

Shakil Naz
16.2K posts

@AtYourServicePK
Digital Creater



Embarking on timely tour of Islamabad, Muscat, and Moscow. Purpose of my visits is to closely coordinate with our partners on bilateral matters and consult on regional developments. Our neighbors are our priority.

حسینہ مان جائے گی… ارے بھائی مان ہی جائے گی، آخر کتنے نخرے کرے گی! پاکستان بیچارہ اس رشتے کو کروانے میں ایسے لگا ہوا ہے جیسے کوئی پھوپھی ہر شادی میں “میچ میکنگ ایکسپرٹ” بن جاتی ہے۔ ادھر دلہے والے تو پہلے ہی “ہاں جی ہاں جی” کر چکے ہیں، لیکن دلہن صاحبہ ہیں کہ پورا ڈرامہ سیریل بنی ہوئی ہیں — نخریلی بھی، نت کھٹ بھی، اور اوپر سے شریر بھی۔ اصل کہانی یہ ہے کہ حسینہ کے پہلے سے کچھ “کمٹمنٹ ایشوز” تھے۔ کبھی روس نامی بدمعاش کے ساتھ وعدے، کبھی بھارت نامی عیار کے ساتھ قسمیں — “تم ہی ہو، تم ہی رہو گے” والا سین۔ لیکن جیسے ہی محلے کے بڑے غنڈے نے ڈنڈا گھمایا، دونوں عاشق ایسے غائب ہوئے جیسے مفت کے کھانے کے بعد مہمان۔ چائنا نامی پھپھو نے بھی پہلے تو بڑی بڑی باتیں کیں — “بیٹا، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہر مشکل میں کھڑے ہیں” — لیکن جونہی امریکہ نامی غنڈا سامنے آیا، پھپھو جان نے فوراً خاموشی اختیار کر لی۔ یعنی وہی پرانا ڈائیلاگ: “ہمیں اس معاملے میں نیوٹرل رہنا ہے۔” اب ہوا یوں کہ غنڈے نے پاکستان نامی محلے کے معزز بندے کو فون ملایا: “بھائی، ذرا اس حسینہ کو سمجھاؤ، عزت سے مان جائے۔ نان نفقہ بھی دیں گے، حق مہر بھی دیں گے، بس یہ بدمعاشی بند کرواؤ۔” پاکستان بیچارہ اب ثالثی میں ایسا پھنسا ہوا ہے جیسے محلے کی پنچایت کا مستقل ممبر ہو۔ ایک طرف دلہا، دوسری طرف دلہن، اور تیسری طرف غنڈہ — سب کو راضی کرنا، واقعی آسان کام نہیں! اب تینوں طرف کے “بزرگ” بیٹھ کر معاملہ طے کر رہے ہیں۔ چائے کے دور چل رہے ہیں، بیانات آ رہے ہیں، اور اندر ہی اندر سب کو پتا ہے کہ آخر میں ہونا وہی ہے جو شروع میں ہونا تھا۔ کچھ دنوں بعد خبر آئے گی: “مبارک ہو! حسینہ مان گئی!” 🎉 اور وہ بڑے آرام سے پیا گھر چلی جائے گی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور ہاں، یہ بھی یاد رہے… یہی حسینہ ماضی میں محلے والوں کی نظروں سے بچ بچا کر اسی غنڈے سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتی رہی ہے۔ تو کہانی نئی نہیں، بس ڈرامہ ہر بار نیا لگتا ہے۔ آخر میں سبق؟ یہ محبت نہیں، مکمل جیو پولیٹیکل ڈرامہ ہے… اور ہم سب اس کے فری کے ناظرین ہیں! 😄 #IranWar #irannegotiations #Pakistan


🍽️ Looking for the Best Restaurants in Islamabad? Whether you love traditional Pakistani food, BBQ, Chinese dishes, or continental meals, the capital city has something for everyone. atyourservice.pk/islamabad-rest… #Islamabad #Restaurants #IslamabadRestauants #RestaurantsinIslamabad

🍽️ Looking for the Best Restaurants in Islamabad? Whether you love traditional Pakistani food, BBQ, Chinese dishes, or continental meals, the capital city has something for everyone. atyourservice.pk/islamabad-rest… #Islamabad #Restaurants #IslamabadRestauants #RestaurantsinIslamabad

