Angehefteter Tweet
Tasswar Hussain
7.5K posts

Tasswar Hussain retweetet

ناظرین اس وقت بِلی مکمل طور پر تھیلے سے باہر آ چکی ہے
عمران خان کی بہن نورین خان نے بھارت سے پاکستان کے خلاف آپریشن سندور پارٹ 2 کرنے کی درخواست کردی 🚨
کچھ دنوں سے تحریکِ انتشار اور بھارت کی قُربتیں ایسے ہی نہیں چل رہی تھیں
بھارتی میڈیا PTI کے احتجاج کی کوریج کر رہا تھا اور عمران خان کی بہنیں بھارتی چینلز پر پاکستان کے خلاف زہر اُگل رہی تھیں
پاکستانی عوام اس فتنہ جماعت کو پہچان چکی ہے یہ پاکستان کے لئے سیکیورٹی رِسک بن چکے ہیں
پاکستان کی بقاء کیلئے اس جماعت پر پابندی لگانا اب ناگزیر ہو چکا✊🏻
اردو
Tasswar Hussain retweetet
Tasswar Hussain retweetet
Tasswar Hussain retweetet
Tasswar Hussain retweetet
Tasswar Hussain retweetet
Tasswar Hussain retweetet
Tasswar Hussain retweetet
Tasswar Hussain retweetet

ڈئیر گروک @grok
آپ سے ایک بار پھر انتہائی مودبانہ عرضی ہے کہ خاور مانیکا کے ملازم لطیف نے ایسا کیا دیکھا جس کی گواہی قدرت اللہ عدالت میں دی گئی تھی اور وہ کون تھا جو حجرہ میں وڑ کر ہل جل کررہا تھا کہ اچانک لطیف عین اوتوں پہنچ آیا
ہل جُل کرنے والے کا نام معہ ولدیت معہ موجودہ پتہ عنایت فرمائیں
عین نوازش ہو گی
اردو
Tasswar Hussain retweetet

خضدار بم دھماکے کا ماسٹر مائنڈ بینقاب
بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کے ممبئی ڈیسک کی ایک خفیہ میٹنگ کی تفصیلات، جو فائل XB/521/25 کے تحت درج ہیں، اس امر کا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ 18 مئی کو Soft-Target Strategy کی منظوری دی گئی تھی اور اس آپریشن کو خفیہ کوڈ نام Project Chalk-Dust دیا گیا۔ اسی تناظر میں ایک اور اہم ثبوت سامنے آیا ہے، جس کے مطابق ریٹائرڈ کرنل پرتاپ ڈوگرا اور کالعدم تنظیم BLA کے کمانڈر "منگل" کے درمیان 17 منٹ کی انکرپٹڈ کال ہوئی، جس کی آواز کا اسپیکٹروگرام بھارتی نمبر +91-22-6827**** سے 89 فیصد مماثلت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کرپٹو کرنسی ایکسچینج ShivX کے لاگ میں 18 مئی کو ₹3.6 ملین کی مشکوک ٹرانزیکشن والیٹ ID BLA-KHZ-009 میں منتقل ہوئی، جس سے حملے کی مالی پشت پناہی کی تصدیق ہوتی ہے۔
مزید براں، حادثے کے مقام سے اکٹھے کیے گئے RDX کے نمونوں کا کیمیکل تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان میں نائٹروجن-15 کا وہی تناسب پایا گیا ہے جو بھارت کی پُلگاؤں آرڈننس فیکٹری کی پروڈکشن لائن D-4 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ دھماکے میں استعمال شدہ بارود بھارتی دفاعی تنصیبات سے آیا۔ سب سے چونکا دینے والا ثبوت NCTC انڈیا کی داخلی وارننگ Circular R-17/5/25 ہے، جس میں صاف طور پر درج ہے
Western Cell may execute school bus op before cease-fire review.
یہ دستاویز 19 مئی کو بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سے گرفتار ایک کوریئر کی USB سے برآمد کی گئی۔ ان تمام شواہد کو یکجا کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ خضدار میں اسکول بس پر حملہ کوئی مقامی دہشتگردی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ریاستی منصوبہ تھا، جس کی کڑیاں دہلی میں بیٹھے قاتلوں تک جا پہنچتی ہیں۔ اس حملے میں 👇




اردو
Tasswar Hussain retweetet

پاکستان کی انڈیا کے خلاف تاریخی کامیابی کی ایک اور گواہی سامنے آگئی ۔معتبر امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ پاکستان نے حالیہ سرحدی کشیدگی میں آپریشن بنیانِ مرصوص کے ذریعے بھارت کو اُس کی ہی سرزمین پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ جس کے بعد مودی نے ٹرمپ سے رابطہ کیا کہ ہمیں پاکستان سے بچائیں ۔
آپریشن بنیانِ مرصوص کے بعد بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم بی ایل ایف کے نیٹ ورک پر وہ کاری ضرب پڑی ہے کہ نئی دہلی کے ایوانِ سرکار میں لرزہ طاری ہے۔ تربت سے گِشکور تک غاریں خالی پڑی ہیں، بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بھاگتے پھر رہے ہیں ۔
رواں ماہ کے آغاز میں پاک فضائیہ نے لائن آف کنٹرول سے پار تاریخ ساز جوابی کارروائی میں بھارتی فضائی اثاثوں کو بے بس کیا۔ حادثوں کا اعتراف تو بھارتی فوجی ترجمان نے اَداکاری میں ڈوبا جملہ بول کر کِیا، مگر اصل زخم تب لگا جب بھارتی میڈیا ہی نے ’’لسٹ آف لاسز‘‘ لیک کر دی۔ اُس شکست کے ملبے تلے دبے بقیہ عزائم اب بلوچستان میں پراکسی جنگ تک محدود تھے۔ مگر ’’را‘‘ کے تیار کردہ یہ مہرے بھول گئے کہ 2025 کا پاکستان سیٹلائٹ + اے آئی انٹیلی جنس سے لیس ہے، زمینی و فضائی سینسرز کا ایک مربوط جال بی ایل ایف کے ہر قدم کا سراغ رکھتا ہے، اور فورسز کے پاس اب اختیار بھی ہے اور ارادہ بھی۔
رات 02:40 بجے ’’آئی-ایس آر یونٹ 94‘‘ کو ٹھوس سگنل ملا👇


اردو
Tasswar Hussain retweetet

ویسے تو بڑے بڑے برج الٹ گئے اور بڑوں بڑوں نے مایوس کیا۔ اور اسی لیے میں اب کسی کو آئیڈیالائز نہیں کرتا۔
مگر یہ دو شخصیات ابھی تک کے مشاہدے میں صحافت کے شعبے کے دو ایسے درخشاں ستارے ہیں جو صحافت کے آسماں پر بڑی آب و تاب کے ساتھ چمک رہے ہیں۔ ان کی صحافت کو ابھی تک بے باک پایا۔
یہ وہ گوہر نایاب ہیں جو تیاری کیساتھ آتے ہیں۔
سیاست سے لیکر معیشت، صنعت سے لیکر سٹاک ایکسچینج، دفاع سے لیکر سفارتی رموز۔ جس موضوع پر بھی بات کرنی ہو ایسے بولتے ہیں جیسے اس شعبے میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہو۔ اور باقی لوگوں کی طرح گھر سے بناۓ ہوۓ سوالات ہی نہیں پوچھتے بلکہ جواب سے سوال نکالتے ہیں۔
اللہ تعالی انہیں استقامت عطا فرماے اور ہمیں ان سے مایوسی سے بچاے۔ آمین


اردو











