@Sibtain Raza

950 posts

@Sibtain Raza banner
@Sibtain Raza

@Sibtain Raza

@136yH

I.Cs

Pakistan Katılım Temmuz 2019
1.1K Takip Edilen510 Takipçiler
@Sibtain Raza retweetledi
PTI
PTI@PTIofficial·
*پاکستان تحریک انصاف کا قائد عمران خان کی ممکنہ ہسپتال منتقلی اور صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات پر ردعمل* پاکستان تحریک انصاف ان خبروں اور قیاس آرائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے جن کے مطابق قائد عمران خان کو اُن کے خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر علاج کی غرض سے خفیہ طور پر ہسپتال منتقل کیے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو کہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ مروجہ قانونی تقاضوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس حوالے سے پارٹی کا موقف واضح ہے کہ عمران خان کو ان کے خاندان اور معالجین کو مطلع کیے بغیر کسی بھی جگہ منتقل کرنا یا ان کی عدم موجودگی میں کسی بھی قسم کا طبی معائنہ یا علاج شروع کرنا آئینِ پاکستان اور جیل قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ عمل کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہم سابق وزیراعظم کی صحت کے حوالے سے برتی جانے والی کسی بھی قسم کی رازداری کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ماضی کی طرح ایک بار پھر حقائق چھپانا عمران خان کی صحت اور زندگی کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ عمران خان صاحب کا ہر قسم کا طبی معائنہ اور علاج اُن کے ذاتی معالجین اور خاندان کے کم از کم کسی ایک فرد کی موجودگی میں فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں خاندان اور معالجین کی موجودگی کے بغیر کوئی بھی کارروائی ہر گز قبول نہیں کی جائے گی۔ مزید یہ کہ یہ عمل پارٹی کے تجویز کردہ معتبر ڈاکٹروں اور ہسپتال کی زیرِ نگرانی آزادانہ طور پر انجام دیا جانا ضروری ہے۔ کسی بھی خفیہ یا یکطرفہ اقدام کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ ہمیں اس امر پر شدید تکلیف ہے کہ دو دن گزر جانے کے باوجود سپریم کورٹ کی جانب سے ابھی تک تحریری احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ ہمیں چیف جسٹس آف پاکستان سے قوی امید تھی کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر فوری علاج کو یقینی بنانے کے لیے فی الفور احکامات صادر فرمائیں گے۔ بانی چیئرمین کے علاج معالجے میں اب تک برتی جانے والی تاخیر انتہائی افسوسناک اور غیر انسانی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مزید وقت ضائع کیے بغیر ان کا علاج فوری طور پر شروع کیا جائے۔ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر عمران خان کی سلامتی یا صحت کو کوئی بھی نقصان پہنچا، تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت اور قابض انتظامیہ پر ہوگی۔ پی ٹی آئی موجودہ حکومت کو خبردار کرتی ہے کہ وہ اس معاملے میں مزید کسی بھی غیر آئینی اقدام سے باز رہے۔ بانی چیئرمین کی صحت کے معاملے پر ہر گز کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جاری کردہ: مرکزی شعبہ اطلاعات پاکستان تحریک انصاف
اردو
27
971
2.8K
49.3K
@Sibtain Raza retweetledi
The Voice Of Pakistan 🇵🇰
The Voice Of Pakistan 🇵🇰@thepowerofpak·
اسٹبلشمنٹ عمران خان کو جان سے مارنا چاہتے ہیں جس میں تحریک انصاف کی کمپرماٸز قیادت، نواز شریف، مریم نواز، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین اور زرداری آن بورڈ ہیں۔
اردو
38
649
2K
26.6K
@Sibtain Raza retweetledi
PTI Gilgit Baltistan
PTI Gilgit Baltistan@PTIGBOfficial·
اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہارے ٹویٹ کرنے سے ڈریں اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہیں جیل میں ڈال کر تمہاری ملاقات کروانے سے ڈریں اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہیں عدالتوں میں پیش کرنے سے ڈریں اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہاری تصویر کو میڈیا پر چلانے سے ڈریں اتنے طاقتور بنو کہ دشمن تمہارا نام لینے پر پابندی لگا دیں اتنے طاقتور بنو کہ تمہیں قابو کرنے کیلئے دشمن سارے ملک کا آئین ہی بدل ڈالیں لیکن تم پھر بھی قابو نہ آسکو نام ہی کافی ہے عمران احمد خان نیازی
PTI Gilgit Baltistan tweet media
اردو
65
2.3K
7.3K
85.6K
@Sibtain Raza retweetledi
The Voice Of Pakistan 🇵🇰
The Voice Of Pakistan 🇵🇰@thepowerofpak·
ہاتھی گھوڑے اور تلواریں، فوج تو تیری ساری ہے، پر زنجیروں میں جکڑا راجہ میرا، اب بھی سب پر بھاری ہے!