🍽️ Looking for the Best Restaurants in Islamabad? Whether you love traditional Pakistani food, BBQ, Chinese dishes, or continental meals, the capital city has something for everyone. atyourservice.pk/islamabad-rest… #Islamabad #Restaurants #IslamabadRestauants #RestaurantsinIslamabad



🍽️ Looking for the Best Restaurants in Islamabad? Whether you love traditional Pakistani food, BBQ, Chinese dishes, or continental meals, the capital city has something for everyone. atyourservice.pk/islamabad-rest… #Islamabad #Restaurants #IslamabadRestauants #RestaurantsinIslamabad



حسینہ مان جائے گی… ارے بھائی مان ہی جائے گی، آخر کتنے نخرے کرے گی! پاکستان بیچارہ اس رشتے کو کروانے میں ایسے لگا ہوا ہے جیسے کوئی پھوپھی ہر شادی میں “میچ میکنگ ایکسپرٹ” بن جاتی ہے۔ ادھر دلہے والے تو پہلے ہی “ہاں جی ہاں جی” کر چکے ہیں، لیکن دلہن صاحبہ ہیں کہ پورا ڈرامہ سیریل بنی ہوئی ہیں — نخریلی بھی، نت کھٹ بھی، اور اوپر سے شریر بھی۔ اصل کہانی یہ ہے کہ حسینہ کے پہلے سے کچھ “کمٹمنٹ ایشوز” تھے۔ کبھی روس نامی بدمعاش کے ساتھ وعدے، کبھی بھارت نامی عیار کے ساتھ قسمیں — “تم ہی ہو، تم ہی رہو گے” والا سین۔ لیکن جیسے ہی محلے کے بڑے غنڈے نے ڈنڈا گھمایا، دونوں عاشق ایسے غائب ہوئے جیسے مفت کے کھانے کے بعد مہمان۔ چائنا نامی پھپھو نے بھی پہلے تو بڑی بڑی باتیں کیں — “بیٹا، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہر مشکل میں کھڑے ہیں” — لیکن جونہی امریکہ نامی غنڈا سامنے آیا، پھپھو جان نے فوراً خاموشی اختیار کر لی۔ یعنی وہی پرانا ڈائیلاگ: “ہمیں اس معاملے میں نیوٹرل رہنا ہے۔” اب ہوا یوں کہ غنڈے نے پاکستان نامی محلے کے معزز بندے کو فون ملایا: “بھائی، ذرا اس حسینہ کو سمجھاؤ، عزت سے مان جائے۔ نان نفقہ بھی دیں گے، حق مہر بھی دیں گے، بس یہ بدمعاشی بند کرواؤ۔” پاکستان بیچارہ اب ثالثی میں ایسا پھنسا ہوا ہے جیسے محلے کی پنچایت کا مستقل ممبر ہو۔ ایک طرف دلہا، دوسری طرف دلہن، اور تیسری طرف غنڈہ — سب کو راضی کرنا، واقعی آسان کام نہیں! اب تینوں طرف کے “بزرگ” بیٹھ کر معاملہ طے کر رہے ہیں۔ چائے کے دور چل رہے ہیں، بیانات آ رہے ہیں، اور اندر ہی اندر سب کو پتا ہے کہ آخر میں ہونا وہی ہے جو شروع میں ہونا تھا۔ کچھ دنوں بعد خبر آئے گی: “مبارک ہو! حسینہ مان گئی!” 🎉 اور وہ بڑے آرام سے پیا گھر چلی جائے گی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور ہاں، یہ بھی یاد رہے… یہی حسینہ ماضی میں محلے والوں کی نظروں سے بچ بچا کر اسی غنڈے سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتی رہی ہے۔ تو کہانی نئی نہیں، بس ڈرامہ ہر بار نیا لگتا ہے۔ آخر میں سبق؟ یہ محبت نہیں، مکمل جیو پولیٹیکل ڈرامہ ہے… اور ہم سب اس کے فری کے ناظرین ہیں! 😄 #IranWar #irannegotiations #Pakistan

