Falcon

133.2K posts

Falcon banner
Falcon

Falcon

@BVR_Falcon

Interested in learning Global Events & Security of🇵🇰. RT 🚫 always as endorsements.

At your 6 شامل ہوئے Temmuz 2015
472 فالونگ578 فالوورز
Falcon ری ٹویٹ کیا
Falcon ری ٹویٹ کیا
Arjeet Kumar 🇮🇳🇮🇱
I want to join isreali army (IDF) My name : Arjeet Kumar I'm from : India , Bihar My height : 4.9 Colour : Fair @IDF @Israel @netanyahu Jay hind 🇮🇳🇮🇱💪 🙏
Arjeet Kumar 🇮🇳🇮🇱 tweet media
English
503
732
5.9K
523.3K
Falcon ری ٹویٹ کیا
Aisha Ghazi
Aisha Ghazi@aishaghazi·
Eid Mubarak. Alhamdulillah for Pakistan where Muslims can celebrate eid without any fear of persecution. Two nation theory : “We eat what they worship”
English
8
14
56
1.4K
Falcon ری ٹویٹ کیا
Jan reviews
Jan reviews@Osamajan114888·
What a courage. اس بابا کو سلام کہتا ہے کہ میرے بیٹے کی شہادت غم کی بات نہیں بلکہ خوشی کی بات ہے کہ میرا بیٹا اپنے وطن کے لیے شہید ہوا اور جوان ہوتے ہیں زمین کی دفاع کے لیے ، مجھے جب خبر ملی تو میں مسجد گیا نوافل ادا کیے ۔
اردو
8
136
569
8K
Falcon ری ٹویٹ کیا
RT
RT@RT_com·
'NEVER MET TOO MANY JEWS THAT ARE TOUGH' — UFC champion Sean Strickland 'Maybe they're just so used to BOMBING KIDS'
English
172
3.6K
27.9K
577.4K
Falcon ری ٹویٹ کیا
Iran in Japan/ 駐日イラン大使館
The staunch spox for the Israeli regime continues to do two things: - Discrediting the trusted mediator, whose laudable role in trying to bring calm to the region contradicts the Israeli regime’s war agenda; - Attempting to force a naive, illiterate, and delusional agenda upon a sovereign state that has its own sovereign decisions to make. The most insolent violation of the UN Charter’s principle of sovereign equality on full display.
Lindsey Graham@LindseyGrahamSC

It has been apparent to me for quite a while that Pakistan as a mediator is more than problematic. Their animosity towards Israel is long standing.    It is undeniable that Iranian military aircraft are being housed on Pakistani air bases and past rhetoric from the highest Pakistani officials against Israel is disturbing.    As to the defense minister’s comments about the Abraham Accords, saying that Pakistan would never join because they don’t trust Israel: The clip may be a year old, but I fear the sentiment is fresh.    In that regard, it is imperative that Pakistan give an answer now to President Trump’s call to join the Abraham Accords.

