سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ
14.7K posts

سراٸیکی شہزادہ
@787FRM
https://t.co/VT89zi4uHB
Pakistan Katılım Ocak 2021
516 Takip Edilen508 Takipçiler
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi

غیر مقبول رائے ؛
بغیر تیاری اور بغیر بڑی تعداد کے آئے ایسے دھرنے ٹیمپو توڑنے کا سبب بنیں گے۔ اتنے کم لوگ بیٹھ زیادہ وقت کے لیے نہیں سکتے اور نا ہی موسم ساتھ دے گا۔ جس تیاری کی ضرورت ہے وہ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف نے کی ہی نہیں۔ بجائے جزباتی ہونے کے گھنٹے دو تک یہ دھرنا ختم کرنا چاہیے ۔ ہر ہفتے اڈیالہ پہنچا جائے ، ساتھ ریلیوں اور جلسوں کا سلسلہ شروع کیا جائے اور عوامی تحریک چلائی جائے۔
اردو
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi

غیر مقبول عمران خان
رجیم چینج سے پہلے عمران خان غیر مقبول نہیں تھا، عمران خان کا کور ووٹر خاموش تھا ۔ جس قدر تیز رفتار تبدیلی کی انہیں امید تھی وہ ہو نہ سکی تو لوگ مایوس ہوئے ، پھر انہی لوگوں کو رجیم چینج کے بعد سے اب تک یہی سمجھ آرہی ہے کہ وہ تیز رفتار تبدیلی آکیوں نہ سکی۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا عمران خان کا کچھ ڈس کنیکٹ ہوگیا تھا۔ عمران خان 2008 سے لیکر آج تک پاپولر پالیٹکس کا کھلاڑی ہے ۔ حکومت میں آنے کے بعد دو اڑھائی سال تک عمران خان کے روایتی جلسے جلوسوں کو بریک لگ گئی۔ اس کی وجہ سے لوگ اوجھل بھی ہوئے لیکن جیسے ہی عمران خان نے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیج وہیں پر جاپہنچی۔
نو اپریل کو عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ دس اپریل کو سارا پاکستان بغیر کسی کال کے سڑکوں پر تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا۔ عمران خان کو غیر مقبول دکھایا جارہا تھا۔ دکھانے والے کون تھے؟ جی ہاں یہی میڈیا ہاوسز جو آجکل برہنہ ہوئے پھرتے ہیں۔ وہی صحافی جو جون 2021 سے بتا رہے تھے کہ گل ہوگئی ہے ، “ تجربہ کار “ آرہے ہیں۔ یہ وہی لوگ تھے جو سندھ ہاوس میں ہونے والی سودے بازیوں میں بھی بروکر تھے ، جو سیاستدانوں کے جہازوں کے بھی ہمسفر تھے۔
یہ وہی لوگ ہیں جن کا خیال تھا کہ نشان چھین لینے سے ، کیمپین نہ کرنے سے ، عمران خان کو جیل میں ڈال دینے سے تحریک انصاف تیس چالیس تیس چالیس تیس چالیس۔ یہ وہی ہیں جن کا خیال تھا کہ اسحاق ڈار آئے گا معیشت چلائے گا۔ یہ وہی ہیں جن میں سے کسی کا پٹرول پمپ نکلتا ہے ، کسی کے لیے کسی ادارے کی چئیرمینی نکلتی ہے ، کسی کے لیے مراعات اور لاکھوں تنخواہ کی نوکری۔
یہ مری ہوئی لکیریں ہیں اب انہیں پیٹنے سے حاصل کچھ نہیں ، لیکن تاریخ کی درستی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا تب بھی ان سے طاقتور تھا لیکن اس میڈیا کی سانسیں چلتی تھیں۔ رجیم چینج اور اسکے بعد انکے زوال کو گئیر لگ گیا۔ رجیم چینج نا ہوتا تو یہ میڈیا پانچ سات سال مزید نکال جاتا۔
اب واپس پلٹتے ہیں ، دس اپریل ، یہ وہ دن تھا جب ابھی نااہلوں کے اس ٹولے نے ایک دن بھی اقتدار میں نہیں گزارا تھا ، ابھی انکے تباہ کن فیصلے بہت آگے تھے ، ابھی تو نئی حکومت آئی سٹاک مارکیٹ مستحکم ہوئی روپیہ اوپر گیا والی سوچ تھی اس کے باوجود لوگ عمران خان کے لیے بغیر کسی کال کے سڑکوں پر نکل آئے اور یہ سلسلہ پورا رمضان چلتا رہا۔ ہر روز لوگ مختلف شہروں میں نکلتے اور عمران خان سے اظہار یکجہتی کرتے۔
