wisibaba وسی بابا

4.2K posts

wisibaba وسی بابا

wisibaba وسی بابا

@wisibaba

یہ نام دل کی وہ باتیں کرنے کو رکھا جو ویسے کہنے کی جرات نہیں تھی ۔ سیاست شدت پسندی پر الٹا سیدھا لکھنا اور بتانا ہی کام ہے ۔

Islamabad Katılım Mart 2009
715 Takip Edilen7.7K Takipçiler
wisibaba وسی بابا
پاکستان نے کتنے ٹیسٹ پاس کیے پاکستان اپنے قومی مفاد میں ایران اسرائیل امریکہ جنگ بند کرانے کے لیے مذاکرات کار بنا ہے ۔ وہ بھی تب جب روایتی سفارتی چینل دھڑام ہو چکے تھے ۔ پرانے مذاکرات کار اومان اور قطر خود ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ، ایران سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا ۔ ایرانی رہبر علی خامینائی کے بعد مذاکرات ، سیاست اور سفارت کے ٹاپ نگران علی لاریجانی مارے جا چکے یروشلم پوسٹ کے مطابق پاکستان کے سامنے آنے کی وجوہات بہت ساری ہیں اس کا ایران کے ساتھ طویل باڈر ہے ، بلوچستان میں جاری انرسجنسی ، انرجی کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار ، انرجی سے بری طرح جڑی ہوئی معیشت کے علاوہ واشنگٹن اور تہران کے ساتھ بیک وقت گہرے روابط ۔ فیلڈ مارشل کی ڈونلڈ ٹرمپ تک براہراست رسائی اور پاکستان میں ترکی ، قطر اور دیگر ممالک کی طرح کوئی امریکی اڈے نہ ہونا ۔جس کی وجہ سے پاکستان ایران کا ہرگز فوجی ٹارگٹ نہیں ہے ۔ پاکستان ایٹمی ملک ہے اور ایران کے بعد سب سے بڑی شیعہ آبادی کا وطن ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے وینس جنگوں کے خلاف اعلانیہ موقف رکھتے ہیں ، عراق میں تعینات رہے ہیں اور مڈل ایسٹ میں امریکی مداخلت اور فوجی موجودگی کے مخالف رہے ہیں ، ٹرمپ کہہ چکا ہے کہ وینس کا ایران جنگ پر موقف مجھ سے نظریاتی طور پر کچھ مختلف ہے ، وہ جنگ کے حوالے سے زیادہ ایکسائٹڈ نہیں تھا ۔ بعد میں متفق ہو گیا تھا ۔ ٹرمپ نے وینس کو مذاکرات کے لیے دو وجہ سے نامزد کیا ہے ، اگر سفارتکاری کامیاب رہی تو جنگ مخالف ریپبلکن کو بھی معاہدے کی حمایت کرنی پڑے گی اور اگر ناکامی ہوتی ہے تو بھی وہ ٹرمپ کے خلاف نہیں جا سکیں گے ۔ (سوال یہ ہے کہ وینس سے مذاکرات کرنے کا ایرانی مطالبہ منوایا کس نے ہم نہیں تو کون ؟) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی لاریجانی کے بعد ایران میں کس سے بات کی جائے یہ ایک اہم مسلہ تھا ، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اس کے لیے ابھر کر سامنے آئے ۔ وہ ایرانی اسلامی انقلاب کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں ، سیکیورتی اسٹیبلشمنٹ کے بھی نمائندہ ہیں اور پارلیمنٹ کے بھی ، اعتدال پسندوں اور ہارڈ لائنر دونوں جانب اپنے عہدے کی وجہ سے اہم ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کا خلاصہ ہے ۔ اک آدھ جملے اپن کی طرف سے اضافی ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان یہ مذاکرات ممکن بناتا بہت دور تک گیا ہے ۔ پہلے ہرمز سے دس آئل ٹینکر گزار کے دکھائے اور ثابت کیا کہ ہم جس سے مذاکرات کرا رہے وہ بااختیار بھی ہے ۔ اس سے پہلے ایرانی رہبر سے نوروز پر پاکستان کی حمایت میں ایک بیان آیا ۔ پھر سعودی سفیر کی جانب سے مذاکرات کی حمایت میں ویڈیو بیان آیا اور پاکستان نے یہ بتایا کہ ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ایرانی وزیر خارجہ اور سپیکر کو پاکستان نے ہٹ لسٹ سے نکلوایا ، اگلا ایرانی مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان 72 گھنٹوں کا سیز فائر کروائے تاکہ ایرانی قیادت کو آپس میں رابطوں کا موقع مل سکے ۔ یہ بھاری پتھر بھی اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اب اک سوال کا جواب آپ کو خود دینا ہے تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائش گاہ کے پاس سٹرائک ہوا ۔ سفارتخانہ ایرانی فوجی مرکز کے پاس ہے اور سفیر کی رہائش گاہ انقلابی گارڈ کے زیر کنٹرول رہائشی علاقے میں ہے ۔ یروشلم پوسٹ کی یہ رپورٹ پڑھیں اور سوچیں کہ یہ سٹرائک پاکستان سے جیلسی کا نتیجہ تھے یا ہمارے ایرانی بھائیوں نے پاکستان کی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی ہماری علامتی عمارتوں کے پاس کوئی موومنٹ یا ملاقات رکھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹی ٹی پی کمانڈر کافی عرصہ اپنی تشریف کابل میں پاکستان کے ایک دوست ملک کے سفارتخانے ساتھ والی بلڈنگ میں دیوار کے ساتھ لگا کر چھپے رہے اور پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود وہاں ٹارگٹ نہیں کیا
اردو
0
10
43
6.1K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
افغانوں کی تباہی کے ذمہ دار فسادی افغان طالبان ہیں افغان طالبان بھی پاکستان مخالف اسٹینڈ لے کر اب افغان قوم پرستوں کی نوبیاہی دلہن بنے ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کا بھی یہی مؤقف ہے کہ افغانستان کی تباہی پاکستان کے ہاتھوں ہوئی ہے، ہمیں ان سب کا یہ مؤقف تسلیم کر لینا چاہیے، ساتھ بتانا چاہیے کہ افغانوں کی تازہ تباہی میں ہم اگر پیچھے سے ہلا شیری دے رہے تھے تو عملی طور پر بربادیاں اور فساد مچانے والے افغان طالبان ہی تھے۔ wenews.pk/news/440094/
اردو
0
3
15
1K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت ایران نے 2025 میں اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ کے بعد صرف چھ دن میں چار لاکھ سے زائد افغانوں کو نکال دیا تھا ۔ اسی سال 15 لاکھ افغانوں کی ایران سے واپسی ہوئی تھی ۔ اب بھی ایران میں 4 ملین افغان ہیں ۔ ان کی واپسی کیسا چیلنج ہو سکتی ہے ۔ افغان طالبان کی فورسز کتنی ہیں اور کہاں تعینات ہیں ۔ نئی پابندیاں اور مشکلات کیا ہونگی ۔ اس پر لکھی تحریر wenews.pk/news/437654/
اردو
0
10
30
4K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
ایران کی نظروں میں اب ہمارا بھارت کتنا مہان رہ سکے گا انڈیا بظاہر نیوٹرل ہے لیکن محبت قربت اسرائیل سے چھپائے نہیں چھپ رہی جس کا دورہ ایران پر حملے سے 48 گھنٹے پہلے مودی نے کیا ۔ ایرانی بحری جہاز آئیرس دینا انڈیا میں بحری مشقوں میں حصہ لے کر واپسی پر امریکی آبدوز کا نشانہ بن کر ڈوب گیا ۔ انڈیا ایران تعلقات ٹھنڈے پڑ رہے ہیں ۔ wenews.pk/news/436018/
