Angehefteter Tweet
raheel bokhari
5.3K posts

raheel bokhari
@rhl173
Overseas Pakistani, diehard fan of Khan of Pakistan
Pakistan Beigetreten Ekim 2011
1.4K Folgt1.2K Follower
raheel bokhari retweetet

کروڑوں کی جائیداد کی مالک ہونے کے باوجود ماضی کی ایک نامور ماڈل گرل راولپنڈی کی سڑکوں پر رہنے پر مجبور ،
آخر کیوں ؟
درجنوں اشتہارات میں کام کرنے والی ماڈل شمائلہ نے عروج کے دنوں میں ایک نوجوان سے محبت کی شادی کر لی اور ماڈلنگ چھوڑ دی ،
انہیں پتہ نہیں تھا کہ انکے شوہر کی یہ دوسری شادی ہے ،
ایک سال بھی نہیں گزرا اور سسرال والوں نے تنگ کرنا شروع کردیا ، انکے ہاں ایک بیٹی بھی ہوئی جو اپنے والد کی جائیداد کی مالک ہے ایک وقت ایسا آیا کہ سسرال والوں نے انہیں گھر سے نکال دیا ، شوہر ماڑا مسکین تھا
وہ بھی چپ کر گیا ۔
کچھ عرصہ میکے میں رہیں لیکن بہن بھائی سب اپنی زندگی میں مگن تھے والدین ہوتے تو شاید انہیں دربدر نہ ہونا پڑتا ،
انکی بیٹی کے نام باپ کی کروڑوں روپے کی جائیداد ہےجو سسرال والے واپس اپنے نام منتقل کروانے کے لیے انہیں ڈھونڈ رہے ہیں
لیکن شمائلہ راولپنڈی کی سڑکوں پر کبھی کہیں اور کبھی خیمہ لگا کر زندگی کے دن پورے کررہی ہیں ،
انہیں انتظار ہے اس میسحا کا جو اس کمزور عورت اور اسکی بچی کو انکا حق دلا دے انہیں محفوظ چھت مل جائے
جہاں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ زندگی گزار سکیں



اردو
raheel bokhari retweetet

باغ میں گزشتہ روز جو ہوا، وہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہے 💔
ہجیرہ سے آیا ایک غریب نوجوان، ہاتھ میں ٹیلینار کی رجسٹریشن ڈیوائس، لوگوں کو فری سمز دے رہا تھا… نہ کسی سے پیسے مانگ رہا تھا، نہ کوئی فراڈ کر رہا تھا، بس اپنی محنت سے حلال روزی کمانے کی کوشش کر رہا تھا۔
لیکن اسی دوران خود کو صحافی کہنے والے سردار اویس صاحب وہاں پہنچتے ہیں… اور ایک دم ایسے رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے کوئی بڑا مجرم پکڑ لیا ہو۔
کیمرہ آن، سخت لہجہ، بار بار سوالات، دباؤ…
وہ نوجوان بار بار کہتا رہا:
“بھائی جان، فرنچائز کی اجازت سے کام کر رہا ہوں…”
مگر اسے سننے والا کوئی نہیں تھا۔
سوال یہ ہے
جب باغ میں چوری ہوتی ہے، منشیات بکتی ہیں، ناانصافیاں ہوتی ہیں…
تو ایسے “دلیر صحافی” کہاں ہوتے ہیں؟
لیکن جب ایک غریب نوجوان عزت کی روٹی کمانے نکلتا ہے، تو اس کو کیمرے کے سامنے کھڑا کر کے ذلیل کرنا آسان لگتا ہے؟
یہ صحافت نہیں ہے…
یہ طاقت کا غلط استعمال ہے۔
صحافت کا کام کمزور کو دبانا نہیں، بلکہ اس کا سہارا بننا ہوتا ہے۔
اگر واقعی قانون کی فکر تھی، تو طریقہ بھی مہذب ہونا چاہیے تھا، نہ کہ ایک غریب کو سرِعام ٹارچر کیا جائے۔
آج اگر ہم ایسے رویوں پر خاموش رہے، تو کل ہر محنت کرنے والا نوجوان ڈرے گا…
اور یہی وہ چیز ہے جو معاشرے کو تباہ کرتی ہے۔
یاد رکھیں…
بھیک مانگنے والا نہیں، محنت کرنے والا عزت دار ہوتا ہے۔
اور اس عزت کو چھیننے والا کبھی قابلِ عزت نہیں ہو سکتا۔
✍️
#StandWithPoor #JusticeForYouth

