Tanveer Hussain virk
99.4K posts






دنیا کی کامیاب معیشتوں کو دیکھ لیں—جاپان سے لے کر امریکہ تک، انڈونیشیا سے لے کر ملائیشیا تک—کہیں بھی شام کے بعد دیر رات تک مارکیٹیں کھلی نہیں ہوتیں۔ لیکن ہم شاید دنیا کی واحد مثال ہیں جہاں بازار دوپہر کو کھلتے ہیں اور رات گئے، بلکہ کئی جگہوں پر دو دو بجے تک کھلے رہتے ہیں۔ مجھے اپنا زمانہ یاد ہے، جب میں گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا (1974-75)، تو صبح 9 بجے انارکلی کی مارکیٹیں کھل جاتی تھیں۔ دکانیں صاف ہو رہی ہوتیں، تلاوت چل رہی ہوتی، اور برکت کا ایک الگ ماحول ہوتا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بارہ یا ایک بجے سے پہلے مارکیٹیں نہیں کھلتیں اور رات گئے تک بجلی جلتی رہتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رات کو استعمال ہونے والی بجلی زیادہ تر امپورٹڈ فیول سے پیدا ہوتی ہے، اور فرنس آئل سے بننے والی بجلی قوم کو 60 سے 80 روپے فی یونٹ تک پڑتی ہے۔ ایسے معاشی بحران میں، کیا ہمیں یہ طرزِ عمل زیب دیتا ہے؟ کیا واقعی ہمیں رات دیر تک دکانیں کھول کر کوئی ایسی اضافی برکت یا منافع مل رہا ہے جو اس نقصان کا جواز بن سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ بحران صرف چیلنج نہیں ہوتے، بلکہ وہ مواقع بھی ہوتے ہیں—اپنے رویے بدلنے کے، بہتر فیصلے کرنے کے، اور ایک ذمہ دار قوم بننے کے۔ اسی لیے حکومت نے صوبوں سے کہا ہے کہ تاجر تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ مارکیٹوں کی جلد بندش کو یقینی بنایا جا سکے، اور ہم اربوں روپے کے اس غیر ضروری بوجھ سے بچ سکیں۔ میں اپنے تمام تاجر بھائیوں سے دل سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس قومی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اگر آپ اوقات بدلیں گے تو عوام خود کو اس کے مطابق ڈھال لیں گے۔ ہم سب کو مل کر ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں ہوں۔ یاد رکھیں، قومیں اپنی عادات بدل کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم آج نظم و ضبط، ذمہ داری اور اجتماعی مفاد کو اپنائیں گے، تو کل ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال پاکستان ہماری پہچان ہوگا—انشاءاللہ۔







خوشحال گڑھ دھرنے میں کل اڈیالہ جیل اور جلسے کے حوالے سے کارکنان نے جمع ہونا شروع کر دیا ہے۔کل سے پورے پاکستان میں حقیقی مزاحمت کا آغاز ہوگا۔ کپتان کی رہائی تک یہ مزاحمت جاری رہے گی،اور ہم لیاقت باغ میں جلسہ کر کے دکھائیں گے۔جدوجہد اور حقیقی مزاحمت جاری رہیگی اڈیالہ چلو

جو عہدیدار کل اڈیالہ نہیں آ سکتا اپنا استعفی تیار رکھے