حسینہ مان جائے گی… ارے بھائی مان ہی جائے گی، آخر کتنے نخرے کرے گی! پاکستان بیچارہ اس رشتے کو کروانے میں ایسے لگا ہوا ہے جیسے کوئی پھوپھی ہر شادی میں “میچ میکنگ ایکسپرٹ” بن جاتی ہے۔ ادھر دلہے والے تو پہلے ہی “ہاں جی ہاں جی” کر چکے ہیں، لیکن دلہن صاحبہ ہیں کہ پورا ڈرامہ سیریل بنی ہوئی ہیں — نخریلی بھی، نت کھٹ بھی، اور اوپر سے شریر بھی۔ اصل کہانی یہ ہے کہ حسینہ کے پہلے سے کچھ “کمٹمنٹ ایشوز” تھے۔ کبھی روس نامی بدمعاش کے ساتھ وعدے، کبھی بھارت نامی عیار کے ساتھ قسمیں — “تم ہی ہو، تم ہی رہو گے” والا سین۔ لیکن جیسے ہی محلے کے بڑے غنڈے نے ڈنڈا گھمایا، دونوں عاشق ایسے غائب ہوئے جیسے مفت کے کھانے کے بعد مہمان۔ چائنا نامی پھپھو نے بھی پہلے تو بڑی بڑی باتیں کیں — “بیٹا، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہر مشکل میں کھڑے ہیں” — لیکن جونہی امریکہ نامی غنڈا سامنے آیا، پھپھو جان نے فوراً خاموشی اختیار کر لی۔ یعنی وہی پرانا ڈائیلاگ: “ہمیں اس معاملے میں نیوٹرل رہنا ہے۔” اب ہوا یوں کہ غنڈے نے پاکستان نامی محلے کے معزز بندے کو فون ملایا: “بھائی، ذرا اس حسینہ کو سمجھاؤ، عزت سے مان جائے۔ نان نفقہ بھی دیں گے، حق مہر بھی دیں گے، بس یہ بدمعاشی بند کرواؤ۔” پاکستان بیچارہ اب ثالثی میں ایسا پھنسا ہوا ہے جیسے محلے کی پنچایت کا مستقل ممبر ہو۔ ایک طرف دلہا، دوسری طرف دلہن، اور تیسری طرف غنڈہ — سب کو راضی کرنا، واقعی آسان کام نہیں! اب تینوں طرف کے “بزرگ” بیٹھ کر معاملہ طے کر رہے ہیں۔ چائے کے دور چل رہے ہیں، بیانات آ رہے ہیں، اور اندر ہی اندر سب کو پتا ہے کہ آخر میں ہونا وہی ہے جو شروع میں ہونا تھا۔ کچھ دنوں بعد خبر آئے گی: “مبارک ہو! حسینہ مان گئی!” 🎉 اور وہ بڑے آرام سے پیا گھر چلی جائے گی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور ہاں، یہ بھی یاد رہے… یہی حسینہ ماضی میں محلے والوں کی نظروں سے بچ بچا کر اسی غنڈے سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتی رہی ہے۔ تو کہانی نئی نہیں، بس ڈرامہ ہر بار نیا لگتا ہے۔ آخر میں سبق؟ یہ محبت نہیں، مکمل جیو پولیٹیکل ڈرامہ ہے… اور ہم سب اس کے فری کے ناظرین ہیں! 😄 #IranWar #irannegotiations #Pakistan