The Voice Of Pakistan 🇵🇰 tweet media
اردو
55
418
2.3K
30K
@Sibtain Raza retweetledi
PTI
PTI@PTIofficial·
اسرائیلی چینل کی کورہج اور لاکھوں فلسطینی بچوں کے قاتل کو اب ہمارے ملک کے نجی چینلز فخریہ طور پر دکھا رہے ہیں۔ قوم کی اس ذہن سازی کے حربے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ستم ظریفی دیکھیئے، ایک طرف اسرائیل کو نارملائز کرنے کی مہم ہے تو دوسری طرف پاکستان کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کو سینسر کیا جاتا ہے۔
PTI tweet media
اردو
131
4.9K
9.9K
175.3K
@Sibtain Raza retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک آئینی عمل ہے جو اس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے اور اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کی کوشش کی تو بھرپور احتجاج ہو گا۔ سہیل آفریدی کا انتخاب زمانہ طالب علمی سے ان کے آئی ایس ایف اور تحریک انصاف کے نظرئیے سے وابستگی کی وجہ سے کیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ گراس روٹ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو بعض حلقے میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ علی امین میرے پرانے اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں لیکن وہ تنازعات کی زد میں ہیں۔ یہ تنازعات عاصم منیر کی کسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنائے بغیر خالی گولہ بارود سے دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کی پالیسی کے باعث پیدا ہوا- 2025 دہشتگری کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبرپختونخوا کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید کرتا ہوں کہ نیا وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنائیں گے۔ میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں دہشتگری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔تحریک انصاف نے اس وقت کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مذاکرات کئے اور قبائلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔ 2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟ کبھی یہ کہا جاتا ہے پاکستان میں دہشتگردی کی ذمہ دار افغان حکومت ہے جس کی تائید سے افغانستان میں بسنے والے دہشتگرد پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین کو بے عزت اور رسوا کر کے نکالنے کے باوجود دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ متضاد بیانات عاصم منیر کے مسلط کردہ عوام دشمن نظام کی بد حواسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمج “ عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔ سیاسی انتقام میں میرے خلاف مسلسل بے بنیاد مقدمات نہ صرف بنائے جا رہے ہیں بلکہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ توشہ خانہ، القادر، سائفر، عدت اور پھر توشہ خانہ سمیت کئی چھوٹے بڑے مقدمات مجھ پر اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ میں جھک کر حقیقی آزادی کا عزم ترک کر دوں۔ میں اپنی قوم کو پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں ان کے سامنے نہ جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا” - سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2025)
اردو
1.4K
21.7K
39.1K
1.4M
Ali Muhammad Khan
Ali Muhammad Khan@Ali_MuhammadPTI·
عمران خان ایک غلام رسول ہیں۔ عاشق رسول ﷺ ہیں۔ ان کو ہمیشہ حضور نبی کریم ﷺ کی بات کرتے اور اپنی تقاریر میں نوجوانوں کو آپ ﷺ کی اتباع کرنے کی تلقین کرتے دیکھا۔ پیادہ پا مدینہ پاک اترتے اور اقوام متحدہ میں حرمت رسول ﷺ کا مقدمہ لڑتے دیکھا۔ کسی بھی صورت اپنے غلام رسول ﷺ لیڈر پہ انکی کی شخصیت اور ان کی انصاف کی عظیم تحریک @PTIofficial کو قادیانیت جیسے فتنہ سے جوڑنے کی کوشش کو ناکام کریں گے۔ وہ قوم کیلئے جیل میں بیٹھ کر قربانی دیں اور باہر لوگ انکی شخصیت و سیاسی جماعت کو قادیانیت کے مزموم و ملعون القابات یا ناموں سے جوڑیں جانے یا انجانے میں دونوں صورت میں اسکی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہرگز نہیں ! ” مشن نُور “ کا نام و اصطلاح قادیانی اپنے جھوٹے اور ملعون دین کی پرچار کیلئے اپنے مردود و مرتد مزہبی پیشوا حکیم نورالدین کے مزموم دینی افکار کی روشنی میں استعمال کرتے ہیں۔ اسلئے اس نام ” مشن نور “ کی برملا مخالفت کی گئی۔ آئیندہ بھی قادیانیت کے ہر کام اور ہر نام کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ قادیانیت ایک فتنہ ہے اور اس کا انجام ہر فتنہ کی طرح تباہی ہی ہے کیونکہ آخری جیت حق کی ہے۔ اسلام حق ہے۔ ختم نبوت ﷺ حق ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ آخری نبی و پیغمبر ہیں اور انکے بعد نہ کوئی نبی نہ کوئی پیغمبر آیا ہے نہ آئے گا۔ باقی آذان دینا نیک عمل ہے۔ کبھی بھی دی جا سکتی ہے کون اس عمل کی مخالفت کر سکتا ہے۔ ختم نبوت ﷺ پہلے ہے باقی ہر چیز بعد میں۔ ایسی ہزار سیاستیں اور حکومتیں آپ ﷺ کے پاؤں کی خاک کے بھی برابر نہیں۔ کیسے ہم اس پہ کوئی کمپرومائز کر سکتے ہیں۔ اپنے پابند سلاسل اور غلام رسول ﷺ و عاشق رسول ﷺلیڈر جناب @ImranKhanPTI کا ہم پہ حق ہے کہ ان کی شخصیت و جماعت پہ قادیانی فتنہ کا سایہ بھی پڑنے سے بچائیں۔ کسی سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں لیکن بات جب ختم نبوت ﷺپہ آئے گی تو اس پہ کوئی کمپرومائز نہیں۔ حرمت رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے۔ تاجدارِ ختم نبوت ﷺ زندہ باد پاکستان پائیندہ باد 🇵🇰