اردو
raheel bokhari retweetet

”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
اردو
raheel bokhari retweetet
raheel bokhari retweetet

“آج اورکزئی کے علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسردہ ہوں۔ ملٹری آپریشنز میں ہر طرف صرف پاکستانی ہی شہید ہو رہے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں، پولیس والے ہوں یا فوجی۔ آج کی شہادتوں میں ایک کرنل اور میجر بھی شامل ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تمام شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
ملک پر مسلط مافیا کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس سال دہشتگردی کے ریکارڈ واقعات ہوئے ہیں جن میں جس بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، جبکہ سال کے اختتام میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے چار اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ناگزیر ہے جن میں خیبرپختونخوا حکومت، قبائلی علاقوں کی عوام، افغان حکومت اور افغان عوام شامل ہیں۔ موجودہ رجیم نے جنگ و جدل کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، وہ حالات کے مزید بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کو بارہا ہدایات دیں کہ خیبر پختونخوا میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف شروع کیے گئے غیرضروری ملٹری آپریشنز کے خلاف کھڑی ہو، ہمارے دور میں ان تمام علاقوں میں امن قائم ہو چکا تھا، لیکن انتہائی دکھ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت میرے امن کے ویژن پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اپنے آپ کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیوں کی جنگی پالیسیوں سے ایسے دور نہیں رکھ سکی جس طرح ضرورت تھی۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سہیل آفریدی کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
ڈرون حملوں، جیٹ طیاروں اور مارٹر گولوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی انتہائی بیوقوفانہ حکمت عملی ہے، جس کے باعث ملک دہشتگردی کے منحوس چکر سے کبھی نکل نہیں پایا۔ آج دہشتگردی کے واقعے میں ہونے والی شہادتوں کے بعد ہماری سیکیورٹی فورسز جواباً کاروائی کریں گی جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے پھر ردعمل آئے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ ایسے میں، میں نے ذاتی حیثیت میں افغانستان کا دورہ کیا اور اشرف غنی کو بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان دورے کی دعوت دی۔ تعلقات بحالی کی عملی کوششوں اور موثر حکمت عملی کے باعث ملک میں بدامنی کے ایسے واقعات نہیں ہوئے جیسے آج ہورہے ہیں۔
دوسری جانب اقتدار پر قابض موجودہ حکمرانوں نے افغانستان میں نئی بننے والی حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلکہ چالیس سال کی مہمان نوازی کے بعد جس طریقے سے افغان پناہ گزینوں کو بے عزت کر کے ملک بدر کیا گیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ بلاول بھٹو ایک سال سے زائد وزارتِ خارجہ کے منصب پر براجمان رہا اور تمام دنیا گھومنے کے باوجود، تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک مرتبہ بھی کابل نہیں گیا اور نہ ہی افغان حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے رابطہ کیا۔
دیرپا قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے، تمام فریقین مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔ میں پُرامید ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی سے نئی شروعات ہوں گی۔ عوامی نمائندوں، جرگوں اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی، دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام فریقین بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی سے دیرپا حل دریافت کریں گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ میری ہدایات کے عین مطابق نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے ویژن، قبائلی روایات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن کے بہترین فارمولے پر عمل کروانے اور دیر پا امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔”
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (٨ اکتوبر ۲۰۲۵)
اردو
raheel bokhari retweetet

چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن کی بحالی قانون سے کھلواڑ کی بدترین مثال
* پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے 3 سینئر ممبر ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم ان میں سے ایک کو چیئرمین پی ٹی اے مقرر کرتا ہے۔
* سن 2023 کے آغاز میں ممبر ٹیکنیکل کی سیٹ خالی ہونے پر اخباری اشتہار آیا کہ پی ٹی اے میں ممبر ایڈمن کی آسامی خالی ہے۔
* نسٹ کے پروفیسر اور ڈیجیٹل رائٹس ایکسرپ اسامہ خلجی نے 28 مارچ 2023 کو یہ اشتہار اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
* درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ پاکستان ٹیلی کام ایکٹ میں ممبر ایڈمن نامی کوئی آسامی وجود ہی نہیں رکھتی۔ 1/4

