Sabitlenmiş Tweet
حافظ عبدالعظیم شمسی
80.2K posts

حافظ عبدالعظیم شمسی
@shaas_12
https://t.co/fDl7R6xiGQ #محبت_مافیا 💯 فالو بیک ختمِ نبوت ذندہ باد پاکستان پاٸندہ باد
Katılım Ağustos 2014
25.2K Takip Edilen24.6K Takipçiler

@shafqatmm1 🤣🤣🤣
انہوں نے اپنی دم پہ آپ کا پاؤں کو خود ہی لے لیا حتیٰ کہ آپ نے کچھ کہا بھی نہیں
اردو

آپ لوگوں نے کبھی کتی چیکا دیکھا ہے؟
تو ابھی دیکھ لیں اس ٹویٹ کے quote ٹویٹس اور کمنٹس میں۔
ففتھیئے ھلکائے ہوئے ہیں وچارے
Shafqat Ch@shafqatmm1
ثالث وہ ہوتا ہے جس کی اپنی کریڈیبلٹی ہو۔ جنہیں گھر میں سالن کا ایک چمچ مانگنے پر دو چمچے سر پر پڑتے ہوں ۔ جو صرف چھپ کر رات کو گھر سے باہر نکلتے ہوں اور دن میں اکیلے نکلتے ڈر لگتا ہو وہ اب ثالثی کریں گے؟ خوچہ قیامت ہے ماڑا
اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

4 سال قبل یہ بچی جس کا نام نویدہ ہے لاوارث حالت میں پنجاب کے شہر گجرانوالہ سے ملی ۔
ابتدائی معلومات کے مطابق بچی زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی پنجابی اسپیکنگ ہے ۔
اپنے والد کا نام بھولا بتاتی ہے جبکہ خود بھی بھولی سی ہے والدہ کا نام بشریٰ بتاتی ہے ۔
لیکن اتنی بڑی ہوکر بھی اپنا گھر یاد نہیں ہے کیس میرا پیارا ٹیم کے پاس آیا ہوا ہے اس کی ایف آئی آر چیک کروائی ہے لیکن کوئی ان تاریخ میں میسنگ بچی کی ایف آئی آر درج نہ ہوئی ۔
بچی گجرانوالہ کے کسی گاؤں سے ہے سوشل میڈیا کا دور ہے
آپ کے ایک شیئر سے اس کے والدین مل سکتے ہیں دوسرا اس کے پانچ بھائی اور یہ تین بہنیں تھیں ۔
آج آخری روزہ ہے اور میں چاہتی ہوں کہ یہ بھولی بھالی نویدہ اپنی زندگی اپنے گھر جاکر گزارے ہاں ابھی اس بچی کی زندگی رہن سہن بہت اچھا ہے لیکن وہی بات ماں باپ کی کمی کوئی پورا نہیں کرسکتا !!!!
❤❤🌹🌷

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

ورثاء کی تلاش میں مدد کریں۔۔!!
یہ لڑکا بول اور سن نہیں سکتا۔
آج سے آٹھ یا دس سال قبل راولپنڈی اڈے پر ایک نیک دل انسان کو ملا تھا۔ اس شخص نے کسی ٹرک ڈرائیور کے ساتھ دیکھا تھا جو چند دنوں سے اس پر بہت سختی کررہا تھا۔کافی دنوں تک بہت مجبور حالت میں تھا۔
اس خدا ترس انسان نے اسے اپنی تحویل میں لیا اور اپنے گھر لےآیا۔
سوشل میڈیا پر بہت کوشش کی گئی جگہ جگہ اعلانات کروائے لیکن ورثاء کا تاحال پتہ نہیں چلا۔
یہ لڑکا ہاتھ سے اپنا نام بلال لکھتا ہے۔ اسکے علاوہ کچھ نہیں لکھ سکتا۔
اشاروں میں بتاتا ہے والد یا والدہ نے مارا تھا جسکی وجہ سے یہ گھر سے ناراض ہوکر بھاگ گیا تھا۔
اور یہ لڑکا حجام بھی ہے۔بہت اچھی طرح بال بنانے کا کام جانتا ہے۔
زیر نظر تصویر چھ سات سال قبل کی ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو خوب شئیر کریں تاکہ ایک بے زبان معصوم بچہ اپنے والدین کے سائے تلے سکون کی زندگی گزارے۔
آپ کا ایک شہیر اس بچے کو لاوارثی کی زندگی سے نجات دلا سکتا ہے۔نیکی کا یہ موقع ہاتھ سے جانے نا دیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
8 Mar 2026
#waliullahmaroof #MissingChild #pakistan