کچھ غلطیاں بھی ہوئیں ، کچھ کوتاہیاں بھی اور غلط سیاسی فیصلے بھی ، جن کو ماپنے کا ہر کسی کا پیمانہ اپنا اپنا جدا جدا ، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کے سیاسی و معاشی فیصلے بھی بہترین تھے اور عمران خان کی سفارتی پالیسی بھی۔ عمران خان پونے چار سال اقتدار میں رہا۔ نااہلوں کے اس ٹولے کو اقتدار سنبھالے چار سال ہوچکے ہیں۔ وہ پونے چار سال کہاں اور یہ چار سال کی ذلت و رسوائی کہاں۔
اردو
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi

اٹھارہ سال کے لڑکے اور لڑکی کی شادی ہوسکتی ہے اللہ اپنا فضل رکھے تو پچیس سال کی عمر تک وہ پانچ سات بچوں کے والدین بن سکتے ہیں ۔سولہ سترہ سال کا لڑکا فوج میں لفٹین بھرتی ہوسکتا ہے ، اٹھارہ انیس سال کا لڑکا پولیس میں اے ایس آئی ، سب انسپکٹر بھرتی ہوسکتا ہے ، بائیس تئیس سال کا لڑکا مقابلے کے امتحان میں بیٹھ سکتا ہے ۔ لیکن اس ملک میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے انہیں پچیس برس کا ہونے کا انتظار کرنا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ ملک پر ان نااہلوں کا قبضہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملکی معیشت فوجی پریڈ ہے جو بڑے باگھے والے حوالدار کی ببکار پر اٹینشن ہوجائے گی یا عدم استحکام اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال دوسرے ببکار پر ہالٹ ہوجائے گی۔ یہ نااہل چار سال کے فوجی قبضے کی لگاتار ناکامیوں کے بعد سٹھیا گئے ہیں۔
یعنی بندہ پوچھے اے ناخدائی مخلوق ، اے ہوائی مخلوق ، اے وبائی مخلوق جب مینڈیٹ ہی چھین لینا ہے تو ووٹر کی عمر پچیس سال ہو یا پچاس کیا فرق پڑتا ہے؟ اورووٹر کی عمر کی حد بڑھانے سے آپ کو فرق کیا پڑنے والا ہے؟ جن بیس اکیس بائیس سال کے ووٹرز نے آپ کو 2024 میں شکست دی اگلے عام انتخابات 2029 میں وہ ایک بار پھر ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔ آپ روک کن لوگوں کو رہے ہیں؟
آپ ان کو روک رہے ہیں جن کے مستقبل کو آپ نے مکمل برباد کردیا ہے۔ ایک صوبہ علیحدگی پسندوں کے قبضے میں کے دوسرے میں شدت پسند ہیں۔ تیسری ریاست کشمیر ہے جو اب آپ سے بھی آزادی چاہتی ہے۔ معیشت جام کردی ہے۔ اس ملک کا دوسرا بڑا ایمپلائر امارات آپ نے ناراض کردیا ہے اور پاکستانی نوجوان وہاں سے نکالے جارہے ہیں۔
اگلے پانچ سال میں دو کروڑ نوکریوں کا شارٹ فال ہوگا۔ تین کروڑ گھروں کا شارٹ فال ہوگا۔ چالیس لاکھ بچے سکول سے باہر ہوں گے۔ تجارت آپ نے بند کررکھی ہے۔ آپ نے صحت کارڈ جیسی سہولت چھین لی ہے ، آپ نے سرکاری سکول ٹھیکے پر چڑھا دیے ہیں ، آپ نے آپ کی نااہلی نے اور آپ کی ناکامی نے اس ملک کو جکڑ لیا ہے۔
جن سے آپ نے سب کچھ چھین لیا ہے انکو دینے کے لیے آپ کے پاس پاک فوج میں بھرتی کا سنہری موقع والا اشتہار بچا ہے۔ اس میں بھی اب کشش نہیں بچی۔ مدتوں بعد آپ سکولوں کالجوں میں جا جا کر بھرتی اسٹال لگا رہے ہیں مساجد میں اعلان کررہے ہیں۔ آپ بلاتے ہیں کوئی آتا نہیں۔ ایک دن یہ محروم آئیں گے ، بن بلائے آئیں گے۔
