

Ministry of Railways - Pakistan
362 posts

@MOR_Pakistan
https://t.co/m7zA1SOXBv








اسلام آباد: 6 اپریل, 2026 اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے ریلویز حنیف عباسی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان ریلویز کی مجموعی کارکردگی، جاری اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیر ریلویز نے وزیراعظم کو پاکستان ریلویز کے آپریشنل امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیج کی صورتحال میں عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں چلنے والی تمام آپریشنل ٹرینوں کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے اور ریلوے کے نظام کو بہتر بنا کر آمدن میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جائے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ پاکستان ریلویز کو ایک جدید، محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کو تیز کیا جائے. وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر کاربند ہے اور تمام اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر ریلویز کو ہدایت کی کہ ریلوے کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بہتر، محفوظ اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔




وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے ریلوے مسافروں کے لیے ایک بڑا ریلیف دیا گیا ہے، جس کے تحت حکومت پاکستان نے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپریشنل اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹرین کرایوں میں 30 فیصد اضافہ ناگزیر سمجھا جا رہا تھا، تاہم وزیرِ اعظم نے پاکستان ریلویز کو کسی بھی کلاس کے کرایوں میں اضافہ کرنے سے منع کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق اکانومی اور اے سی سمیت کسی بھی کلاس کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ تاجر برادری کی سہولت کے لیے فریٹ ٹرینوں کے کرایے بھی برقرار رکھے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر 30 جون تک 6 ارب روپے کا اضافی بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی۔ وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کے مطابق وزیرِ اعظم نے مشکل وقت میں مسافروں کے دل جیت لیے ہیں اور یہ اقدام عوام کے لیے ایک تحفہ ہے، جس سے ریلوے کا سفر ہر شخص کی پہنچ میں برقرار رہے گا۔










