا اٹھانے کا کوئی انتظام نہیں ، جدھر دیکھتے ہیں گند پھینک دیتے ہیں۔ پبلک ٹائلٹس ہر جگہ گندگی سے بھرے ہوتے ہیں۔ نالیاں شاپروں سے بھری پڑی ہوتی ہیں۔ ہر وہ جگہ جو صاف ہونی چاہیے وہاں گندگی دکھائی دیتی ہے۔ کہیں قطار نہیں بنائی جاتی۔ کہیں برداشت نہیں دکھائی جاتی۔ کہیں معذرت یا شکریہ نہیں کہا جاتا۔ مجھے پاکستانیوں کی ان سب حرکتوں سے نفرت ہے۔ ان میں سے جو کوتاہیاں میری اپنی ذات کے اندر ہیں وہ بھی قابل نفرت ہیں۔ مجھے ہے جی نفرت۔
کیا آپ میں سے کوئی ایسا شخص ہے جو پاکستانیوں کی ان عادات سے محبت کرتا ہو؟ نہیں نا؟ آپ ان حرکتوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ تاکہ ان چیزوں میں بہتری آئے۔ معاشرہ بہتر ہو۔ ہماری شناخت بہتر ہو۔ اب اگر کوئی کہے کہ نہیں نہیں اپنی ان گندی حرکتوں سے محبت کرو کیونکہ یہ تمہاری فطرت شناخت یا پہچان ہیں تو آپ کیا کہیں گے؟ یا کوئی یہ کہہ دے کہ ملک سے باہر ان حرکتوں سے نفرت کرو ملک کے اندر ان سے محبت کرو تو پھر آپکی اس گھامڑ سے متعلق سوچ کیا ہوگی؟
اب اسی وزن پر آگے چلیں۔ ہمیں ملک لوٹنے والوں سے نفرت ہے۔ ہمیں مینڈیٹ چھیننے والوں سے نفرت ہے۔ ہمیں جھوٹ بولنے والے حکمرانوں سے نفرت ہے۔ کرپشن کرنے والوں سے نفرت ہے۔ انصاف کا نظام تباہ کرنے والوں سے نفرت ہے۔ لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے والوں سے نفرت ہے۔ نوجوانوں کا لاپتہ کرنے سے نفرت ہے۔ ملک مفادات کو اپنی آشیرباد کے لیے قربان کرنے سے نفرت ہے۔ حکمرانوں کی منافقت سے نفرت ہے۔ پالیسیز کے تسلسل نا ہونے سے نفرت ہے اور ان سب کے بھیانک نتائج سے نفرت ہے۔
لیکن مارکیٹ میں نووارد چمونوں کے مطابق ہمیں فی الحال ان چیزوں سے نفرت کی بجائے ان پر خاموش ہوجانا چاہیے۔ یا پھر انکی ستائش کرنی چاہیے۔ کیوں ؟ کیونکہ جی یہ ہمارے گندے حکمران ہے ، یہ ہمارے ملک کے حکمرانوں کی گندی حرکات ہیں۔ نہیں جی ان پالیسیز کے ، ان دونمبریوں کے ہی ہم تباہ کن نتائج بھگت رہے ہیں۔ ہماری برباد معیشت ، ہماری ہر منفی گلوبل رینکنگ ، ہمارا تباہ شدہ امن و امان ، ہمارے ملک میں غربت سب انہی کٹھ پتلی حکمرانوں اور فوجی جرنیلوں کی انہی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن سے محبت یا برداشت کا کہا جارہا ہے۔
نہیں جی، ہمیں نفرت ہے جی۔ ان پالیسیز کے خاتمے کی امید ہے۔ بہتری کی امید کے لیے نفرت ہے۔ کیونکہ ہم ان برائیوں کیساتھ ہمدردی رکھ کر انکو ختم نہیں کرسکتے ۔ اٹھائیں جی اپنا انفلوئنس اور نکلیں جی۔ چلیں جی شاباش۔
اردو

