Sabitlenmiş Tweet
sain
21.4K posts

sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi

sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi

اگر CSS کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہے؟ اور TCS میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن TCS پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟
آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟
آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟
آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھلیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔
اینگرو گروپ
عارف حبیب گروپ
ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلا رہے ہیں ۔
دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے ایسےپروفیشنلز جو اپنے ممالک کو آسمان تک لیے گئے اور بدقسمتی میں ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجنیئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر روعب جماتا ہے
جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے ۔اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں ہونگےعرب ممالک میں سی ایس ایس جیسا امتحان نہیں ہوتا وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے
جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں
پاکستان کو ترقی کے لئے سرکاری افسر شاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز ۔سائنسدانوں اور انجینئرز ضرورت ہے
اردو
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi
sain retweetledi

اگر تیل کی قیمت بین الاقومی منڈی میں آج کی طرح بڑھتی ہی رہی تو پاکستان میں فی لیٹر تیل کی قیمت 600 روپے سے بھی اٗوپر چلی جائےگی دو تین جھٹکوں میں اور ہماری معیشت اس قیمت کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی۔
اللہ ہمارے ملک پر رحم فرماۓ۔ اللہ ہماری معیشت کی حفاظت فرماۓ کیونکہ 600 یا 700 روپے تیل دوسری اشیا کی قیمت اتنی بڑھا دیگی کے غربت دُوگنی ہوجائے گے۔
اللہ سے رحم کی دُعا کیجیئے۔ آمین۔
اردو
sain retweetledi

























