Inside Balochistan

407 posts

Inside Balochistan banner
Inside Balochistan

Inside Balochistan

@InsideBaluch

Independent media platform documenting Balochistan’s history, human rights, law & order, and untold stories through investigative reports & documentaries.

Panjgur, Balochistan Joined Nisan 2025
0 Following1.2K Followers
Pinned Tweet
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
سعودی عرب اور ایران کے خلاف مہم چلانے والے اکاؤنٹس بھارتی نکلے ۔ تازہ ترین تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ضیاء شر نامی شخص کے ماتحت 3 ہزار سے زائد اکاؤنٹ چل رہے ہیں ۔ جو ملائیشیا میں انڈین سفارتخانے سے آپریٹ ہورہے ہیں ۔ ضیاء شر ملائیشیا میں انڈین سفارتخانے کا ملازم اور بھارتی را کیلئے کام کرتا ہے ۔ را کے سوشل میڈیا سیل میں میجر ارجن شکلا کی سرکردگی میں یہ اکاؤنٹس چلائے جارہے ہیں ۔ ضیاء شر کے والد عبدالاحد شر سندھ میں ایک مذہبی جماعت سے وابستہ ہیں ۔ ضیاء شر نے بلوچستان اور بلوچ ناموں سے 1300 اکاؤنٹس بنارکھے ہیں ۔ جن میں بلوچستان فیکٹس نامی اکاؤنٹ بھی شامل ہے ۔ جو براہ راست میجر ارجن شکلا کی نگرانی میں چل رہا ہے ۔ ان تمام اکاؤنٹس کی تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی ۔ یہ اکاؤنٹس پاکستان کی سیاسی جماعتوں پی ٹی آئی مسلم لیگ ن پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف بھی مہم چلاتے ہیں بلکہ یہ سعودی عرب ترکیہ متحدہ عرب امارات ایران سمیت دیگر خلیجی ممالک کے خلاف بھی پوسٹس کرکے پاکستان کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جبکہ بلوچ شناخت کیساتھ یہ انڈیا کے حق میں مہم چلاتے ہیں اور پاکستان کے خلاف حقائق کے خلاف خبریں پھیلائی جاتی ہیں ۔ ضیاء شر سے کچھ افغان اکاؤنٹس بھی منسلک ہیں ۔ یہ تمام اکاؤنٹس ایک دوسرے سے انگیج رہتے ہیں ۔ جس کے شواہد ہمارے پاس موجود ہیں اور مربوط نیٹورک کے زریعے ایکس کی پالیسی کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
4
55
95
5.8K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
بلوچستان کا ایران کیساتھ 900 کلو میٹر سے زائد طویل بارڈر ہے ۔ جہاں پر پاک فوج تعینات ہیں لیکن بارڈر پر آج تک بی ایل اے نے ایک بھی حملہ فوج پر نہیں کیا ۔ کیوں کہ پھر آمنے سامنے لڑنا پڑے گا اور ڈالرز کیلئے کوئی بھی سرمچار اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا ۔ اگر مسئلہ فوج سے ہے ۔ پھر بارڈر پر فوج سے کوئی لڑائی کیوں نہیں ۔ لیکن بی ایل اے نے ہمیشہ عام عوامی مقامات پر عام بلوچوں کے درمیان سے اچانک حملے کئے ہیں ۔ تاکہ عام بلوچوں کو مشکوک بنایا جائے ۔ موٹر سائیکل غریب بلوچ کی آمد و رفت کا سب سے سستا ذریعہ ہے ۔ بی ایل اے کی دہشتگردی میں سب سے زیادہ موٹرسائیکل کا استعمال کیا گیا ۔ اب سیکیورٹی اہلکار ہر موٹرسائیکل کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ کیوں کہ ایسی ہی موٹرسائیکلز سے ان پر حملے ہوتے ہیں ۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمی حالات کی وجہ سے عام لوگ چہرے اور سر کو مفلر سے ڈھانپ لیتے ہیں بی ایل اے نے سب سے زیادہ اس کا بھی غلط استعمال کیا ۔ بلوچستان میں اب چہرہ اور سر ڈھانپنے پر پابندی پر غور کیا جارہا ہے ۔ جس کا نقصان عام بلوچ کو ہوگا ۔ کیوں کہ بی ایل اے کا ہر دہشتگرد چہرہ ڈھانپتا ہے ۔ گوادر جیونی میں غریب مچھیرے عام کشتیوں میں شکار کرتے ہیں یہی ان کا واحد روزگار ہے ۔ اب بی ایل اے نے عام غریب مچھیرے بن کر کشتی سے اچانک کوسٹ گارڈ پر حملہ کیا ۔ اس میں عام بلوچوں کی جان بھی جاسکتی تھی ۔ اب کشتیوں پر نگرانی سخت کردی جائے گی ۔ اور مسئلہ عام بلوچ کو ہی ہوگا ۔ کیوں کہ ان ہی کشتیوں سے کوسٹ گارڈ پر حملہ ہوا ہے ۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بڑھی تو موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگادی گئی تھی ۔ یعنی اس سے نقصان عام عوام کا ہوتا ہے ۔ بی ایل اے کے ہر اقدام سے نقصان عام غریب بلوچوں کا ہورہا ہے اور بی ایل اے کو اس کی پروا بھی نہیں ہے ۔ اس کو ان ڈالرز سے مطلب ہے جو انڈیا اور دیگر ملک اس کو دیتے ہیں کہ گوادر کو کبھی بین الاقوامی پورٹ نہ بننے دینا کیوں کہ پھر روزگار آئے گا عام بلوچ خوشحال ہوجائے گا۔ اور پاکستان کے خلاف مہم چلانے کیلئے کچھ نہیں رہے گا ۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