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

4 سال قبل یہ بچی کراچی کی حدود سے ملی 27 جون 2021 کو اس بچی کو ریسکیو کیا گیا لیکن سوچنے کی بات یہ ہے اس بچی کو والد کا نام والدہ کا نام سب کچھ معلوم ہے ہوسکتا ہے کہ اس کی کمپین صحیح نہ چلائی ہو خیر اس معصوم پھول کا نام ایمن آصف ہے عمر اس وقت 10 سال کے قریب ہے
والد کا نام: آصف
والدہ کا نام: فاطمہ
گھر کا پتہ مچھر کالونی، کراچی بتاتی ہے اب اتنا سب کچھ سنے آچکا ہے چلیں اس کے والدین سے اس بچی کو ان شاء اللہ ملواتے ہیں
یہ بچی اس وقت سیف ہاتھوں میں ہے اور اپنے پیاروں کی راہ تک رہی ہے۔
آپ کی ایک چھوٹی سی کوشش اسے اپنے ماں باپ سے ملوا سکتی ہے۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ مچھر کالونی یا کراچی کے مقامی گروپس تک پہنچ سکے۔
"کسی بچھڑے ہوئے کو ملوانا صدقہ جاریہ ہے"
میں چاہتی ہوں کہ یہ چاند کا ٹکڑا اب کی بار عید اپنے والدین کے ساتھ منائے
#Karachi #Help #MissingChild #MacharColony #MeraPyara #ShareToHelp

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

کیا آپ بیٹھے بیٹھے پہاڑ جتنی نیکی کمانا چاہتے ہیں ؟
!! اگر ہاں تو اس پوسٹ کو شئیر کریں
اس بچے کا نام زاہد ہے،زاہد کی عمر چھ یا سات سال تھی،سال 2005 میں اپنی بہن کے ساتھ بکریاں چرانے گیا تھا۔ گھر لوٹتے ہوئے زاہد بہن سے الگ ہوا۔ بہن بکریوں کے پیچھے گئی ۔ زاہد گھر کا راستہ بھول گیا۔
رونا شروع کیا تو ایک شخص نے آکر پوچھا بیٹا کیا ہوا؟ زاہد نے کہا گھر نہیں مل رہا۔
اس شخص نے زاہد کو کہا بیٹا چلو تمہیں گھر پہنچاتا ہوں۔ زاہد خوشی خوشی ساتھ چلا۔
گھر کے بجائے وہ ظالم انسان ٹرین اسٹیشن آیا اور زاہد کو ٹرین میں ساتھ بٹھاکر کسی اور شہر لے گیا۔ زاہد کو ایک گھر میں لاکر بند کیا،اس گھر میں ایک خاتون بھی تھی۔
زاہد کا کہنا ہے کہ میں دو دنوں تک امی ابو کو یاد کرکے روتا رہا۔ ان سے منتیں کرتا رہا مجھے امی کے پاس لےچلو- مجھے جیسے ہی موقع ملا اس گھر سے فرار ہوگیا۔
فرار ہوکر شہر کی طرف آیا تو ایک صاحب کے ہاتھ لگا انہوں نے چند روز کوشش کی میرے گھر والوں کو ڈھونڈنے کی۔گھر والے نہیں ملے ۔ پھر مجھے وہ ملتان کے ایک شیلٹر میں چھوڑ کر گیا۔
میں نے اپنی فائل نکال کر دیکھی تو اس میں ملتان کے شیلٹر میں داخلے کی تاریخ 22 نومبر 2005 ہے۔
زاہد کو ملتان سے سینکڑوں کلو میٹر دور ایک اور شہر کے شیلٹر بھیج دیا گیا تھا- جہاں اس نے بیس سال کاٹے۔ اور آج وہ چوبیس پچیس سال کا جوان ہے۔
زاہد کو اب بمشکل رہائش ملی ہے۔ ماہانہ چھ ہزار روپے کے عوض کام لیا جارہا ہے۔ اور رہائش دی ہے۔ اپنا دکھ کسی سے بیان نہیں کرسکتا۔
گھر کے تمام افراد کے نام یاد ہیں۔ اپنا شہر اور علاقہ معلوم نہیں ہے۔
زاہد کے والد کا نام بدر اور والدہ کا نام ثمینہ ہے۔
دو بھائی ہیں ایک کا نام عادل اور دوسرے کا نام زاہد ہے۔ چار بہنیں ہیں۔ سلمیٰ ، عظمی، ثناء اور بانو۔
اور اتنا یاد ہے کہ پھوپھی کا گھر نیچے تھا اور انکا گھر اوپر تھا۔ گھر کے قریب کوئی اسکول تھا۔ مزید کسی رشتے دار یا جگہے کا نام معلوم نہیں ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا اس پوسٹ کو پاکستان کے کوچے کوچے میں پھیلا دیں ۔ فیملی ممبرز کے نام یاد ہیں یہ اس کیس کے کامیاب ہونے کے لیے کافی ہے۔
ان شاءاللہ آپ کا ایک شئیر کسی اجڑے چمن کو پھر سے آباد کرسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں۔
+923162529829
7 mar 2026
#waliullahmaroof #missingchildren
#punjab #PakistanZindabad

