Sabitlenmiş Tweet

رفح
نام سنتے ہی ذہن میں ایک ہلچل پیدا ہو جاتی ہے
جلتے خیمے
لہو رنگ پاک روحیں سر بغیر جسم کے اور جسم بغیر سر کے بلند ہوتے شعلے موت اگلتی زمین آگ اگلتے آسمان جلتی لاشیں بلکتے بچے چیختی عورتیں تڑپتی لاشیں خون میں ڈوبی معصوم ہستیاں بم اور بارود کے ڈھیر میں کٹی جلتی لاشیں ٹوٹتے دل لہو رنگ زمین ہر طرف چیخ و پکار لا الہ کا ورد اللہ اکبر کی صدائیں۔
ہائے کیا منظر ہوگا رفح کا کب کہاں کیسے کوئی بارود کا دھماکہ ہو اور آسمان شعلوں میں تبدیل ہو جائے زمین کوہ آتش فشاں کا منظر پیش کر رہا ہو اور فضا چیخ و پکار اور تکبیرات سے بھر گئی ہوں ۔
ایسی حالت میں ایک انسانی جسم لرز کر رہ جاتا ہے دل دہل جاتا ہے سانسیں تھم جاتی ہیں اور ایسا کیوں نا ہو کہ وہ بھی تو مسلمان ہیں وہ بھی تو ہماری طرح انسان ہیں ۔
اللہ تو ہی غزہ کے ظلم کا ظالموں سے حساب لے لے دنیا کی بزدلی اور اسلامی حکومتوں کی منافقت کا پردہ چاک ہو چکا ہے عالمی قوانین کے کھوکھلے فیصلے دنیا پر عیاں ہو چکے ہیں اقوام متحدہ کی پالیسیاں ہم نے دیکھ لی ہیں ۔
روتے ہیں چیختے ہیں تڑپتے ہیں کہاں جائیں کس سے کہیں کس کو پکاریں یا رب تو ہی مدد کو آ جا تو ہی بہترین کار ساز ہے تو ہی غزہ کی حفاظت کر سکتا ہے ائے بدر و احد میں فرشتوں کی جماعت کو اتارنے والے اللہ غزہ میں فرشتوں کا لشکر روانہ فرما دے
اللہ اللہ اللہ
بیان کو الفاظ نہیں ہیں دل میں ایک مستقل غم ہے
حمزہ اجمل جونپوری
اردو













