
WarFront Operations
828 posts







شـــیخ خالد کا فتوا اگر افغان ٹالبــان کو اقوام متحدہ تسلیم کرے یا اسکا ممبر بنیں تو وہ کا فــر ہے اگر چے وہ شریعت بھی نافذ کردے ۔ ہم نـقل بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بــدنام وہ کــفر بھی کرتے ہیں تو چـرچا نہیں ہوتا کیا منہجِ نفاق والے اہل ســنت ہو سکتے ہیں ؟ کیا منہجِ نفاق والے اعتـــدال پر ہو سکتے ہیں ؟ اس دنـیا میں اچھی خاصــی تعداد ان نام نہاد مجا ہد یــن کی ہے جو دو ترازو رکھتے ہیں ۔۔۔ اگر کسی نے فلاں کام کیا تو کا فـر ۔۔۔ اگر کسی نے فلاں فعل کیا تو کا فـــر ۔۔۔ لیکن اگر وہی کام بغیر کسی عذر اور تاویل کے ان کا ابا کرے تو کٹـر مسلم اہل سنت بلکہ مثالی مقتداء ۔۔۔۔ بالکل یہی کچھ ہمارے زمانے میں ہوا ۔۔۔ دنیا بھر کی حکومتوں کی تکفیــر کی ایک وجہ اقوام متـــحدہ کی رکنیت تھی ۔۔۔ یہاں تک کہ سعودی عرب کی بھی اسی وجہ سے تکفیــر کی گئی ۔۔۔ حالانکہ سعودی عرب نے اسی وجہ سے اپنا آئین نہیں بنایا کہ قران ہمارا آئین ہے ۔۔۔ ســــعودی عرب اج بھی اس کا مدعی ہے کہ اس نے عملا اسلام نافذ کیا ہے ۔۔۔ عملا حدود و قصاص نافذ ہیں ۔۔۔ چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے حد حرابہ بھی قائم کیا جاتا ہے ۔۔۔ کھلے عام قصاص بھی لیا جاتا ہے ۔۔۔ ان پر اعتراض ہے کہ انہوں نے رجم کو معطل کیا ہے اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اگر شرعی تقاضے پورے ہوئے تو ہم رجم بھی کریں گے ہم نے رجم کو معطل نہیں کیا ہے ۔۔۔ اس کے باوجود ســـعودی حکومت کی تکفیـر کی گئی کہ اس نے اقوام متحدہ کی رکنیت قبول کی ہے اور حرمین ، حجاج کی مثالی خدمت اور دنیا بھر کے لئے کروڑوں کی تعداد میں قران کریم کے نســخوں اور تفاســـــیر کی مفت تقسیم بھی سعودی حکومت کو تکفیر سے نہ بچا سکے ۔۔۔ خوارج نے سعودی حکومت کی ڈنکے کی چوٹ پر تکفیـر کی ۔۔۔ تا ہم یہی جرم جب افغانی امارت نے کیا تو صم بكم عمي فهم لا يعقلون بن گئے سارے خارجی ۔۔۔ ہم نے یہ سوال بار بار اٹھایا ہے اور بار بار اٹھاتے رہیں گے ان شاء اللہ تعالی ۔۔۔ تا آنکہ وہ تنظیمیں حق کی طرف لوٹ جائیں یا نفاق خوب کھل جائے .... ولا حول ولا قوۃ الا بالله وبالله التوفيق ۔۔۔ بات ہو رہی ہے قاعدہ ٹ ٹ پ وغیرہ کی ۔۔۔ یہ مامورین ہیں امارت کے اور امارت ان کی امیر ہے ۔۔۔ اب اتے ہیں ان کے باہمی گٹھ جوڑ کی طرف کہ ان کا عقیدہ کیا ہے ؟ ان سب کے نزدیک داعــش خوارج ہیں ۔۔ وجہ ؟ ۔۔۔ ناحق تکفیر ۔۔۔۔۔ اچھا جی پھر تو قاعدہ اور ٹ ٹ پ بھی خوارج ہے ۔۔۔ کیونکہ وہ پاکستانی حکومت کی تکفیر کرتے ہیں اور افغانی امارت نہیں کرتی ۔۔۔ وہ ایران کی تکفیر کرتے ہیں اور امارت نہیں کرتی ۔۔۔ وہ پاکستانی فوج کی تکفیـــر کرتے ہیں جبکہ امارت نہیں کرتی ۔۔۔ بلکہ امارت ان سب کو کھلم کھلا مسلم قرار دیتی ہے ۔۔۔ تو اب ناحق تکفیر پائی گئی نا ۔۔۔ لہذا ان لوگوں کو خوارج قرار دینا چاہئے لیکن صم بكم عمي فهم لا يعقلون ۔۔۔ اس طرح قاعدہ اور ٹی ٹی پی پاکستان کے نزدیک پاکستانی مولوی مرجئہ ہیں اور ان مولویوں کی طرح جتنے بھی مولوی دنیا میں ہیں ۔۔۔ وجہ ؟ ۔۔۔ تکفیرِ حق سے احتراز ۔۔۔ کیونکہ پاکســـتانی حکومت افواج اور آئین واضح دلائل کے ساتھ کافر ہیں اور پاکســـتانی مولوی دلائل کے موجود ہونے اور موانع کے منتفی ہونے کے باوجود تکفیـــر نہیں کرتے اس لئے وہ مرجئہ ہیں ۔۔۔ پھر تو امارت پر بھی کم از کم مرجئہ کا تو فتوی لگانا چاہئے لیکن صم بكم عمي فهم لا يعقلون ۔۔۔ کیونکہ قاعــــدہ اور ٹاٹا پاکســـتان کے نزدیک ان لوگوں کی تکفیر برحق ہے اور ضروری ہے ۔۔۔ لیکن اس برحق اور ضروری تکفیر سے امارت انکاری ہے ۔۔۔ بس اس پر کم از کم مرجئہ کا فتوی ہونا چاہئے لیکن ہر جگہ دو ترازو ہیں ۔۔۔ اور اسی کو نفاق کہتے ہیں ۔۔۔ ہم نے آڈیو ثبوت کے ساتھ شـــیخ خالد کی بات نقل کی تو کچھ لوگوں نے ٹرٹرانا اپنا فرض سمجھا ۔۔۔ آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے ۔۔۔ یہ لوگ بالکل اندھے مقلدیـــن ہیں جو زندگی بھر کسی روشنی کے تلاش میں رہتے ہیں لیکن اکابر کی عبارتیں دکھاؤ کہ اقوام متــحدہ کفــر ہے اور افغان کا ائین بھی تو ٹر ٹر کرنے لگتے ہیں ۔۔۔ اسی طرح یہ لوگ جو قاعدہ اور ٹی ٹی پی وغیرہ کے اکابر کے نام لیوا ہیں جب ان کو شیخ خالد کی زبانی تکفیر نقل کی گئی تو برا مان گئے ۔۔۔ اور لگے ہم سے براءت کرنے ۔۔۔ صاحب ! ہم ساتھ کب تھے جو تم براءت کر رہے ہو ؟ ۔۔۔ جب ہم تمہارے ابا سے براءت کر چکے ہیں تو تم کیا چیز ہو ؟ 1️⃣



🌴ننگرہار میں پیر آغا اپنی ریڈ یونٹ کے ساتھ، اور نیک محمد اپنے فرنٹ لائن سپاہیوں سمیت آگے بڑھتے گئے۔ منگل باغ بھی داعش کے خلاف سرگرم عمل تھا۔ دوسری طرف امریکہ کے ڈرون حملے، فضائی بمباری، اور افغان کمانڈوز کے چھاپوں نے داعش کو تیزی سے کمزور کر دیا۔ یوں وہاں کے لوگ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ کچھ ٹی ٹی پی میں واپس آ گئے، کچھ نے افغان حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، اور کچھ جنگ میں مارے گئے۔ افغان طالبان نے ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی۔ ازبک خواتین و بچوں سمیت ان کا صفایا کر دیا۔ یہی صورتِ حال جوزجان میں بھی پیش آئی۔ کنڑ میں صورت حال زیادہ پیچیدہ تھی۔ افغان طالبان امریکی بمباری اور چھاپوں کے باوجود پیش رفت نہ کر سکے، حتیٰ کہ ریڈ یونٹ بھی تعینات کر دیا، مگر ناکام رہی۔ آخرکار کمانڈ حاجی عثمان کو سونپ دیا گیا، جو پاکستان حامی افغان طالبان کمانڈر تھا۔ اس نے پاکستان سے امداد حاصل کی، بغیر وردی پاکستانی اہلکاروں کو استعمال کیا، مدارس میں تحریکیں چلائی، چندہ اکھٹا کیا، اور ایک مضبوط قوت تیار کر کے داعش پر حملے شروع کیے۔ حاجی عثمان خود بھی محاذ جنگ میں شریک ہوتا تھا۔ 🌳کنڑ میں سلفی عقیدے کی کثرت تھی، اسی لیے عوام کی اکثریت داعش کی حامی تھی۔ حاجی عثمان کے سینکڑوں ساتھی اس جنگ میں شہید ہوئے۔ بالآخر داعش کو شکست ہوئی اور وہ حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔ لیکن کچھ خفیہ افراد بچ نکلے اور بعد ازاں ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر افغانستان میں، خصوصاً ننگرہار اور کنڑ میں، پاکستان نواز افغان طالبان پر حملے شروع کر دیے۔ 🌲یہ کاروائیاں اس طرح ہوتی تھیں کہ چونکہ ٹی ٹی پی کے افراد کو افغان طالبان کے علاقوں میں نقل و حرکت کی اجازت تھی، وہ ان پر حملہ کرتے، اور بعد میں داعش اس کی ذمہ داری قبول کرتی۔ یوں دونوں کو فائدہ ہوتا — داعش کی ساکھ برقرار رہتی، اور ٹی ٹی پی کا ہاتھ صاف رہتا اور اپنے دشمنوں کا بھی صفایا کرلیتے ۔ ٹی ٹی پی ہی داعش کے زخمیوں کا علاج کرتے، اسلحہ منتقل کرتے، اور بدلے میں مالی معاونت حاصل کرتے۔ کنڑ کے پہاڑی علاقے اسد آباد کے مضافات میں مولوی عبداللہ اپنے پانچ ساتھیوں سمیت مارا گیا — اس حملے کی منصوبہ بندی پیر صاحب المعروف ڈرون نے کی تھی۔ ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری نہیں لی، بلکہ "امارتِ اسلامی" سے تعزیت کر لی تاکہ شک نہ پڑے۔ اگر طالبان کو شبہ بھی ہو جاتا کہ ٹی ٹی پی اس میں ملوث ہے تو ان کا انجام بھی داعش جیسا ہوتا۔ 🌳ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ وجہ اکثر وہی سابقہ داعشی افراد ہوتے جو ٹی ٹی پی میں واپس آ گئے تھے، جنہیں دیکھ کر امارت کے جنگجو طیش میں آ جاتے۔ نتیجتاً تلخ کلامی بڑھتی، اسلحہ نکلتا، اور جھڑپ ہو جاتی۔ بعد میں مشیروں کی مداخلت سے صلح کرا دی جاتی۔ ننگرہار اور کنڑ ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ 🌳اسی موقع پر ٹی ٹی پی کا وجود خطرے میں تھا۔ طالبان کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب ہو چکے تھے۔ ایسے میں ٹی ٹی پی کی قیادت نے متفق ہو کر مفتی نور ولی کو قیادت سونپی، تاکہ وہ طالبان کے ساتھ صلح قائم کریں، اور ایک نیا طریقۂ کار اپنایا جائے — جو امارتِ اسلامی کی خواہشات کے مطابق ہو، اور داعش سے فاصلہ بھی رکھا جا سکے۔ *ٹی ٹی پی اور داعش کا باجوڑ میں گٹھ جوڑ* اہم نکتہ یہ ہے کہ ٹی ٹی پی دنیا کی وہ واحد تنظیم ہے جس نے باضابطہ طور پر داعش سے بیعت نہیں کی، لیکن دونوں کے درمیان کوئی جنگ بھی کبھی نہیں ہوئی۔ داعش نے ٹی ٹی پی پر کبھی حملہ نہیں کیا، اور نہ ہی ٹی ٹی پی نے۔ بلکہ اکثر مواقع پر ایک دوسرے کی مدد بھی کی ہے۔ جیسا کہ اوپر تفصیل سے بیان کیا گیا کہ افغانستان میں داعش کی بنیاد ٹی ٹی پی کے باجوڑ، خیبر، مہمند، اورکزئی اور دیگر علاقوں کے جنگجوؤں نے رکھی۔ اسی لیے جب داعش کو شکست ہوئی تو اکثر یہی لوگ واپس ٹی ٹی پی میں شامل ہو گئے۔ اب اگر ہم پاکستان، خصوصاً باجوڑ کی بات کریں، تو وہاں داعش اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ سب سے نمایاں ہے۔ اگر صرف باجوڑ میں داعش کی کاروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پورے پاکستان و افغانستان میں جتنی کاروائیاں نہیں ہوئیں، اس سے زیادہ صرف باجوڑ میں ہو چکی ہیں۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ ✨باجوڑ میں اکثریت پنج پیری مکتب فکر کی ہے — طالبان میں بھی اور عوام میں بھی۔ تاہم ایک بڑی تعداد دیوبندی مکتب فکر سے وابستہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے کارکنوں کی بھی ہے۔ ⚡ٹی ٹی پی کے منشور کے مطابق جے یو آئی ایک گمراہ جماعت ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن پر کئی بار خودکش حملے کیے، جن میں ان کے کئی ساتھی شہید ہوئے، اور مولانا بال بال بچے۔ ٹی ٹی پی کے نزدیک پاکستان میں شریعت کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ مولانا فضل الرحمن ہیں۔ اسی لیے وہ ہمیشہ ان کے خلاف رہے ہیں۔ 4️⃣

ٹی ٹی پی کی تقسیم اور داعش سے الحاق 🌿 یہی وہ وقت تھا جب تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ ان کی آدھی قیادت اور جنگجوں نے داعش میں شمولیت اختیار کر لی۔ حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی اور اورکزئی ایجنسی کے امیر حافظ محمد سعید نے حافظ دولت سمیت تمام کارکنوں کے بشمول داعش سے بیعت کی۔ ٹی ٹی پی کا نائب ترجمان شاہد اللہ شاہد بھی داعش میں چلا گیا ، عبد الولی عرف عمر خالد، جو کہ جماعت الاحرار کے سربراہ تھے، نے اگرچہ باضابطہ بیعت نہیں کی، تاہم انہوں نے داعش کے خلاف مخالفت بھی نہیں کی اور فریقین کو باہمی اتحاد و اتفاق کی تلقین کی۔ 🏝️اسی دوران عمر خالد کے جماعت کے اندر بھی شدید اختلافات چل رہے تھے، خصوصاً سوات کے ملا فضل اللہ گروپ اور محسود گروپ سے۔ ان ہی اختلافات کے باعث بعد ازاں عمر خالد کو محسود گروپ نے پکتیا میں قتل کر دیا۔ عبد الولی نے بیعت میں تاخیر کی، مگر اپنے ساتھیوں کو داعش میں شمولیت کی اجازت دی، اور وسائل بھی فراہم کیے۔ 🍀جماعت الاحرار کے ممتاز کمانڈر، جیسے خطاب، ابو لیث اور منصور نے داعش میں شمولیت اختیار کی، اور بعد میں سب مارے گئے۔ خطاب خاص طور پر احرار تنظیم میں سخت گیر ٹریننگ دینے کے لیے مشہور تھا۔ باجوڑ میں داعش اور ٹی ٹی پی کے روابط ⚡ باجوڑ کے مشہور ٹی ٹی پی کمانڈرز کا داعش خراسان میں منتقلی 1. مولانا ابو بکر باجوڑی ۔ 