English
16
97
425
15.6K
Falcon ری ٹویٹ کیا
Dr Rahmeh Aladwan
Dr Rahmeh Aladwan@doctor_rahmeh·
Eid Al-Adha Mubarak everyone. May you and your families have a beautiful and blessed day. Over 140,000 Palestinian Muslims at Eid prayer today in our sacred Al-Aqsa Mosque, occupied Al-Quds (Jerusalem), Palestine 🤍🇵🇸
English
118
586
2.6K
19K
Falcon ری ٹویٹ کیا
RT
RT@RT_com·
Gazans bury newly appointed head of Hamas's Al-Qassam Brigades Mohammad Odeh He was killed in an Israeli airstrike on his home, along with his wife and children
English
11
136
337
13K
𝑭𝒂𝒉𝒂𝒅 🇵🇰
Wishing you and your loved ones a blessed Eid. 🌙✨ #عيد_الأضحى #عيد_الأضحى_المبارك
𝑭𝒂𝒉𝒂𝒅 🇵🇰 tweet media
English
17
0
39
747
Asad 🇵🇰
Asad 🇵🇰@asadfacts·
Eid mubarak bhaion aur behnon! Have an impeccable day aur insan ke bachon ki tarah gosht khana!
हिन्दी
5
3
39
1K
Falcon ری ٹویٹ کیا
Falcon ری ٹویٹ کیا
Khalid Mehmood Abbasi
Khalid Mehmood Abbasi@khalidmabbasi·
ٹویٹری برادری کو عید قربان مبارک ہو۔ قربانی کا لفظ قرب سے بنا ہے جس مطلب قریب ہونے کا ہے۔اس کا جامع مفہوم جاننے کیلئے ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی کو سامنے رکھیں تو ہر موڑ پر اللہ کے قریب ہونے کیلئے قریب کی کوئی چیز قربان کرتے نظر آتے ہیں۔جانی پہچانی مروجہ روایات اور رسومات کے بندھن توڑ کر حق کی جستجو کرنا اور حق پانے کے بعد اس کا ببانگ دہل اعتراف و اعلان کر کے تمام رشتوں ناطوں کی ناراضگی مول لینا یہانتک کہ والد سے بھی کنارہ کش ہو جانا۔پھر پوری قوم کو جھنجھوڑنے کیلئے بت خانے کو تہس نہس کر ڈالنا تاکہ حکمران اشرافیہ کے سامنے بھی اعلان حق کی صورت پیدا ہو سکے اور موقع ملتے ہی ہر طرح کی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری ہمت و جرات کے ساتھ احقاق حق کر گزرنا اور نتیجے کے طور پر خاموش رہنے پر اپنے آپ کو سپرد آتش کر دینے پر تیار ہو جانا۔مزید برآں ہجرت کرنا،دوسری شادی سے پیدا ہونے والے بچے کو ماں سمیت وادی بے آب و گیاہ میں خدا کے آسرے پر چھوڑ آنا اور لگ بھگ سو سال کی عمر میں اپنے تیرہ سالہ بچے کو دین اسلام کے یہی آداب سکھانے کیلئے پیشانی کے بل لٹا کر چھری چلا دینا۔یہ وہ مکمل عمل ہے جسے قرآن نے "دینا قیما ملۃ ابراھیم حنیفا"(سیدھا سادھا یکسو ابراہیم کا طریقہ) قرار دیا ہے۔اسی کی تلقین جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو "قل ان صلوتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین"(کہہ دیجیے میری نماز اور قربانی کی طرح میرا جینا اور مرنا بھی سارے جہانوں کے پروردگار اللہ کیلئے ہے) کے الفاظ کے ذریعے کیگئی۔یہ قربانی کا وہ اصل مفہوم ہے جس کا مطالبہ اپنے وقت پر یہود سے بھی تھا،اسی کا مطالبہ نصارٰی سے بھی رہا اور ان کے منحرف ہونے کے بعد یہی مطالبہ امت محمدیہ سے بھی ہے۔مگر افسوس ہماری بھی اکثریت یہود کی طرح دین کی ظاہری رسم کو کل دین سمجھ بیٹھی اور دین کی وہ روح جو زندگی بھر کی قربانی سے عبارت ہے اسے یکسر فراموش کر چکی ہے "رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی" یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ رب العالمین ہماری تمام تر سرکشیوں کے باوجود ہم سے اس طرح ناراض نہیں ہوا جیسے یہود سے ہوا تھا۔اسی کا مظہر ہے کہ ہمیں دوبارہ "مقام عاشقی" کے آداب سکھانے کیلئے اس نے فلسطین اور کشمیر میں آگ کے الاؤ بھڑکا رکھے ہیں جہاں امت مسلمہ کے دلارے سنت ابراہیم و اسماعیل زندہ کرتے ہوئے پوری امت مسلمہ کو ولولہ تازہ دے رہے ہیں۔پاکستان اور ایران بھی کروٹ بدل رہے ہیں اور شاید عرب خطے میں بھی ایسی ہی آگ بھڑکنے والی ہے۔ "آگ ہے،اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے" جی ہاں دنیا کی امامت ابراہیم علیہ السلام کو بھی اس امتحان سے گزرنے کے بعد ہی ملی تھی اور اولاد ابراہیم کو بھی آگ کی اس وادی سے گزرنے کے بعد ہی ملے گی۔یہی سنت الٰہی ہے، یہی ملت ابراہیمی ہے اور یہی حقیقی "ابراہم اکارڈ" ہے۔جو چاہے اس عہد ابراہیمی پر کمر بستہ ہو جائے۔ "یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا؟ گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں" اور "اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا" دنیا کروٹ بدل رہی ہے۔تجزیہ نگار چائینہ ماڈل کو آنے والے ورلڈ آرڈر کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ قدرت نے نوع انسانی کیلئے رحمت للعالمین ماڈل کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ "آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہو جائے گی پھر دلوں کو یاد آ جائیگا پیغام سجود پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید و"
اردو
24
42
124
2.2K
Falcon ری ٹویٹ کیا
Khalid Mehmood Abbasi
Khalid Mehmood Abbasi@khalidmabbasi·
ٹیکس کتنا جمع ہونا چاہئیے؟ تحریر: ڈاکٹر عتیق الرحمن اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے معاشی مسائل کی بنیادی وجہ کم ٹیکس وصولی ہے۔ پالیسی ساز، عالمی مالیاتی ادارے اور ٹیکس حکام بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کا یہ تناسب تقریباً 9 سے 10 فیصد رہا، جبکہ بھارت میں یہ تقریباً 18 فیصد اور بنگلہ دیش میں 11 فیصد سے زیادہ ہے۔ بظاہر یہ مؤقف درست محسوس ہوتا ہے۔ کمزور ٹیکس وصولی والا ملک ترقیاتی اخراجات اور عوامی خدمات کے لیے وسائل پیدا کرنے میں مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ لیکن اس بحث کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے: پاکستان صرف آمدنی کے بحران کا شکار نہیں بلکہ وسائل کے استعمال کے بحران کا بھی شکار ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران جولائی سے فروری تک وفاقی حکومت نے تقریباً 3200ب روپے کا پرائمری سرپلس حاصل کیا۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آخری سہ ماہی میں اضافی اخراجات کو مدنظر رکھنے کے باوجود مالی سال کے اختتام تک یہ سرپلس4000 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ سرپلس وفاقی بجٹ کے 20 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ پرائمری سرپلس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے معیشت سے ٹیکس اور دیگر زرائع آمدن سے جو رقم حاصل کی، وہ اس رقم سے زیادہ جو حکومت نے خرچ کی۔ پرائمری بیلنس میں قرض کی وصولی اور ادائیگی سے متعلق رقوم شامل نہیں ہوتی۔ سرپلس کا لفظ بظاہر ایک خوش آئند احساس پیدا کرتا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنے اخراجات کو محدود رکھا ہے، لیکن درحقیقت اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست نے عوام اور کاروباری طبقے سے زیادہ وسائل حاصل کر لئے لیکن ان کا ایک حصہ سرکاری امور کی انجام دہی میں خرچ نہیں کیا۔یعنی حکومت کا سرپلس دراصل عوام کے لئے خسارے کا درجہ رکھتا ہے۔ لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ مزید ٹیکس کیسے اکٹھے کیے جائیں، کیونکہ ہم پہلے ہی اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ ٹیکس جمع کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے سرپلس کے باوجود معیشت کمزور، کاروبار سست، بے روزگاری بلند اور مالیاتی خسارہ برقرار کیوں ہے؟