The Daily Milap

49K posts

The Daily Milap banner
The Daily Milap

The Daily Milap

@TheDailyMilap

India’s Oldest & Largest Combined Circulated Urdu Daily. Bridging divides & forging unity since 1923.

New Delhi, India Sumali Eylül 2021
565 Sinusundan32.3K Mga Tagasunod
Naka-pin na Tweet
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ہم اپنے قارئین اور میلاپ کی ٹیم کے ہر رکن کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری قوم کی خدمت میں ہماری مدد کی۔ آج، جب ہم 100 سال مکمل کرتے ہیں تو ہم اپنے بانی اصولوں کو برقرار رکھنے اور اخلاقیات اور اقدار پر قائم رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ @MilapNN @SuriNavin @RenuSuri15 @SureshRaiDhima1 @rishi_suri @tara_milap @ramesh_milap @mohamma61141631 @ZUBI_26 @AltafHussainKh1 @JavedShah_13 @Tabassumaziz11 @MIB_India
The Daily Milap tweet media
اردو
5
11
47
42.9K
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت نے تین دہائیوں پرانے عمان۔گجرات گیس پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ فعال کر دیا نئی دہلی: بھارت نے توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے عمان اور گجرات کے درمیان مجوزہ گہرے سمندر کی گیس پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تقریباً تین دہائیوں پرانا یہ منصوبہ اب خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور توانائی کی رسد سے متعلق خدشات کے تناظر میں نئی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مجوزہ پائپ لائن تقریباً 2,000 کلومیٹر طویل ہوگی اور عمان کے گیس ذخائر کو براہِ راست گجرات کے ساحل سے جوڑے گی۔ منصوبے کی لاگت تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے اور یہ دنیا کی گہرے سمندر میں بچھائی جانے والی اہم ترین توانائی پائپ لائنوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد بھارت کی توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانا اور آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستوں پر انحصار کم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی علاقائی بحران یا بحری رکاوٹ کی صورت میں یہ پائپ لائن بھارت کو قدرتی گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پائپ لائن بحیرہ عرب کے بعض حصوں میں تقریباً 3,000 میٹر گہرائی سے گزرے گی، جس کے باعث یہ تکنیکی اعتبار سے ایک انتہائی پیچیدہ منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم جدید سمندری انجینئرنگ اور گہرے پانی میں پائپ لائن بچھانے کی نئی ٹیکنالوجی نے اس منصوبے کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ قابلِ عمل بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی گیس کو بھارت کی توانائی منتقلی کی حکمت عملی میں اہم حیثیت حاصل ہے۔ حکومت 2030 تک ملک کے توانائی مرکب میں قدرتی گیس کا حصہ نمایاں طور پر بڑھانا چاہتی ہے، جبکہ یہ منصوبہ شہری گیس نیٹ ورکس، بجلی گھروں، کھاد سازی اور پیٹروکیمیکل صنعتوں کو طویل المدتی ایندھن فراہم کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف بھارت اور عمان کے درمیان توانائی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا بلکہ بحرِ ہند خطے میں توانائی رابطہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ #India #Oman
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
20
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
چینی انکشافات نے پاکستانی فوج کی کمزوریاں بے نقاب کر دیں: رپورٹ اسلام آباد: ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات اور تکنیکی انکشافات نے پاکستانی فوجی ڈھانچے اور دفاعی تیاریوں میں موجود بعض اہم کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان معلومات سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں، عسکری انفراسٹرکچر اور چین پر بڑھتے ہوئے انحصار سے متعلق نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج گزشتہ کئی برسوں سے چینی دفاعی ٹیکنالوجی، جنگی طیاروں، میزائل نظاموں، ڈرونز، سیٹلائٹ نیویگیشن اور دیگر عسکری سازوسامان پر تیزی سے انحصار بڑھا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس انحصار نے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مضبوط ضرور کیا ہے، لیکن ساتھ ہی پاکستان کی خود مختاری اور آپریشنل لچک کے حوالے سے خدشات بھی پیدا کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چینی ذرائع سے سامنے آنے والی بعض تفصیلات میں پاکستانی فضائیہ کے اڈوں، انفراسٹرکچر کی بہتری اور دفاعی تیاریوں کا ذکر کیا گیا، جس سے حساس عسکری معلومات کے افشا ہونے پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے انکشافات سے پاکستان کی بعض دفاعی تنصیبات اور حکمت عملیوں کے بارے میں بیرونی دنیا کو غیر ضروری معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان قریبی عسکری تعاون کے باوجود دونوں افواج کے درمیان مکمل عملی ہم آہنگی اور انضمام اب بھی محدود ہے۔ مختلف عسکری نظریات، کمانڈ ڈھانچوں اور آپریشنل ترجیحات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مکمل دفاعی انضمام ممکن نہیں ہو سکا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان چینی ساختہ جنگی طیاروں، میزائلوں اور دیگر جدید دفاعی نظاموں کا سب سے بڑا صارف بن کر ابھرا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان نے پاکستان کو جدید عسکری صلاحیتیں فراہم کی ہیں، تاہم اس کے ساتھ تکنیکی اور اسٹریٹجک انحصار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چینی انکشافات اور بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داری نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات کے لیے کس حد تک بیرونی ٹیکنالوجی اور شراکت داروں پر انحصار کر سکتا ہے، اور آیا یہ انحصار مستقبل میں اس کی اسٹریٹجک خود مختاری پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ #Pakistan #China
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
36
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل دفاعی صلاحیت حاصل کر کے خصوصی ممالک کے کلب میں جگہ بنا لی نئی دہلی: بھارت نے دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (DRDO) کی جانب سے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) دفاعی نظام کے کامیاب تجربے کے بعد میزائل دفاعی صلاحیت رکھنے والے محدود ممالک کے عالمی کلب میں اپنی جگہ مضبوط کر لی ہے۔ اس پیش رفت کو بھارت کے اسٹریٹجک دفاعی نظام کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق DRDO نے جدید بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے تحت ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک خطرے کا کامیابی سے سراغ لگانے اور اسے فضا میں تباہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس تجربے کا مقصد بھارت کی کثیر سطحی میزائل دفاعی ڈھال کی مؤثریت کو جانچنا تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام دشمن کی جانب سے داغے گئے طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کو فضا کے اندر یا فضا سے باہر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت اپنے اہم شہروں، عسکری تنصیبات اور اسٹریٹجک اثاثوں کو میزائل حملوں سے بہتر تحفظ فراہم کر سکے گا۔ بھارت گزشتہ دو دہائیوں سے بیلسٹک میزائل دفاعی پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مختلف انٹرسیپٹر میزائل، جدید ریڈار نظام اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک تیار کیے گئے ہیں۔ حالیہ تجربہ اس سلسلے میں ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ، روس اور چند دیگر ممالک کے بعد بھارت ان معدودے چند ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے جو بیلسٹک اور بین البراعظمی میزائل خطرات کے خلاف مقامی سطح پر تیار کردہ دفاعی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کامیابی سے نہ صرف بھارت کی دفاعی خود کفالت کو تقویت ملے گی بلکہ مستقبل میں جدید فضائی و میزائل دفاعی نظاموں کی تیاری کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی۔ ماہرین کے مطابق بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی سلامتی کے ماحول میں میزائل دفاعی صلاحیت کسی بھی ملک کی مجموعی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکی ہے، اور حالیہ کامیاب تجربہ بھارت کی اس سمت میں بڑھتی ہوئی تکنیکی اور عسکری صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ #India #Defense #DRDO @DRDO_India
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
20
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت کی اختراعات نئی پرواز کے لیے تیار، ڈیپ ٹیک شعبے کی عالمی سطح پر پیش قدمی نئی دہلی: بھارت کا ڈیپ ٹیک (Deep Tech) شعبہ تیزی سے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی اختراعی صلاحیتیں اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ اسی تناظر میں فرانس کے شہر نیس میں منعقد ہونے والا “بھارت انوویٹس 2026” پروگرام بھارتی ٹیکنالوجی اور اختراعات کے عالمی سفر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس تقریب میں 120 سے زائد بھارتی ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس، وینچر کیپیٹل فنڈز، تحقیقی ادارے اور جامعات شرکت کر رہے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بھارت اپنے ڈیپ ٹیک ماحولیاتی نظام کو اس پیمانے پر یورپ میں پیش کر رہا ہے۔ اس پروگرام میں خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، دفاع، سیمی کنڈکٹرز، بائیو ٹیکنالوجی، جدید مواصلات، توانائی اور موسمیاتی ٹیکنالوجی سمیت 13 اہم شعبوں کی اختراعات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی نجی خلائی صنعت اس تبدیلی کی نمایاں مثال ہے۔ 2020 میں خلائی شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولے جانے کے بعد ملک میں 400 سے زائد اسپیس ٹیک اسٹارٹ اپس وجود میں آ چکے ہیں۔ بھارتی کمپنیاں اب راکٹ، سیٹلائٹس اور جدید خلائی نظام تیار کر رہی ہیں جو عالمی منڈی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اس وقت 2 لاکھ سے زائد DPIIT رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس، 120 سے زیادہ یونیکورن کمپنیوں اور ہر سال تقریباً 15 لاکھ انجینئرز کی گریجویشن کے ساتھ دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے اختراعی مراکز میں شامل ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی بھارت عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔ بھارت اور فرانس کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون بھی مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک خلائی تحقیق، جدید صنعتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نیس میں “بھارت انوویٹس 2026” کا مشترکہ افتتاح کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ “بھارت انوویٹس 2026” صرف ایک نمائش نہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں، جامعات، صنعتوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ اشتراک کے نئے مواقع پیدا کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔ اس سے بھارتی اختراعات کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے نئے امکانات میسر آئیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی ڈیپ ٹیک صلاحیتیں اب مقامی ضروریات سے آگے بڑھ کر عالمی مسائل کے حل کی جانب بڑھ رہی ہیں، اور یہی رجحان ملک کو آئندہ برسوں میں عالمی اختراعی معیشت کے اہم مراکز میں شامل کر سکتا ہے۔ #India #DeepTech @rishi_suri
اردو
0
2
2
21
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
عالمی جنوب کے اتحاد کو نئی تقویت، بھارت اور برازیل دفاعی شراکت داری کے نئے دور کی جانب گامزن نئی دہلی: بھارت اور برازیل کے درمیان دفاعی تعاون تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور دونوں ممالک ایک ایسی اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب بڑھ رہے ہیں جو نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ عالمی جنوب (Global South) کے کردار کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک نے دفاع، اہم معدنیات، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور صنعتی تعاون سمیت کئی شعبوں میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دفاعی شعبہ اب بھارت۔برازیل تعلقات کا ایک اہم ستون بنتا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور صنعتی تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس تعاون کو بھارت کے “آتم نربھر بھارت” پروگرام اور برازیل کی دفاعی صنعتی صلاحیتوں کے درمیان ایک قدرتی ہم آہنگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور برازیلی صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے حالیہ ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک عالمی جنوب کی ترجیحات اور مفادات کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں اصلاحات، کثیرالجہتی نظام کے استحکام اور ترقی پذیر ممالک کی بہتر نمائندگی کی حمایت کی۔ دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک اہم معدنیات، نایاب ارضی عناصر، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، بائیو فیولز اور خلائی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔ دونوں حکومتوں کا ماننا ہے کہ ان شعبوں میں اشتراک مستقبل کی سپلائی چینز کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنانے میں مدد دے گا۔ برازیل اس وقت لاطینی امریکہ میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک نے آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تجارتی اور صنعتی روابط میں اضافہ دفاعی شراکت داری کو بھی مزید تقویت فراہم کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی جغرافیائی اور معاشی حالات میں بھارت اور برازیل کا بڑھتا ہوا تعاون عالمی جنوب کی آواز کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق دفاعی شراکت داری، اقتصادی تعاون اور مشترکہ سفارتی مؤقف دونوں ممالک کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ بااثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ #India #Brazil @BrazilEmbassyIN
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
30
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
