The Daily Milap

49K posts

The Daily Milap banner
The Daily Milap

The Daily Milap

@TheDailyMilap

India’s Oldest & Largest Combined Circulated Urdu Daily. Bridging divides & forging unity since 1923.

New Delhi, India Entrou em Eylül 2021
565 Seguindo32.3K Seguidores
Tweet fixado
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ہم اپنے قارئین اور میلاپ کی ٹیم کے ہر رکن کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری قوم کی خدمت میں ہماری مدد کی۔ آج، جب ہم 100 سال مکمل کرتے ہیں تو ہم اپنے بانی اصولوں کو برقرار رکھنے اور اخلاقیات اور اقدار پر قائم رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ @MilapNN @SuriNavin @RenuSuri15 @SureshRaiDhima1 @rishi_suri @tara_milap @ramesh_milap @mohamma61141631 @ZUBI_26 @AltafHussainKh1 @JavedShah_13 @Tabassumaziz11 @MIB_India
The Daily Milap tweet media
اردو
5
11
47
42.9K
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
خلیج میں پاکستان کی بڑھتی موجودگی پر واشنگٹن میں تشویش، چین کے اثر و رسوخ پر سوالات واشنگٹن: خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور عسکری تعلقات نے امریکی پالیسی سازوں اور ماہرین کے درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں بعض حلقے اسے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ چینی ساختہ یا چین کے تعاون سے تیار کردہ دفاعی نظاموں پر مشتمل ہے۔ ان میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں، جو حالیہ برسوں میں خلیجی خطے میں پاکستان کی عسکری شراکت داریوں کے ذریعے زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان خلیجی ریاستوں اور چین کے درمیان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ براہِ راست بڑے فوجی اڈے قائم کرنے کے بجائے ایسے شراکت دار ممالک کے ذریعے اپنا اثر بڑھا سکتا ہے جو پہلے ہی خطے میں مضبوط دفاعی تعلقات رکھتے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک میں چینی دفاعی ٹیکنالوجی اور نظاموں کی بڑھتی ہوئی موجودگی مستقبل میں علاقائی سکیورٹی ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا امریکہ کو خطے میں چینی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا متبادل سکیورٹی فراہم کنندہ بننے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ کے پاس نہ تو امریکہ جیسا فوجی نیٹ ورک موجود ہے اور نہ ہی خطے میں اسی سطح کی عسکری رسائی حاصل ہے، اگرچہ وہ اقتصادی اور دفاعی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی موجودگی بتدریج بڑھا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک بھی بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں اپنی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان، چین، امریکہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان تعلقات مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی سیاست پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ #China #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
37
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت کا یو پی آئی انقلاب، جنوبی افریقہ کے لیے کیا سبق؟ نئی دہلی: بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام یو پی آئی (Unified Payments Interface) کو دنیا کے کامیاب ترین مالیاتی اختراعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے چند برسوں میں کروڑوں افراد کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ سمیت کئی ترقی پذیر ممالک بھارت کے تجربے سے اہم سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یو پی آئی نے موبائل فون کے ذریعے فوری، کم لاگت اور محفوظ مالی لین دین کو ممکن بنایا ہے۔ اس نظام کے ذریعے صارفین بینک اکاؤنٹس سے براہِ راست رقم منتقل کر سکتے ہیں، جبکہ چھوٹے کاروبار، دکاندار اور عام شہری بھی باآسانی ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کر رہے ہیں۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی کامیابی کا راز صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک مضبوط ڈیجیٹل عوامی ڈھانچہ (Digital Public Infrastructure) ہے، جس میں آدھار شناختی نظام، بینک اکاؤنٹس تک رسائی اور موبائل انٹرنیٹ کا پھیلاؤ شامل ہے۔ ان عوامل نے لاکھوں افراد کو پہلی بار رسمی مالیاتی نظام کا حصہ بننے کا موقع فراہم کیا۔ ماہرین کے مطابق جنوبی افریقہ بھی نقد رقم پر انحصار کم کرنے اور مالی شمولیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اسے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے کم لاگت، آسان اور باہم مربوط نظام کی ضرورت ہے۔ بھارت کا ماڈل اس حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال پیش کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو پی آئی کی کامیابی نے نہ صرف مالی لین دین کو آسان بنایا بلکہ معیشت میں شفافیت، کاروباری سرگرمیوں اور مالی شمولیت کو بھی فروغ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک اب بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگی ماڈل کا مطالعہ کر رہے ہیں اور اسے اپنی ضروریات کے مطابق اپنانے پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جنوبی افریقہ سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک مضبوط ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ بھی نقدی پر مبنی معیشت سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے پیش رفت کر سکتے ہیں۔ #India #SouthAfrica #UPI
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
30
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ایبولا ویکسین کی تیاری تیز کرنے کا بھارتی فیصلہ، عالمی کوششوں میں اہم پیش رفت نئی دہلی: بھارت نے ایبولا وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے عالمی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسطی افریقہ میں ایبولا کی ایک نئی وبا نے بین الاقوامی تشویش کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (Africa CDC) کی حمایت سے بھارت کا Serum Institute of India آکسفورڈ یونیورسٹی اور CEPI کے اشتراک سے بنڈی بگیو (Bundibugyo) قسم کے ایبولا وائرس کے لیے نئی ویکسین تیار کر رہا ہے۔ اس وائرس کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق مجوزہ ویکسین اسی وائرل ویکٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو آکسفورڈ-آسٹرازینیکا کووڈ-19 ویکسین میں استعمال کی گئی تھی، جس سے اس کی تیاری اور بڑے پیمانے پر پیداوار نسبتاً تیزی سے ممکن ہو سکے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے اس ویکسین کے جائزے اور آزمائشی مراحل کو تیز رفتار بنیادوں پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کلینیکل آزمائشوں کے لیے خوراکیں جلد دستیاب ہو سکیں۔ ادھر بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں فی الحال ایبولا کا کوئی فعال کیس موجود نہیں، تاہم ہوائی اڈوں اور صحت کے مراکز پر نگرانی اور احتیاطی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں، خصوصاً ان مسافروں کے لیے جو متاثرہ افریقی ممالک سے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ویکسین کامیاب ثابت ہوتی ہے تو نہ صرف موجودہ وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں ایبولا کی اسی قسم کے پھیلاؤ کے خلاف عالمی سطح پر تیاریوں کو بھی مضبوط بنایا جا سکے گا۔ #India #Ebola
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
25
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ریلویز اور چِپ پلانٹس کے لیے بھارت کی سرکاری سرمایہ کاری پانچ برس میں دگنی نئی دہلی: بھارت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی کے منصوبوں پر اپنی سرکاری سرمایہ کاری کو تقریباً دوگنا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، سیمی کنڈکٹر صنعت کے قیام اور دیگر اسٹریٹجک منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی سرمایہ کاری میں اضافے نے ملک بھر میں ریلوے، شاہراہوں، بندرگاہوں اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرگرمیوں کو ممکن بنایا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد معیشت کی طویل مدتی ترقی کو یقینی بنانا اور نجی سرمایہ کاری کو مزید متحرک کرنا ہے۔ خصوصاً سیمی کنڈکٹر صنعت کو فروغ دینے کے لیے بھارت نے متعدد منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ حکومت کے مطابق سیمی کنڈکٹر شعبے میں تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے حامل متعدد منصوبے منظور کیے جا چکے ہیں، جبکہ کئی یونٹس میں پیداوار بھی شروع ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں اور چِپس کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر بھارت خود کو ایک بڑے مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ابھارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت گجرات، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں سیمی کنڈکٹر فیکٹریوں اور پیکیجنگ یونٹس کے قیام پر کام جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انفراسٹرکچر اور جدید صنعتوں میں سرکاری سرمایہ کاری کے اس تسلسل نے بھارت میں رکے ہوئے منصوبوں کی شرح کو کم کرنے میں بھی مدد دی ہے اور ملک کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنایا ہے۔ #India #investment
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
18
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