9
38
143
9.8K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
🚨 BREAKING EXPOSÉ: Over 3,000 fake accounts running anti-Saudi Arabia , anti-Iran & anti-Pakistan campaigns have been traced back to India. Led by ZIA UL REHMAN FAROOQI a Sindh-origin employee of the Indian Embassy in Malaysia & RAW operative under Major Arjun Shukla’s social media cell. Zia Shar alone created 1,300 accounts using fake Baloch names & identities, including “Balochistan Facts”, directly supervised by Indian handlers. These accounts attack PTI, PML-N & PPP, damage Pakistan’s ties with Saudi Arabia, Turkey, UAE, Iran & Gulf states, while pushing pro-India narratives disguised as Baloch voices. Afghan accounts also linked in this coordinated network clear violation of X policies. Evidence is damning. Full details dropping soon.
Inside Balochistan tweet media
Inside Balochistan@InsideBaluch

سعودی عرب اور ایران کے خلاف مہم چلانے والے اکاؤنٹس بھارتی نکلے ۔ تازہ ترین تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ضیاء شر نامی شخص کے ماتحت 3 ہزار سے زائد اکاؤنٹ چل رہے ہیں ۔ جو ملائیشیا میں انڈین سفارتخانے سے آپریٹ ہورہے ہیں ۔ ضیاء شر ملائیشیا میں انڈین سفارتخانے کا ملازم اور بھارتی را کیلئے کام کرتا ہے ۔ را کے سوشل میڈیا سیل میں میجر ارجن شکلا کی سرکردگی میں یہ اکاؤنٹس چلائے جارہے ہیں ۔ ضیاء شر کے والد عبدالاحد شر سندھ میں ایک مذہبی جماعت سے وابستہ ہیں ۔ ضیاء شر نے بلوچستان اور بلوچ ناموں سے 1300 اکاؤنٹس بنارکھے ہیں ۔ جن میں بلوچستان فیکٹس نامی اکاؤنٹ بھی شامل ہے ۔ جو براہ راست میجر ارجن شکلا کی نگرانی میں چل رہا ہے ۔ ان تمام اکاؤنٹس کی تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی ۔ یہ اکاؤنٹس پاکستان کی سیاسی جماعتوں پی ٹی آئی مسلم لیگ ن پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف بھی مہم چلاتے ہیں بلکہ یہ سعودی عرب ترکیہ متحدہ عرب امارات ایران سمیت دیگر خلیجی ممالک کے خلاف بھی پوسٹس کرکے پاکستان کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جبکہ بلوچ شناخت کیساتھ یہ انڈیا کے حق میں مہم چلاتے ہیں اور پاکستان کے خلاف حقائق کے خلاف خبریں پھیلائی جاتی ہیں ۔ ضیاء شر سے کچھ افغان اکاؤنٹس بھی منسلک ہیں ۔ یہ تمام اکاؤنٹس ایک دوسرے سے انگیج رہتے ہیں ۔ جس کے شواہد ہمارے پاس موجود ہیں اور مربوط نیٹورک کے زریعے ایکس کی پالیسی کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔

English
4
11
35
549
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
🚨 EXCLUSIVE: The Baloch Yakjehti Committee (BYC) was formed in 2020. Just 2 years later, on April 26, 2022, Shari Baloch became the first woman in Balochistan's history to carry out a suicide bombing at Karachi University. Since then, a disturbing wave has followed: - Sammi Qalandrani Baloch (Turbat, June 2023) - Mahil Baloch (Bela, Aug 2024) - Mahkan Baloch (Gwadar, March 2025) - Zarina Rafiq Baloch (Nokkundi, Feb 2026) - Asifa Mengal & Hawa Baloch (Feb 2026) All highly educated women with zero personal grievances. Coincidence? Before BYC: No Baloch women in armed militancy. After BYC: Women training with BLA & carrying out suicide attacks. The pattern is clear.