اردو
2
6
31
2.7K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور امر اللہ صالح سابق افغان نائب صدر ہیں اور پاکستان کی مخالفت کرنے کے لیے مشہور ہیں۔2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد امر اللہ صالح خود کو 2004 کے افغان آئین کے مطابق نگران صدر کے عہدے پر فائز کر چکے ہیں۔ یہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس کے سربراہ رہے ہیں۔ این ڈی ایس کا نام بدل کر اب جی ڈی آئی کر دیا گیا ہے۔ امر اللہ صالح نے 2010 میں بسیج ملی قائم کی تھی۔ یہ افغان گرین ٹرینڈ یا اے جی ٹی بھی کہلاتی ہے۔ یہ تنظیم اب طالبان مخالف نیشنل رزسٹنس فرنٹ کا حصہ ہے۔ اے جی ٹی کے ایکس اکاؤنٹ سے پاکستان کی نئی افغان اسٹریٹجی کا 5 نکاتی جائزہ لیا گیا ہے۔ کسی بھی ایشو کو سمجھنے کے لیے اس کو ہر ہر اینگل سے دیکھنا چاہئے ۔ افغان طالبان ایک پریشر میں ہیں اور غلطیاں کر رہے ہیں ۔ وہ سنبھل بھی سکتے ہیں اور یہاں سے اپنے لیے حالات بگاڑ بھی سکتے ہیں ۔ wenews.pk/news/434975/
اردو
0
2
22
3.5K
Soulat Pasha
Soulat Pasha@soulat_pasha·
یار ہماری قسمت دیکھیں، پہلے ہندو ہمیں تعصبی ملے، پھر بنگالی غدار مل گئے اور اب یہ بے وفا نمک حرام افغانی مل گئے۔۔۔آخر ہم جیسے سیدھے سادھے لوگوں کے نصیب میں ہمیشہ ایسے ہی بدبخت کیوں آتے ہیں۔۔۔ہیں۔؟
اردو
96
76
722
18.4K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان افغانستان میں بیس سے تئیس ہزار جنگجو موجود ہیں جو دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ افغان طالبان صرف داعش کے خلاف کاروائی کرتے ہیں ۔ ٹی ٹی پی حملوں نے پاک افغان تعلقات کو پیچیدہ کر دیا ہے ۔ wenews.pk/news/431909/
اردو
0
4
11
1.1K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
پاک امریکا پارٹنر شپ، نئے امکانات دھندلا نہ جائیں سمیر پال کپور یو ایس اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ اور سنٹرل ایشیا ہیں۔ 11 فروری کو انہوں نے یو ایس کانگریس کمیٹی کو بریف کیا ہے۔ اس بریفنگ میں پاکستان کو اہم ریجنل پارٹنر بتایا گیا ہے، ایسا پارٹنر جس کے ساتھ امریکا اب سیکیورٹی تعلقات سے آگے جاتے ہوئے ٹریڈ اور اکنامک تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ دہشتگردی کے حوالے سے پاک امریکا قریبی تعاون ضرور موجود ہے لیکن  امریکی فوکس پاکستان سے مختلف ہے۔ خطے میں موجود القاعدہ اور داعش جیسے گلوبل ایجنڈا رکھنے والے گروپوں کو امریکی اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے امریکی دلچسپی بہت محدود نوعیت کی ہے۔ wenews.pk/news/429179/
اردو
0
2
9
2.1K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