نئے عالمی نظام میں بھارت کی جگہ: ٹرمپ، ایران اور جنوبی ایشیا کے درمیان نئی سفارتی حقیقت نئی دہلی: عالمی سیاست تیزی سے تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، ایران کے ساتھ کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں بھارت اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دیتے ہوئے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے دورِ حکومت میں عالمی اداروں، تجارتی نظام اور روایتی اتحادوں پر دباؤ بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا زیادہ غیر یقینی اور کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ایران سے متعلق تنازعات اور توانائی کی سلامتی کے مسائل نے بھی بین الاقوامی سیاست کو نئی سمت دی ہے۔ اس پس منظر میں بھارت ایک ایسی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے جس کے تحت وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط رکھنے کے ساتھ ساتھ روس، خلیجی ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ بھی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی خود کو کسی ایک بلاک تک محدود کرنے کے بجائے “کثیر وابستگی” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، خطے میں اقتصادی راہداریوں اور نئی اسٹریٹجک شراکت داریوں نے بھارت کے لیے مواقع اور چیلنجز دونوں پیدا کیے ہیں۔ اسی وجہ سے نئی دہلی عالمی سطح پر اپنی معاشی، سفارتی اور تزویراتی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں بھارت کی خارجہ پالیسی کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنی معاشی ترقی، توانائی کی ضروریات اور علاقائی مفادات کا تحفظ کس حد تک کر پاتا ہے۔ ایسے میں بھارت کو اب صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ابھرتے ہوئے عالمی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ #India
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
39
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
مستقبل کی جنگوں کے لیے بھارت کا مقامی ڈرونز پر بڑا داؤ نئی دہلی: بھارت مستقبل کی جنگی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز اور بغیر پائلٹ کے جنگی نظاموں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ حکومتی پالیسیوں، دفاعی اصلاحات اور نجی شعبے کی شمولیت کے نتیجے میں ملک میں ڈرون ٹیکنالوجی تیزی سے فروغ پا رہی ہے، جسے جدید جنگوں کا ایک فیصلہ کن عنصر سمجھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت رواں سال مقامی دفاعی صنعت سے دو ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فوجی ڈرونز خریدنے کی تیاری کر رہا ہے، جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرون خریداری پروگرام ہو سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نگرانی، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور حملہ آور صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ حالیہ برسوں میں یوکرین، مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے تنازعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کم لاگت والے ڈرونز جدید جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اسی تناظر میں بھارتی فوج نے بغیر پائلٹ فضائی نظاموں اور لوئٹرنگ میونیشنز کے لیے ایک جامع روڈ میپ بھی جاری کیا ہے۔ بھارتی دفاعی صنعت پہلے ہی مختلف اقسام کے مقامی ڈرونز تیار کر رہی ہے، جن میں نگرانی، ہدفی حملوں اور “کامی کازی” مشنز کے لیے استعمال ہونے والے پلیٹ فارم شامل ہیں۔ حال ہی میں بھارتی فوج کو 100 سے زائد مقامی طور پر تیار کردہ جیٹ پر مبنی کامی کازی ڈرونز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت کا ہدف صرف ڈرونز کی خریداری نہیں بلکہ ایک مکمل مقامی ڈرون ایکو سسٹم کی تشکیل ہے، تاکہ مستقبل کی جنگی ضروریات کے لیے بیرونی انحصار کم کیا جا سکے اور ملک دفاعی خود کفالت کے اپنے ہدف کو حاصل کر سکے۔ #India #Drones
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
30
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بنگلہ دیش کے تین خسارے: دو سراب، ایک حقیقی بحران ڈھاکہ: ایک حالیہ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کو درپیش تین بڑے خساروں میں سے دو کے بارے میں پائی جانے والی تشویش مبالغہ آمیز ہے، جبکہ ایک حقیقی بحران ایسا ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ تجزیے کے مطابق عوامی مباحثے میں اکثر مالیاتی خسارے، تجارتی خسارے اور حکومتی بجٹ خسارے کو معاشی کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن ہر خسارہ یکساں نوعیت کا نہیں ہوتا۔ بعض خسارے ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری اور اقتصادی توسیع کے قدرتی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے حوالے سے جن دو خساروں کو سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، ان کی شدت اتنی نہیں جتنی عام طور پر تصور کی جاتی ہے۔ تاہم ملک کو جس حقیقی چیلنج کا سامنا ہے، وہ مالیاتی اور ادارہ جاتی کمزوریوں سے جڑا ہوا بحران ہے، جو اقتصادی استحکام، سرمایہ کاری کے ماحول اور طویل المدتی ترقی کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیے میں زور دیا گیا ہے کہ پالیسی سازوں کو ظاہری اعداد و شمار کے بجائے معیشت کے بنیادی ڈھانچے، ادارہ جاتی اصلاحات اور پیداواری صلاحیت میں اضافے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ #Bangladesh