اردو
309
105
800
76.9K
@Sibtain Raza retweetledi
PTI
PTI@PTIofficial·
سینیٹر پیر نور الحق قادری کا اہم بیان: "پاکستان تحریک انصاف نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی جماعت ھے اور ھمارے قائد عمران خان مدینہ منورہ کے گلیوں میں جوتوں کے بغیر چلنے والے عاشق رسول ھیں- پاکستان کے حقیقی آزادی ' ناگہانی آفات کے ازالے آور ظلم وجبر کے نظام سے نجات کیلئے اذان دیں اور بار بار دیں- 20 ستمبر سے 24 ستمبر ربیع الاول کے مبارک مہینے کے اختتام تک ھر روز تواتر کے ساتھ بعد از نماز عشا اذان دیں اور اذان سے پہلے اور بعد میں شوق و ذوق کے ساتھ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھ کر آپنے آقا نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غلامی اور محبت کا بھی ثبوت دیں- پاکستان تحریک انصاف 20ستمبر سے 24 ستمبر تک “حکم اذاں” کے نام سے ملک بھر میں اس تحریک کو چلائے گی لیکن اذان تو ھر صورت دینی ھے انشاللہ تعالیٰ!!"
PTI tweet media
اردو
284
2.2K
6.2K
258.9K
@Sibtain Raza retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“لوگوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے خوف میں مبتلا ہیں۔ اسی خوف کے باعث ہم پر ظلم بڑھایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں صرف اس امید کے ساتھ ذہنی اذیت دی جا رہی ہے کہ میں ٹوٹ جاؤں اور اپنے نظرئیے سے پیچھے ہٹ جاؤں۔ مجھے توڑنے کی کوشش کا مقصد عوام کی آواز دبانا ہے۔ یہ وہی طرز عمل ہے جو سقوط ڈھاکہ کے وقت یحیٰی خان کا تھا۔ اس نے بھی صرف اپنے اقتدار کی طوالت کی کوشش میں اندھا ہو کر عوامی آواز کو دبانے کے لیے ہر قسم کی فسطائیت بپا کی اور بالآخر ملک کو توڑ دیا۔ یہ ساری تفصیلات حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں موجود ہیں۔ عاصم منیر بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں ظلم کر رہا ہے اور ملک کو کمزور کر رہا ہے۔ 1971 اور موجودہ دور میں بہرحال فرق صرف یہ ہے کہ آج عوام باشعور ہے۔ سوشل میڈیا نے تمام حقائق عوام پر واضح کر دئیے ہیں اور عوام ظلم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سیکھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ظلم کا نظام جلد ختم ہو کر رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے۔ ملک میں سیلاب کی وجہ سے ہر جانب تباہی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے اب سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں، مال مویشی سب ڈوب گئے ہیں۔ جس سے زرعی معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ ایسے میں اہم ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کی امداد کے لیے بلا تفریق سب اپنا کردار ادا کریں۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو اس مقصد کے لیے ضرور ٹیلی تھون اور فنڈ ریزنگ کرتا۔ محض حکومتی ادارے اتنی بڑی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ ہر ایک شخص کو اپنا حصہ ڈال کر من حیث القوم اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرنا ہو گی۔ بلوچستان میں اختر مینگل کے والد کی برسی پر حملے کی شدید مذمت اور اختر مینگل سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہاں پر عوامی نمائندگان کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 8 ستمبر کو محمود اچکزئی کی ہڑتال کی کال پر تحریک انصاف بھر پور شرکت کرے۔ بلوچستان کی عوام کو دہشتگردی اور ہائبرڈ ماحول سے نجات ملنی چاہیے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہاں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کو فوری طور پر بند کروانا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں لہٰذا اس آپریشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کر کے اسے رکوائیں۔ قبائلی اضلاع میں ہونے والے ڈرون حملے بند کروانا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ افغانستان میں زلزلے پر میرا دل بہت رنجیدہ ہے اور مجھے دکھ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو زبردستی ملک سے باہر نکال رہے ہیں جبکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو بھی اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے-“ سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (5 ستمبر، 2025)
اردو
1.8K
24.1K
40.8K
1.1M
@Sibtain Raza retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