اس سوال کا جواب بنیادی طور تر قرضوں پر سودی ادائیگیوں اور مانیٹری پالیسی میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان بھاری پرائمری سرپلس کے باوجود مجموعی مالیاتی خسارے کا شکار ہے کیونکہ جمع شدہ آمدن کا بہت بڑا حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ فروری 2026 تک کے آٹھ ماہ میں حکومت نے اپنے سرکاری امور کیلئے درکار رقم سے 3200 ارب روپیہ زیادہ جمع کیا، لیکن یہ 3200 ارب اور اس کے ساتھ مزید 2500 ارب کی رقم سود کی ادائیگی پر خرچ کی، اس اضافی ادائیگی کیلئے مزید قرض لیا، چنانچہ تمام تر ڈسپلن کے باوجود قرض کی مقدار میں اضافہ ہو گیا۔ وفاقی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ صرف اندرون ملکی قرض پر سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ لیکن اس ادائیگی کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے ملک پر قرض کوئی بہت ہی زیادہ ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سٹیٹ بینک جو حکومت ہی کا ایک ادارہ ہے، اس نے شرح سود بہت زیادہ رکھی ہوئ ہے۔ 2023 میں پاکستان میں شرح سود 22 فیصد تک بڑھا دی گئی، جو دنیا کی بلند ترین شرح سود میں شمار ہوتی تھی، اور اسے طویل عرصے تک برقرار رکھا گیا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق اس کا مقصد مہنگائی پر قابو پانا بتایا گیا۔ لیکن سٹیٹ بینک خود ہی یہ تسلیم بھی کرتا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی زیادہ تر درآمدی اشیاء کی قیمت، روپے کی قدر میں کمی، بجلی و گیس کی قیمتوں اور عالمی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ 2024 میں پاکستان میں مہنگائی میں کمی ہوئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی شرح سود بڑھانے سے کم نہیں ہوئی۔ اس میں کمی اس وقت آئی جب عالمی سطح پر مہنگائی کم ہوئی، تیل کی قیمتیں مستحکم ہوئیں اور بین الاقوامی سپلائی چین بہتر ہوئی۔ دوسری طرف بلند شرح سود کی مالیاتی قیمت انتہائی بھاری ثابت ہوئی۔2018-19 میں پاکستان کا سرکاری قرض تقریباً 14 فیصد بڑھا، لیکن سودی ادائیگیاں تقریباً 84 فیصد بڑھ گئیں۔ اسی طرح 2022-23 میں قرضوں میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا مگر سودی ادائیگیاں تقریباً 87 فیصد بڑھ گئیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ اصل بحران قرض لینے سے زیادہ قرضوں کی مہنگی لاگت کا تھا۔ بلند شرح سود دراصل عوام کے ٹیکس کا بڑا۔ (بقیہ پہلے کومنٹ میں) (نوٹ: تصویر کا تحریر سے صرف اتنا تعلق ہے کہ تصویر میں موجود ایک شخص اس کا لکھنے والا ہے۔ تصویر میں ہمارے ہم نشین کو تو کافی لوگ پہچان گئے ہوں گے، پس منظر پہچاننے والے کو ایک چاکلیٹ کا انعام)facebook.com/share/18DYQLhn…
اردو
5
28
65
2.2K
Falcon ری ٹویٹ کیا
اللہ کے بندے۔۔۔
اللہ کے بندے۔۔۔@missiontakmeel·
ہر اس مجاہد کو عید مبارک جو اس پاک سرزمین کے سبز ہلالی پرچم کا محافظ ہے۔۔۔ ہر اس مجاہد کو مبارک جو غزہ کے رباط میں جان مال اور دعاؤں کے ساتھ شامل ہے۔۔ ہر اس پاکستانی کو مبارک جو پاک سرزمین سے محبت کرتا ہے۔۔ جو غزوہ ہند کی تمنا رکھتا ہے۔۔ جو مسجد اقصی کو ازاد کرانے کی خواہش رکھتا ہے۔۔ ہر اس مسلمان کو عید مبارک جو مسلمانوں کا خیر خواہ ہے، سیدی رسول اللہ کے دین کا محافظ ہے، مسلمانوں کے لیے دعا کرتا ہے۔۔۔ اللہ اپ سب کو دو جہانوں کی ہر خیر عطا فرمائے۔۔۔ ہر شر سے محفوظ رکھے۔۔۔ امین یا رب العالمین۔
اللہ کے بندے۔۔۔ tweet media
اردو
11
73
193
1.7K
Falcon ری ٹویٹ کیا
Iran In Hyderabad
Iran In Hyderabad@IraninHyderabad·
Greenland is not a 13 year old gir.
Iran In Hyderabad tweet media
English
1.4K
18.2K
160.4K
3M
Falcon ری ٹویٹ کیا
Falcon ری ٹویٹ کیا
Aisha Ghazi
Aisha Ghazi@aishaghazi·
@BVR_Falcon @Rustum_0 Ameen and Eid Mubarak to you too. The climax of story is that now Indian Muslims are engineered to blame those for their miserable existence who fought for freedom and dignity, not to blame short sighted uncle Toms .
English
0
1
2
75