تائیوان کے گرد چینی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ، 6 جنگی طیارے اور 8 بحری جہازوں کی موجودگی ریکارڈ تائی پے: تائیوان کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے 6 جنگی طیاروں اور 8 بحری جہازوں کی سرگرمیاں تائیوان کے اطراف میں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس سے خطے میں جاری کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔ تائیوانی وزارتِ دفاع کے مطابق چینی طیاروں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی گئی اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے فضائی، بحری اور زمینی نگرانی کے نظام کو متحرک رکھا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تائیوان اپنی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ وزارتِ دفاع نے بتایا کہ چینی فوجی سرگرمیاں حالیہ مہینوں کے دوران مسلسل جاری ہیں اور بیجنگ کی جانب سے تائیوان کے گرد فضائی اور بحری دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تائیوانی حکام کا مؤقف ہے کہ ایسی کارروائیاں نہ صرف آبنائے تائیوان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور جزیرے کے گرد فوجی مشقوں اور گشت کو اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان خود کو ایک خود مختار جمہوری نظام کے طور پر دیکھتا ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ کو مسترد کرتا ہے۔ علاقائی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تائیوان کے گرد چینی فوجی سرگرمیوں میں تسلسل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی اور عسکری تناؤ بدستور برقرار ہے، جس پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ #Taiwan #China
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
24
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
خیبر پختونخوا میں تنخواہوں کے تنازع پر ڈاکٹروں کی صوبہ گیر ہڑتال کی دھمکی، حکومت پر دباؤ میں اضافہ پشاور: خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں نے تنخواہوں اور مالی مراعات سے متعلق مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں صوبہ گیر ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سرکاری اسپتالوں سے وابستہ ڈاکٹروں اور طبی عملے نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں دیگر سرکاری ملازمین کے مقابلے میں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ان کے جائز مطالبات کو مسلسل مؤخر کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باوجود ان کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں مناسب اضافہ نہیں کیا گیا۔ احتجاجی تنظیموں کے مطابق اگر حکومت نے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز اور دیگر معمول کی طبی خدمات معطل کی جا سکتی ہیں۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اس صورت حال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ڈاکٹروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار مذاکرات اور یادداشتیں پیش کرنے کے باوجود کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے باعث احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کو مناسب سہولیات اور مالی تحفظ فراہم کیے بغیر عوام کو بہتر طبی خدمات دینا ممکن نہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے مسائل سے آگاہ ہے اور مالی وسائل اور بجٹ کی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں طبی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر لاکھوں مریضوں پر پڑے گا۔ ڈاکٹروں کی تنظیموں نے حکومت سے فوری مذاکرات اور مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ممکنہ ہڑتال سے بچا جا سکے۔ #KhyberPakhtunkhwa #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
23
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
پاکستانی بجٹ ترجیحات پر سوالات، سرکاری ملازمین پر احتجاج کے دوران لاٹھی چارج اسلام آباد: پاکستان میں وفاقی بجٹ 2026-27 کے اعلان کے موقع پر ہزاروں سرکاری ملازمین نے تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن سے متعلق مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور لاٹھی چارج کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ برس کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا اور نئے بجٹ میں بھی سرکاری ملازمین کے مسائل کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ احتجاج میں شریک ملازمین نے بنیادی تنخواہوں میں اضافے، مختلف ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے اور پنشن اصلاحات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق مظاہرین پاکستان سیکرٹریٹ سے مارچ کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب پہنچے، جہاں پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران کشیدگی پیدا ہوئی۔ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی۔ احتجاجی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ حکومت دفاعی اور دیگر اخراجات کے لیے وسائل مختص کر رہی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز اور فلاحی مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ملازمین کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط اور آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ پیش کیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت محصولات میں اضافے اور اخراجات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ معاشی استحکام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ #Pakistan #PakistanEconomy