حسینہ مان جائے گی… ارے بھائی مان ہی جائے گی، آخر کتنے نخرے کرے گی! پاکستان بیچارہ اس رشتے کو کروانے میں ایسے لگا ہوا ہے جیسے کوئی پھوپھی ہر شادی میں “میچ میکنگ ایکسپرٹ” بن جاتی ہے۔ ادھر دلہے والے تو پہلے ہی “ہاں جی ہاں جی” کر چکے ہیں، لیکن دلہن صاحبہ ہیں کہ پورا ڈرامہ سیریل بنی ہوئی ہیں — نخریلی بھی، نت کھٹ بھی، اور اوپر سے شریر بھی۔ اصل کہانی یہ ہے کہ حسینہ کے پہلے سے کچھ “کمٹمنٹ ایشوز” تھے۔ کبھی روس نامی بدمعاش کے ساتھ وعدے، کبھی بھارت نامی عیار کے ساتھ قسمیں — “تم ہی ہو، تم ہی رہو گے” والا سین۔ لیکن جیسے ہی محلے کے بڑے غنڈے نے ڈنڈا گھمایا، دونوں عاشق ایسے غائب ہوئے جیسے مفت کے کھانے کے بعد مہمان۔ چائنا نامی پھپھو نے بھی پہلے تو بڑی بڑی باتیں کیں — “بیٹا، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہر مشکل میں کھڑے ہیں” — لیکن جونہی امریکہ نامی غنڈا سامنے آیا، پھپھو جان نے فوراً خاموشی اختیار کر لی۔ یعنی وہی پرانا ڈائیلاگ: “ہمیں اس معاملے میں نیوٹرل رہنا ہے۔” اب ہوا یوں کہ غنڈے نے پاکستان نامی محلے کے معزز بندے کو فون ملایا: “بھائی، ذرا اس حسینہ کو سمجھاؤ، عزت سے مان جائے۔ نان نفقہ بھی دیں گے، حق مہر بھی دیں گے، بس یہ بدمعاشی بند کرواؤ۔” پاکستان بیچارہ اب ثالثی میں ایسا پھنسا ہوا ہے جیسے محلے کی پنچایت کا مستقل ممبر ہو۔ ایک طرف دلہا، دوسری طرف دلہن، اور تیسری طرف غنڈہ — سب کو راضی کرنا، واقعی آسان کام نہیں! اب تینوں طرف کے “بزرگ” بیٹھ کر معاملہ طے کر رہے ہیں۔ چائے کے دور چل رہے ہیں، بیانات آ رہے ہیں، اور اندر ہی اندر سب کو پتا ہے کہ آخر میں ہونا وہی ہے جو شروع میں ہونا تھا۔ کچھ دنوں بعد خبر آئے گی: “مبارک ہو! حسینہ مان گئی!” 🎉 اور وہ بڑے آرام سے پیا گھر چلی جائے گی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور ہاں، یہ بھی یاد رہے… یہی حسینہ ماضی میں محلے والوں کی نظروں سے بچ بچا کر اسی غنڈے سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتی رہی ہے۔ تو کہانی نئی نہیں، بس ڈرامہ ہر بار نیا لگتا ہے۔ آخر میں سبق؟ یہ محبت نہیں، مکمل جیو پولیٹیکل ڈرامہ ہے… اور ہم سب اس کے فری کے ناظرین ہیں! 😄 #IranWar #irannegotiations #Pakistan



🍽️ Looking for the Best Restaurants in Islamabad? Whether you love traditional Pakistani food, BBQ, Chinese dishes, or continental meals, the capital city has something for everyone. atyourservice.pk/islamabad-rest… #Islamabad #Restaurants #IslamabadRestauants #RestaurantsinIslamabad

حسینہ مان جائے گی… ارے بھائی مان ہی جائے گی، آخر کتنے نخرے کرے گی! پاکستان بیچارہ اس رشتے کو کروانے میں ایسے لگا ہوا ہے جیسے کوئی پھوپھی ہر شادی میں “میچ میکنگ ایکسپرٹ” بن جاتی ہے۔ ادھر دلہے والے تو پہلے ہی “ہاں جی ہاں جی” کر چکے ہیں، لیکن دلہن صاحبہ ہیں کہ پورا ڈرامہ سیریل بنی ہوئی ہیں — نخریلی بھی، نت کھٹ بھی، اور اوپر سے شریر بھی۔ اصل کہانی یہ ہے کہ حسینہ کے پہلے سے کچھ “کمٹمنٹ ایشوز” تھے۔ کبھی روس نامی بدمعاش کے ساتھ وعدے، کبھی بھارت نامی عیار کے ساتھ قسمیں — “تم ہی ہو، تم ہی رہو گے” والا سین۔ لیکن جیسے ہی محلے کے بڑے غنڈے نے ڈنڈا گھمایا، دونوں عاشق ایسے غائب ہوئے جیسے مفت کے کھانے کے بعد مہمان۔ چائنا نامی پھپھو نے بھی پہلے تو بڑی بڑی باتیں کیں — “بیٹا، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہر مشکل میں کھڑے ہیں” — لیکن جونہی امریکہ نامی غنڈا سامنے آیا، پھپھو جان نے فوراً خاموشی اختیار کر لی۔ یعنی وہی پرانا ڈائیلاگ: “ہمیں اس معاملے میں نیوٹرل رہنا ہے۔” اب ہوا یوں کہ غنڈے نے پاکستان نامی محلے کے معزز بندے کو فون ملایا: “بھائی، ذرا اس حسینہ کو سمجھاؤ، عزت سے مان جائے۔ نان نفقہ بھی دیں گے، حق مہر بھی دیں گے، بس یہ بدمعاشی بند کرواؤ۔” پاکستان بیچارہ اب ثالثی میں ایسا پھنسا ہوا ہے جیسے محلے کی پنچایت کا مستقل ممبر ہو۔ ایک طرف دلہا، دوسری طرف دلہن، اور تیسری طرف غنڈہ — سب کو راضی کرنا، واقعی آسان کام نہیں! اب تینوں طرف کے “بزرگ” بیٹھ کر معاملہ طے کر رہے ہیں۔ چائے کے دور چل رہے ہیں، بیانات آ رہے ہیں، اور اندر ہی اندر سب کو پتا ہے کہ آخر میں ہونا وہی ہے جو شروع میں ہونا تھا۔ کچھ دنوں بعد خبر آئے گی: “مبارک ہو! حسینہ مان گئی!” 🎉 اور وہ بڑے آرام سے پیا گھر چلی جائے گی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور ہاں، یہ بھی یاد رہے… یہی حسینہ ماضی میں محلے والوں کی نظروں سے بچ بچا کر اسی غنڈے سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتی رہی ہے۔ تو کہانی نئی نہیں، بس ڈرامہ ہر بار نیا لگتا ہے۔ آخر میں سبق؟ یہ محبت نہیں، مکمل جیو پولیٹیکل ڈرامہ ہے… اور ہم سب اس کے فری کے ناظرین ہیں! 😄 #IranWar #irannegotiations #Pakistan