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
37
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
سرود کے استاد امجد علی خان اور ان کے بیٹوں کو گریمی اعزاز سے نوازا گیا نئی دہلی: عالمی شہرت یافتہ سرود نواز امجد علی خان اور ان کے صاحبزادوں امان علی بنگش اور ایان علی بنگش کو گریمی ایوارڈ سے متعلق ایک اہم اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، 68ویں گریمی ایوارڈز میں تینوں فنکاروں کو گریمی ایوارڈ یافتہ البم “Labour of Love” میں بطور کمپوزر ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز دیا گیا۔ اس کامیابی کو ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ امجد علی خان اور ان کے دونوں بیٹے کئی دہائیوں سے سرود کی روایت کو عالمی سطح پر فروغ دے رہے ہیں اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کو بین الاقوامی سامعین تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اعزاز نہ صرف اس موسیقی خاندان کی فنی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی عالمی مقبولیت اور اثر و رسوخ کا بھی مظہر ہے۔ #India #GRAMMYs @AAKSarod @AmaanAliBangash @AyaanAliBangash @DalaiLama
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
36
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
وزیرِ اعظم نریندر مودی فرانس اور سلوواکی کے سرکاری دورے پر روانہ، جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے نئی دہلی: وزیرِ اعظم نریندر مودی فرانس اور سلوواکی کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ مختلف دوطرفہ ملاقاتوں اور اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ اپنے دورے کے دوران وزیرِ اعظم فرانس کے شہر ایویان میں منعقد ہونے والے جی-7 سربراہی اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔ وزیرِ اعظم مودی جی-7 اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں عالمی معیشت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور پائیدار ترقی جیسے اہم امور زیرِ بحث آئیں گے۔ فرانس کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم مودی اور فرانسیسی قیادت کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، دفاعی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوگی۔ اس کے بعد وزیرِ اعظم سلوواکی کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ @PMOIndia @narendramodi #India #France #G7 #Slovakia
اردو
0
3
3
53
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
پاکستان کے صوبے دنیا کے غریب ترین ممالک سے بھی پیچھے، رپورٹ میں تشویشناک تصویر اسلام آباد: ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے کئی صوبوں اور علاقوں کی سماجی و معاشی صورتحال دنیا کے بعض غریب ترین ممالک سے بھی بدتر ہے۔ رپورٹ کے مطابق غربت، کم تعلیمی شرح، صحت کی ناقص سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی کمی نے ملک کے مختلف حصوں میں ترقی کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں بلوچستان کو سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار دیا گیا ہے، جہاں غربت کی شرح تقریباً 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق صوبے کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود مقامی آبادی کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات تک مناسب رسائی حاصل نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور سندھ کے بعض اضلاع بھی انسانی ترقی کے اشاریوں میں شدید پسماندگی کا شکار ہیں۔ کئی علاقوں میں بچوں کی غذائی قلت، کم شرح خواندگی اور بنیادی صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹیں بنی ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں علاقائی عدم مساوات مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بڑے شہری مراکز اور بعض ترقی یافتہ اضلاع کے مقابلے میں دور دراز علاقوں میں عوام کو بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث معاشی اور سماجی فرق مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو ملک کے پسماندہ علاقوں اور ترقی یافتہ حصوں کے درمیان فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انسانی ترقی کے اشاریے کسی بھی ملک کی حقیقی معاشی حالت کا اہم پیمانہ ہوتے ہیں، اور پاکستان کے کئی علاقوں کی موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اقتصادی چیلنجز کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ #Pakistan #Poverty