علی امین گنڈا پور کو سپریم کورٹ جا کر مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگنی چاہیئے۔ اس سے پہلے بجٹ پر بھی مجھ سے مشاورت و ملاقات نہیں کی گئی۔ علی امین کو آ کر مجھے صوبے کی گورننس، امن و امان اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دینی ہے جس کے لیے سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر بھرپور کوشش کرنی چاہیے- میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر ہونے والے ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور سٹینڈ لے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہمارے دور میں امن آچکا تھا اور ہمارے دور میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ اب وہاں حالات جان بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں تاکہ واحد عوامی مینڈیٹ والی پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے مسائل مقامی نمائندوں کی مدد سے بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ان آپریشنز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے، نہ ہی عوامی نمائندوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی تو ایسا آپریشن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔ افغان مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس پر میں شرمندہ ہوں۔ وہ ہمارے مسلمان بھائی یہاں پناہ لیے ہوئے تھے انھیں ایسے دھکے مار کر ملک سے نکالنا اسلامی روایت اور انسانیت کے خلاف ہے- فیصل آباد کی عدالت کی جانب سے ایک اور جھوٹے کیس میں ہمارے 75 ممبران اور کارکنان کو دی گئی سزائیں اس ظلم کے نظام کو مزید ننگا کر رہی ہیں۔ ہم سب کو اس ظلم کے خلاف اکٹھے کھڑے ہونا ہے جب ہم مل کر مقابلہ کریں گے تو فتح ہمارا مقدر بنے گی۔ میری رائے میں 9 مئی کیسز میں جھوٹے الزامات پر دی گئی سزاؤں کے ذریعے خالی کرائی گئی سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ان جھوٹی سزاؤں کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا- اسی لیے پارٹی اس معاملے پر غور کر کے حتمی فیصلے کے لیے کل دوبارہ اپنی تجاویز میرے پاس لے کر آئیں- حماد اظہر کا حلقہ میاں اظہر صاحب کی وفات کے بعد خالی ہوا ہے- اس سیٹ پر ہم الیکشن لڑیں گے۔ جو ظلم و فسطائیت اس وقت پورے ملک میں جاری ہے اس کے خلاف پشاور میں ایک گرینڈ جلسہ کیا جائے گا جس کی تاریخ کا اعلان پارٹی کرے گی۔ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے اور سینکڑوں قیمتی جانوں کے نقصان کے ساتھ لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ میں نے اسی ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے Billion Tree جیسے منصوبے شروع کیے تھے۔ اس طرح کے منصوبے ہی ہمارا ماحول بچا سکتے ہیں ورنہ ہم ہر سال تباہی ہی دیکھیں گے” - سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہم گفتگو (26 اگست، 2025) 2/2
اردو
1.9K
27K
47.2K
1.4M
@Sibtain Raza retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
Message from Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf, Imran Khan, during a meeting with his legal team - 19 August 2025 “My message to the entire nation, to my workers and to the party leadership is that your captain is still standing tall with his head held high. Have no fear. I pay tribute to the party leaders and workers who, after the 5th of August demonstrations, once again took to the streets across the country on the 14th of August. Whether it is arrests carried out during the recent protest movement, or the unjust sentences handed down by kangaroo courts in cases related to the false-flag events of May 9th (2023), this is fascism. Despite this, you must not lose courage in any circumstances. You must stand steadfast in the face of this storm of oppression and brutality. Even while confined to a solitary confinement cell in this prison, I am fighting for the true freedom of my nation, and I will continue to stand firm until I free my people from the chains of slavery. I have yet again been placed under complete isolation. Meetings with my family and lawyers have been suspended. In order to keep me entirely cut off from the outside world and unaware of current affairs, every source of information, whether television or newspapers, has been completely blocked. The same inhumane treatment is being meted out to Bushra Bibi; even our meetings are prohibited. Out of the dozens of books sent by my family, only four have been provided to me in the last two months; the rest have been confiscated. Even access to my personal doctor has long been denied, such that my basic right to healthcare has also been taken away. We must not, under any circumstances, bow our heads down before tyranny and oppression. Remember: No matter how long and dark the night may be, dawn is certain to break. The end of this night of oppression is near. God willing, the sun of justice and freedom will soon rise. The loss of precious human lives throughout the country due to the torrential rains and flooding is extremely tragic. The entire nation must actively participate in the rescue and relief efforts during this difficult time.”
English
607
16.4K
29.8K
483.7K
@Sibtain Raza retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
”ظلم و جبر کے بدترین دور میں 5 اگست کی کال پر پاکستانی قوم کا بڑی تعداد میں نکل کر احتجاج ریکارڈ کروانا ناصرف قابل تعریف ہے بلکہ ملک پر چھائی ظلم کی اندھیری رات میں طلوع سحر کی نوید ہے۔ عوام نے جیسے تمام تر فسطائیت کے باوجود کل سڑکوں پر نکل کر اپنے آئینی حقوق کے لیے احتجاج ریکارڈ کروایا وہ قابل تحسین ہے۔ میں بالخصوص پنجاب کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے چھاپوں اور گرفتاریوں کے باوجود خوف کے سب بتوں کو توڑ دیا۔ سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی عوام جس تعداد میں 5 اگست کو ملک گیر احتجاج میں شامل ہوئے وہ شاباش کے مستحق ہیں۔ لیڈر شپ پر پریشر کے باوجود بھرپور ملک گیر احتجاج عوامی شعور و بیداری کا شاندار مظہر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی ڈکٹیٹر کے مارشل لأ دور میں اس قدر ظلم نہیں ہوا جتنا “عاصم لأ” میں عاصم منیر کر رہا ہے۔ موجودہ دور کا موازنہ صرف یحییٰ خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے جب عوامی رائے کو روندنے کی غرض سے مجیب الرحمٰن کی پارٹی اور عوام پر فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے اور محض اپنے اقتدار کے لیے ملک کو دو لخت کردیا تھا۔ آج ملک میں جو ہورہا ہے وہ سقوط ڈھاکہ کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ تب بھی جمہوریت کا گلہ گھونٹ کر قانون کی بالادستی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ میڈیا کی آزادی اور احتجاج کا حق چھین لیا گیا تھا اور ملک میں صرف جنگل کا قانون نافذ تھا۔ اس جبر کے نظام سے نجات صرف تب ممکن ہے جب یہ قوم یکجا ہو کر کھڑی ہو گی۔ ہماری تحریک کا اگلا اہم دن 14 اگست ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہمارے آباؤاجداد نے قربانیاں دے کر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی تھی لیکن قوم آج تک “حقیقی آزادی” سے محروم ہے۔ اس ملک میں جب تک آئین و قانون کی بحالی نہیں ہو گی آزادی نہیں ملے گی۔ 14 اگست کو وطن عزیز میں جاری فسطائیت کے خلاف پوری قوم ایک مرتبہ پھر بھرپور انداز میں نکلے۔ ہمیں اس مافیا سے آزادی لینا ہو گی۔ اور آزادی لینا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب کوئی قوم قربانی دینے کو تیار ہوتی ہے۔ میں خود اپنی قوم کی خاطر جیل میں بدترین حالات کاٹ رہا ہوں۔ یہاں موجود قیدی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ایسا سلوک تو کسی عام قیدی کے ساتھ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ مجھے توڑنے کی ناکام کوشش میں میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو بھی بدترین حالات میں رکھا جا رہا ہے، مگر میں پھر بھی آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے قربانی دے رہا ہوں۔ حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر قربانی دینا ہو گی۔ میں اس “ڈاکو، ڈفر الائنس” کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا اور عاصم لاء کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا۔ مجھے ساری زندگی بھی جیل میں رہنا پڑے میں اس کے لئے تیار ہوں!! یاد رکھیں کہ بہادر قوموں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ تمام پاکستانی جیل جانے کا خوف اپنے دل سے نکال دیں۔ میرا تحریک انصاف کے ذمہ داران کو بھی خصوصی پیغام ہے کہ اپنے دلوں سے جیل کا ڈر نکال کر لوگوں کی قیادت کریں، اور جمہور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قیادت فراہم کریں۔ خیبرپختونخوا میں آپریشن صرف اور صرف تحریک انصاف کو کمزور کرنے کے لیے ہو رہا ہے-ایسا ہی آپریشن اے این پی کے دور میں بھی کیا گیا تھا اور مشرف دور کی ناکام پالیسیوں کو اپنا کر اے این پی خیبرپختونخوا میں ختم ہو کر رہ گئی۔ میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے دہشتگردی، نفرت اور تباہی مزید پھیلتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں کوئی نیا آپریشن ہرگز نہیں ہونا چاہیئے۔ وہاں کے مسائل کا حل مقامی اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بات چیت سے ہی ممکن ہو گا۔ صرف افغانستان سے ردعمل کی امید میں افغان مہاجرین کو جس بے دردی سے بے دخل کیا گیا، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو اپنے ہی لوگوں پر بندوق اٹھا کر حالات خراب کرنے کی افسوسناک کوشش جاری ہے۔ ایک مرتبہ پھر واضح کر رہا ہوں کہ جن ممبران اسمبلی کو نا حق نااہل کیا گیا ہے ان کی نشستوں پر کوئی انتخاب نہیں لڑے گا۔ ان لوگوں نے تمام مشکلات کے باوجود تحریک انصاف پر یقین کیا اور پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا لہٰذا یہ سیٹیں انہی کا حق ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا مطلب ہو گا کہ ہم ان کے ناجائز عمل کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینا ہمارے لوگوں کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا- آئین و قانون کی بحالی کے لیے کامیاب آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد، قومی ڈائیلاگ کے آغاز اور اہم قومی مسائل کے حل پر متفقہ تجاویز پیش کرنے پر تمام شرکأ اور آرگنائزز خصوصاً “تحریک تحفظ آئین” کے عہدیداران مبارکباد کے مستحق ہیں” سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ، وکلأ اور میڈیا سے گفتگو۔ (۶ اگست، ۲۰۲۵)
اردو
2.2K
24.2K
41.3K
1.7M
@Sibtain Raza retweetledi
PTI
PTI@PTIofficial·
"Imran Khan and his Awam – the greatest love story!" 
