بدنظری کے ساتھ قلب کے اصلاح نہیں ہوسکتی، حالانکہ اس سے بھی بڑے بڑے دوسرے گناہ ہیں. لیکن یہ گناہ ایسا ہے کہ اسکی نحوست کی وجہ سے جب تک وہ بدنظری کے اندر مبتلا رہتا ہے اس کا قلب کبھی سدھر نہیں ہوسکتا، آدمی کے دل کا تعلق اللہ کے ذات کے ساتھ اور استوار ہوہی نہیں سکتا.
ایک عالم وہ ہے جو علم کی روشنی سے دلوں کو منور کرتا ہے، جہالت کے اندھیروں کو مٹاتا ہے، اور اپنی تقویٰ اور بصیرت سے لوگوں کو حق و سچ کی طرف رہنمائی دیتا ہے۔ اس کی ہر بات میں حکمت اور نصیحت چھپی ہوتی ہے، اور اس کی زندگی دوسروں کے لیے ایک روشن مثال بنتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں ایسے علم والوں کی صحبت نصیب فرمائے اور ہمیں بھی علم کی روشنی میں زندگی گزارنے کی توفیق دے۔
آج کے دور میں دین کی تشریحات کا ایک ہجوم سا نظر آتا ہے۔ کوئی دین کو سیاسی قالب میں ڈھالتا ہے، کوئی معاشی زاویے سے دیکھتا ہے، کوئی اسے انقلابی نظریے کے طور پر پیش کرتا ہے اور کوئی اسے گروہی مفادات کے تابع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہے کہ ہر حلقہ خود کو حق پر اور دوسروں کو گمراہ سمجھتا ہے
دین کی دعوت حکمت، نرمی اور عزتِ نفس کے احترام کے ساتھ دی جاتی ہے، نہ کہ لوگوں کو شرمندہ کر کے۔ ایک سچا عالم لوگوں کے درجات کو سمجھتا ہے اور ان پر وہی بوجھ ڈالتا ہے، جو وہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ سختی اور جبر اکثر الٹا اثر پیدا کرتے ہیں۔