🍽️ Looking for the Best Restaurants in Islamabad? Whether you love traditional Pakistani food, BBQ, Chinese dishes, or continental meals, the capital city has something for everyone. atyourservice.pk/islamabad-rest… #Islamabad #Restaurants #IslamabadRestauants #RestaurantsinIslamabad

حسینہ مان جائے گی… ارے بھائی مان ہی جائے گی، آخر کتنے نخرے کرے گی! پاکستان بیچارہ اس رشتے کو کروانے میں ایسے لگا ہوا ہے جیسے کوئی پھوپھی ہر شادی میں “میچ میکنگ ایکسپرٹ” بن جاتی ہے۔ ادھر دلہے والے تو پہلے ہی “ہاں جی ہاں جی” کر چکے ہیں، لیکن دلہن صاحبہ ہیں کہ پورا ڈرامہ سیریل بنی ہوئی ہیں — نخریلی بھی، نت کھٹ بھی، اور اوپر سے شریر بھی۔ اصل کہانی یہ ہے کہ حسینہ کے پہلے سے کچھ “کمٹمنٹ ایشوز” تھے۔ کبھی روس نامی بدمعاش کے ساتھ وعدے، کبھی بھارت نامی عیار کے ساتھ قسمیں — “تم ہی ہو، تم ہی رہو گے” والا سین۔ لیکن جیسے ہی محلے کے بڑے غنڈے نے ڈنڈا گھمایا، دونوں عاشق ایسے غائب ہوئے جیسے مفت کے کھانے کے بعد مہمان۔ چائنا نامی پھپھو نے بھی پہلے تو بڑی بڑی باتیں کیں — “بیٹا، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہر مشکل میں کھڑے ہیں” — لیکن جونہی امریکہ نامی غنڈا سامنے آیا، پھپھو جان نے فوراً خاموشی اختیار کر لی۔ یعنی وہی پرانا ڈائیلاگ: “ہمیں اس معاملے میں نیوٹرل رہنا ہے۔” اب ہوا یوں کہ غنڈے نے پاکستان نامی محلے کے معزز بندے کو فون ملایا: “بھائی، ذرا اس حسینہ کو سمجھاؤ، عزت سے مان جائے۔ نان نفقہ بھی دیں گے، حق مہر بھی دیں گے، بس یہ بدمعاشی بند کرواؤ۔” پاکستان بیچارہ اب ثالثی میں ایسا پھنسا ہوا ہے جیسے محلے کی پنچایت کا مستقل ممبر ہو۔ ایک طرف دلہا، دوسری طرف دلہن، اور تیسری طرف غنڈہ — سب کو راضی کرنا، واقعی آسان کام نہیں! اب تینوں طرف کے “بزرگ” بیٹھ کر معاملہ طے کر رہے ہیں۔ چائے کے دور چل رہے ہیں، بیانات آ رہے ہیں، اور اندر ہی اندر سب کو پتا ہے کہ آخر میں ہونا وہی ہے جو شروع میں ہونا تھا۔ کچھ دنوں بعد خبر آئے گی: “مبارک ہو! حسینہ مان گئی!” 🎉 اور وہ بڑے آرام سے پیا گھر چلی جائے گی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور ہاں، یہ بھی یاد رہے… یہی حسینہ ماضی میں محلے والوں کی نظروں سے بچ بچا کر اسی غنڈے سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتی رہی ہے۔ تو کہانی نئی نہیں، بس ڈرامہ ہر بار نیا لگتا ہے۔ آخر میں سبق؟ یہ محبت نہیں، مکمل جیو پولیٹیکل ڈرامہ ہے… اور ہم سب اس کے فری کے ناظرین ہیں! 😄 #IranWar #irannegotiations #Pakistan