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
39
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بلوچستان میں کم عمر طالب علم کی حراست کا الزام، لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کی تلاش اور احتجاج میں شدت کوئٹہ: بلوچستان میں ایک کم عمر طالب علم کی مبینہ حراست کے واقعے کے بعد لاپتا افراد کے مسئلے پر تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ 14 سالہ طالب علم کو سکیورٹی اہلکاروں نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق طالب علم کے خاندان کا کہنا ہے کہ 11 جون کو ان کے گھر پر کارروائی کی گئی، جس کے بعد لڑکے کو اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام فوری طور پر اس کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور اسے اہلِ خانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کی جانب سے احتجاجی مہم جاری ہے۔ لاپتا بلوچ افراد کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ متعدد خاندان برسوں سے اپنے عزیزوں کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کا احتجاجی کیمپ کئی برسوں سے جاری ہے، جہاں مختلف خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبے کے ساتھ جمع ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مزید خاندانوں نے بھی اپنے رشتہ داروں کی گمشدگی کے مقدمات تنظیموں کے سامنے پیش کیے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے الزامات ایک طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہے ہیں۔ مختلف مقامی اور بین الاقوامی ادارے اس مسئلے پر شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی حکام ماضی میں اس مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ لاپتا افراد سے متعلق متعدد معاملات پیچیدہ نوعیت کے ہیں اور ان کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن کام کر رہا ہے۔ تاہم متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسئلے کے مستقل حل اور جوابدہی کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ #Balochistan #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
22
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
صحافی صہراب برکت کی گرفتاری پر پاکستان کو تنقید کا سامنا، پاکستان مقبوضہ کشمیر کی کوریج دبانے کے الزامات اسلام آباد: پاکستان کو اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی کے حوالے سے ایک بار پھر تنقید کا سامنا ہے، جہاں صحافی صہراب برکت کی گرفتاری کو پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ بے چینی اور احتجاجی مظاہروں کی کوریج سے جوڑا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صہراب برکت کو 5 جون کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کے خلاف پاکستان کے متنازع پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ حکام کا الزام ہے کہ انہوں نے آن لائن مواد کے ذریعے غلط معلومات پھیلائیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صحافتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔ صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں نے برکت کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے اور صحافیوں کے خلاف مبہم الزامات اور قومی سلامتی سے متعلق قوانین کے استعمال کا سلسلہ بند کیا جائے۔ رپورٹس کے مطابق صہراب برکت اس سے قبل بھی نومبر 2025 سے مارچ 2026 تک تقریباً 100 دن حراست میں رہ چکے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان مقبوضہ کشمیر اور دیگر حساس سیاسی معاملات پر رپورٹنگ کرتے رہے ہیں، جس کے باعث انہیں بار بار قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان مقبوضہ کشمیر میں سیاسی نمائندگی، مخصوص نشستوں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد سکیورٹی کریک ڈاؤن، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ پابندیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق اور صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں آزاد اور غیر جانبدار رپورٹنگ کو یقینی بنانا مزید اہم ہو جاتا ہے۔ #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
33
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
