**“جب عمران خان کی حکومت تھی تو مولانا فضل الرحمن سڑکوں پر لانگ مارچ کر رہے تھے، دھرنے دے رہے تھے اور شور مچا رہے تھے۔ اُس وقت پٹرول اور ڈیزل تقریباً 150 روپے تھا۔
آج وہی پٹرول اور ڈیزل 520روپے تک پہنچ چکا ہے، عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکی ہے… مگر مولانا صاحب خاموش
*رائے ونڈ میں پرانوں کا جوڑ اپنی روحانیت اور اخلاص کے ساتھ دلوں کو منور کر رہا ہے۔*
مگر آج اسی اجتماع کے دوران موسلا دھار بارش، تیز ہوائیں اور ژالہ باری کا اچانک آ جانا ایک آزمائش بن گیا ہے۔ *
بظاہر یہ موسم کی سختی ہے، مگر درحقیقت یہ صبر، استقامت اور اللہ پر توکل کا امتحان ہے
مرزا غالب لشکر بھی تمہاراہے سردار بھی تمہاراہے تم جھوٹ کو سچ لکھ دو اخبار بھی تمہاراہے خون مظلوم زیادہ نہیں بہنے والا ظلم کادوربہت دن نہیں رہنے والا ان اند ھیر و کا جگر چیر کے نورآ ئے گا تم ہو فر عون تو موسی بھی ضر ورآئے گا