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
46
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
نیپال کے ضلع ہُملا میں نیپال-بھارت میتری اسپتال کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا کٹھمنڈو: نیپال کے دور دراز پہاڑی ضلع ہُملا میں نیپال-بھارت میتری اسپتال کے قیام کے لیے سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو بھارت کی مالی معاونت سے تعمیر کیا جائے گا اور اس کا مقصد علاقے کے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ تقریب میں نیپال اور بھارت کے حکام نے شرکت کی اور اسے دونوں ممالک کے درمیان ترقیاتی تعاون اور عوامی روابط کی ایک اہم مثال قرار دیا۔ حکام کے مطابق اسپتال کی تعمیر سے ہُملا اور آس پاس کے علاقوں کے ہزاروں افراد کو معیاری طبی خدمات تک رسائی حاصل ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ بھارت کی ہائی امپیکٹ کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس (HICDPs) کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ بھارت گزشتہ کئی برسوں سے نیپال میں صحت، تعلیم، سڑکوں، ثقافت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کرتا رہا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ صحت کے شعبے میں یہ سرمایہ کاری مقامی آبادی کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کرے گی اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنائے گی۔ مبصرین کے مطابق ہُملا جیسے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقے میں جدید طبی سہولت کا قیام نہ صرف صحت کے نظام کو بہتر بنائے گا بلکہ مقامی باشندوں کو علاج کے لیے دور دراز شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔ نیپال اور بھارت کے درمیان ترقیاتی شراکت داری کے تحت اب تک درجنوں کمیونٹی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن کا مقصد مقامی سطح پر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سماجی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ #India #Nepal @IndiaInNepal
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
29
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
چناب-بیاس دریا لنک منصوبہ اور سندھ طاس معاہدے پر اس کے ممکنہ اثرات نئی دہلی: بھارت میں چناب اور بیاس دریاؤں کو جوڑنے کے مجوزہ منصوبے کو آبی وسائل کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد چناب کے اضافی پانی کو راوی-بیاس-ستلج نظام کی جانب منتقل کرنا اور ملک کے مختلف حصوں میں آبی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایک طویل نہری نظام پر غور کیا جا رہا ہے جو جموں و کشمیر سے پانی کو پنجاب، ہریانہ اور راجستھان تک پہنچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بھارت کو اپنے حصے کے پانی کے زیادہ مؤثر استعمال کا موقع ملے گا اور پانی کی قلت والے علاقوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔ بھارت نے 2025 میں معاہدے کو مؤثر طور پر معطل کرنے کے بعد چناب، جہلم اور سندھ کے نظام پر متعدد آبی و پن بجلی منصوبوں کی رفتار تیز کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر چناب کے پانی کا بڑا حصہ داخلی استعمال کے لیے منتقل کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں پاکستان کو دستیاب پانی کی مقدار پر اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کی زراعت اور آبپاشی کا بڑا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے۔ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک اپنے آبی وسائل کے مؤثر استعمال اور قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں مرکزی وزیرِ جل شکتی سی آر پاٹل نے بھی کہا تھا کہ حکومت سندھ طاس نظام کے پانی کے زیادہ سے زیادہ قومی استعمال کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق چناب-بیاس لنک منصوبہ صرف ایک آبی منصوبہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں پانی، توانائی اور علاقائی سیاست کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف بھارت کے آبی انتظام پر بلکہ خطے میں پانی کی سیاست اور سندھ طاس معاہدے کے مستقبل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ #India #Pakistan #IndusWatersTreaty
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
30
