
Abdul Basit Pracha
56.6K posts

Abdul Basit Pracha
@ABPracha
Electrical Engineer from NED Born in Lahore educated Muslim Model lhr Born Journalist involve in Publishing Daily News papers Mujahid Lhr & Anjam Kchi 30yrs





پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیرمین بھٹو صاحب کی پھانسی کا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہے جِس کی عدالتی تاریح میں نظیر نہیں مِلتی. سب سے پہلے تو اِس کیس کو ڈائریکٹ لاہور ہائیکورٹ میں چلایا گیا یعنی بھٹو صاحب کو کیس کے آغاز میں ہی لوئر کورٹس میں سماعت اور یائیکورٹ میں فیصلے پر پہلی اپیل کے حق سے محروم کر دیا گیا. اِس کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں کیس چلایا گیا تو بھٹو صاحب سے ذاتی بغض رکھنے والے جسٹس مولوی مشتاق کو سماعت کرنے والے بنچ کا سربراہ بنایا گیا جِس نے پوری سماعت کے دوران بھٹو صاحب سے اپنے عناد کا بھرپور مِظاہرہ کیا. مارشل لا کا دور تھا اِس لئے مولوی مشتاق کو کُھل کھیلنے کا موقع مِلا اور باالاآخر لاہور ہائیکورٹ سے بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سُنا دی گئی. لاہور ہائیکورٹ والا تمام سین سپریم کورٹ میں جسٹس انوارالحق کی سربراھی میں دہرایا گیا اور تین کے مقابلے میں چار ججوں کی رائے سے سپریم کورٹ نے پھانسی کا فیصلہ برقرار رکھا. اِس فیصلے کی حقیقت اِس بنچ کے ایک رکن جسٹس نسیم حسن شاہ نے کافی عرصہ بعد اپنے ایک انٹرویو میں اِس طرح بیان کی کہ ہمارے اُوپر اتنا دباؤ تھا کہ ہمارے پاس پھانسی کا فیصلہ برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں تھا. جسٹس نسیم حسن شاہ بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی بنے. بھٹو صاحب کی پھانسی کا فیصلہ اب تاریح کا حِصہ ہے لیکن یہ فیصلہ کبھی کِسی بھی کیس میں بطور حوالہ پیش نہیں کیا گیا۔ #SalamShaheedBhutto


