🍽️ Looking for the Best Restaurants in Islamabad? Whether you love traditional Pakistani food, BBQ, Chinese dishes, or continental meals, the capital city has something for everyone. atyourservice.pk/islamabad-rest… #Islamabad #Restaurants #IslamabadRestauants #RestaurantsinIslamabad

حسینہ مان جائے گی… ارے بھائی مان ہی جائے گی، آخر کتنے نخرے کرے گی! پاکستان بیچارہ اس رشتے کو کروانے میں ایسے لگا ہوا ہے جیسے کوئی پھوپھی ہر شادی میں “میچ میکنگ ایکسپرٹ” بن جاتی ہے۔ ادھر دلہے والے تو پہلے ہی “ہاں جی ہاں جی” کر چکے ہیں، لیکن دلہن صاحبہ ہیں کہ پورا ڈرامہ سیریل بنی ہوئی ہیں — نخریلی بھی، نت کھٹ بھی، اور اوپر سے شریر بھی۔ اصل کہانی یہ ہے کہ حسینہ کے پہلے سے کچھ “کمٹمنٹ ایشوز” تھے۔ کبھی روس نامی بدمعاش کے ساتھ وعدے، کبھی بھارت نامی عیار کے ساتھ قسمیں — “تم ہی ہو، تم ہی رہو گے” والا سین۔ لیکن جیسے ہی محلے کے بڑے غنڈے نے ڈنڈا گھمایا، دونوں عاشق ایسے غائب ہوئے جیسے مفت کے کھانے کے بعد مہمان۔ چائنا نامی پھپھو نے بھی پہلے تو بڑی بڑی باتیں کیں — “بیٹا، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہر مشکل میں کھڑے ہیں” — لیکن جونہی امریکہ نامی غنڈا سامنے آیا، پھپھو جان نے فوراً خاموشی اختیار کر لی۔ یعنی وہی پرانا ڈائیلاگ: “ہمیں اس معاملے میں نیوٹرل رہنا ہے۔” اب ہوا یوں کہ غنڈے نے پاکستان نامی محلے کے معزز بندے کو فون ملایا: “بھائی، ذرا اس حسینہ کو سمجھاؤ، عزت سے مان جائے۔ نان نفقہ بھی دیں گے، حق مہر بھی دیں گے، بس یہ بدمعاشی بند کرواؤ۔” پاکستان بیچارہ اب ثالثی میں ایسا پھنسا ہوا ہے جیسے محلے کی پنچایت کا مستقل ممبر ہو۔ ایک طرف دلہا، دوسری طرف دلہن، اور تیسری طرف غنڈہ — سب کو راضی کرنا، واقعی آسان کام نہیں! اب تینوں طرف کے “بزرگ” بیٹھ کر معاملہ طے کر رہے ہیں۔ چائے کے دور چل رہے ہیں، بیانات آ رہے ہیں، اور اندر ہی اندر سب کو پتا ہے کہ آخر میں ہونا وہی ہے جو شروع میں ہونا تھا۔ کچھ دنوں بعد خبر آئے گی: “مبارک ہو! حسینہ مان گئی!” 🎉 اور وہ بڑے آرام سے پیا گھر چلی جائے گی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور ہاں، یہ بھی یاد رہے… یہی حسینہ ماضی میں محلے والوں کی نظروں سے بچ بچا کر اسی غنڈے سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتی رہی ہے۔ تو کہانی نئی نہیں، بس ڈرامہ ہر بار نیا لگتا ہے۔ آخر میں سبق؟ یہ محبت نہیں، مکمل جیو پولیٹیکل ڈرامہ ہے… اور ہم سب اس کے فری کے ناظرین ہیں! 😄 #IranWar #irannegotiations #Pakistan