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

جب ایک جملے نے ہلا کر رکھ دیا
گزشتہ دنوں ایک عزیز کے ساتھ ہسپتال جانا پڑا۔ شام میں فارمیسی سے کوئی دوائی لینے گیا تو ایک ادھیڑ عمر خاتون ابلے انڈے بیچ رہی تھی تو لینے تک گیا۔ تبھی ایک دیہاتی وضع کی خاتون اپنے سات آٹھ سالہ بیٹے کے ساتھ گزری تو بچہ وہیں رک کر انڈے دیکھنے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا بیٹا کھاؤ گے۔ تو وہ شرما گیا۔ میں نے خاتون سے کہا دو انڈے انہیں بھی دے دیں۔ بچے کی ماں انکار کرنے لگی مگر خاتون نے انہیں دے دیئے۔ تو بچے کی ماں نے کہا ایک کافی ہے یہ دو نہیں ایک ہی کھائے گا ۔ میں نے انہیں کہا ایک آپ کھا لیں۔تو خاتون نے کہا " میں کیوں کھاؤں میں تو ٹھیک ہوں بیمار تھوڑا ہی ہوں"
یہ ہمارے معاشرے کی اصل صورتحال ہے جہاں کچھ لوگ ایک انڈا بھی ایسی عیاشی سمجھتے ہیں جو صرف بیماری کی مجبوری میں ہی کھایا جا سکتا ہے💔
اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

#قومی_زبان
یہ ایک نہایت اہم اور حساس موضوع ہے جس پر سنجیدگی سے بات کرنا وقت کی ضرورت ہے
آج کے حالات میں بچوں کی حفاظت صرف انہیں فون نمبر یاد کروانے تک محدود نہیں رہی۔
آیت الکرسی پڑھ کر دم کرنا اپنی جگہ، مگر اب تربیت، احتیاط اور ٹیکنالوجی تینوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں وہ کون سے عملی اقدامات ہیں جن پر عمل کر کے والدین کسی حد تک مطمئن ہو سکتے ہیں
1) سب سے بنیادی اور لازمی چیز: تربیت (Awareness)
اگر بچہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے تو اسے لازماً یہ باتیں سکھائیں:
اپنا پورا نام اور والدین کا نام
گھر کا پتہ (کم از کم ایریا یا محلے کی حد تک)
کسی اجنبی کے ساتھ نہ جانا
ٹافی، کھلونا یا کوئی بھی چیز قبول نہ کرنا
کسی خطرناک صورتحال میں زور سے چیخنا:
“یہ میرے ابو / امی نہیں ہیں!”
یہ طریقہ نہ صرف سب سے سستا بلکہ سب سے مؤثر بھی ہے
2) GPS Tracker Devices (انتہائی ضروری)
اگر بچہ اسکول جاتا ہے یا باہر کھیلتا ہے تو:
GPS Kids Watch
GPS Tracker / Tag
Geofence Alert
(یعنی بچہ مخصوص حدود سے باہر جائے تو فوراً اطلاع)
ان ڈیوائسز کے ذریعے والدین کو بچے کی
Live Location
ہر وقت معلوم رہتی ہے
3) Smart ID Bracelet یا QR Tag
یہ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے ایک بہترین حل ہے
ہاتھ میں پہننے والا ID Band
QR Code اسکین کرنے پر والدین کا رابطہ نمبر ظاہر ہو جاتا ہے
4) Baby Monitors (خصوصاً کم عمر بچوں کے لیے)
اگر گھر میں آیا یا ملازمہ موجود ہو تو:
Camera Baby Monitor
Audio + Motion Alerts
Night Vision
یہ ایک نہایت مفید اور ضروری گیجٹ ہے
5) Wearable Safety Alarm (چیخنے والا الارم)
یہ بچوں، خاص طور پر بچیوں کے لیے بہت مؤثر ہے:
صرف ایک بٹن دبانے سے تیز آواز
حملہ آور یا اغواء کرنے والا گھبرا جاتا ہے
6) Home Safety Devices (گھر کی سطح پر حفاظت)
اگر بچے گھر میں اکیلے ہوں تو یہ آلات مددگار ہیں:
Door Alarm Sensors
Window Sensors
CCTV Cameras
Motion Sensor light
7) Child Lock اور Mobile Safety Apps
اگر بچے کے پاس موبائل یا ٹیبلٹ ہو تو
Parental Control Apps
Screen Time Limit
Unknown Numbers Block
Location Sharing ہمیشہ ON رکھیں
8) Self-Defense Tools (صرف محفوظ اور قانونی)
بچوں کے لیے:
سیٹی (Whistle)
Personal Alarm
بچوں کو کسی قسم کا خطرناک ہتھیار دینا ہرگز مناسب نہیں
اور سب سے اہم بات
ٹیکنالوجی سہولت ضرور دیتی ہے
مگر اصل حفاظت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
ہر نماز کے بعد اپنے بچوں کے لیے خصوصی دعا کریں
انہیں آیت الکرسی پڑھ کر اللہ کی امان میں دیں
اس کے ساتھ ساتھ
والدین کی مسلسل توجہ
بچوں کی درست تربیت
مثبت ماحول
بروقت نگرانی
ان سب کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں
اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