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
English
3
2
8
200
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم انٹیلی جنس آپریشن میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے افغان طالبان سے وابستہ 20 سالہ دہشتگرد حبیب اللہ عرف لالو کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ شخص بلوچستان میں کوآرڈینیٹڈ دہشتگردی کی کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ تھا اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے دو جوانوں کے قتل سمیت متعدد خفیہ آپریشنز میں ملوث رہا ہے۔ سیکیورٹی زرائع نے بتایا کہ ملزم تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کا رکن ہے اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بھی اس کے مضبوط روابط تھے۔ حبیب اللہ افغانستان کے پکتیا صوبے کا رہائشی ہے۔ وہ ٹی ٹی اے میں بھرتی ہوا، فوجی تربیت حاصل کی اور جعلی پاکستانی سی این آئی سی اور پاسپورٹ استعمال کر کے پاکستان میں داخل ہوا۔ یہ شخص پہلے دو بار سیکیورٹی فورسز سے بچ کر افغانستان فرار ہو چکا تھا، مگر دوبارہ واپس آ کر دہشتگردی کی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اس کا بھائی پکتیا میںافغان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا کمانڈر ہے۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
4
25
105
5.7K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایرانی سیکورٹی فورسز اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ دونوں جانب جانی نقصان ہوا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آئی آر جی سی کے کم از کم دو اہلکار ش ہ ی د اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ش ہ ی د ہونے والوں میں ایک بسیج کمانڈر بھی شامل ہے۔مغرب کی جانب سے کردوں اور مشرق کی جانب سے بی ایل اے کے ذریعے ایران پر پراکسی حملے کیے جا رہے ہیں۔ ایران اور پاکستان دونوں کو مشترکہ طور پر ان گروہوں کا سامنا رہا ہے ۔ جن کے متعلق مبینہ طور پر دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ان کو ایک اسلامی ملک کی حمایت حاصل ہے ۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
6
11
54
9.6K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
بی این ایم ایک ایسی تنظیم ہے جو بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کیلئے مہم چلاتی ہے ۔ ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ مبینہ طور پر اس تنظیم کو انڈیا سے فنڈنگ ملتی ہے ۔ اس تنظیم کا سربراہ ڈاکٹر نسیم ماضی میں دہشتگرد تنظیم ایل ایف کا حصہ رہا ہے ۔ اس کو ڈاکٹر اللہ نذر کا دست راست سمجھا جاتا تھا لیکن پھر افغانستان کے راستے ڈاکٹر نسیم یورپ فرار ہوگیا ۔ اور وہاں پر سیاسی پناہ لے لی ۔ حال ہی میں اختر مینگل نے اس تنظیم کے ایک پروگرام میں بھی شرکت کی ہے ۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
8
21
61
3.5K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کا قیام باقاعدہ طور پر 2020 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ بی وائی سی کے قیام کے محض دو سال بعد 26 اپریل 2022 کو شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکہ کیا ۔ یہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا کہ کسی خاتون نے خودکش دھماکہ کیا ۔ اور پہلی بار بی ایل اے میں خواتین ٹریننگ لیتی بھی نظر آئی۔ جیسے جیسے بی وائی سی کی سرگرمیاں بڑھی ۔ بی ایل اے میں خواتین کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور خواتین کی جانب سے خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ تین جون 2023 کو سمعیہ قلندرانی بلوچ نے تربت میں خودکش حملہ کیا ۔ ماہل بلوچ نے اگست 2024 میں بیلہ میں خودکش دھماکہ کیا ۔ ماہکان بلوچ نے مارچ 2025 میں گوادر میں خودکش کیا ۔ زرینہ رفیق بلوچ نے فروری 2026 کو نوکنڈی میں خودکش کیا ۔ آصفہ مینگل اور حوا بلوچ نے فروری میں ہی آپریشن ہیروف دو کے دوران خودکش کئے ۔ ان میں سے اکثر خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں ۔ کوئی محرومی یا لاپتہ افراد کا سامنا نہیں تھا ۔ ان کے پاس خودکش کرنے کیلئے کوئی ایک جواز بھی نہ تھا ۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ بی وائی سی کے قیام سے قبل بلوچستان کی تاریخ میں کبھی کسی خاتون کے ہتھیار اٹھانے کا زکر نہیں ملتا۔ اور بی وائی سی کے قیام کے بعد خواتین نا صرف خودکش حملے کرتی ہیں بلکہ جنگی ٹریننگ کی ویڈیوز بھی سامنے آرہی ہیں ۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
10
17
37