🍽️ Looking for the Best Restaurants in Islamabad? Whether you love traditional Pakistani food, BBQ, Chinese dishes, or continental meals, the capital city has something for everyone. atyourservice.pk/islamabad-rest… #Islamabad #Restaurants #IslamabadRestauants #RestaurantsinIslamabad

🍽️ Looking for the Best Restaurants in Islamabad? Whether you love traditional Pakistani food, BBQ, Chinese dishes, or continental meals, the capital city has something for everyone. atyourservice.pk/islamabad-rest… #Islamabad #Restaurants #IslamabadRestauants #RestaurantsinIslamabad

حسینہ مان جائے گی… ارے بھائی مان ہی جائے گی، آخر کتنے نخرے کرے گی! پاکستان بیچارہ اس رشتے کو کروانے میں ایسے لگا ہوا ہے جیسے کوئی پھوپھی ہر شادی میں “میچ میکنگ ایکسپرٹ” بن جاتی ہے۔ ادھر دلہے والے تو پہلے ہی “ہاں جی ہاں جی” کر چکے ہیں، لیکن دلہن صاحبہ ہیں کہ پورا ڈرامہ سیریل بنی ہوئی ہیں — نخریلی بھی، نت کھٹ بھی، اور اوپر سے شریر بھی۔ اصل کہانی یہ ہے کہ حسینہ کے پہلے سے کچھ “کمٹمنٹ ایشوز” تھے۔ کبھی روس نامی بدمعاش کے ساتھ وعدے، کبھی بھارت نامی عیار کے ساتھ قسمیں — “تم ہی ہو، تم ہی رہو گے” والا سین۔ لیکن جیسے ہی محلے کے بڑے غنڈے نے ڈنڈا گھمایا، دونوں عاشق ایسے غائب ہوئے جیسے مفت کے کھانے کے بعد مہمان۔ چائنا نامی پھپھو نے بھی پہلے تو بڑی بڑی باتیں کیں — “بیٹا، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہر مشکل میں کھڑے ہیں” — لیکن جونہی امریکہ نامی غنڈا سامنے آیا، پھپھو جان نے فوراً خاموشی اختیار کر لی۔ یعنی وہی پرانا ڈائیلاگ: “ہمیں اس معاملے میں نیوٹرل رہنا ہے۔” اب ہوا یوں کہ غنڈے نے پاکستان نامی محلے کے معزز بندے کو فون ملایا: “بھائی، ذرا اس حسینہ کو سمجھاؤ، عزت سے مان جائے۔ نان نفقہ بھی دیں گے، حق مہر بھی دیں گے، بس یہ بدمعاشی بند کرواؤ۔” پاکستان بیچارہ اب ثالثی میں ایسا پھنسا ہوا ہے جیسے محلے کی پنچایت کا مستقل ممبر ہو۔ ایک طرف دلہا، دوسری طرف دلہن، اور تیسری طرف غنڈہ — سب کو راضی کرنا، واقعی آسان کام نہیں! اب تینوں طرف کے “بزرگ” بیٹھ کر معاملہ طے کر رہے ہیں۔ چائے کے دور چل رہے ہیں، بیانات آ رہے ہیں، اور اندر ہی اندر سب کو پتا ہے کہ آخر میں ہونا وہی ہے جو شروع میں ہونا تھا۔ کچھ دنوں بعد خبر آئے گی: “مبارک ہو! حسینہ مان گئی!” 🎉 اور وہ بڑے آرام سے پیا گھر چلی جائے گی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور ہاں، یہ بھی یاد رہے… یہی حسینہ ماضی میں محلے والوں کی نظروں سے بچ بچا کر اسی غنڈے سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتی رہی ہے۔ تو کہانی نئی نہیں، بس ڈرامہ ہر بار نیا لگتا ہے۔ آخر میں سبق؟ یہ محبت نہیں، مکمل جیو پولیٹیکل ڈرامہ ہے… اور ہم سب اس کے فری کے ناظرین ہیں! 😄 #IranWar #irannegotiations #Pakistan