On August 5th, they wrote yet another chapter , just like November 26th sending a clear message to the world:
He will fight till last ball, and they are Behind their Captain! #BehindYouSkipper #ReleaseImranKhan
English
11
521
1.1K
15.7K
@Sibtain Raza retweetledi
Sara Mir
Sara Mir@SaraMirGilgity·
صرف شیئر کرتے جائیں اور بتائیں کہ قوم صرف پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔۔۔
اردو
34
5K
8.5K
84.9K
Khaleej Mag
Khaleej Mag@KhaleejMag·
🇵🇰 Former PM Imran Khan from Jail "All Pakistanis should be part of the freedom movement against the system of oppression to become a free nation. If we fight together, we can dismantle this oppressive system".
Khaleej Mag tweet media
English
93
3.3K
8.6K
72.1K
@Sibtain Raza retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“We haven't seen our father for three years and haven't been able to speak to him for months. It's obviously brutal. It seems like they're trying to break him.” Imran Khan’s sons #SulaimanKhan and @Kasim_Khan_1999 in an Exclusive Interview with @piersmorgan
English
878
19.5K
32.3K
571K
@Sibtain Raza retweetledi
Murad Saeed
Murad Saeed@MuradSaeedPTI·
کیا لکی مروت میں شہید ہونے والو کو بھی دہشت گرد ڈکلئیر کر دیا جائے گا یا ایک دفعہ پھر کہا جائے گا کہ گولہ دشمن ملک یا دہشت گردوں نے فائر کیا تھا؟ واٹس ایپ میڈیا پھر لکی مروت کے شہدا کو کسی کے کھاتے میں ڈال دے گا۔پھر لاشوں پر بیانیہ بنایا جائے گا۔ آپ کو کہا تھا ناں کہ ڈرون مارٹر اور گولہ یہ سب بڑے سمجھدار ہیں یہ صرف معصوم پاکستانیوں کے گھروں پر ہی گرتے ہیں کیونکہ یہی ہمارا تجربہ ہے ایسے ہی مارٹر گولوں کی بارش ہمارے گاؤں پر بھی ہوئی تھی جس سے ایک دن میں کئی جنازے اٹھے تھے لیکن رات کو ٹی وی پر خبریں چلی تھیں کہ ”دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، متعدد ہلاک“ حالانکہ اس دن ایک بھی دہشت گرد نہ مرا، نہ ان کا ٹھکانہ نشانہ بنا، بس ہم پر ہی قیامت گرائی گئی۔ وہ ۲۰۰۸ تھا آج ۱۸ سال بعد بھی وہی پلے بک ہے۔۔۔ ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اگر روزانہ جنازے نہ اٹھیں تو ان کو چین نہیں آتا۔مقصد خوف پیدا کرنا امن کے احتجاج روکنا پھر آپریشن کی خواہش پوری کرکے ریلیونٹ رہنا اور اس کی آڑ میں وسائل پر قبضے کرکے کمٹمنٹ پوری کرنا ہے۔ مگر اس بار ایسا نہیں ہوگا۔ قوم کا شک تو اس وقت دور ہوگیا تھا جب ہم نے نئی جنگ کی منصوبہ بندی کے وقت سے اس کو ایکسپوز کیا،دو دفعہ اپنا امن خود بحال کیا لیکن امن کی آوازوں کی سر کی قیمت لگائی گئی غدار اور دہشت گرد قرار دیا گیا۔سرحد پر باڑ کے باوجود باآسانی قافلوں کی صورت ان کو لایا جا رہا تھا مالاکنڈ میں تو ان کو پھیلنے سے پہلے ہم نے نکال دیا لیکن نگران حکومت میں ان کو جنوبی اضلاع کی جانب بسا دیا گیا۔اب آپریشن کا راگ الاپا جا رہا لیکن امن کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، تحریک زور سے جاری ہے لوگ اپنا امن خود بحال کرنا چاہتے بھی ہیں اور جانتے بھی ہیں لیکن علاقے سے ایک فریق نہیں بلکہ دونوں کو نکال کر ہی امن ممکن ہے۔ اس لیے باجوڑ قومی جرگہ امن کے لئے خود “دونوں” فریقین سے جرگہ کرنے لگا ہے کیونکہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ بدامنی میں ہمیشہ سے دونوں کا کردار رہا ہے اور دونوں سے باجوڑ سے نکلنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ مہمند میں بھی حالات تیزی سے خرابی کی طرف لے جائے جا رہے ہیں اور آپریشن کے پلان کے مطابق دوسرے مرحلے میں مہمند کا بھی نام ہے۔ باجوڑ اور تیرہ سے یکجہتی کرنے کے لئے سجاد مہمند روزانہ کی بنیاد پر قوم کے ساتھ مل کر امن کے لئے آواز اٹھا رہا ہے۔آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کے ساتھ مل کر آواز اٹھائیں کہ آپریشن نامنظور، ڈرون حملے نامنظور، ڈالری جنگ اور وسائل پر قبضہ نامنظور۔ میں یہ بات بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ باجوڑ سے وزیرستان تک امن تحریک کے دوستوں کی زندگیوں کو “ریاست” کی طرف سے خطرہ ہے۔ کراچی کے دوست جو امن تحریک میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے تھے ان کو بھی پیغام ہے کہ آپ بھی اپنے ان پاکستانیوں سے جو سفید پرچم لے کر ملک میں امن کے لئے نکلے ہیں ان کا ساتھ دیجئے تمام دوستوں کو میں نے پیغام بھیج دیا ہے انشاءاللہ جلد کراچی میں امن مارچز کا آغاز ہوگا۔ ہم سب نے مل کر امن کا قائم کرنا ہے۔مشکل ضرور ہے لیکن حکمت، حوصلے، اتفاق اور جہد مسلسل سے انشاءاللہ ہم ایک دفعہ پھر اپنا امن بحال کریں گے اور ڈالری جنگ کو روکیں گے۔ اس سب ”میڈ اپ“ بد امنی میں آئین کی بحالی اور عمران خان، بشری بی بی سمیت ناحق اسیران کی رہائی کی تحریک بلکل بھی پس پشت نہیں ڈالی جائیگی۔ کیونکہ عمران خان کی ابسولوٹلی ناٹ کی للکار اپنے لوگوں کو ایندھن بنانے سے انکار تھا اور آج اگر وہ باہر ہوتے، ان کا مینڈیٹ نہ چھینا جاتا، تو نہ ڈرون ہوتے نا ہی آپریشن اور نہ بد امنی۔۔آپ کی تمام تجاویز کے ساتھ اپنی تجاویز بھی پارٹی کو بھیج دئیے ہیں لیکن چونکہ عمران خان کی طرف سے نامزدہ کردہ عہدیداران کی طرف سے یہی پلان فی الحال فائنل ہوا ہے کہ ۵ اگست کو ہر صوبے نے صوبائی تنظیم کے پلان کے مطابق چلنا ہے لہٰذا اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں۔
اردو
239
7.4K
16.2K
212.7K
@Sibtain Raza
@Sibtain Raza@136yH·
@ImranKhanPTI Khan sahb you are our proud khan sahb Allah hame Takat dy is k khilaf Larne ki
Indonesia
0
0
0
17
@Sibtain Raza retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025 “Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi. I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available. All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred. Let me make this absolutely clear: every member of the party must immediately set aside all internal differences and focus solely on the movement planned for August 5th. I do not see any meaningful momentum building behind this initiative at present. I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me. On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision. The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
English
1.1K
24.1K
39.1K
677.4K
@Sibtain Raza retweetledi
Murad Saeed
Murad Saeed@MuradSaeedPTI·