3.5K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
بلوچستان کے ضلع خاران میں سیکیورٹی فورسز کی اہم کاروائی میں بی ایل اے کے 4 دہشتگرد مارے گئے ہیں ۔ جبکہ دو کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے آپریٹ کرنے والے بی ایل اے کے دہشت گردوں نے خاران میں ایک گاڑی میں نصب 14.5 ملی میٹر کی ہیوی مشین گن (HMG) سے سکیورٹی فورسز پر بزدلانہ فائرنگ شروع کی۔ دہشت گردوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی بھاری مشین گن کے بل بوتے پر پوسٹ کو نقصان پہنچائیں گے، لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ اوپر فضا میں ایک " ڈرون" کوّے کی طرح ان پر منڈلا رہا ہے۔ ڈرون آپریٹر نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی متحرک گاڑی پر لیزر لاک کیا اور عین نشانے پر فائر کیا۔ ایک زوردار دھماکے کے ساتھ دہشت گردوں کی گاڑی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔ گاڑی میں سوار 4 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کی بھاری مشین گن بھی تباہ ہو گئی۔ دھماکے کے فوراً بعد دو دہشت گردوں نے زخمی حالت میں قریبی جھاڑیوں اور پہاڑوں کی آڑ لے کر فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم زمین پر موجود سکیورٹی فورسز کے کوئیک ریسپانس دستوں نے ان کا گھیراؤ کر لیا اور دونوں کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ ان گرفتاریوں سے بی ایل اے کے نیٹ ورک اور ان کے افغان سرپرستوں کے بارے میں اہم معلومات ملنے کی توقع ہے۔ یہ آپریشن بی ایل اے کے ان آقاوں کے لیے ایک کھلا پیغام ہے جو افغانستان میں بیٹھ کر معصوم پاکستانیوں اور سکیورٹی اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ پاکستان اب ڈرون وارفیئر میں اتنا خود کفیل ہو چکا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ دہشت گرد سرحد پار سے جدید اسلحہ لے کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، لیکن پاک فوج کی چاک و چوبند دستے ان کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
11
71
308
18.1K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی کاروائیوں میں سیکیورٹی فورسز اور مقامی قبائیل نے نے بی ایل اے کو شرمناک شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ پنجگور کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے کے دہشت گردوں نے رات کی تاریکی میں نہتے شہریوں اور مقامی بلوچ قبائل کے گھروں پر راکٹوں اور مارٹروں سے حملہ کیا۔ مقامی بلوچ قبائیل اور سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور بھرپور جواب دیا جس کے نتیجے میں 6 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے راکٹ لانچرز، امریکی ساختہ M16 رائفلیں، جامرز اور بی ایل اے کے جھنڈے برآمد ہوئے، جو ثابت کرتے ہیں کہ یہ گروہ غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈے پر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے مکمل لیس تھا۔ اس معرکے میں امیر، برہان، مجاہد اور امداد جیسے بہادر بلوچ قبائیلی جوانوں نے اپنے گھروں اور وطن کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانی نے ثابت کر دیا کہ بلوچستان کا بچہ بچہ پاکستان کی سالمیت کے لیے سیسہ پلائی دیوار ہے۔ ان پے در پے حملوں اور جدید ٹیکنالوجی (جامرز اور ڈرونز) کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ بیرونی مدد کے باوجود سیکیورٹی فورسز کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔ عوام اور فورسز کا اتحاد ہی وہ طاقت ہے جس نے دہشت گردوں کو پہاڑوں میں چھپنے پر مجبور کر دیا ہے۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
8
24
113
10.8K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
ایران اور پاکستان کو آپس میں لڑانے کا منصوبہ پکڑا گیا ۔ ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے ایک بڑی سازش کا پتا لگالیا ۔ ایرانی انٹیلی جنس ذرائع اور معروف تجزیہ کار محمد حسین باقری نے انتباہ جاری کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف انڈین انٹیلی جنس اور افغان سر زمین کے استعمال سے ایران کے اندر ایک بڑا فالس فلیگ آپریشن کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا ہے۔ ا بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں کو بھارتی مالی معاونت اور افغانستان میں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں، جہاں سے وہ سرحد پار ایرانی سیستان و بلوچستان میں کارروائی کر کے اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ اس پورے کھیل کی اصل ڈوریاں ایک ناجائز ریاست کے ہاتھ میں ہیں، جو نہیں چاہتی کہ مسلم ممالک متحد ہوں۔ ناجائز ریاست خطے میں عدم استحکام پیدا کر کے ایران کو مختلف محاذوں پر الجھانا چاہتی ہے۔ ایرانی حکام نے تین ممکنہ حملوں کے بارے میں سنگین الرٹ جاری کیا ہے ایران کے اندر دہشت گردی: بی ایل اے کے ذریعے ایران میں خونریزی کرنا تاکہ تہران اور اسلام آباد کے تعلقات دشمنی میں بدل جائیں۔ حرمین شریفین پر حملہ: مقدس مقامات کو نشانہ بنا کر اس کا الزام ایران پر تھوپنا تاکہ پوری مسلم امہ کو ایران کے خلاف کھڑا کیا جا سکے۔ مسجدِ اقصیٰ پر میزائل حملہ: ناجائز ریاست کی جانب سے خود مسجدِ اقصیٰ پر حملہ کر کے اسے ایرانی میزائل قرار دینا، تاکہ عالمی سطح پر ایران کو تنہا کیا جا سکے۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
15
31
145
12.6K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
پی ٹی آئی نے بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیم بی این ایم سے ہاتھ ملالیا ۔ سیکیورٹی زرائع جنیوا کے سفارتی حلقوں سے موصول ہونے والی اندرونی معلومات کے مطابق، پاکستان کی معیشت کو بین الاقوامی سطح پر مفلوج کرنے کے لیے ایک نیا اور خطرناک اتحاد سامنے آیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان اور کالعدم تحریکوں سے ہمدردی رکھنے والے بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم نے ایک مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کر لیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جنیوا میں ہونے والی حالیہ ملاقاتوں میں قاسم خان اور ڈاکٹر نسیم نے یورپی یونین سے باقاعدہ مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اس مطالبے کے پیچھے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو ڈھال بنایا جا رہا ہے، تاہم مبصرین اسے پاکستان کے خلاف "معاشی دہشت گردی" قرار دے رہے ہیں۔ اس خبر نے اس وقت سنگین رخ اختیار کر لیا جب یہ بات سامنے آئی کہ قاسم خان کے ساتھ بیٹھےڈاکٹر نسیم نہ صرف بلوچستان کی علیحدگی کے داعی ہیں بلکہ ان کے روابط مبینہ طور پر دہشتگرد تنظیم بی ایل اے (BLA) سے بھی جوڑے جاتے ہیں۔ دونوں شخصیات کا مقصد یورپی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی روک کر ملک میں بیروزگاری اور معاشی انارکی پھیلانا ہے۔ ڈاکٹر نسیم کی تنظیم بی این ایم (BNM) عرصہ دراز سے عالمی فورمز پر پاکستان کی سالمیت کے خلاف مہم چلا رہی ہے، اور اب پی ٹی آئی کے اہم حلقوں کا ان کے ساتھ ایک ہی پیج پر آنا ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
Inside Balochistan tweet media
اردو
11
42
91
4.7K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
یہ دائیں جانب اسکائی بلو لباس میں نوجوان عبداللہ ہے جس کو آج بی ایل اے نے پنجگور میں نشانہ بنایا ہے ۔ اس پر بی وائی سی یا کسی نام نہاد انسانی حقوق والے کی کوئی پوسٹ سامنے نہیں آئے گی ۔ دوسری طرف کالے کپڑوں میں محبوب ہے جو 8 ماہ پہلے "لاپتہ" ہوا تھا ۔ اور اب 8 مارچ کو پنجگور سے اس کی ڈیڈ باڈی ملی ۔ زرائع بتاتے ہیں کہ یہ بی ایل اے میں شامل ہوگیا تھا ۔ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں اور ان کے مبینہ سہولت کاروں کی جانب سے اپنایا گیا ایک نیا اور خطرناک "طریقہ واردات" منظرِ عام پر آیا ہے ۔ حالیہ تحقیقات اور شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب بھی کوئی شخص دہشت گرد تنظیموں (جیسے بی ایل اے یا دیگر) کا حصہ بن کر روپوش ہوتا ہے، تو بی وائی سی (BYC) جیسی تنظیمیں فوری طور پر اسے "مسنگ پرسن" (لاپتہ فرد) قرار دے کر شور مچانا شروع کر دیتی ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس فرد کو ایک "مظلوم شہری" کے طور پر پیش کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس کی تخریبی سرگرمیوں کو تحفظ مل سکے۔ جب یہی مبینہ "لاپتہ افراد" مہینوں یا سالوں بعد سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلح مقابلے میں ہلاک ہوتے ہیں، تو وہی سہولت کار تنظیمیں اسے "ماورائے عدالت قتل" کا رنگ دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ تاہم، دفاعی ماہرین نے اس منطق پر کئی سوالات اٹھائے ہیں اگر کوئی شخص سرکاری تحویل میں ہو، تو اسے دو سال تک محض مارنے کے لیے پاس رکھنے کا کوئی منطقی فائدہ یا "ثواب" ریاست کو حاصل نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ افراد اس دوران سرحد پار یا پہاڑوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر رہے ہوتے ہیں اور جب وہ کسی حملے کے دوران مارے جاتے ہیں، تو "لاپتہ" ہونے کا ڈرامہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم وارفیئر کا حصہ ہے جس میں دہشت گردوں کو "انسانی حقوق" کا لبادہ پہنا کر بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
