Sajid Iqbal retweetledi

اس جوان کو گھر میں پیار سے سینڈو نام سے پکارا جاتا تھا۔
اپنا اصلی نام یاد نہیں ہے۔
والد کالو کے نام سے مشہور تھا اور والدہ کا نام نرگس تھا۔
چار بہنیں بھائی تھے ایک بہن حنا کا نام یاد ہے،باقی دو بھائیوں کے نام یاد نہیں ہیں۔
سینڈو کراچی کے علاقے نیول کالونی کا رہائشی تھا،والد فوت ہوگیا تھا۔ چار بہن بھائی اور ماں رہتے تھے۔
جب مالی حالات بہت خراب ہوئے اکیلی ماں پالنے سے قاصر ہوئی تو ماں اپنے بچوں کو انکے تایا ابو کے پاس چھوڑ کر اپنے گھر چلی گئی۔
ماں لکی کے قریب ایک مدرسے میں بھی داخل کرتی سینڈو بار بار وہاں سے بھاگ جاتا۔
تایا کا نام بشیر تھا اور انکے دو بیٹے تھے ندیم اور شمع۔
تایا کا گھر کراچی کے علاقے نیپال کے آس پاس تھا،اور گھر کے پاس گھوڑوں کی ریس کے لئے جگہ بنی تھی۔
تایا کے گھر میں تربیت کے لئے سختی سے سینڈو 6 سال کی عمر میں سال 2001 میں گھر سے بھاگ گیا،روڈ پر پولیس نے لاوارث پاکر ایک شیلٹر میں جمع کروادیا۔
سینڈو جب بڑا ہوا شیلٹر سے نکل کر اپنوں کو ڈھونڈنے گیا تو سارا نقشہ بدل چکا تھا۔کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔
سینڈو نے جب اپنے حالات اور ماں، بہن بھائیوں کی یاد بتانا شروع کی تو انکا چہرہ آنسوؤں سے مکمل بھیگ گیا۔سسک سسک کر روتا رہا۔
سینڈو کا نام شیلٹر میں عبداللہ رکھا گیا ہے،اور اپنی والدہ بہن بھائیوں کی تلاش میں ہے۔
اس وقت سینڈو لاوارث اور تنہا ہے،بےکس اور لاچار ہے۔
اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔
تمام دوست اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں،آپ کا ایک شئیر ایک دکھی انسان کو اپنوں سے ملاسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
03162529829
9 may 2026
#waliullahmaroof #karachi #PakistanZindabad #Missingperson

اردو

