اردو

رسول اللہ ﷺ کے مقامات اور مراتب جلیلہ کا اندازہ اس سے لگائیں
کہ مولا علی علیہ السلام جو امام المشارق و المغارب ہیں ، مولائے کائنات ہیں
امام العالمین ہیں
رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک خادم کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے رہتے ہیں،
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ، تمام انبیاء و مرسلین مقتدی بن کر پیچھے کھڑے ہیں
تمام اولیاء کرام ، دربان بن کر بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہیں
تمام گروہ جن و انس و ملائکہ رسول اللہ ﷺ کی غلامی کو اپنا شرف مانتے ہیں،
#جشن_عید_میلاد_النبیﷺ
اردو

🚨 اڈیالہ جیل سے گرفتاری ڈال کر لاہور لے جانے کا پلان۔۔۔چکری پہنچنے پر ایک اہم ٹیلی فون کال۔۔۔ صاحبزادہ حامد رضا نے ساری روداد سنا دی ۔۔!
17 اپریل کو جب مجھے اور دیگر پی ٹی آئی قائدین کو عمران خان کی بہنوں سمیت حراست میں لیا گیا تو ہمیں باقاعدہ طور پر بتایا گیا کہ اس دفعہ آپ کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور ہمیں پولیس وین میں ڈال کر چکری لے جایا گیا جہاں ہمیں کہا گیا کہ آپ لوگ کھانا کھا لیں کیونکہ سفر لمبا ہے، پوچھنے پر پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ مجھے اور عمر ایوب کو گرفتار کرکے ساہیوال سے آگے لے جانے کا پلان ہے، ہمارے پاس نہ تو کوئی موبائل فون تھا اور نہ کوئی گاڑی یا ڈرائیور، بڑی مشکل سے ٹول پلازہ والے اہلکار سے فون لے کے اندازے سے چار پانچ مرتبہ اپنے بھائی کا نمبر ملایا تو رابطہ ہو گیا۔۔۔ @_SahibzadaHamid کا انکشاف!
اردو

🚨اہم ترین
ڈان اخبار نے آج واضح کیا ہے کہ پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو کسی نے یاد نہیں کروایا کہ عمران خان کے جانے کے بعد بھی TTP سے مزاکرات کے حوالے سے آرمی قیادت وکالت کرتی رہی ہے 5جولائی 2022 کو آرمی چیف جنرل باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم اور کور کمانڈر پشاور جنرل فیض حمید نے پارلیمنٹیرینز کو بتایا تھا کہ ہمارے طالبان سے مزاکرات چل رہے ہیں اس وقت عمران خان کی حکومت نہیں تھی ۔ عمر ایوب خان
اردو
raheel bokhari retweetet
raheel bokhari retweetet

ٹویٹر کری ایٹرز سالانہ 1 لاکھ ڈالرز سے 2 لاکھ ڈالرز کماسکتے ہیں
میں نے ٹویٹر گروتھ سے متعلق ایک کورس بنایا ہے
کورس میں
25 پلس چیپٹرز ہیں
50 پلس ٹویٹر ٹولز ہیں
آئندہ 48 گھنٹوں تک یہ کورس بالکل فری ہے
کورس لینے کیلئے
مجھے فالو کریں (تاکہ آپ کو میسج کرسکوں)
لائک اور ریٹویٹ کریں
اور رپلائی میں X لکھیں

اردو
raheel bokhari retweetet
raheel bokhari retweetet

AOA everyone, today in the middle of the night my Brother @aun_khosa has been taken into custody by some unknown armed men from his Flat in Lahore. Kindly pray for him. Do spread the word as it will mean a lot to our Family
#releaseAunAliKhosa

English
raheel bokhari retweetet

🌞صبح بخیر 🌞
💫 أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم
بِسْــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم 💫
💥اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّم💥
💫مرشد عمران خان کے چاہنے والوں کو السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 💫
💥 🤲🏻اللّٰہ پیارے حبیب کے صدقے مرشد عمران خان اور ان چاہنے والوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں اور تمام مصیبتیں پریشانیاں دور فرمائے آمین ثم آمین 🤲🏻🤲🏻

اردو