6
21
107
6.2K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
بلوچستان میں انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی تنظیم 'بلوچ یکجہتی کمیٹی' (BYC) کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس سے اس تنظیم کے مشکوک کردار اور کالعدم تنظیم بی ایل اے (BLA) کے ساتھ گٹھ جوڑ پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بی وائی سی کی جانب سے 'وکٹم کارڈ' کھیلنے کا ایک ایسا گھناؤنا طریقہ کار بے نقاب ہوا ہے جس میں معصوم بلوچ خواتین کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خضدار سے تعلق رکھنے والی فرزانہ زہری عرف لائبہ کا نام پہلی بار یکم دسمبر 2025 کو اس وقت منظرِ عام پر آیا جب بی وائی سی نے پراپیگنڈا کیا کہ اسے پاکستانی اداروں نے 'اغوا' کر لیا ہے۔ تاہم، حالیہ انکشافات نے اس جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرزانہ زہری اس دوران پہاڑوں پر موجود تھی، جہاں ٹی ٹی پی (TTP) کے سابق کمانڈر ابراہیم نے اسے خودکش حملے کی تربیت دی، جبکہ بی ایل اے کمانڈر سلیم جان عرف دل جان اس کا ہینڈلر تھا۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی وائی سی کا یہ روایتی حربہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی شخص یا خاتون بی ایل اے میں شامل ہونے کے لیے پہاڑوں کا رخ کرتی ہے، تو یہ تنظیم اسے 'لاپتہ' قرار دے کر شور مچا دیتی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر تحقیقاتی ادارے اس شخص کو پکڑ لیں، تو اسے بے گناہ ثابت کر کے عالمی سطح پر وکٹم بلیمنگ کی جا سکے۔ سب سے تشویشناک انکشاف یہ ہوا ہے کہ بی وائی سی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ نے خود فرزانہ کی ذہن سازی کی اور اسے بی ایل اے میں شامل ہونے پر اکسایا۔ بلوچستان کے غیرت مند معاشرے میں خواتین کا احترام سب سے مقدم ہے، لیکن کالعدم تنظیم بی ایل اے اور ان کے سہولت کار اب بلوچ خواتین کو اپنی بزدلانہ کارروائیوں اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کر کے پاک-بلوچ روایات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف مائل کرنا ایک ایسی سازش ہے جس کا مقصد بلوچستان کے امن کو تباہ کرنا ہے۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
8
22
80
3.1K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
افغانستان میں پاکستانی حملوں کے بعد لگی آگ اور کالے دھوئیں نے افغان طالبان کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ عینی شاہدین اور تکنیکی ماہرین کے حیرت انگیز انکشافات گزشتہ رات افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کیے گئے حملوں کے بعد اٹھنے والے مناظر نے افغان طالبان کے اس پروپیگنڈے کو مشکوک بنا دیا ہے کہ نشانہ بننے والی جگہ محض ایک "اسپتال" یا شہری تنصیب تھی۔ بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملے کے فوراً بعد آسمان کو چھوتی آگ کی لپٹیں اور گہرے کالے دھوئیں کے بادل اٹھے، جو عام طور پر صرف تیل یا بارود کے ذخائر (Ammunition Dumps) کے پھٹنے سے ہی ممکن ہیں۔ ذرائع کے مطابق، حملے کے مقام سے دور تک اڑنے والے "چھوٹے چھوٹے دھاتی مواد" اور مسلسل ہونے والے ثانوی دھماکے (Secondary Explosions) اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہاں بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ "اگر یہ صرف ایک اسپتال یا عام عمارت ہوتی، تو وہاں سے کبھی بھی اتنا کثیف کالا دھواں اور دھاتی ٹکڑے فضا میں بلند نہ ہوتے۔ یہ کالا دھواں کیمیکلز اور بارودی مواد کے جلنے کی مخصوص علامت ہے"۔ افغان طالبان کی جانب سے اسے "شہری تنصیب پر حملہ" قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم دفاعی مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اسپتالوں میں ٹنوں کے حساب سے بارود اور ایندھن رکھا جاتا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اکثر انسانی ڈھال (Human Shields) کے طور پر شہری عمارتوں کو استعمال کرتی ہیں تاکہ حملے کی صورت میں مظلومیت کا کارڈ کھیلا جا سکے، لیکن گزشتہ رات کی "آگ کی شدت" نے حقیقت واضح کر دی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان ٹھکانوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے بادل اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے لاجسٹک مرکز کو تباہ کر دیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں امن کی صورتحال پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
