Zde
63.3K posts






آنکھیں کھول دینے والی حقیقت — افریقی رہنماؤں کے لیے سبق ملائیشیا کے سابق وزیرِ اعظم Mahathir Mohamad کہتے ہیں: 2004 میں ملائیشیا نے امریکہ سے 8 F/A‑18 Hornet جنگی طیارے خریدے، جو اس وقت کے جدید ترین طیاروں میں شمار ہوتے تھے۔ اس معاہدے کی مالیت 640 ملین ڈالر سے زیادہ تھی۔ طیارے وصول کرنے کے بعد ملائیشیا نے ماہرین اور انجینئرز کی ایک ٹیم تشکیل دی تاکہ ان طیاروں کی خصوصیات اور جنگی صلاحیتوں کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔ 👈 ملائیشین ماہرین نے دریافت کیا کہ طیارہ ہر پرواز کی معلومات ایک امریکی فوجی بیس کو بھیج رہا تھا، جیسے: پرواز کی بلندی رفتار مقام راستہ مشن کی تفصیلات اور پائلٹ کا زمینی کنٹرول روم سے رابطہ صرف یہی نہیں بلکہ طیارے کے آپریٹنگ سسٹم اور آٹو پائلٹ فیچر کو بھی امریکی بیس سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ یعنی اگر امریکی افسر زمین سے صرف ایک بٹن دبا دے تو طیارے کا راستہ بدلا جا سکتا ہے، اسے گرایا جا سکتا ہے، یا حتیٰ کہ اس کے حملے کا ہدف بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جب ملائیشیا نے ان طیاروں کے آپریٹنگ سسٹم کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اور مینوفیکچرر McDonnell Douglas نے اس پر سخت اعتراض کیا۔ حتیٰ کہ طیاروں کے پرزے اور دیکھ بھال روکنے اور پابندیاں لگانے کی دھمکی بھی دی گئی۔ یہاں تک کہ جب ملائیشیا نے طیاروں کی کچھ صلاحیتوں کو فعال کرنے کے لیے مخصوص پرزوں کی درخواست کی تو کمپنی نے اسے بھی مسترد کر دیا۔ آخرکار ملائیشیا کو احساس ہوا کہ اس نے ایسے طیارے خریدے ہیں جو اصل جنگ میں اس وقت تک استعمال نہیں ہو سکتے جب تک امریکہ کی منظوری حاصل نہ ہو۔ یہ مسئلہ صرف ملائیشیا تک محدود نہیں بلکہ بہت سے عرب اور مسلم ممالک کو بھی اسی حقیقت کا سامنا ہے۔ سبق واضح ہے: جب تک کوئی قوم اپنی دفاعی ٹیکنالوجی خود تیار نہیں کرتی، وہ دوسروں پر انحصار کرتی رہے گی۔ #مسلمانوں_کی_حقیقت #عبرت_کا_سبق (Source: TV interview on Al Jazeera with Mahathir Mohamad) #The conditions of the Muslims of the world #A lesson from the reality for all Muslims Copied

The Economist is saying that Trump is now leveraging Ukraine to force Europe to join his war of choice against Iran. Meaning, he's threatening to abandon it completely.

BBC Whistleblower reveals that the network has direct orders to protect Israel's image

@Alhadath_Brk: Members of the U.S. Embassy in Baghdad have been evacuated in a rapid, previously unannounced operation. U.S. coordination personnel have also fully withdrawn from the Joint Operations Command in the Green Zone, alongside NATO personnel.


This is Kharkiv. 15 km from the frontline. Still one of the most alive cities I know.











You write this because you are a racist, filled with hate against Jews. Behold the founding of Tel Aviv on empty sand dunes, displacing no one. Dizengoff, who has a central square named after him, hoped the city would be a model of modern Jewish-Arab peace. Now do Jerusalem, which means something in only one language: Hebrew. It means City of Peace. When you claim these places rightly belong to someone else, QED you hate Jews, history, and the Bible.