اردو
سراٸیکی شہزادہ retweetledi
سراٸیکی شہزادہ retweetledi

بلاگ نامہ
مذاکرات میں سے کتا نکال دیا گیا ہے۔ خبروں میں ٹرمپ کا دورہ چین ہے۔ اسکی کامیابی اور ناکامی کا اندازہ اگلے ہفتے ڈیڑھ میں آبنائے ہرمز کی صورتحال سے ہوگا۔ جھوٹی امیدوں اور خودساختہ پذیرائیوں کے ماہر ٹرمپ کے دورہ پاکستان کی امید لگائے بیٹھے رہے۔ اگرچہ یہ دورہ ہو بھی جاتا تو فوج کی ناکامیوں کو کوئی بریک نہیں لگنے والی تھی لیکن بہترحال یہ زندہ لاشوں میں کچھ دنوں کے لیے جان ڈال دیتا اور یہ پذیرائی پذیرائی اور اہمیت اہمیت پیٹتے رہتے۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ لاہور جارہے ہیں۔ جلسے کے دو دن بعد بتایا کہ لاہور نہیں جارہے۔ پھر بتایا کہ وہ لاہور کی بجائے میانوالی اور فیصل آباد جارہے ہیں۔ وہاں بھی نہیں گئے۔ آخری مرتبہ ہر طرح کی رکاوٹوں کے باوجود کراچی میں ہزاروں کا مجمع تھا لیکن سہیل آفریدی نے بجائے مومینٹم جاری رکھنے کے تین چار مہینے کوئی سیاسی ایکٹویٹی کی ہی نہیں۔ اب ایک بار پھر سہیل آفریدی کو لالی پاپ دیا گیا ہے کہ جلد سب ٹھیک ہوجائے گا جس کے لیے خاموشی ضروری ہے۔ سہیل آفریدی کو یہ لالی پاپ سوٹ بھی کرتا ہے کہ اس کو چوسنے میں نا کرسی کو کوئی خطرہ نا کور کمانڈر کی ناراضی نا ہی کوئی مشقت اور نا ہی کوئی بوجھ۔
پرانے ٹرک پرانی بتیاں اور ان بتیوں کے پیچھے لگنے والے وہی معصوم لوگ۔ اگرچہ اب بار بار کی اسی روٹین کے سبب معصوم سے زیادہ توت کے ڈھکن کہلائے جانے کے لائق ہیں۔ عمران خان سے جیل میں کسی شخص کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ عمران خان اگست ، ستمبر ، اکتوبر میں ہر گز رہا نہیں ہوگا۔ پیپلزپارٹی اور فوج میں نا کوئی کھینچا تانی ہے اور نا ہی ایسی کسی کھینچا تانی سے تحریک انصاف کے لیے کوئی گنجائش نکلنے والی ہے۔ یہ وہی پرانا والا امید دلاؤ پروگرام ہے جو اب اٹھائیسویں دفعہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حسب عادت ، حسب توفیق ، حسب سابق ولاگرز ، تحریک انصاف کی قیادت اور عوام اسکو ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں ، لیتے رہیں۔ یہ وہ تھوک ہے جو ان لوگوں نے بار بار چاٹا ہے۔
اس ملک میں چھوٹے چھوٹے فرعون کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ ہر فرعون کے اوپر ایک فرعون ہے جو اسے اسکی اوقات میں رکھتا ہے۔ سب سے بڑے فرعون کے اوپر ایک فرعون ہے جو سرعام کہتا ہے کہ اس نے مجھ سے ڈیل لینے کے لیے میری تشریف کو چوما۔ اس فرعون زدگی میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی کیا اوقات۔ اسکے اوپر بہت سارے فرعون ہیں جو یقینا اسکو روزانہ گھسیٹتے ہوں گے۔ یہ پھر اپنی شرمندگیاں ایسے ہی نکالتے ہیں۔ بلاول زرداری نے جو کچھ شازیہ مری کیساتھ کیا ہے یہ بھی وہی کچھ ہے جو ایک فرعون اپنے سے چھوٹے فرعون کیساتھ کرتا ہے۔ مریم نواز اسی لیے عظمی بخاری اور مریم اورنگزیب جیسوں کے جھرمٹ میں ہوتی ہے کہ جیسا چاہا سلوک کرلیا نا کوئی گلہ نا کوئی اعتراض۔
اردو
سراٸیکی شہزادہ retweetledi

ڈالرز کا مقدمہ اور مختصر اعتراضات و جوابات
مقدمہ آخر میں اور اعتراضات بعد میں
تم ڈالر کماتے ہو !