7
48
252
25.1K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
پنجگور سے 7 رکنی ایسا گروہ خفیہ ایجنسیوں نے پکڑا ہے جس کے پاس سے تہران اور کوئٹہ کے حساس مقامات کے نقشے ، جدید ترین اسلحہ اور مواصلاتی آلات برآمد ہوئے ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ گروہ پاک-ایران سرحد کے قریب ایک بڑی دہشت گردی کی واردات کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے کہ گرفتار دہشت گردوں کو براہِ راست افغانستان کے دارالحکومت کابل سے ہدایات مل رہی تھیں۔ نیٹ ورک کا مقصد سرحد کے دونوں اطراف بدامنی پھیلا کر برادر اسلامی ممالک کے تعلقات میں دراڑ ڈالنا تھا۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق، گروہ نے اپنے ناپاک عزائم کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دے رکھی تھیں۔ منصوبے کے تحت گروہ کے 3 ارکان نے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے ایران (تہران) جانا تھا، جہاں انہیں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ باقی 4 ارکان کو کوئٹہ روانہ ہونا تھا، جہاں وہ صوبائی دارالحکومت میں اہم سرکاری عمارات اور عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر تخریب کاری کی تیاری مکمل کر چکے تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں کے موبائل فونز اور لیپ ٹاپس کے فرانزک تجزیے سے ثابت ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک کابل میں بیٹھے بی ایل اے کے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھا۔ برآمد شدہ نقشوں میں تہران کے اہم سفارتی زونز اور کوئٹہ کے حساس انتظامی دفاتر کی نشاندہی کی گئی تھی۔ زرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران سرحدی ضلع پنجگور سے گرفتار اس گروہ کا تعلق بی ایل اے کی مجید بریگیڈ سے ہے اور اس معاملے میں افغانستان اور انڈیا پوری طرح ملوث ہیں ۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
8
67
234
11.8K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
افغان طالبان نے چین اور امریکہ سے مایوس ہوکر انڈیا سے رابطہ کرلیا ۔ پاکستان کے خلاف عسکری تعاون مانگ لیا ۔ بدلے میں Bagram Air Base انڈیا کے حوالے کرنے کی آفر کردی ۔ افغان طالبان نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ پاکستان پر حملہ کردیں ۔ جبکہ بلوچستان میں بی ایل اے پاکستان کو مصروف رکھے گی ۔ زرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے بھارت کو تجویز دی ہے کہ ایک ساتھ تین اطراف سے محاز کھولے جائیں تو پاکستان کو گھیرا جاسکتا ہے اور پاکستان پر حملے کا یہی بہترین وقت ہے ۔ لیکن انڈیا نے مئی جنگ کے نتائج کو مد نظ رکھتے ہوئے افغانستان کو زیادہ اچھا رسپانس نہیں دیا بلکہ اس بات پر زور دیا کہ وہ افغانستان کو ڈرونز اور دیگر عسکری سامان کی فراہمی بڑھا سکتا ہے ۔ زرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے افغانستان کو صاف انکار کردیا ہے کہ انڈیا اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ پاکستان کیساتھ جنگ میں جائے ۔ اس صورت میں پاکستان انڈیا کیساتھ فُل اسکیل وار میں جاسکتا ہے جو کہ انڈیا کیلئے اچھا نہیں ہوگا ۔ مئی کی جنگ میں انڈیا کو بھاری نقصان کا سامنا ہوچکا ہے ۔ اس لئے بھارت مزید رسک نہیں لینا چاہتا ۔ دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے طالبان اسی نوعیت کی ایک پیشکش امریکہ کے سامنے بھی رکھ چکے ہیں ۔ لیکن امریکی انتظامیہ نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کردیا
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
36
59
284
33.2K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
افغان طالبان اور خفیہ ایجنسی موساد کے درمیان رابطوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ موساد ایجنٹس افغان سرزمین پر موجود ہیں ۔ موساد نے طالبان کو جدید ساختہ کم ریڈار انعکاس رکھنے والے چھوٹے ڈرون سسٹمز، جن میں لُوا-120 اور آربیٹر-3 جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں فراہم کردئے ہیں ۔ اس خفیہ سمجھوتے کے بدلے موساد کو ایران سے متصل افغان سرحدی علاقوں میں مستقل خفیہ سہولتیں فراہم کی گئیں، جن میں سگنلز انٹیلیجنس (SIGINT) مراکز اور عارضی لانچ پیڈ شامل ہیں ۔ یوں افغانستان کی مغربی پٹی ایک خاموش اسٹریٹجک اسٹیج میں تبدیل ہونے لگی ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق ڈرون پرزہ جات بندرگاہ ایلات سے بحر احمر کے راستے کمرشل کارگو میں زرعی ڈرون آلات کے طور پر بھیجے گئے۔ شپنگ رجسٹری کو پاناما اور لائبیریا جیسے ممالک سے منسلک کیا گیا تاکہ اصل ماخذ چھپایا جا سکے۔ بعد ازاں یہ سامان متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ جبل علی پہنچا، جہاں فری زون میں ری-لیبلنگ کی گئی۔ وہاں سے کارگو کو ایران کے چاہ بہار فری زون کی طرف منتقل کیا گیا۔ مقامی اسمگلنگ نیٹ ورکس نے اسے زمینی راستے سے افغانستان کے صوبہ نیمروز کے شہر زرنج تک پہنچایا۔ زرنج سے یہ سازوسامان ٹرک کانوائے کے ذریعے قلعه نو اور بالآخر Shindand Air Base منتقل کیا گیا، جہاں رات کی پروازوں اور خفیہ رن وے بحالی کے ذریعے ڈرون آپریشنل کیے گئے۔ صوبہ ہرات میں واقع شیندند ایئر بیس کو مرکزی لانچ پوائنٹ بنایا گیا۔ اس کی طویل رن وے اور دور افتادہ محل وقوع اسے خفیہ سرگرمیوں کیلئے موزوں بناتے ہیں۔ دوسرا علاقہ دشتِ مارگو ہے ۔ جو نمروز اور ہلمند کے درمیان ایک وسیع ریگستانی خطہ ہے۔ یہاں موبائل لانچرز اور عارضی کنٹرول یونٹس آسانی سے چھپائے جا سکتے ہے۔ اسی طرح غور اور فراه کی بلند پہاڑی راہداریاں عارضی سگنلز انٹیلیجنس مراکز کے لیے منتخب کی گئیں، جہاں سے ایرانی سرحدی نقل و حرکت کی نگرانی ممکن ہے ۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
8
79
188
9K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
پاکستان نے افغانستان پر حملے کے بعد بی ایل اے کے ایک روپوش کمانڈر کی جانب سے "مجلس" نامی خفیہ ٹیلیگرام گروپ میں نشر ہونے والا ایک پیغام انٹرسیپٹ کیا ہے۔ اس پیغام میں کمانڈر نے اپنے نیٹ ورک کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی اور افغانی مدد اور رسد کا راستہ اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ چابہار آپریشن اور پاکستان کی سرحد پار کارروائی نے ہمارے محفوظ ٹھکانے اور مالیاتی ذرائع ختم کر دیے ہیں۔ اب بڑے حملوں کا خواب چھوڑ دو اور صرف چھوٹے، کم نظر آنے والے آپریشنز (Low-profile ops) تک محدود ہو جاؤ تاکہ وجود برقرار رہ سکے۔ اس پیغام کا سب سے بڑا اثر زاہدان سے کوئٹہ تک پھیلے ہوئے "کورئیر نیٹ ورک" پر پڑا ہے۔ وہ رابطہ کار جو سرحد پار سے اسلحہ اور بائننس کے ذریعے آنے والا پیسہ منتقل کرتے تھے، اب خوف کے مارے روپوش ہو گئے ہیں اور مزید نقل و حمل سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں فیلڈ کمانڈرز نہ صرف جدید بارود بلکہ راشن اور فنڈز سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال کا ایک اور چونکا دینے والا پہلو سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے۔ جیسے ہی چابہار میں بھارتی ایجنٹوں کی گرفتاریاں ہوئیں، جبری گمشدگی جیسے ہیش ٹیگز چلانے والے سیکڑوں مشکوک بھارتی اکاؤنٹس اچانک بند یا خاموش ہو گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی سوشل میڈیا مہم دراصل اسی بھارتی ایندھن پر چل رہی تھی، جو اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر حالیہ "سرجیکل اسٹرائیکس" اور ایران میں موساد کے نیٹ ورک کی تباہی نے بلوچستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم بی ایل اے (BLA) کی کمر توڑ دی ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دوہرے حملوں کے بعد دہشت گردوں کی صفوں میں شدید مایوسی اور "ڈیمورالائزیشن" (Demoralization) کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، افغانستان میں طالبان کے حمایتی ڈھانچے پر پاکستانی حملوں اور ایران میں سپلائی نیٹ ورک کی گرفتاری نے بی ایل اے کو ایک ایسی نفسیاتی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنا اب ان کے لیے ناممکن نظر آتا ہے۔ دہشت گرد اب نہ صرف زمین پر بے یارو مددگار ہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی ان کا بیانیہ دم توڑ رہا ہے۔
Inside Balochistan tweet mediaInside Balochistan tweet media
اردو
14
103
388
38.7K
Inside Balochistan
Inside Balochistan@InsideBaluch·
ماہرنگ بلوچ کی رہائی کیلئے جب اختر مینگل نے دھرنا دیا تو لک پاس پر خودکش دھماکہ ہوا تھا تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دھماکہ اختر مینگل کے دست راست نثار مینگل نے اپنے بھائی اسرار مینگل کے زریعے کرایا ۔ تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے ۔ اسرار مینگل دہشتگرد تنظیم داعش خراسان کا کمانڈر ہے ۔ یہی اسرار مینگل اختر مینگل کا زاتی گارڈ بھی رہ چکا ہے ۔ بی ایل اے کی خودکش بمبار اسی سرار مینگل کی سگی خالہ کی بیٹی تھی ۔ جس کی منگنی مجید بریگیڈ کے بانی اسلم اچو کے بیٹے ریحان سے ہوئی تھی ۔ اختر مینگل کے دہشتگرد تنظیموں سے روابط کے پختہ شواہد سامنے آرہے ہیں اور امکان ہے کہ ان شواہد کی بنیاد پر اختر مینگل کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے ۔
اردو
4
16
92
8K