Dost Muhammad Rahimoon retweetet

تفسیر سیریز: پوسٹ نمبر 154
عنوان: فریضۂ اقامتِ دین: امتِ مسلمہ کا آفاقی اور انقلابی مشن
آیات: سورہ آلِ عمران (آیت 104)
مختصر پس منظر:قرآنِ حکیم نے پچھلی دو آیات میں ایک عظیم الشان اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی؛ پہلے انفرادی تقویٰ کے ذریعے اور پھر وحدت کی الٰہی رسی (حبل اللہ) کے ذریعے۔ جب ایک صالح اور متحد قوم تیار ہو جائے، تو اس کا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس مجتمع طاقت کو ایک آفاقی مشن اور انقلابی ہدف عطا کیا ہے۔
قرآن کا گہرا تجزیہ:’وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ‘ - ایک امت کے اندر ایک امت: قرآن یہ تقاضا کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے وسیع ہجوم میں ایک ایسا متحرک اور منظم گروہ ضرور ہونا چاہیے جو اپنے مقصدِ حیات سے پوری طرح باخبر ہو۔ جب پوری قوم غفلت کی نیند سو رہی ہو، تو یہ باشعور جماعت (Ummah within Ummah) جاگو اور جگاؤ کا فریضہ سرانجام دے۔
’يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ‘ - خیرِ مطلق کی طرف دعوت: اس جماعت کا پہلا کام دعوت الی الخیر ہے۔ 'خیر' سے مراد اللہ کا دین اور بالخصوص قرآنِ مجید ہے۔ ان کا مقصد انسانیت کو مادی اندھیروں سے نکال کر اس نورِ الٰہی کی طرف بلانا ہے جو عقل اور روح دونوں کو سیراب کرتا ہے۔
’يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ‘ - عملی جدوجہد: دعوت کے بعد اگلا قدم محض زبانی نصیحت نہیں، بلکہ امر بالمعروف (نیکی کا حکم دینا اور اسے نافذ کرنا) اور نہی عن المنکر (برائی سے روکنا اور اسے مٹانا) ہے۔ بدی کو طاقت، زبان یا کم از کم دل کی نفرت سے روکنا ہی وہ انقلابی عمل ہے جو معاشرے کو اخلاقی موت سے بچاتا ہے۔ دوسروں کی اصلاح کیے بغیر صرف اپنی ذات تک محدود رہنا اسلام کی منشا ہرگز نہیں۔
’وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ‘ - کامیابی کی حتمی ضمانت: قرآن نے واضح کر دیا کہ کائناتی اور ابدی فلاح (نجات اور کامیابی) کا تاج انہی لوگوں کے سر پر رکھا جائے گا جو اس مشن کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیں گے۔ جو قومیں اس فریضے سے غافل ہو جاتی ہیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی جاتی ہیں۔
حاصلِ کلام:اسلام محض چند عبادات کے مجموعے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر انقلابی تحریک ہے۔ ہمارا فرض صرف یہ نہیں کہ ہم خود اچھے بن کر مسجدوں میں بیٹھ جائیں، بلکہ ہمارا اصل امتحان یہ ہے کہ ہم معاشرے میں پھیلی ہوئی برائی کے آگے بند باندھیں اور نیکی کو ایک غالب نظام کے طور پر قائم کریں۔ یہی وہ مشن ہے جو ہمیں 'خیرِ امت' بناتا ہے۔
اگلی پوسٹ (155):اس واضح مشن اور روشن ہدایات کے باوجود، اگر کوئی قوم دوبارہ گروہوں اور فرقوں میں بٹ جائے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں ان قوموں کی کیسی ہولناک تصویر کشی کی ہے جن کے چہرے قیامت کے دن سیاہ پڑ جائیں گے؟ جاننے کے لیے اگلی پوسٹ کا انتظار کیجیے

اردو


