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت میں فلیکسی آفس اسپیس 10 کروڑ مربع فٹ سے تجاوز کر گئی، جی سی سی کی طلب سے ریکارڈ ترقی نئی دہلی: بھارت میں فلیکسی آفس اسپیس (Flexible Office Space) کا مجموعی رقبہ پہلی بار 10 کروڑ مربع فٹ سے تجاوز کر گیا ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی کمپنیوں کے گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز (GCCs) کی بڑھتی ہوئی طلب بتائی جا رہی ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق فلیکسی ورک اسپیس سیکٹر نے گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی ترقی ریکارڈ کی ہے اور اب یہ بھارت کے کمرشل رئیل اسٹیٹ شعبے کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی کمپنیاں لاگت میں کمی، افرادی قوت تک رسائی اور آپریشنل لچک کے باعث بھارت میں اپنے گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز تیزی سے قائم کر رہی ہیں، جس سے فلیکسی آفس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی، ممبئی اور گڑگاؤں جیسے بڑے کاروباری مراکز اس ترقی کے اہم محرک بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فلیکسی اسپیس ماڈل اب صرف اسٹارٹ اپس تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑی بین الاقوامی کمپنیاں بھی ہائبرڈ ورک ماڈلز کے تحت اس طرز کے دفاتر کو ترجیح دے رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی سی سی سیکٹر کی توسیع نے فلیکسی آفس مارکیٹ کو نئی رفتار دی ہے اور آئندہ چند برسوں میں اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور توسیع متوقع ہے۔ بھارت اس وقت دنیا کے اہم جی سی سی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور متعدد عالمی ادارے اپنے ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، مالیاتی اور بیک آفس آپریشنز یہاں منتقل کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان افرادی قوت، مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مسابقتی لاگت بھارت کو عالمی کمپنیوں کے لیے پرکشش بناتی ہے، جبکہ فلیکسی آفس اسپیس کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب ملک کے کمرشل رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ #India #GlobalCapabilityCentres
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
34
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
جاپانی سرمایہ کار چین سے آگے دیکھ رہے ہیں، بھارت اہم متبادل بن کر ابھر رہا ہے: نومورا نئی دہلی: جاپان کے معروف مالیاتی ادارے نومورا کے سینئر منیجنگ ڈائریکٹر اور گلوبل ہیڈ آف انویسٹمنٹ بینکنگ تسوتومو تاکیمورا نے کہا ہے کہ جاپانی سرمایہ کار اب چین پر انحصار کم کرتے ہوئے بھارت کو ایک اہم متبادل اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت اب محض ایک قلیل مدتی موقع نہیں بلکہ ایک مضبوط ساختی سرمایہ کاری کی کہانی بن چکا ہے۔ تاکیمورا نے کہا کہ عالمی سرمایہ تیزی سے ان منڈیوں کا رخ کر رہا ہے جہاں مضبوط گھریلو طلب، پالیسیوں کا تسلسل اور سپلائی چین میں اہم کردار موجود ہو، اور بھارت ان تینوں شعبوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی معاشی بنیادیں، نوجوان آبادی اور اصلاحات پر مبنی حکومتی اقدامات اسے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی کمپنیوں کی دلچسپی خاص طور پر مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید صنعتی شعبوں میں بڑھ رہی ہے۔ عالمی سپلائی چین کی نئی ترتیب اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باعث متعدد کمپنیاں اپنے سرمایہ کاری کے مراکز کو متنوع بنا رہی ہیں، جس سے بھارت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ تاکیمورا کے مطابق بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی تعاون میں مزید وسعت کی گنجائش موجود ہے اور آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بین الاقوامی سرمایہ کار اس امکان کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت کی طویل مدتی ترقی کی صلاحیت، مستحکم پالیسی ماحول اور بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت اسے جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے ایک ترجیحی منزل بنا رہی ہے۔ #Japan #India @JapaninIndia
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
28
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
کشمیر کا بھوت، جو کبھی بھارت کے خلاف استعمال کیا گیا، اب پاکستان کا تعاقب کر رہا ہے: فرسٹ پوسٹ نئی دہلی: ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کا وہ بیانیہ جسے پاکستان نے دہائیوں تک بھارت کے خلاف سفارتی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، آج خود پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ مضمون کے مطابق پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حالیہ عوامی احتجاج، ہڑتالیں اور حکومتی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مقامی آبادی اب اپنے سیاسی اور شہری حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں حالیہ جھڑپوں، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور احتجاجی تحریکوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے سیاسی نمائندگی اور انتخابی نشستوں کے معاملے پر احتجاج کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام نے تنظیم پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ تجزیے کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرتا رہا ہے، تاہم اب پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں عوامی بے چینی اور حقوق سے متعلق مطالبات نے توجہ کا رخ خود پاکستان کی پالیسیوں کی جانب موڑ دیا ہے۔ مختلف انسانی حقوق تنظیموں نے بھی حالیہ کریک ڈاؤن، انٹرنیٹ معطلی، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مضمون میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر عوامی مطالبات کو سیاسی مکالمے اور جمہوری عمل کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو خطے میں بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔ مصنف کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ کشمیر سے متعلق وہ سوالات جو پاکستان برسوں تک بھارت کے خلاف اٹھاتا رہا، اب خود اس کے زیر انتظام علاقوں میں بھی شدت سے سامنے آ رہے ہیں۔ مضمون کے مطابق حالیہ واقعات نے کشمیر کے بارے میں پاکستان کے روایتی بیانیے کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے، جہاں توجہ اب بیرونی الزامات کے بجائے مقامی عوام کے حقوق، نمائندگی اور طرزِ حکمرانی کے مسائل پر مرکوز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ #Kashmir #India #PoK #PoJK #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
46
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
میلبورن میں مودی کے استقبال کی تیاریاں عروج پر، 26 ہزار سے زائد افراد کی رجسٹریشن میلبورن: آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں بھارتی وزیر اعظم Narendra Modi کے متوقع دورے کے موقع پر منعقد ہونے والی ’’میلبورن میٹس مودی‘‘ تقریب کے لیے زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تقریب میں شرکت کے لیے تقریباً 26 ہزار افراد پہلے ہی رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میلبورن کے مشہور اسٹیڈیم Marvel Stadium کو تقریب کے لیے ترجیحی مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ بھارتی اور آسٹریلوی حکام کی جانب سے سیکیورٹی اور انتظامی جائزوں کے بعد اس مقام کو موزوں قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریب 9 جولائی کی شام منعقد کیے جانے کا امکان ہے، اگرچہ حتمی اعلان آسٹریلوی اور بھارتی حکام مشترکہ طور پر کریں گے۔ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جون مقرر کی گئی ہے اور منتظمین کے مطابق رجسٹریشن کرانے سے شرکت کی ضمانت نہیں ملتی کیونکہ حاضری کا انحصار سیکیورٹی منظوریوں اور نشستوں کی دستیابی پر ہوگا۔ توقع ہے کہ اس تقریب میں آسٹریلیا بھر سے بھارتی نژاد برادری، کاروباری شخصیات، طلبہ، پیشہ ور افراد اور مختلف سماجی و ثقافتی تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ تقریب 2023 میں سڈنی میں منعقد ہونے والے مودی کے تاریخی کمیونٹی استقبالیے کے بعد آسٹریلیا میں بھارتی برادری کا سب سے بڑا اجتماع ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت متوقع ہے جب بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تجارت، تعلیم، دفاع، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے، جبکہ میلبورن میں بڑی بھارتی برادری کی موجودگی اس تقریب کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ #India #Australia @PMOIndia @narendramodi یہ خبر دی آسٹریلیا ٹوڈے کی ایک خبر پر مبنی ہے۔ @TheAusToday
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
4
44
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
جام نگر میں 168 میگاواٹ کا اے آئی ڈیٹا سینٹر قائم ہوگا، ریلائنس اور میٹا میں شراکت داری نئی دہلی: ریلائنس انڈسٹریز اور میٹا پلیٹ فارمز نے گجرات کے شہر جام نگر میں 168 میگاواٹ صلاحیت کے اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے لیس ڈیٹا سینٹر کے قیام کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ یہ میٹا کا بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا ’’بلٹ ٹو سوٹ‘‘ ڈیٹا سینٹر ہوگا، جس کی گنجائش میٹا لیز پر حاصل کرے گا۔ رپورٹس کے مطابق ریلائنس اس منصوبے کی ڈیزائننگ، تعمیر اور آپریشن سمیت مکمل ذمہ داری سنبھالے گا۔ منصوبے کو آئندہ دو برس میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مستقبل میں اس کی صلاحیت مزید بڑھانے کا آپشن بھی موجود ہوگا۔ یہ منصوبہ بھارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جام نگر کا مقام بجلی، پانی اور بنیادی ڈھانچے کی دستیابی کے باعث بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ میٹا اور ریلائنس کے درمیان یہ شراکت داری دونوں کمپنیوں کے پہلے سے موجود تعاون کو مزید وسعت دے گی، جس میں ڈیجیٹل رابطہ کاری، تجارت اور اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے بھارت کی عالمی اے آئی انفراسٹرکچر کے مرکز کے طور پر ابھرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی اور ملک میں جدید ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ #Reliance #Meta #Jamnagar #Gujarat #India @RIL_Updates @Meta