جی ہاں کچھ پاونڈ یورو ڈالر وغیرہ کماتا ہوں۔ لیکن سوشل میڈیا سے اور ان اکاونٹس سے نہیں کماتا ہوں۔
تم باہر بیٹھ کر تنقید کرتے ہو !
جی دراصل ملک میں بیٹھ کر وہ کرنے نہیں دیتے۔
اتنے ہمت والے ہو تو پاکستان آکر دکھاؤ !
جی ہمت والا ہوتا تو بے نامی اکاونٹ نہ بناتا
تم انتشار پھیلاتے ہو !
نہیں جی رائے دیتا ہوں۔ گالم گلوچ نہیں کرتا ہوں۔ جلاؤ گھیراؤ مار دو کا پرموٹر نہیں ہوں۔ احتجاج کے خلاف کی گئی پوسٹس اور مروت و گنڈاپور کے حق میں کی گئی لاتعداد پوسٹس آج بھی اس امر کی گواہی دیتی ہیں۔
آؤ تم آکر عہدہ سنبھال لو !
نہیں جی بہت پہلے سے ہی عہدے چھوڑنے کی ترغیب دے رہا ہوں کہ جہاں ہاتھ پاؤں بندھے ہیں وہ جگہ چھوڑ دیں۔
تم فلاں کے ہمدرد ہو فلاں کی لابئنگ کرتے ہو !
یہ الزام دو طرفہ ہے۔ اسکے حمایتی اسکا ناقد سمجھتے ہیں اور ان کے ناقد ان کا حمایتی اس کا مطلب ہے کہ کسی کا ہمدرد نہیں ہوں۔
تم بے نامی اکاونٹس سب سے بڑا مسئلہ ہو !
نہیں جی بے نامی اکاونٹس والی وباء رجیم چینج کے بہت بعد ملک سے آئین و قانون کے مکمل خاتمے کے بہت بعد میں پھیلی۔
بارہا لکھا ہے کہ ٹاپ والے دو تین چھوڑ کر کوئی بھی شخص بے تحاشا پیسے نہیں کما رہا۔ دس بارہ لوگ ہوں گے جو ماہانہ تین چار ہزار ڈالرز سے زیادہ کماتے ہوں گے۔ اگر یہ سب پیسوں کے لیے کررہے ہوتے تو فوج آج ان سب کو پانچ سات گنا رقم آفر کردے اور اپنی طرف کرلے۔
میں نے خود کئی دفعہ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھا ہے کہ میں یہ کام فل ٹائم شروع کرلوں اکاونٹس مونیٹائز کروا لوں گھر میں بیٹھ کر پڑھوں لکھوں ویڈیوز بناؤں نا کوئی بوجھ نا جوابدہی ، ہر انڈسٹری جدید ٹیکنالوجی سے متاثر ہے ، میرے والی کچھ زیادہ ہے ۔ لیکن پھر بھی رسک لینے کی ہمت نہیں ہے ۔ بہت سارے قابل لوگوں کو جانتا ہوں جو یہ چاہتے ہیں کہ وہ یوٹیوب شروع کریں لیکن وہی بات کہ وہ اپنے اپنے موجودہ سلسلوں کو داؤ پر نہیں لگانا چاہتے۔
میڈیا چینلز ، اخبارات ترلے پر نہیں اشتہارات پر ہی چلتے ہیں اور پیسے ہی کماتے ہیں۔ بلکہ سیٹھ کے جائز و ناجائز کاروباروں کا تحفظ کرتے ہیں۔ کبھی کسی نے انکو ڈالر کمانے کے طعنے دیے؟ سو دو سو ڈالر پے آوٹ نا حرام ہے اور نا ہی ناجائز۔ یہ کرئیٹر کی محنت ہے۔ آپ کا اس کا کانٹینٹ پسند نہیں آتا بلاک کردیجیے۔ سوشل میڈیا موجودہ دور کی حقیقت ہے۔ اس کو تسلیم کرلیجیے۔ اس پر وہ اعتراضات مت کیجیے جو کرتے ہوئے آپ نہایت بھونڈے شخص معلوم پڑتے ہیں۔ دو طرفہ کمیونیکیشن ہے۔ دلیل دیجیے۔ نہیں دے سکتے تو بکواس بند کیجیے۔
اردو