لاہور نے کر دکھایا، اب پی پی کراچی میں رونق لگا کر دکھائے امریکی بنک کی جانب سے ریکوڈک کے لیے سوا ارب ڈالر فنڈنگ فراہم کرنے کا اعلان ، اس کے بعد بلوچستان بھر میں دہشت گرد حملے ، ان حملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ازبک اور قازق صدر کی پاکستان آمد ۔ پی ٹی آئی احتجاج اور بسنت کا میلہ ، یہ سب اب پاکستان کا نیو نارمل ہے ۔ اب پی پی کی باری ہے کہ وہ کراچی میں رونق لگائے تاکہ یہ تاثر مزید مضبوط ہو کہ اس ملک میں پرامن علاقے بھی ہیں جہاں رونق میلے بھی سہولت سے ہوتے ہیں ۔ wenews.pk/news/425932/
اردو
0
2
11
464
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد سے دہشتگرد حملوں میں 238 فیصد اور جانی نقصان میں 209 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف مذاکرات اور آپریشن کی دو قسم کی حکمت عملی ہی آزمائی ہے۔ ملٹری آپریشن سے حاصل کامیابیاں محدود نوعیت کی رہی ہیں، جبکہ مذاکرات بار بار ناکام ہی ہوئے ہیں۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی میں ایک ہی مکتب فکر سے تعلق ہونے کے باوجود تضادات بھی ہیں ، جنہیں سمجھنا ضروری ہے ، بدامنی اور مسلح تحریکوں کی موجودگی میں ترقی بس خواب ہی ہے ۔ wenews.pk/news/421575/
اردو
3
10
52
5.3K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
بلوچستان پاکستان ہی رہے گا غوث بخش بزنجو گورنر تھے ، سردار عطا اللہ مینگل وزیراعلی بلوچستان یونیورسٹی کا وائس چانسلر پروفیسر کرار حیسن کو بنایا گیا ۔ بلوچستان یونیورسٹی ابتدائی حالت میں تھی ، نہ ڈھانچہ نہ انتظامیہ نہ پوری فکیلٹیز ۔ گورنر اور وزیر اعلی جو آپس میں سیاسی مخالف تھے اکٹھے وائس چانسلر کا استقبال کرنے گئے ۔ میسج یہ دینا تھا کہ بلوچستان کی تعلیم کے لیے وہ سنجیدہ ہیں ۔ دونوں بلوچستان کے بڑے لوگ تھے ۔ بزنجو کا اس موقع پر یادگار فقرہ تھا کہ “I am a disposable governor and you are an indisposable teacher” بلوچستان یونیورسٹی برے حال میں تھی ۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کو وی سی بنایا گیا ، ڈاکٹر مالک وزیر اعلی تھے اور محمود خان اچکزئی کے بھائی محمد خان اچکزئی گورنر تھے ۔ دونوں نئے وائس چانلسر کا استقبال کرنے پہنچے ۔ وہ 73 کا بلوچستان تھا ، یہ 2016 کا بلوچستان تھا ۔ سردار عطا اللہ مینگل نے بلوچستان میں اردو کو رابطے اور تعلیم کی زبان بنایا ۔ ان سے یہ جملہ بھی منسوب ہے کہ پاکستان کو کچھ ہوا تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھیں گے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 26 اگست 2024 کو نواب اکبر بگٹی شہید کی برسی تھی ۔ 25 اگست کی رات بی ایل اے نے 13 اضلاف میں آپریشن ہیروف کے نام سے مسلح حملے کیے ، 26 اگست کو ایف سی کیمپ لسبیلہ پر ماہل بلوچ عرف زالان کردی اور رضوان بلوچ عرف ھمل نے خود کش حملہ کیا ۔ ماہل بلوچ کو پاکستانی میڈیا نے غلط طور پر ماہل کرد نامی بلوچ لڑکی سے جوڑ دیا ۔ اصل میں زالان کردی وہ پہلی کرد خاتون خود کش تھی جس نے ترک فوج پر حملہ کیا تھا اور بی ایل اے کرد تحریک سے خود کو علامتی انداز میں جوڑ رہی تھی ۔ رضوان بلوچ کی عرفیت ھمل بتائی گئی تھی ۔ ھمل بلوچ تاریخ کا وہ کردار ہے جس نے پرتگیزیوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی اور اس کا مجسمہ خود پرتگیزیوں نے گوا میں لگا رکھا ہے ، ایرانی بھی اس کو ہیرو مانتے ہیں ۔ منگل کو ھمل کو پرتگیزیوں نے گرفتار کیا تھا ، بلوچ ساحلی علاقوں میں منگل کو خواتین آج بھی بال دھونے سے گریز کرتی ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب ہیں جبکہ اس تنظیم میں ڈپٹی رحمن گل ہیں ، جنہوں نے نواب بگٹی کی شہادت کے بعد فوج چھوڑ دی تھی ۔ 2 فروری 1839 میر محراب خان کا یوم شہادت ہے جو انگریز کے خلاف جنگ کی قیادت کرتے مارے گئے تھے ۔ بی ایل اے نے 31 جنوری کو آپریشن ہیروف ٹو کا آغاز کیا ۔ بلوچستان بھر کے 12 اضلاع میں بیک وقت حملے کیے گئے ، بڑی تعداد میں بی ایل اے کے حملہ آور مارے گئے ہیں آپریشن کلین اپ جاری ہے ۔ بشیر زیب کی ایک فوٹو جاری کی گئی ہے جس میں وہ طالبان نما حلیے میں موٹر سائکل پر حملے کی قیادت کرتے بتائے گئے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلوچستان عسکری تحریک فرسٹریشن کا شکار ہے ۔ حیر بیار مری بی ایل اے آزاد کے سرپرست ہیں وہ اسرائیلی سائٹ پر نوکری کی درخواستیں دیتے رہتے ہیں اور گریٹر بلوچستان جس میں افغانستان کے دو صوبے ایرانی بلوچستان اور پاکستان بلوچستان کے علاوہ علاقے شامل ہیں ، یہ سب آزاد کرانے کے مشن پر ہیں جو اصل میں بلوچ کٹواؤ پروگرام ہی لگتا ہے ۔ اٖفغانستان کا باڈر بند ہے ، پاکستان میں ایرانی تیل کا کام بند ہے ، چاہ بہار سے انڈیا دوڑ گیا ہے ، ایران میں پوڈر اسمگلنگ کے خلاف آپریشن ہوئے ہیں ۔ بلوچ عسکری تحریک کو فنڈنگ کے مسائل درپیش ہیں ۔ اب یہ اک تواتر کے ساتھ بنک لوٹنے کی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ بشیر زیب کی بی ایل اے سی پیک پراجیکٹ کو پورے جذبے سے ٹارگٹ کرتی ہے اور ریکوڈک کا نام لیتے شرماتی ہے ۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم بی ایل ایف نے نوکنڈی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر پہلا خودکش حملہ کیا تھا ۔ نوکنڈری میں ہی ریکوڈک پراجیکٹ کی سائٹ ہے ۔ مکران کے اپنے حلقہ اثر سے بہت باہر جا کر یہ کاروائی کی گئی ۔ اس سے عسکری تنظیموں کے آپسی اختلافات دکھائ دیتے ہیں ۔ اک خلیجی ملک میں بی ایل اے کے لوگ گرفتار ہوئے ہیں ۔ اک دوسرے خلیجی ملک کو پاکستان نے آگے لگا رکھا ہے ، تیسرے ملک میں صدر صاحب بلوچی میڑھ لے کر ہی پہنچے ہوئے تھے کہ کچھ خیال کریں تعلق رابطوں واسطوں اور اچھے وقتوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرفراز بگٹی حال ہی میں چیف آف بگٹی بنے ہیں ۔ ان کا تعلق بگٹی قبیلے کی میسوری شاخ سے ہے ۔ بگٹی قبیلے میں نواب کی غیر موجودگی میں میسوری سردار کو جنگ اور ایمرجنسی میں چیف کا درجہ حاصل تھا ۔ یہ سسٹم نواب اکبر بگٹی نے ختم کر دیا تھا ۔ نواب کی شہادت کے بہت بعد ، بگٹی قبیلے کے نواب مخالف وڈیروں کو وزیراعلی ہاؤس بلا کر ان کی حمایت لینے کی کوشش کی گئی ۔ ہوشیار وزیراعلی نے یہ فرمائش کرنے والوں سے کہا کہ انہیں دودھ پتی پلائیں ، کسی اک وڈیرے نے بھی دودھ والی چائے کو ہاتھ نہ لگایا ۔ تب وزیراعلی نے افسر لوگ کو سمجھایا کہ نواب نے بہت عرصہ پہلے دودھ پتی پینے پر بین لگا دیا تھا ۔ آپ اس کے مخالفوں کو یہ پلا نہیں سکے ہیں ۔ باقی حساب خود لگا لیں ۔ سرفراز بگٹی کے وزیر اعلی بننے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سبی اور نصیر آباد ڈویژن میں ہلکی پھلکی عسکری کاروائیاں شروع ہو گئی ہیں ۔ بندہ پوچھے سر جی آپ کو یہ مشورے دیتا کون ہے ، سی ایم سردار نہیں ہے تو بھی اس کی کارکردگی بولے گی اور سردار ہے تو بھی فیصلہ کارکردگی نے ہی کرنا ہے ۔ قبائل کے اندرونی سسٹم رواج روایت میں گھسنے کی ضرورت کیا ہے ۔ یہ ساری کہانی نہیں ہے ، اسے ایک مکمل رخ بھی نہیں کہہ سکتے ،پھر بھی ایک پاکستان دوست نواب بگٹی کی شہادت دیکھیں کیسے کیسے بلوچستان کو متاثر کر رہی ہے ۔
اردو
2
34
140
26.3K
wisibaba وسی بابا retweetledi
Khurrram Shahzad
Khurrram Shahzad@KhurramShahzPK·
دائرے رک نہیں رہے، بڑھتے جا رہے ہیں، گل پلازہ میں خریداری کے لیے گئے بدقسمت خریداروں اور بچوں کے مستقبل کے لیے روپیہ روپیہ جوڑتے دکانداروں کی ہر کہانی ایک نیا دائرہ جنم دے رہی ہے۔ ٹوٹی ہڈیوں اور گرے دانتوں کے ڈی این اے کے ممکن ہونے یا نہ ہونے کا دائرہ، شادی سے پہلے اپنے لیے سامان لینے والی نو عمر مسرور دلہن کا دائرہ، اپنی دلہن کے لیے اس کی پسند کا تحفہ لینے جانے والے پر عزم دولہے کا دائرہ اور بچے کی پہلی سالگرہ پر اس کا تحفہ لینے جانے والے جوڑے کا دائرہ۔ تصور کیجیے، اس دکان کے دائرے کو جس میں آگ کے شعلوں کے پھیلتے دائروں سے بچنے کے لیے خود کو محصور کردینے والے کئی لوگوں کی زندگیوں کے دائرے۔ وہ دائرے جو اب جلی ہوئی ہڈیوں اور دانتوں میں سمٹ رہے ہیں۔ گل پلازہ کے باہر اب بھی کئی دائرے گردش کررہے ہیں۔ وہ دائرے جن کے زیلی یا آبائی دائرے ان کے لیے خریداری کرنے گل پلازہ گئے تھے اور پھر وہاں لگنے والی آگ کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکے۔ آگ کا دائرہ اب بجھ گیا ہے، راکھ کا ابھی گردش کررہا ہے اور ملبے کا بھی۔ ایک دائرہ اس نقدی اور زیور کا بھی ہے جو دکانوں سے نکلا ہے اور ایک دائرہ ان ہوس میں مبتلا سرکاری اہلکاروں کا بھی ہے جو اس کو سمیٹنے کے درپے ہیں۔ اور سیاسی جماعتوں کے تو دائرے ایسے ہیں جو اپنی ہی طرف پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا دائرہ، ایم کیو ایم کا دائرہ، جماعت اسلامی کا دائرہ، پی ٹی آئی کا دائرہ، بے حس سول سوسائٹی کا دائرہ اور مقتدرہ کا دائرہ۔ دائرے در دائرے اور دائرے در دائرے۔ جب تک یہ دائرے چلتے رہیں گے، گل پلازہ کی آگ کی طرح شارٹ سرکٹ اور عمارتیں گرنے کی خبریں بھی دائرے بناتی رہیں گی، کچھ چھوٹے کچھ بڑے، کچھ اپنے ہی مدار میں اور کچھ مدار در مدار۔ wenews.pk/news/417450/
اردو
1
3
4
927