#قومی_زبان
ایک بار بچوں کے ساتھ کہیں جارہاتھا تو ایرپورٹ پر شاہد آفریدی کو دیکھا
چونکہ مجھے کرکٹ سے دلچسپی نہیں لیکن بچوں کو ہے تو اس دوران ہوا یوں کہ لاونج میں ہی ایک کلی وال بچے نے ان کے پاس جاکر پکچر کی درخواست کی تو نہایت ہی درشت لہجے اور رعونت سے انکار کیا بلکہ اس بچے کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہا جائے خیر سفر کے اختتام پر سامان کے انتظار میں انتہائی نزدیک کھڑے ہونے کے باوجود ہماری طرف سے بھی بے اعتنائی کو اس نے نوٹ کیا اور بار بار ہماری طرف دیکھ رہے تھے جبکہ ہم آپس میں گپ شپ لگا کر خوش تھے
میرے ایک بیٹے نے کہا کہ اس نے اچھا کیا کہ اپنی پرائیویسی رکھی میں نے کہا کہ
اگر وہ اپنے بل بوتے پر اور کسی کراوڈ یا فینز فالونگ کے بغیر سیلیبریٹی بنا ہے جو کہ ناممکن ہے تو اسے اتنی غرور و تکبر کرنا چاہئے تھا لیکن کروڑوں لوگو۔ کی چاہت کی وجہ سے جب وہ بنے ہیں تو یہ اب پبلک پراپرٹی ہے اسے اپنے آپکو صرف حوالداروں کے حوالے نہیں کرنا چاہئے
کل ہم اسلام آباد ایک ریسٹورنٹ میں اس بھلے آدمی عاطف اسلم سے ملے بچوں کو ایسا لگا کہ وہ کھانا ختم کرچکے تو ان کے پاس جاکر ملنے اور تصویر کی اجازت چاہی تو نہایت ہی خندہ پیشانی کے ساتھ کھڑے ہوگئے تصاویر اور ویڈیوز بنائی
اور خوش بھی ہوے لیکن ہمیں افسوس اس وقت ہوا جب وہ اس سیشن کے بعد دوبارہ بیٹھ کر کھانا کھانے لگے اور بغیر کسی رعونت و تکبر کے یہ تک نہیں کہا کہ کھانا کھارہاہوں اور کھانے کے درمیان میں ہوں
اس تصویر کو اپلوڈ کرتے وقت شاہد آفریدی بھی یاد آگئے
منقول

