Sabitlenmiş Tweet
Professor Rose
74.5K posts

Professor Rose
@369_Sch
اُٹھ شاہ حُسینا ! ویکھ لے، اسی بدلی بیٹھے بھیس
United Kingdom Katılım Ağustos 2024
1.8K Takip Edilen4.4K Takipçiler

@MaidahMuhammad @Hameedeez @Adeebahsanalia @allrounder_chef بےشک
خاتِم (ت کےنیچےزیر):اسم فاعل کےطورپراسکامطلب "خاتمہ کرنےوالا"یا"آخری" ہے۔
خاتَم(ت کےاوپرزبر):اسم آلہ کےطورپراسکامطلب "مہر"ہے(جیسےخط پرمہر لگاکراسےبندکردیاجاتاہے)۔
ماللہ تعالیٰ نےنبی کریمﷺپرسلسلہ نبوت کومکمل اورختم کردیاہے۔آپﷺکےبعدقیامت تک کوئی نیانبی یارسول نہیں آئےگا۔
اردو
Professor Rose retweetledi

آپ نے اصل سوال بالکل صحیح رکھا ہے، یعنی “خاتَم” (ت کی زبر کے ساتھ) عربی لغت میں ہمیشہ “آخری/مُختتم” کے معنی میں آتا ہے یا نہیں؟ اس کو جذبات سے نہیں بلکہ خالص لغت اور استعمال سے دیکھتے ہیں۔
1) “خاتَم” کا لغوی مطلب کیا ہے؟
عربی کے معتبر ترین مصادر میں “خاتَم” (بفتح التاء) کے بنیادی معانی یہ ہیں کسی چیز کا اختتام کرنے والا / مہر لگانے والا / آخر کرنے والا۔ کسی شے کا آخر اور تکمیل کرنے والا حص
حوالہ:
لسان العرب
تاج العروس
ان دونوں میں واضح ہے کہ!
“خَتَمَ الشیء” = اس کا اختتام کرنا
“خاتَم” = آخری حصہ / مہر / اختتام کی علامت
2) “خاتم القوم” عربی میں کیسے استعمال ہوتا ہے؟
عرب محاورے میں!
- “فلان خاتم القوم” کا مطلب ہوتا ہے کہ!
“وہ قوم کا آخری فرد تھا / اس کا سلسلہ اسی پر ختم ہوا”
یہی وجہ ہے کہ لغت میں “خاتم” کو!
- ending point
- concluding person
کے معنی میں لیا گیا ہے، نہ کہ صرف “باعزت یا افضل” کے۔
3) “خاتم الانبیاء” کا مفہوم کیوں مختلف نہیں ہو سکتا؟
قرآن کا لفظ ہے!
﴿وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ (الأحزاب: 40)
اگر “خاتم” کا مطلب صرف “باعزت” یا “افضل” لیا جائے تو عربی قاعدے کے مطابق جملہ یوں بنے گا!
“محمد ﷺ انبیاء میں سب سے افضل ہیں”
لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
“نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں” والی حدیث کا کیا ہوگا؟
حدیث:
صحیح بخاری
صحیح مسلم
“لا نبی بعدی”
یہ حدیث لغوی بحث کو بند کر دیتی ہے کہ “بعدی” کا مطلب کسی اور معنی میں لیا جائے۔
4) حضرت عائشہؓ والی روایت کا جواب
حضرت عائشہؓ سے جو قول منقول ہے کہ!
“خاتم النبیین کہو، لا نبی بعدی نہ کہو”
اس سے!
الفاظ کی ترجیح تو سمجھی جا سکتی ہے لیکن معنی کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ!
صحابہؓ اور تابعینؒ کا اجماع دونوں الفاظ کے ایک ہی مفہوم پر ہے:
“نبوت کا اختتام”
-5) اجماع کا مطلب کیا ہے؟
“اجماع” کوئی بعد کی ایجاد نہیں بلکہ!
- صحابہؓ کے دور سے موجود اصول ہے
- فقہ میں اسے حجت مانا گیا ہے
حوالہ:
الرسالة
امام شافعیؒ لکھتے ہیں:
جس بات پر صحابہؓ متفق ہوں وہ دین میں حجت ہے.
✔ “خاتم” لغت میں اختتام کے معنی رکھتا ہے.
✔ عربی استعمال میں “آخر/مکمل کرنے والا” معنی مضبوط ہے.
✔ حدیث “لا نبی بعدی” معنی کو واضح کر دیتی ہے.
✔ صحابہؓ اور ائمہ کا مجموعی فہم یہی ہے کہ نبوت ختم ہو چکی.
آخری بات
یہ بحث “لفظی کھیل” نہیں ہے بلکہ!
عربی لغت + قرآن + حدیث + امت کا فہم = ایک ہی سمت دکھاتے ہیں اور وہ سمت یہ ہے کہ!
نبوت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو چکی ہے۔
اب بتائیے کہ!
1 وہ کون سے برے حالات تھے کہ مرزا صاحب نبی بن کر ائے؟؟
2 ان کے آنے سے امت مسلمہ کو کیا فائدے ہوئے ؟؟
3 انہوں نے کون کون سے کام کیے؟؟
کیا آپ پیدائشی قادیانی ہیں یا بعد میں ہوئے ہیں ؟؟
اردو


25 مئی، پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دِن!
تحریک انصاف کے پُرامن اور نہتے مظاہرین پر ریاستی طاقت کا وحشیانہ و سفاکانہ استعمال، جِس نے ماں جیسی ریاست کا سارا بھرم ریزہ ریزہ کردیا۔
#PakistanUnderFascism