گذ شتہ برس خان صاحب کا پیغام موصول ہوا کے سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کراؤ۔ مجھے کچھ مناسب نہیں لگا کہ حلقے کی سیاست کرنے والے کو سینیٹ لڑوانا اور اس کا سینیٹ پر راضی ہوجانا دونوں ہی زیادہ دانشمندانہ باتیں نہیں لگتیں۔ دوبارہ پیغام آیا کہ لازمی اپلائی کرنا ہے، سو کیا۔ پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ جنرل الیکشن میں کاغذات ریجیکٹ ہوئے، تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ اپیل میں گیا وہاں سے بھی فیصلہ خلاف آیا۔ سینیٹ کی نامزدگی پر بھی یہی متوقع تھا یہی ہوا۔ ابھی چونکہ چھبیسویں ترمیم کے زریعے آئین کا مکمل کباڑہ نہیں نکالا گیا تھا، پارٹی نے آئی ایل ایف کے وکلاء کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ وکیل ہائیر کرکے ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا۔ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ حق میں دیا تو سینیٹ انتخابات ملتوی کردیے گئے۔ شرط ایک؛ جس نام پہ کاٹا لگا تھا اس پر کاٹا لگا رہیگا۔ ہم خدا ہیں ہمارا فیصلہ ہے اول تو ہوگا نہیں، ہوا تو جیتے گا نہیں، جیتا تو آ نہیں سکتا، آیا تو واپس نہیں جائیگا۔ اور ساتھ ہی بیانیے؛ کیا کرلیگا؟ سیٹ ضائع، ووٹ ضائع (جیسے ووٹ، اکثریت جیسی چیزیں یہ اب تلک خاطر میں لائے ہوں)۔ آج دن تک خدائی کی لڑائی جاری رہی۔ مجھے یقین ہے آگے بھی جاری رہے گی، دنوں کی بات ہے ارادے واضح تھے واضح تر ہوجائیں گے۔ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ مجھے عمران خان کے بغیر اس پارلیمانی نظام کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس کا کوئی فائدہ۔ انتخابات کی واضح اکثریت۔ فارم ۴۷ کی حکومت مسلط کرنے کے باوجود نوے سے اوپر ایم این ایز۔ سینکڑوں نمائندگان دیگر اسمبلیوں میں کیا کرپائے ہیں جو ایک سینیٹ کی نشست کر لے گی کہ جب ملک میں آئین ہی نہیں۔ جب عدل ہی تماشہ ہے اور ڈنڈے کے زور پر ڈگڈگی تماشہ لگا کر ملک کے ہر ادارے کو مافیہ کے مفادات کے تحفظ کا ننگا ناچ نچوایا جارہا ہے۔ ایسے میں کون سے ایوان کی کوئی تقدیس باقی رہ گئی ہے کہ جس کا نمائندہ بننا کوئی قابلِ تحسین امر ہو (اور جو ایوان بنا ہی ووٹ کا استحصال کرکے ہو وہاں آپ اپنے لوگوں کے حقوق کا ہی کیا تحفظ کر پائیں گے)۔ سچ کہوں تو مجھے خان صاحب کی سوچ بھی نہیں سمجھ آئی کیا کرنا ہے مراد سعید کو سینیٹر بنوا کر؟ فائدہ؟ ایوانِ بالا کا احترام نہ شبلی فراز کا گریبان بچا سکا، نہ اعظم سواتی کی چادر اور چاردیورای اور قید تو وہ ہے جو اعجاز چوہدری دو سال سے کاٹ ہی رہا ہے۔ مراد سعید کا سر کیا بچا لینا ہے اس نے؟ بہت منطق ڈھونڈی نہیں ملی تو بسم اللہ پڑھ کر دستخط کردیے۔ دوسری جانب جو بھاگ دوڑ شروع ہوئی اور جو ایڑھی چوٹی کا زور لگا تو خان صاحب کی منطق سمجھ آئی؛”آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے، کاٹا صرف اللہ کی ذات لگاتی ہے“۔ ۲۰۱۳ کے الیکشن میں جب پارٹی کے بڑوں نے میرے ٹکٹ کی مخالفت کی تو خان صاحب نے ایک جملہ کہا تھا ”مراد میرا پوسٹر بوائے ہے“۔ آپ کو اپنا پرایا، کوئی مراد سعید کے بغض میں، کوئی محبت کے لبادے میں تو کوئی کھلم کھلا عمران خان کی نفرت میں تو کوئی مایوسی میں تنکے کا سہارہ کھوجتے اور کم فہمی میں وراثت کے منجن بیچے گا، مگر میں بس یہی ہوں۔ پوسٹر بوائے؛ ایک استعارہ۔ بس یہی بتانا تھا کہ اس سے زیادہ ایڑھی چوٹی کا زور لگا لو، چاہے ایوانوں اور عدالتوں کو قحبہ خانے بنا دو، ملک کی ہر قابلِ فروخت زبان سے اپنی خدائی کے بیانیے بنوالو آج عمران خان نے آپ کی آنکھوں کے سامنے محض ایک پوسٹر رکھا ہے، جس کا ٹائٹل ہے؛ “آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے“۔ انشاءاللہ عمران خان واپس آئیگا!
اردو
1.7K
8.7K
24.4K
713.6K