
جو چیزیں پاکستان کے مفاد میں ہیں ہم اس کا تذکرہ کرنے میں بخل نہیں کرتے، لیکن جس طرح میرے ملک کو آزادی کے باوجود غلام رکھا گیا، وہاں نواز شریف سر جھکا سکتا ہے، شہباز شریف سر جھکا سکتا ہے، زرداری سر جھکا سکتا ہے، لیکن جمعیۃ علماء اسلام وہاں سر نہیں جھکا سکتی۔ آج ہم اپنا موقف دہرانا چاہتے ہیں، بڑی وضاحت کے ساتھ دہرانا چاہتے ہیں کہ دستور پاکستان اس ملک میں اسلامی قانون سازی کا تقاضہ کرتا ہے لیکن حال ہی میں ہمارے پارلیمنٹ میں جو خلاف اسلام، قرآن و سنت کے منافی قوانین نافذ کیے، جمعیۃ علماء اسلام ان قوانین کو مسترد کرتی ہے اور ایسے قوانین کے خلاف اپنی آواز بلند رکھے گی اور تحریک کو جاری رکھے گی۔ جس آئین کا یہ لوگ حلف اٹھا چکے ہیں یہ اپنے حلف سے روگردانی کر رہے ہیں، اللہ کا نام لے کر حلف اٹھانا اور عمل و کردار کے ذریعے سے اس کی نفی کرنا یہ مسلمان کی علامت نہیں ہو سکتی، تم کس کے پیروکار ہو؟ تمہارا عملی کردار کیا ہے؟ اور اس حوالے سے آپ کو اپنا راستہ بدلنا ہوگا، جو دستور پاکستان کا ہمیں رہنمائی دیتا ہے، ہمیں اس راستے پر مل کر جانا ہوگا ورنہ اس سے پہلے تمہارے کردار کی وجہ سے پاکستان ایک دفعہ دو لخت ہو چکا ہے آج وہی کردار ادا کرتے ہوئے کل پاکستان کے دو لخت ہونے کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔ یہ راستے ترقی کے راستے نہیں ہوا کرتے، کچھ مواقع ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ عطاء کرتا ہے اگر ان مواقع کی قدر نہ کی گئی، نا شکری کی گئی تو پھر ناشکری کی سزا اللہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسی بستی کی مثال پیش کرتا ہے، ایسی آبادی کی مثال پیش کرتا ہے کہ جہاں امن بھی ہے، جہاں اطمینان بھی ہے، جہاں معاشی خوشحالی بھی ہے، ہر طرف سے رزق کچ کچ کے وہاں آرہا ہے لیکن جب لوگوں نے ناشکری کی، اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا تو پھر اللہ نے بھوک اور بد امنی کا مزا چکایا۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا مردان میں خطاب