اردو

25 مئی 2022، پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن، نہ ہم بھولے ہیں، نہ بھولنے دیں گے۔
#PakistanUnderFascism
اردو

@MRMFsl @MaidahMuhammad مائدہ نے وغیرہ بھی ساتھ کہا
یعنی یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے تثنیہ کا نہیں۔
اردو

@369_Sch @MaidahMuhammad عربی گرائمر کے حساب سے جب ہمارے بیٹے اور ان کے بیٹے ہماری عورتیں اور ان کی عورتوں کا زکر ہو رہا ہے تو عربی میں تو دو لوگوں کیلے الگ صیغہ متعارف کروایا گیا ہے
جیسے ضرب مارنے والا ایک مرد
ضربا مارنے والے دو مرد
تو جب یہاں دو بیٹے ساتھ تھے تو تثنیہ کا صیغہ استعمال کیوں نہیں ہوا ++
اردو

عجیب زمانہ آ گیا ہے۔
اگر کوئی شخص کتاب پڑھ کر بات کرے تو اُسے “مولوی” کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی جدید ٹیکنالوجی سے علم حاصل کرے تو طنز کیا جاتا ہے:
“اوے جا چیٹ جی پی ٹی توں لکھوا لیا!”
گویا مسئلہ “علم” نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ سامنے والا سوچنے کیوں لگا؟
ذرا سوچیے…
جب بلب ایجاد ہوا تو کیا لوگوں نے کہا:
“ہم موم بتیاں ہی جلائیں گے، یہ نئی چیز ہمارے بزرگوں نے استعمال نہیں کی!”
جب جہاز بنا تو کیا دنیا نے کہا!
“نہیں! ہم اونٹوں پر ہی سفر کریں گے کیونکہ یہی روایت ہے!”
کیا جس نے ٹیلی فون ایجاد کیا تھا اس نے یہ کہا کہ صرف میں اور میری بیوی اس پر باتیں کریں گے ؟
جب انٹرنیٹ آیا تو کیا انسانیت نے اُسے چھوڑ دیا؟
نہیں۔
دنیا نے ہر نئی ایجاد کو “آلے” کے طور پر استعمال کیا تاکہ علم، سہولت اور شعور میں اضافہ ہو۔
تو پھر اگر آج کوئی شخص چیٹ جی پی ٹی ، گروک یا جدید ذرائع سے معلومات حاصل کرتا ہے تو اس میں شرمندگی کیسی؟
شرمندگی تو تب ہونی چاہیے جب انسان سوال پوچھنا چھوڑ دے، تحقیق کرنا چھوڑ دے، اور صرف وراثت میں ملی سوچ کو مقدس سمجھ کر بیٹھ جائے۔
یاد رکھئے!
عقل استعمال کرنا جرم نہیں،
عقل بند کر دینا جرم ہے۔
چیٹ جی پی ٹی قرآن نہیں، گروک قران نہیں نہ آخری اتھارٹی ہے۔
یہ ایک “ذریعہ” ہے جیسے کتاب، لائبریری، گوگل یا استاد فرق صرف یہ ہے کہ یہ معلومات تیزی سے جمع کر دیتا ہے۔
اب یہ انسان پر ہے کہ وہ تحقیق کرے، حوالہ دیکھے، غلطی پکڑے اور سچ تک پہنچے۔
اصل خطرہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اصل خطرہ وہ ذہن ہیں جو سوال سے ڈرتے ہیں۔
کیونکہ سوال کرنے والا انسان سیکھ لیتا ہے مگر طنز کرنے والا انسان وہیں کھڑا رہ جاتا ہے جہاں صدیوں پہلے تھا۔
اردو
Professor Rose retweetledi

جی بالکل، اس کی وضاحت ضروری ہے تاکہ بات خلط ملط نہ ہو۔
سورۂ آل عمران آیت 61 “آیتِ مباہلہ” کہلاتی ہے:
﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ﴾
اس آیت کے پس منظر میں نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کا واقعہ ہے۔ صحیح روایات کے مطابق جب نبی ﷺ مباہلہ کیلئے تشریف لائے تو آپ ﷺ اپنے ساتھ:
- حضرت علیؓ
- حضرت فاطمہؓ
- حضرت حسنؓ
- حضرت حسینؓ
کو لے کر آئے۔
📚 حوالہ:
صحیح مسلم
اسی بنیاد پر علماء کہتے ہیں کہ:
یہ ہستیاں یقیناً اہلِ بیت میں شامل ہیں، اور ان کی عظیم فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
لیکن اہم بات یہ ہے:
📌 اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ:
- صرف یہی اہلِ بیت ہیں
- یا ازواجِ مطہراتؓ اہلِ بیت میں شامل نہیں
کیونکہ “اہلِ بیت” کا لفظ قرآن میں سورۂ احزاب میں ازواجِ مطہراتؓ کے سیاق میں بھی آیا ہے۔
لہٰذا اہلِ سنت کا متوازن موقف یہ ہے کہ:
✔ ازواجِ مطہراتؓ بھی اہلِ بیت ہیں
✔ اہلِ کسا (علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ، حسینؓ) بھی اہلِ بیت ہیں
یعنی:
“اہلِ بیت” کو صرف ایک گروہ تک محدود کرنا درست نہیں۔
اسی لیے میں نے حضرت حسنؓ و حسینؓ وغیرہ کا ذکر “اہلِ بیت میں شمولیت اور فضیلت” کے طور پر کیا تھا، نہ کہ ازواجِ مطہراتؓ کی نفی کیلئے۔
اردو