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟ بلوچستان میں باپ پارٹی ایسی آئی کہ اب وہاں ہر پارٹی میں ابا جی ہی بیٹھے دکھائی دیتے ہیں ۔ اچکزئی بلوچستان سے وہ معقول آواز ہیں جنہوں نے وہاں کے حالات میں بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھی ہے ۔ جمہوری رویہ رکھنے ، پارلیمانی اقدار پر اصرار کرنے کے عادی مجرم ہیں ۔ جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہو اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں ۔ جمہوری حوالے سے محمود خان کا موقف مستقل ایک ہی رہا ہے ۔ افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ان کا موقف واضح طور پر تبدیل ہوا ہے جسے علاقائی تناظر میں دیکھیں تو وجہ سمجھ آتی ہے ۔ ان کا اپوزیشن لیڈر بننا اچھی خبر ہے ، سیاست اپنے روایتی دھیمے پن کی طرف لوٹ سکتی ہے ۔ دل نے ان سے بہت سی امیدیں باندھی ہین دیکھتے ہیں ٹوٹتی ہیں یا پوری ہوتی ہیں ۔ wenews.pk/news/416670/
اردو
3
3
22
9.3K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
@ZubairZuba3688 جب سپلائی ہی ڈیمانڈ سے کم ہے اور یہ فرق بڑھتا جا رہا تو کیسے نیچے آئے گی
اردو
0
0
2
136
Truth Seeker
Truth Seeker@ZubairZuba3688·
@wisibaba کیا کاپر کی قیمت نیچے آئے گی؟
اردو
1
0
0
164
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن کاپر اس وقت ہائی ڈیمانڈ منرل ہے۔ سپلائی ڈیمانڈ سے کم ہے اس لیے کاپر کی قیمتوں کو پر لگے ہوئے ہیں۔ کاپر کی فی ٹن قیمت 13300 ڈالر کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں۔ 2040 تک کاپر کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق 10 ملین ٹن تک پہنچ جائے گا۔ یہ فرق جتنا بڑھتا جائے گا اتنا ہی کاپر کی قیمت بڑھے گی۔ ان بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے منرل اور مائننگ کمپنیاں اکٹھی ہورہی ہیں۔ ریکو ڈک کا آپریشن چلانے والی بارک گولڈ ٹاپ ٹین رینکنگ میں نہیں آتی ۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے اکٹھے ہونے کے باوجود جب ریکو ڈک پروڈکشن شروع کرے گا تو بارک گولڈ ٹاپک کمپنیوں میں شامل ہو جائے گی ۔ جبکہ بارک گولڈ کے پاس ریکوڈک کے صرف 50 فیصد شئر ہیں ۔ wenews.pk/news/413762/
اردو
1
5
42
3.7K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
آ سوہنیا تیرے جن کڈھاں ہمارا شہد سے میٹھا آئرن برادر وینزویلا کے صدمے سے نکل آیا ہے ۔ اب پانڈے بولنے لگ گئے ہیں کہ مسٹیک ہو گئی ۔ اخے ہم نے سارے آنڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیے تھے ، جس جذبے سے یہ کہہ رہے ہیں اس سے لگتا کہ سارے آنڈے مرغی کے نہیں تھے اک آدھ شتر مرغ کا بھی تھا جو دب گیا ۔ دس سے بیس ارب ڈالر چینی وینزویلا میں لگا بیٹھے تھے ایڈوانس ، جس کا وینزویلا نے تیل دینا تھا اب سب سے پہلے یہ سپلائی بحال کرنا پہلا مقصد ہے تاکہ نقصان کم کیا جائے باقی سرمایہ کاریاں بچانے کو اب یہ سوچا گیا ہے کہ ویسٹرن اور امریکی کمپنیوں کو پارٹنر بنا کر دیا کرو مہاراج گاتے ہوئے اپنی انویسٹمنٹ بچائی جائے ۔ ویسے سی پیک کے چکر میں ہماری حکومتیں اوپر نیچے ہو گئیں اور ان پانڈوں نے مڑ کر بات نہیں پوچھی وینزویلا آئٹم ہوا تو پاک چین وزرا خارجہ سٹریٹجک ڈائلاگ ہو رہا تھا ۔ اس کی مشترکہ سٹیٹمنٹ میں چین نے بہت سے پاکستانی موقف حرف بہ حرف مان لیے ، جن میں افغانستان میں موجود مسلح گروپ ، ان سے ہمسائیوں کو درپیش خطرات ان کو حاصل حکومتی سپورٹ اور ان کے خلاف دکھائی دیتی ثابت ہوتی کاروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وینزویلا پر انٹرنیشنل میڈیا میں دلچسپ ہیڈ لائین ہیں ، پوتین کیوں وینزویلا والی امریکی کاروائی پی گیا ۔ عرب ملک کیوں سانوں کی کہہ کر ادھر ادھر دیکھنے لگ گئے ۔ ایران میں احتجاج پھیل گیا ہے ۔ اس کی وجہ معیشت ہے ، وینزویلا ایرانی معیشت کو کسی نہ کسی طرح سپورٹ فراہم کر رہا تھا ۔ ایران کو وینزویلا کی کاروائی بہت دیر تک اور زور سے محسوس ہوتی رہے گی ایرانی حکومت اور عوام مزید سب سڈی والا نشہ کرنے جوگے نہیں ہیں ، لوگوں کو ریلیف ملنا اب قریب قریب ناممکن ہے ، دیا گیا تو حکومت کے پلے کچھ نہیں بچتا ۔ ڈانگ سوٹا ہے وہ جتنی دیر چلتا کیا جا سکتا ، ایران کو اب شدید ضرورت ہے کہ اس پر پابندیاں ختم ہوں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وینزویلا کے خلاف کاروائی امریکہ نے مونرو ڈاکٹرائین کے تحت کی ہے ۔ جس کے مطابق ویسٹرن ہمسفئر (براعظم امریکہ اور یورپ کے کچھ علاقے ) میں امریکہ ہی بادشاہ ہے اور یہاں کوئی اور آ کر میرا بھی تو ہے نہیں گا سکتا ۔ ٹرمپ نے مونرو ڈاکٹرائن کو ڈونرو ڈاکٹرائن اپنے ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دو لفظ ڈال کر بنا لیا ہے ۔ اس کاروائی سے ایک مطلب یہ بھی لیا جا رہا ہے کہ امریکہ اگر اپنے حلقہ اثر میں مرضی کر رہا تو باقی طاقتیں بھی اپنے اپنے حلقہ اثر میں انڈے بچے دیں اور شیر بنیں ۔ شیر اس کو ہلا شیری سمجھے تو کئی ریجن اوپر نیچے ہونگے ۔ کئی نئے ریجنل الائنس بنے ہیں ، ابراہام اکارڈ والے ہیں جو مل کر انرجی اور تجارتی راستوں پر کنٹرول کرنے کے چکر میں تھے ۔ سعودی پاک دفاعی معاہدہ ہے جو ان کو جا وجا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ایران میں اگر رجیم چینج ہوتا ہے اور وہاں اسرائیلی فٹ پرنٹس آتے ہیں تو پھر پاکستان کو نہ چاہتے ہوئے بھی آ سوہنیا تیرے جن کڈھاں گانا پڑے گا ۔
اردو
0
4
22
1.6K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا امریکہ مڈل ایسٹ اور افغانستان میں مصروف تھا ، چین ان بیس سال میں لاطینی امریکہ میں اپنا کام پکا کر رہا تھا ۔ ٹرمپ کو گرین لینڈ لینے کی پٹی کس نے پڑھائی ۔ مونرو ڈاکٹرائین کیا ہے جو ویسٹرن ہمسفئر کو امریکہ کا علاقہ کہتا ہے اور یہ علاقہ کتنا ہے ، وینزویلا کا صدر اٹھائے جانے سے ایران اور چین کا تعلق کیسے جڑتا ہے ۔ wenews.pk/news/410429/
اردو
3
23
201
24.2K
wisibaba وسی بابا
wisibaba وسی بابا@wisibaba·
لاتعلق اور اکتائی ہوئی جنریشن زی کے ونڈر بوائے ہی کرامتیں دکھا سکتے  1997-2012 کے دوران پیدا ہونے والے جنریشن زی کہلاتے ہیں ۔ پاکستان جہاں کی آبادی میں 60 فیصد یوتھ ہے ، جنریشن زی پر مشتمل بڑی آبادی والے ملکوں میں ٹاپ پر شمار ہوتا ہے ۔ ریاستی حکومتی اور پارلیمانی فیصلہ سازی کی پوزیشن پر موجود افراد کی عمریں 60 کے اردگرد ہیں ، ان لوگوں کا جنریشن زی سے سوچ کا فاصلہ تین جنریشن کا ہے ۔ wenews.pk/news/407356/
اردو
1
1
16
2.3K