2. قاری زاہد 3. عبدالرحمن غالب باجوڑی نژاد کمانڈر2014–2017 ☘️تحریک کے حلقہ باجوڑ کے کارکنوں میں بھی یہی صورت حال رہی۔ یہاں تقریباً 700 سے زائد ٹی ٹی پی جنگجوؤں نے داعش سے بیعت کی۔ مولوی فقیر محمد نے داعش کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا۔ جب افغان طالبان اور داعش کے مابین جھڑپیں شروع ہوئیں تو اختتامی مراحل میں 300 سے زائد باجوڑی جنگجو واپس ٹی ٹی پی میں شامل ہو گئے، جن میں مولوی عبداللہ اور مشہور سنائپر داود بھی شامل تھے۔ ⚡خیبر ایجنسی میں بھی یہی صورتحال تھی، جیسا کہ مہمند ایجنسی میں احرار گروپ کا تھا۔ انہوں نے داعش کے ساتھ ننگرہار کے علاقے "اچین" میں مضبوط تعلقات قائم کیے۔ اگر کوئی پرانا گوگل میپ استعمال کرے تو واضح نظر آئے گا کہ وہاں درہ آدم خیل، خیبر ایجنسی اور لشکرِ اسلام (منگل باغ) کے افراد داعش کے ساتھ پرامن طور پر رہ رہے تھے، کیونکہ داعش میں اکثریت انہی ٹی ٹی پی کے لوگوں کی تھی۔ 🔥خلیفہ عمر منصور نے بیعت تو نہ کی، لیکن لاجسٹک تعاون جاری رکھا۔ بعد میں جب افغان طالبان اور داعش کی لڑائی شدت اختیار کر گئی، تو خلیفہ عمر منصور نے اپنے لوگوں کو کنڑ منتقل ہونے کا حکم دیا۔ 🔥لشکرِ اسلام میں بھی یہی سلسلہ جاری رہا۔ آدھے سے زیادہ افراد نے داعش میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں داعش اور منگل باغ کے درمیان ننگرہار میں شدید ترین جنگیں ہوئی، جس میں دونوں جانب بھاری جانی نقصان ہوا۔ میرے خیال میں داعش کے خلاف اتنی شدید مزاحمت شاید ہی کسی نے کی ہو جتنی منگل باغ نے کی۔ حتیٰ کہ افغان طالبان بھی داعش کا مؤثر مقابلہ نہ کر سکے۔ ایک داعشی بسا اوقات دس افغان طالبان پر بھاری پڑتا تھا۔ 🌵یوں یہ سلسلہ جاری رہا، اور تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کا تقریباً نصف حصہ بشمول قیادت، کمانڈرز، علماء اور جنگجوں داعش میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں حافظ محمد سعید کو داعش کی خراسان شاخ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ 🌴جب افغان طالبان اور داعش کے درمیان بھرپور جنگ چھڑ گئی، تو کچھ داعشی عناصر دوبارہ ٹی ٹی پی میں شامل ہو گئے۔ ان میں اکثریت کی سوچ و فکر وہی تھی، لیکن بقاء کی خاطر اور مستقل رہائش کے لیے انہوں نے ٹی ٹی پی میں واپسی کو ترجیح دی۔ مولوی گل محمد نے اپنے اثر و رسوخ سے کام لیتے ہوئے ان جنگجوؤں کو کنڑ اور دیگر مقامات پر بسانے کے لیے افغان طالبان سے خصوصی رعایتیں حاصل کی جس کی بنیاد پر انہیں امارت کی طرف سے ٹی ٹی پی کے ماتحت کنڑ وغیرہ میں رہن سہن کی اجازت مل گئی ۔ 🌴اس وقت ٹی ٹی پی کو افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ ان کے پاس بمشکل پانچ ہزار جنگجو رہ گئے تھے۔ ادھر داعش نہایت طاقتور ہو چکی تھی اور افغان طالبان ان کے خلاف مؤثر کاروائی کرنے سے قاصر تھے۔ طالبان نے اس معاملے میں پاکستان سے مدد لی۔ ننگرہار میں کمانڈر نیک محمد، کندھار سے پیر آغا، اور کنڑ سے حاجی عثمان کو، جنہیں پاکستان کے قریب سمجھا جاتا تھا، اسلحہ، افرادی قوت اور مالی وسائل فراہم کیے گئے۔ 3️⃣

