Закреплённый твит

جنرل سرفرازعلی ۔ غازی اور شہید
"آرمی کا ایک ہیلی کاپٹر جس پر چند اہم شخصیات سوار ہیں، لسبیلہ سے کراچی کی طرف جاتے ہوئے لاپتہ ہوگیا ہے۔بہت اندیشہ ہے کہ وہ حادثے کا شکار ہوگیاہے۔'' ٹیلی ویژن پر اس خبر کے ساتھ ہی میری ریڑھ کی ہڈی میں دکھ اور

خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ چند گھنٹے تک اس خبر کی بازگشت چلتی رہی اور پھرمفصل خبر آگئی۔ اس ہیلی کاپٹر میں میرے دوست، میرے محسن، میرے استاد، میرے مربی اور بہت ہی پیارے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی بھی سوار تھے جو شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے۔ ان کے ساتھ چارافسروں اور ایک جوان نے بھی جام شہادت نوش کیاتھا۔
انسان زندگی میں جن شخصیات کا اثر قبول کرتا ہے ان میں نہایت اعلیٰ صفات تلاش کرتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ایک ایسی ہی شخصیت ہیں جن کو میرے سمیت ان کے ساتھ سروس کرنے والے تمام لوگوں نے اپنے لیے مشعل راہ پایا۔ جنرل سرفرازنے 1989 میں آزاد کشمیر رجمنٹ کی غازی بٹالین میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے اپنی عسکری زندگی کے ہر مرحلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے نہ صرف تمام عسکری کورسز میں اعلیٰ گریڈحاصل کیے بلکہ ان اداروں میں تدریس کے فرائض بھی ادا کیے۔ انہوں نے عملی میدان میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور تمام اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ وزیرستان اور سوات میں بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کرنے پر انہیں دو بار تمغۂ بسالت کا حقدار بھی قرار دیا گیا ۔ وہ نہایت ملنسار اور خوش مزاج لیکن عسکری لحاظ سے نہایت سخت کمانڈر تھے۔ وہ پاکستان سے شدید محبت کرتے تھے اوراس کے لیے اپنی جان بھی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے ہیٹی میں خدمات انجام دینے کے علاوہ دو سال کے لیے امریکہ میں پاکستان کے دفاعی اتاشی کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔انہوں نے کمانڈنٹ سٹاف کالج، ڈائریکٹر جرنل ملٹری انٹیلی جنس اور انسپکٹر جرنل فرنٹیئر کور سائوتھ جیسی دشوار ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجا م دیں ۔ انہیں آزاد کشمیر رجمنٹ کے کرنل کمانڈنٹ ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا ۔
لیفٹیننٹ جنرل سرفراز سیذاتی طور پر ان کے کورس میٹ، یونٹ اور مختلف ادوار میں ان کے ساتھ کام کرنے والے بہت اچھی طرح واقف ہوں گے۔ میرا تعلق جنرل سرفراز سے 1988سے ہے جب وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں میرے سینئر اور میری پلاٹون کے کارپورل تھے ۔ اپنی تربیت کے علاوہ ان کی ایک ذمہ داری پہلی ٹرم کے کیڈٹوں کو بنیادی تربیت دینا بھی تھی جس کو وہ نہایت ذمہ داری سے انجام دیتے تھے۔ ان کے ساتھ رہتے ہوئے ہم نے ایک ہی بات سیکھی، محنت، محنت اور سخت محنت جس کو انہوں نے زبان نہیں اپنے عمل سے ثابت کیا۔ وہ جسمانی طور پر انتہا ئی فٹ تھے جس کے معیار کو دل کے مرض کے باوجود انہوں نے اپنی آخری سانس تک برقرار رکھا۔ دوران عسکری زندگی تقریباً ہر رینک میں ان سے ملاقات ہوتی رہی لیکن پھر دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دس برس رابطہ منقطع رہا اس دوران انہوں نے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے اور اعزازات سے سرفراز ہوئے۔ اس کے بعد مجھے 2012راولپنڈی میں واقع بریگیڈ میں ان کے زیر کمان تقریباً تین برس کام کرنے کا موقع ملا۔ بیشک کسی بھی انسان کی شخصیت کا صحیح اندازہ اس کے مشکل حالات میں کام کرنے کے دوران ہی لگا یا جا سکتا ہے اور راولپنڈی بریگیڈ کی کمان ایسی ہی ایک مشکل ذمہ داری تھی۔ یوں تو اس دور کے ان گنت واقعات میری یادداشت میں محفوظ ہیں لیکن ایک واقعہ ایسا ہے جس کا صرف میں شاہد ہوں اور جو جنرل سرفراز کی اعلیٰ ظرفی اور کشادہ دلی کا آئینہ دار ہے۔میرے ساتھ ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کئی بار کمانڈر، بریگیڈیرسرفراز میرے دفتر میں بغیر اطلاع کے ہی چائے یا کافی کے لیے آجاتے اور گپ شپ لگا کر اپنی نہایت مصروف زندگی کی تکان کم کرتے۔ ایسے ہی ایک روز وہ تشریف لائے تو اتفاق سے میرا حوالدارجو میس کا انچارج تھا اور قدرے فربہ بھی تھا، ان کے سامنے آگیا اورسلیوٹ کیا۔ جواب دیتے ہی کمانڈر نے قدرے غصے میں اپنی سٹک اس کے پیٹ پر لگا کر کے کہا ''تم اتنے موٹے کیوں ہواور تمہارا پی ٹی ٹیسٹ تو ضرور فیل ہی ہوگا۔''عام طور پر ایسی صورتحال میں حوالدارایک بریگیڈیرکے سامنے خاموش ہو جایا کرتے ہیں۔ لیکن اس حوالدار نے کہا کہ'' سر میرا پی ٹی ٹیسٹ پاس ہے۔'' اس پر بریگیڈیر سرفراز نے قدرے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے مجھے کہا کہ اس کے کمانڈنگ آفیسر کو بتا کہ اس کو یہاں سے تبدیل کریں اور اس کا پیٹ کم کرو ائیں۔ اس کے بعد ہم دفتر میں آ بیٹھے ۔چائے کے بعد کچھ دیر میں بریگیڈیر سرفراز واپس چلے گئے ۔ میں نے حکم کی تعمیل میں کمانڈنگ آفیسر کو اس کے بارے میں بتا دیا۔ میرا خیال تھا ایک آدھ دن تک کمانڈر سے بات کر کے اس مسئلے کو حل کر لوں گا لیکن اگلے ہی روز بریگیڈ سے ایک آفیسر کا ٹیلی فون آگیا اور بتایا #سب_سے_پہلے_پاکستان

اردو














