
Mureed khan
31.2K posts

Mureed khan
@mur33d
Libertarian with profound interest in Law, Economics and real estate development.Hallian. Bahrian. Lawyer. Public Policy MSc, NDU. IPSI. Manam Ghulam e Ali(a.s)


کچھ فیصلوں کا بروقت ہونا انتہائی اہم ہوتا ہے۔ میں نے ہمیشہ اس نظام کو نمک کی کان ہی پایا، جو بھی اس میں گیا وہ نمک بن گیا۔ اس سے پہلے کہ میں بھی نمک بن جاوں، کافی سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس نمک کی کان سے نکل جانا چاہئیے۔ ہم اس نظام کے اندر رہ کر اسے کندھا اورlegitimacy دینے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کر پا رہے، نہ کوئی ترمیم روکنے کی طاقت، نہ بولنے کی اجازت اور پارٹی فیصلوں میں مکمل بے دخلی! لہذا کافی سوچ بچار کے بعد، اس با برکت وقت اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے ان تمام چیزوں سے الگ ہونا ہے۔ چاہے وہ یہ جعلی پارلیمان ہو یا پارٹی کو کوئی بے وقعت عہدہ۔ ارادہ کر لیا ہے اور اس میں کسی سے مشاورت نہیں کی، نہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ خان صاحب کے اعتماد کا شکرگزار ہوں اور میدان نہیں چھوڑوں گا لیکن ایسی جگہ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں جہاں آپ کچھ بھی نہ کر پائیں۔ خان صاحب کے لئے جدوجہد جاری رہے گی۔ راستہ میرا اپنا ہوگا۔ اکیلا لڑنا پڑا تو بھی لڑوں گا، شاید کامیاب نہ ہو پاوں لیکن جانتا ہوں کہ حق کبھی ناکام نہی ہوتا۔ چند دن میں باضابطہ اعلان باقاعدہ طور پہ ہو جائے گا۔ مزید ایسے کسی گروہ کا حصہ نہیں رہ سکتا جہاں منافقت، دکھاوا، لالچ، حرص اور ذاتی تشہیر و کامیابی کو نظرئیے پہ فوقیت دی جائے۔ یہ سفر دو دہائیوں پر محیط تھا، اچھے دوست بھی ملے اور دوستوں کی شکل میں منافقین سے بھی پالا پڑا۔ لیکن آگے کا سفر مکمل آزادی کے ساتھ اللہ کے بھروسے اپنی مدد آپ کے تحت کروں گا۔ اللہ ہماری رہنمائی فرمائے اور اگر ہم بھٹکنے لگیں تو ہمیں سیدھی راہ دکھائے اور مدد کرے



پہلا نتیجہ آ گیا، اور ہماری خبر کی تصدیق بھی ہوگئی خیبرپختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم نے عرفان سلیم کی مخالفت میں تحریر لکھ ڈالی سینیٹ کا ٹکٹ میرٹ پر فیض الرحمن کو ملنی چاہیئے، وزیر قانون کیونکہ یہاں ATM بولتا ہے





یہ ایک حقیقت ہے کہ سینیٹ میں دیگر علاقوں کی نمائندگی ساوتھ ریجن اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جو کہ واضح عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقوں کو برابر نمائندگی کا حق حاصل نہیں؟ ساوتھ ریجن، جس میں 10 سے زائد اضلاع شامل ہیں، بدقسمتی سے آج سینیٹ میں نہ ہونے کے برابر نمائندگی رکھتا ہے، جبکہ ماضی میں ضم اضلاع (سابقہ فاٹا) سے 8 سینیٹرز موجود تھے۔ یہ کمی نہ صرف سیاسی نمائندگی کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ان علاقوں کے عوام کی آواز کو بھی پسِ پشت ڈال رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے فیض الرحمان کا تعلق ساوتھ ریجن اور قبائلی اضلاع سے ہے، اور ان کا انتخاب ان محروم علاقوں کی حقیقی نمائندگی کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ ان کے خاندان کی پارٹی کے لیے خدمات اور قربانیاں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پیسے کا نہ ہونا کمزوری نہیں، لیکن پیسے کا ہونا بھی کمزوری نہیں ہونا چاہیے۔ اصل معیار نمائندگی، قابلیت اور حق ہونا چاہیے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں مراد سعید کی خالی نشست پر فیض الرحمان کو سینیٹ ٹکٹ دینا ایک منصفانہ اور بروقت فیصلہ ہوگا، جو نہ صرف ساوتھ ریجن بلکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنائے گا۔ یہ قدم ان علاقوں کے جائز حق کی بحالی کی جانب ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔















