ทวีตที่ปักหมุด

جہاں ماں بہن کی ننگی گالیاں عورت کے منہ سے سن کر "شعور" کا جشن منایا جائے، جہاں "صنم، پنکی، گوگی" جیسی فیشن گڑیاں قوم کی نمائندہ ہوں
تو وہاں اگر کوئی پڑھی لکھی، باحیا، غیرت مند بیٹی حق کی بات کرے۔۔۔۔
تو وہ یوتھیے جلیں گے نہیں تو اور کیا کریں گے؟
انہیں تحقیق سے نفرت ہے، شرافت سے الرجی ہے اور سچ سے ڈر لگتا ہے
کیونکہ اگر سچ مان لیا
تو ان کا بت خاک میں مل جائے گا
اور جھوٹی تحریک کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔
ان یوتھیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ
نیازی اگر بولے تو "شعور"
مگر کوئی اور بولے تو "بے غیرتی"؟
جنہیں تمیز ہو نہ تہذیب
وہ آج قوم کو لیڈر چُننے کا سبق سکھا رہے ہیں؟
پڑھنے والی، سوچنے والی بیٹیاں تمہارے منہ پر آئینہ ہیں
اس لیے چیخو، چِلّاؤ، گالیاں دو، کردار کشی کرو
مگر سن لو!
اب قوم کی بیٹیاں خاموش نہیں بیٹھیں گی
اب کوئی صنم، فلک یا گوگی نہیں
آمنہ، فاطمہ، زینب اور ایمان بولیں گی!
پاکستان ہم سب کا ہے۔ اور ہم اسے یرغمال نہیں بننے دیں گے۔
پاکستان زندہ باد⚔🇵🇰⚔

اردو