داعش کا افغانستان میں قدم جمانا⛰️🏔️ یہ وہ وقت تھا جب داعش ہر خطے میں فتوحات اور قبضے حاصل کر رہی تھی۔ ان کے پاس افرادی قوت کی کمی نہیں تھی۔ مسلمانوں کے نوجوانوں کو شام و عراق میں کثرت سے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کے پاس دنیا بھر سے ماہر ڈاکٹر، انجینیئر، پائلٹ، یہاں تک کہ اسپیشل فورسز کمانڈوز اور بعض حکومتوں کے وزراء تک موجود تھے۔ شام کا موجودہ صدر معروف رہنما جولانی بھی کسی وقت میں داعش کے کرکوک (عراق) کا گورنر تھا۔ 🌵افغانستان میں سب سے پہلے سلفی علماء نے ان کی دعوت قبول کی، جن میں شیخ عبدالقہار، شیخ جلال الدین اکبر اور ایک وقت میں شیخ امین اللہ بھی شامل تھے۔ بعض دیوبندی اور پنج پیری مکتبہ فکر سے وابستہ علماء و افراد نے بھی ان کی حمایت شروع کر دی۔ پاکستان میں مولانا عبدالعزیز، جامعہ حفصہ کی اُم حسان اور دیگر حلقوں نے داعش کی حمایت کا اعلان کیا۔ اگرچہ بعض علماء نے ان کو مشکوک قرار دیا، تاہم داعش کی فتوحات، قرآن و حدیث پر مبنی دلائل، اور پُراثر ویڈیوز نے طالبان اور دیگر علماء کے بیانات کو پس منظر میں ڈال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے افغان طالبان کے کئی اہم کمانڈرز، جیسے سعد ترابی، ملا عبدالرؤف اور مولانا عبدالحسیب نے اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت داعش سے بیعت کر لی۔ داعش نے افغانستان میں باضابطہ طور پر اپنے صوبہ "ولایتِ خراسان" کااعلان کیا اور طالبان کو خلافت میں ضم ہونے کی دعوت دی، جو طالبان نے مسترد کر دی۔ اور ٹی ٹی پی کے اورکزئی ایجنسی کے سابقہ امیر حافظ محمد سعید کو خراسان کا والی یعنی گورنر مقرر کردیا گیا ۔۔ 2️⃣

داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا گٹھ جوڑ ❓ داعش کا پس منظر 🌴 داعش کا افغانستان میں قدم جمانے سے پہلے کا مختصر پس منظر بیان کرنا ضروری ہے تاکہ بعد کی صورت حال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ جب عراقی القاعدہ، زرقاوی اور دیگر سنی گروہوں بشمول صدام حسین کے بعض رہنما اور کارکنان نے اتحاد قائم کیا، تو انہوں نے وہاں موجود تمام دیگر تنظیموں اور جماعتوں کا خاتمہ کر کے اپنے زعم میں ایک اسلامی شریعت و خلافت کی بنیاد رکھنے کا ارادہ کیا۔ (واضح رہے کہ امت مسلمہ کے اکثر علماء، صالحین اور اہلِ حل و عقد ان کے طریقہ کار سے متفق نہ تھے اور آج بھی نہیں ہیں۔ تاہم چونکہ ان شدت پسند گروہوں کے نزدیک یہی "خلافت" اور "شریعت" تھی، لہٰذا ہم یہاں انہی کی اصطلاحات استعمال کریں گے۔) 🍀اس گروہ نے عراق میں اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کیا اور ابو عمر البغدادی کو "امیر المؤمنین" مقرر کیا۔ القاعدہ نے بظاہر ان کے ساتھ الحاق کر لیا اور خاموشی اختیار کی۔ کچھ عرصہ بعد ابو عمر اور دیگر رہنما امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے اور قیادت ابوبکر البغدادی کے پاس آ گئی۔ اس وقت ان کی شناخت "دولۃ الاسلامیہ فی العراق" (عراق کی اسلامی ریاست) کے طور پر تھی۔ 🍁بعد ازاں جب ان کے پاس مزید عسکری طاقت آ گئی اور انہوں نے بغداد تک محاصرہ کر لیا، تو انہوں نے اعلان کیا کہ اب عراق کی اسلامی حکومت عراق تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک خلافت ہے، جس کا وعدہ ہمارے پیغمبرؐ نے چودہ سو سال پہلے فرمایا تھا، اور اب ہمیں یہ خلافت قائم کرنی ہوگی۔ 🍂اس اعلان کے بعد وہ عراق سے شام میں داخل ہوئے اور مشہور سائیکس-پیکو معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔ جلد ہی وہ شامی عوام میں مقبول ہو گئے اور شام کے کئی صوبوں اور شہروں پر قبضہ حاصل کر لیا۔ یوں "دولۃ الاسلامیہ فی العراق" میں شام بھی ضم ہوا اور اس کا نام داعش مشہور ہو گیا — یعنی دولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام (عراق و شام کی اسلامی ریاست)۔ تاہم بعد میں داعش نے اس نام کو مسترد کر دیا اور سختی سے یہ موقف اپنایا کہ وہ عراق یا شام کی حکومت نہیں بلکہ پوری دنیا پر خلافت کے قیام کے لیے سرگرم ہیں، اور ان کا مقصد صرف ان علاقوں تک محدود نہیں ہے۔ اسی لیے وہ خود کو صرف دولۃ الاسلامیہ کہلانا پسند کرتے تھے — ایک ایسی ریاست جس کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں۔ 🌱یوں داعش کے اس عالمی مشن کو دنیا بھر میں انتہا پسند نظریات رکھنے والے افراد نے سراہا اور مختلف ممالک سے ہزاروں افراد نے ان میں شمولیت اختیار کی۔ صرف مغربی ممالک سے تقریباً 4000 کے قریب نومسلم اور مسلمان نوجوانوں نے ان کی دعوت قبول کر کے شام و عراق کا رخ کیا، جبکہ مجموعی طور پر 92 ممالک سے افراد نے ان کی خلافت کو قبول کیا۔ کچھ افراد نے ہجرت کی، تو کچھ نے اپنے علاقوں میں ہی ان کی بیعت کر کے ان کی دعوت و مشن کو پھیلانا شروع کر دیا۔ 🥀یہ صورت حال القاعدہ کے لیے خاصی پریشان کن تھی کیونکہ ان کے تربیت یافتہ لوگ اور ذیلی تنظیمیں کمزور ہو گئیں اور ہر جگہ سے کئی افراد نے القاعدہ سے قطع تعلق کر کے داعش میں شمولیت اختیار کی۔ افریقہ، یمن، لیبیا، روس سمیت دیگر خطوں میں یہی عمل دہراتا رہا۔ اور یہی دعوت جب افغانستان کے خطے میں پہنچی تو اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ 1️⃣















