
پاکستان نے کتنے ٹیسٹ پاس کیے
پاکستان اپنے قومی مفاد میں ایران اسرائیل امریکہ جنگ بند کرانے کے لیے مذاکرات کار بنا ہے ۔ وہ بھی تب جب روایتی سفارتی چینل دھڑام ہو چکے تھے ۔ پرانے مذاکرات کار اومان اور قطر خود ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ، ایران سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا ۔
ایرانی رہبر علی خامینائی کے بعد مذاکرات ، سیاست اور سفارت کے ٹاپ نگران علی لاریجانی مارے جا چکے
یروشلم پوسٹ کے مطابق پاکستان کے سامنے آنے کی وجوہات بہت ساری ہیں اس کا ایران کے ساتھ طویل باڈر ہے ، بلوچستان میں جاری انرسجنسی ، انرجی کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار ، انرجی سے بری طرح جڑی ہوئی معیشت کے علاوہ واشنگٹن اور تہران کے ساتھ بیک وقت گہرے روابط ۔
فیلڈ مارشل کی ڈونلڈ ٹرمپ تک براہراست رسائی اور پاکستان میں ترکی ، قطر اور دیگر ممالک کی طرح کوئی امریکی اڈے نہ ہونا ۔جس کی وجہ سے پاکستان ایران کا ہرگز فوجی ٹارگٹ نہیں ہے ۔ پاکستان ایٹمی ملک ہے اور ایران کے بعد سب سے بڑی شیعہ آبادی کا وطن ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے
وینس جنگوں کے خلاف اعلانیہ موقف رکھتے ہیں ، عراق میں تعینات رہے ہیں اور مڈل ایسٹ میں امریکی مداخلت اور فوجی موجودگی کے مخالف رہے ہیں ، ٹرمپ کہہ چکا ہے کہ وینس کا ایران جنگ پر موقف مجھ سے نظریاتی طور پر کچھ مختلف ہے ، وہ جنگ کے حوالے سے زیادہ ایکسائٹڈ نہیں تھا ۔ بعد میں متفق ہو گیا تھا ۔
ٹرمپ نے وینس کو مذاکرات کے لیے دو وجہ سے نامزد کیا ہے ، اگر سفارتکاری کامیاب رہی تو جنگ مخالف ریپبلکن کو بھی معاہدے کی حمایت کرنی پڑے گی اور اگر ناکامی ہوتی ہے تو بھی وہ ٹرمپ کے خلاف نہیں جا سکیں گے ۔
(سوال یہ ہے کہ وینس سے مذاکرات کرنے کا ایرانی مطالبہ منوایا کس نے ہم نہیں تو کون ؟)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی لاریجانی کے بعد ایران میں کس سے بات کی جائے یہ ایک اہم مسلہ تھا ، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اس کے لیے ابھر کر سامنے آئے ۔ وہ ایرانی اسلامی انقلاب کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں ، سیکیورتی اسٹیبلشمنٹ کے بھی نمائندہ ہیں اور پارلیمنٹ کے بھی ، اعتدال پسندوں اور ہارڈ لائنر دونوں جانب اپنے عہدے کی وجہ سے اہم ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کا خلاصہ ہے ۔ اک آدھ جملے اپن کی طرف سے اضافی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان یہ مذاکرات ممکن بناتا بہت دور تک گیا ہے ۔ پہلے ہرمز سے دس آئل ٹینکر گزار کے دکھائے اور ثابت کیا کہ ہم جس سے مذاکرات کرا رہے وہ بااختیار بھی ہے ۔ اس سے پہلے ایرانی رہبر سے نوروز پر پاکستان کی حمایت میں ایک بیان آیا ۔ پھر سعودی سفیر کی جانب سے مذاکرات کی حمایت میں ویڈیو بیان آیا اور پاکستان نے یہ بتایا کہ ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں ۔
ایرانی وزیر خارجہ اور سپیکر کو پاکستان نے ہٹ لسٹ سے نکلوایا ، اگلا ایرانی مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان 72 گھنٹوں کا سیز فائر کروائے تاکہ ایرانی قیادت کو آپس میں رابطوں کا موقع مل سکے ۔ یہ بھاری پتھر بھی اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
اب اک سوال کا جواب آپ کو خود دینا ہے
تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائش گاہ کے پاس سٹرائک ہوا ۔ سفارتخانہ ایرانی فوجی مرکز کے پاس ہے اور سفیر کی رہائش گاہ انقلابی گارڈ کے زیر کنٹرول رہائشی علاقے میں ہے ۔
یروشلم پوسٹ کی یہ رپورٹ پڑھیں اور سوچیں کہ یہ سٹرائک پاکستان سے جیلسی کا نتیجہ تھے یا ہمارے ایرانی بھائیوں نے پاکستان کی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی ہماری علامتی عمارتوں کے پاس کوئی موومنٹ یا ملاقات رکھی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹی ٹی پی کمانڈر کافی عرصہ اپنی تشریف کابل میں پاکستان کے ایک دوست ملک کے سفارتخانے ساتھ والی بلڈنگ میں دیوار کے ساتھ لگا کر چھپے رہے اور پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود وہاں ٹارگٹ نہیں کیا
اردو