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

یہ چار دن پہلے کی خبر ھے امید ھے کسی نے رابطہ کر لیا ہووو۔۔۔۔۔
مگر ابھی تک ہوا نہی ھے شاید
یہ بچی جو اپنا نام ماریہ دختر اقبال اور والدہ کا نام ارم بتاتی ہے۔ مزید یہ بتاتی ہے کہ والد کاروبار کرتے ہیں اور والدہ ڈاکٹر ہیں۔
یہ اپنے گھر کا پتہ صرف فیصل آباد بتا پاتی ہے۔
16 مئی 2025 کو لاہور کی حدود سے لاوارث ملی تھی۔
اگر کسی کو اس کے ورثاء یا گھر والوں کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو براہِ کرم ورثاء کی تلاش میں میرا پیارا ٹیم کا ساتھ دیں۔
Contact: 03090000015
Case Id- 112949411

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق افراد کی تعداد کم بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ نارمل کر کے بتایا جائے
حکومت کے مطابق 26 جاں بحق اور 83 لاپتہ ہیں۔ جبکہ آگ لگنے سے پلازہ کے اندر ٹمپریچر 300 سے 600 ڈگری تک پہنچ گیا تھا ۔ ایسے میں ان کی باڈیز کی ریکوری کی بجائے زندگی کی امید دلانا دانستہ دھوکہ ہے ۔

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

@WashmaKhan705 #قومی_زبان میرے گروپ کا ہیش ٹیگ ہے جو مجھے میری زبان، شناخت اور اظہار سے جوڑتا ہے اسی لیے ہر پوسٹ کے ساتھ ہوتا ہے
اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

ایک اور بازار آگ کی نذر! گل پلازہ کا واقعہ ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ اور گہرے دکھ کا باعث ہے۔ اللہ متاثرین کی مدد فرمائے۔ ہمیں بحیثیت قوم حفاظتی اقدامات پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
اس طرح کے حادثات پہلے بھی مختلف مارکیٹوں میں رونما ہوتے رہے ہیں، جیسے کچھ عرصہ قبل لاہور کی مشہور مارکیٹ حفیظ سنٹر میں آگ کا سانحہ پیش آیا تھا۔
یہ بات زیادہ اہم ہے کہ ان وجوہات پر غور وفکر کیا جائے جو ان حادثات کی وجہ بنتی ہیں، تاکہ مزید جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔۔

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

آئس ہیروئین سے بھی خطرناک نشہ ہے،
اصل نام Methafetamine
برف کے چھوٹے ٹکروں کی شکل میں کرسٹل میتھ یا آئس کہلاتی ہے،پوڈر کی شکل میں اسے Speed کہتے ہیں،استعمال کرنے والا پہلے دن سے ہی اسکا عادی ہو جاتا ھے،ایک خوراک کا اثر بارہ گھنٹے تک رہتا ھے،
اس کا نشہ کرنے والا
تین چار چار روز تک جاگ سکتا ہے
بڑے شہروں کے کالجز اور یونیورسٹیز میں اس کے متاثرین طلباء، طالبات کی تعداد بہت ذیادہ ہے
اپنے بچوں کی سرگرمیوں پہ نظر رکھیے۔۔

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

#قومی_زبان
برف میں بے ہوش پڑا ایک انسان…
اور اس کے گرد دو بھیڑیے پہرے دار بنے ہوئے۔
ڈرون کی آنکھ نے یہ منظر دیکھا تو سب کو لگا شاید بہت دیر ہو چکی ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ حیران کن تھی۔ وہ زندہ تھا۔
کچھ دن پہلے اس نے انہی بھیڑیوں کو کھانا دیا تھا، اور جب وہ گر پڑا تو وہ اسے چھوڑ کر نہیں گئے۔ سردی میں اس کے ساتھ لپٹ کر اس کی جان بچانے کا ذریعہ بنے۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رحم، احسان اور ہمدردی کبھی رائیگاں نہیں جاتے — چاہے مخاطب انسان ہو یا جنگل کا درندہ۔
قدرت بعض اوقات انسانیت کا سبق وہیں پڑھا دیتی ہے جہاں ہم اس کی توقع بھی نہیں کرتے۔
منقول

اردو
حافظ عبدالعظیم شمسی retweetledi

#قومی_زبان
پردیس کے دکھ۔۔
شیخ صاحب پورے تین سال بعد
سعودی عرب سے گھر اطلاع دیئے بغیر وطن واپس لوٹے کہ بیوی بچوں کو سرپرائز دیں گے
ائیر پورٹ سے بیگم کو میسج کیا
"بیگم میں ائیرپورٹ پہنچ گیا ہوں ، ایک گھنٹے بعد گھر پہنچ جاوں گا".
بیگم صاحبہ نے جواب دیا
"اچھا ٹھیک ہے ، آتے ہوئے دہی اور ہری مرچیں لیتے آنا".
اردو