تائیوان نے ایتو آبا جزیرے کے قریب محدود سمندری حدود میں چینی جہازوں کی آمد پر بیجنگ کی مذمت کر دی تائی پے: تائیوان نے ایتو آبا (تائی پنگ) جزیرے کے قریب محدود سمندری حدود میں چینی سرکاری جہازوں کی موجودگی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بیجنگ کی مذمت کی ہے۔ تائیوانی حکام کا کہنا ہے کہ چینی جہازوں نے حساس سمندری علاقے میں داخل ہو کر کشیدگی میں اضافہ کیا، جس کے بعد تائیوانی کوسٹ گارڈ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں چیلنج کیا۔ تائیوان کے مطابق دو چینی جہاز ایتو آبا جزیرے کے قریب محدود پانیوں میں داخل ہوئے، تاہم تائیوانی حکام کی تنبیہ کے بعد وہ علاقہ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ حکام نے واضح کیا کہ تائیوان اپنی سمندری خودمختاری اور علاقائی حدود کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تائیوانی حکومت نے چینی کارروائی کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ مسلسل سمندری اور فضائی سرگرمیوں کے ذریعے خطے میں دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تائیوان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ چین اور تائیوان کے درمیان حالیہ ہفتوں میں سمندری کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تائیوانی حکام کا کہنا ہے کہ چینی کوسٹ گارڈ اور دیگر سرکاری جہاز متعدد مواقع پر تائیوان کے زیر انتظام علاقوں اور سمندری حدود کے قریب سرگرم رہے ہیں، جس پر تائی پے نے بارہا احتجاج کیا ہے۔ ایتو آبا جزیرہ جنوبی بحیرۂ چین میں واقع تائیوان کے زیر انتظام سب سے بڑے جزائر میں شمار ہوتا ہے اور اس پر چین، تائیوان، فلپائن اور ویتنام سمیت کئی فریق اپنے اپنے دعوے رکھتے ہیں، جس کے باعث یہ علاقہ طویل عرصے سے علاقائی تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ #Taiwan #China
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
24
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
تبتی جلاوطن انتظامیہ نے تبتی سیاسی قیدی کے مقدمے کو اجاگر کرتے ہوئے 2008 کے لہاسا احتجاج کے بعد ہونے والے مقدمات کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے دھرم شالہ: تبتی جلاوطن انتظامیہ (سی ٹی اے) نے ایک تبتی سیاسی قیدی کے مقدمے کو دوبارہ اجاگر کرتے ہوئے 2008 کے لہاسا احتجاج کے بعد چینی حکام کی جانب سے چلائے گئے عدالتی عمل کی شفافیت اور منصفانہ پن پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سی ٹی اے کے مطابق تبتی شہری نگاوانگ یگنین اُن دو افراد میں شامل تھے جنہیں 2008 کے احتجاجی واقعات کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جلاوطن تبتی قیادت کا کہنا ہے کہ اس دور کے متعدد مقدمات میں شفاف عدالتی کارروائی، قانونی نمائندگی اور آزادانہ نگرانی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2008 کے لہاسا احتجاج کے بعد بڑی تعداد میں تبتیوں کو حراست میں لیا گیا تھا اور انسانی حقوق کے مختلف اداروں نے ان مقدمات کے دوران قانونی عمل، قیدیوں کے حقوق اور حراستی حالات کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے تھے۔ سی ٹی اے نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تبتی سیاسی قیدیوں کے معاملات پر توجہ دیں اور ان مقدمات کا آزادانہ جائزہ لینے کی کوششوں کی حمایت کریں۔ تبتی جلاوطن قیادت کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلافِ رائے اور ثقافتی شناخت کے اظہار کو جرم قرار دینے کے بجائے بنیادی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ تبتی سیاسی قیدیوں کے معاملات انسانی حقوق اور انصاف کے عالمی اصولوں سے جڑے ہوئے ہیں، جن پر مسلسل توجہ کی ضرورت ہے۔ #Tibet #China @CTA_TibetdotNet
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
15
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت کے آزاد تجارتی معاہدے ایک ٹریلین ڈالر برآمدی ہدف کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں: رپورٹ نئی دہلی: ایک نئی رپورٹ کے مطابق بھارت کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدے (FTAs) ملک کو 2030 تک ایک ٹریلین ڈالر کی اشیائی برآمدات کے ہدف کے حصول میں اہم مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سپلائی چینز میں جاری تبدیلیوں اور مینوفیکچرنگ کے نئے مراکز کی تلاش کے باعث بھارت کو بین الاقوامی تجارت میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کا اہم موقع ملا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے ہیں، جبکہ یورپی یونین، نیوزی لینڈ اور عمان سمیت کئی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ان معاہدوں سے بھارتی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی ملے گی اور درآمدی محصولات میں کمی کے باعث برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا۔ رپورٹ میں الیکٹرانکس، دواسازی اور انجینئرنگ مصنوعات کے شعبوں کو سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے شعبوں میں شمار کیا گیا ہے۔ خاص طور پر الیکٹرانکس کی برآمدات میں نمایاں اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، کیونکہ بھارت گزشتہ چند برسوں میں اسمارٹ فون اور دیگر الیکٹرانک آلات کی تیاری کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آزاد تجارتی معاہدے صرف برآمدات ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار میں اضافے کا بھی سبب بن سکتے ہیں۔ بیرونی منڈیوں تک مستقل رسائی سے کاروباری اداروں کا اعتماد بڑھے گا، نئی فیکٹریوں اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری ہوگی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ادھر مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ بھارت نے موجودہ مالی سال میں ایک ٹریلین ڈالر اور آئندہ پانچ برسوں میں دو ٹریلین ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 38 ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے بھارتی برآمد کنندگان کو بڑی عالمی منڈیوں تک ترجیحی رسائی فراہم کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تجارتی معاہدے برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے، تاہم اس ہدف کے حصول کے لیے بہتر لاجسٹکس، جدید بنیادی ڈھانچے، عالمی معیار کی پیداوار اور مسابقتی لاگت کو بھی یقینی بنانا ضروری ہوگا۔ #India #Trade
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
36
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
خلیج میں پاکستان کی بڑھتی موجودگی پر واشنگٹن میں تشویش، چین کے اثر و رسوخ پر سوالات واشنگٹن: خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور عسکری تعلقات نے امریکی پالیسی سازوں اور ماہرین کے درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں بعض حلقے اسے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ چینی ساختہ یا چین کے تعاون سے تیار کردہ دفاعی نظاموں پر مشتمل ہے۔ ان میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں، جو حالیہ برسوں میں خلیجی خطے میں پاکستان کی عسکری شراکت داریوں کے ذریعے زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان خلیجی ریاستوں اور چین کے درمیان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ براہِ راست بڑے فوجی اڈے قائم کرنے کے بجائے ایسے شراکت دار ممالک کے ذریعے اپنا اثر بڑھا سکتا ہے جو پہلے ہی خطے میں مضبوط دفاعی تعلقات رکھتے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک میں چینی دفاعی ٹیکنالوجی اور نظاموں کی بڑھتی ہوئی موجودگی مستقبل میں علاقائی سکیورٹی ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا امریکہ کو خطے میں چینی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا متبادل سکیورٹی فراہم کنندہ بننے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ کے پاس نہ تو امریکہ جیسا فوجی نیٹ ورک موجود ہے اور نہ ہی خطے میں اسی سطح کی عسکری رسائی حاصل ہے، اگرچہ وہ اقتصادی اور دفاعی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی موجودگی بتدریج بڑھا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک بھی بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں اپنی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان، چین، امریکہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان تعلقات مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی سیاست پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ #China #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
50
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت کا یو پی آئی انقلاب، جنوبی افریقہ کے لیے کیا سبق؟ نئی دہلی: بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام یو پی آئی (Unified Payments Interface) کو دنیا کے کامیاب ترین مالیاتی اختراعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے چند برسوں میں کروڑوں افراد کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ سمیت کئی ترقی پذیر ممالک بھارت کے تجربے سے اہم سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یو پی آئی نے موبائل فون کے ذریعے فوری، کم لاگت اور محفوظ مالی لین دین کو ممکن بنایا ہے۔ اس نظام کے ذریعے صارفین بینک اکاؤنٹس سے براہِ راست رقم منتقل کر سکتے ہیں، جبکہ چھوٹے کاروبار، دکاندار اور عام شہری بھی باآسانی ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کر رہے ہیں۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی کامیابی کا راز صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک مضبوط ڈیجیٹل عوامی ڈھانچہ (Digital Public Infrastructure) ہے، جس میں آدھار شناختی نظام، بینک اکاؤنٹس تک رسائی اور موبائل انٹرنیٹ کا پھیلاؤ شامل ہے۔ ان عوامل نے لاکھوں افراد کو پہلی بار رسمی مالیاتی نظام کا حصہ بننے کا موقع فراہم کیا۔ ماہرین کے مطابق جنوبی افریقہ بھی نقد رقم پر انحصار کم کرنے اور مالی شمولیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اسے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے کم لاگت، آسان اور باہم مربوط نظام کی ضرورت ہے۔ بھارت کا ماڈل اس حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال پیش کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو پی آئی کی کامیابی نے نہ صرف مالی لین دین کو آسان بنایا بلکہ معیشت میں شفافیت، کاروباری سرگرمیوں اور مالی شمولیت کو بھی فروغ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک اب بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگی ماڈل کا مطالعہ کر رہے ہیں اور اسے اپنی ضروریات کے مطابق اپنانے پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جنوبی افریقہ سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک مضبوط ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ بھی نقدی پر مبنی معیشت سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے پیش رفت کر سکتے ہیں۔ #India #SouthAfrica #UPI
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
47
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ایبولا ویکسین کی تیاری تیز کرنے کا بھارتی فیصلہ، عالمی کوششوں میں اہم پیش رفت نئی دہلی: بھارت نے ایبولا وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے عالمی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسطی افریقہ میں ایبولا کی ایک نئی وبا نے بین الاقوامی تشویش کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (Africa CDC) کی حمایت سے بھارت کا Serum Institute of India آکسفورڈ یونیورسٹی اور CEPI کے اشتراک سے بنڈی بگیو (Bundibugyo) قسم کے ایبولا وائرس کے لیے نئی ویکسین تیار کر رہا ہے۔ اس وائرس کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق مجوزہ ویکسین اسی وائرل ویکٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو آکسفورڈ-آسٹرازینیکا کووڈ-19 ویکسین میں استعمال کی گئی تھی، جس سے اس کی تیاری اور بڑے پیمانے پر پیداوار نسبتاً تیزی سے ممکن ہو سکے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے اس ویکسین کے جائزے اور آزمائشی مراحل کو تیز رفتار بنیادوں پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کلینیکل آزمائشوں کے لیے خوراکیں جلد دستیاب ہو سکیں۔ ادھر بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں فی الحال ایبولا کا کوئی فعال کیس موجود نہیں، تاہم ہوائی اڈوں اور صحت کے مراکز پر نگرانی اور احتیاطی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں، خصوصاً ان مسافروں کے لیے جو متاثرہ افریقی ممالک سے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ویکسین کامیاب ثابت ہوتی ہے تو نہ صرف موجودہ وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں ایبولا کی اسی قسم کے پھیلاؤ کے خلاف عالمی سطح پر تیاریوں کو بھی مضبوط بنایا جا سکے گا۔ #India #Ebola
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
41
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ریلویز اور چِپ پلانٹس کے لیے بھارت کی سرکاری سرمایہ کاری پانچ برس میں دگنی نئی دہلی: بھارت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی کے منصوبوں پر اپنی سرکاری سرمایہ کاری کو تقریباً دوگنا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، سیمی کنڈکٹر صنعت کے قیام اور دیگر اسٹریٹجک منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی سرمایہ کاری میں اضافے نے ملک بھر میں ریلوے، شاہراہوں، بندرگاہوں اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرگرمیوں کو ممکن بنایا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد معیشت کی طویل مدتی ترقی کو یقینی بنانا اور نجی سرمایہ کاری کو مزید متحرک کرنا ہے۔ خصوصاً سیمی کنڈکٹر صنعت کو فروغ دینے کے لیے بھارت نے متعدد منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ حکومت کے مطابق سیمی کنڈکٹر شعبے میں تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے حامل متعدد منصوبے منظور کیے جا چکے ہیں، جبکہ کئی یونٹس میں پیداوار بھی شروع ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں اور چِپس کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر بھارت خود کو ایک بڑے مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ابھارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت گجرات، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں سیمی کنڈکٹر فیکٹریوں اور پیکیجنگ یونٹس کے قیام پر کام جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انفراسٹرکچر اور جدید صنعتوں میں سرکاری سرمایہ کاری کے اس تسلسل نے بھارت میں رکے ہوئے منصوبوں کی شرح کو کم کرنے میں بھی مدد دی ہے اور ملک کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنایا ہے۔ #India #investment
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
25