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
24
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
آسام میں ’کنسرٹ اکانومی‘ سے 700 کروڑ روپے کی معاشی سرگرمی کا ہدف گوہاٹی: آسام حکومت نے ریاست میں موسیقی اور تفریحی تقریبات کے فروغ کے ذریعے ’’کنسرٹ اکانومی‘‘ کو نئی معاشی قوت کے طور پر فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والے موسیقی کے پروگرام، ثقافتی تقریبات اور لائیو شوز ریاستی معیشت میں تقریباً 700 کروڑ روپے کی اضافی سرگرمی پیدا کر سکتے ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ Himanta Biswa Sarma نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ریاست نے قومی اور بین الاقوامی سطح کے کئی بڑے ثقافتی اور موسیقی پروگراموں کی میزبانی کی ہے، جس کے نتیجے میں سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، خوراک اور مقامی کاروباروں کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بڑے کنسرٹس صرف تفریح تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ مقامی معیشت میں سرمایہ، روزگار اور سیاحوں کی آمد کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ ان تقریبات کے دوران ہوٹلوں کی بکنگ، مقامی نقل و حمل، ریستورانوں اور چھوٹے کاروباروں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ حکام کے مطابق آسام خود کو شمال مشرقی بھارت کے ایک بڑے ثقافتی اور تفریحی مرکز کے طور پر متعارف کرانا چاہتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت عالمی معیار کے ایونٹس، بہتر بنیادی ڈھانچے اور نجی شعبے کی شراکت داری پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریاست مسلسل بڑے ثقافتی اور موسیقی پروگراموں کی میزبانی جاری رکھتی ہے تو اس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ آسام کی برانڈنگ، سرمایہ کاری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔ #Assam #India #Concerts @himantabiswa
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
18
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت عالمی ٹیکنالوجی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے، امریکہ اور چین کو الیکٹرانکس برآمدات میں اضافہ نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ بھارت تیزی سے عالمی ٹیکنالوجی ویلیو چین کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بن کر ابھر رہا ہے اور اب امریکہ، چین سمیت دنیا کے کئی بڑے ممالک کو جدید الیکٹرانک مصنوعات برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 میں اسمارٹ فونز بھارت کی سب سے بڑی برآمدی مصنوعات بن گئے اور ان کی برآمدات تقریباً 30 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ان کے مطابق الیکٹرانکس ملک کی تیسری بڑی برآمدی صنعت بن چکی ہے جبکہ موبائل فون واحد سب سے بڑی برآمدی شے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اشونی ویشنو نے بتایا کہ گزشتہ سال بھارت نے تقریباً 35 ہزار کروڑ روپے مالیت کے الیکٹرانک پرزہ جات چین کو برآمد کیے۔ اس کے علاوہ ریلوے پروپلشن جیسے پیچیدہ الیکٹرانک نظام فرانس، جرمنی، اٹلی اور امریکہ کو بھی برآمد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب صرف تیار مصنوعات ہی نہیں بلکہ الیکٹرانک اجزاء، سیمی کنڈکٹرز اور متعلقہ آلات کی تیاری کی جانب بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حکومت کی توجہ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، چپ سازی کے آلات اور اس صنعت کے لیے درکار جدید کیمیکلز اور گیسوں کی مقامی پیداوار پر مرکوز ہے۔ وزیر نے کہا کہ بھارت نے سیمی کنڈکٹر شعبے کو طویل مدتی وژن کے تحت فروغ دیا ہے اور اب ملک میں انجینئرنگ کے طلبہ جدید ترین چپ ڈیزائن ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، جس سے مستقبل میں بھارت کی عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چین میں اہمیت مزید بڑھے گی۔ ان کے مطابق الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر صنعت میں ہونے والی پیش رفت نے بھارت کو ایک ایسے ملک کے طور پر متعارف کرایا ہے جو اعلیٰ معیار، قابلِ اعتماد اور محفوظ ٹیکنالوجی مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ #India #Tech @AshwiniVaishnaw
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
19