Engr. Ihsan Ullah Khan

4.8K posts

Engr. Ihsan Ullah Khan banner
Engr. Ihsan Ullah Khan

Engr. Ihsan Ullah Khan

@ANPSpox

| Central Spokesperson @ANPMarkaz | IR & Public Policy| | Socialist Democrat | Author | Poet & Composer| | Intersctnl Feminist | Engineer| Energy Consltnt|

Islamabad Katılım Mayıs 2015
1.4K Takip Edilen15.3K Takipçiler
Engr. Ihsan Ullah Khan
Necause the structural legacy of colonialism remains virtually untouched; the very families that once pledged fealty to the East India Company have simply transferred their allegiance to the modern 'Khaki Company.' For Pakhtunkhwa and Balochistan, this means the colonial paradigm never truly ended—only the rulers changed."
Ch Fawad Hussain@fawadchaudhry

They are still in 1920

English
1
6
12
255
Engr. Ihsan Ullah Khan
**عوامی نیشنل پارٹی پر دہشت کا نیا وار ۔ یہ کوئی معمول کا سیکیورٹی الرٹ نہیں ہے۔ یہ ہماری قیادت کے خلاف کھلی دھمکی ہے، یہ ہمارے خون سے لکھی گئی تاریخ پر وار ہے، اور یہ پختونخوا کی روشن خیال سیاست کو کچلنے کی منظم سازش ہے۔ **میاں افتخار حسین** — وہ عظیم لیڈر جنہوں نے اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کی قربانی دے کر سرخ جھنڈے کو سربلند رکھا، جن کی بے مثال جدوجہد اور لہو سے لتھڑی ہوئی استقامت ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے — انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ الرٹ صرف ایک شخص کا نہیں، بلکہ پورے پختونخوا میں ہر اس شخص کے لیے موت کی دھمکی ہے جو **سرخ جھنڈے** کے نیچے کھڑا ہے، جو سیکولر سیاست کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے، اور جو دہشت گردی کی تاریکی کے خلاف روشنی کی لڑائی لڑ رہا ہے۔ جنوبی اضلاع میں ہمارے کارکن آج بھی روزِ محشر گزار رہے ہیں۔ ہر گھر میں خوف، ہر سڑک پر خطرہ، ہر صبح نئی دھمکی۔ خون بہہ رہا ہے، مگر پشاور کی خوشحال وادیوں تک ان مظلوم کارکنوں کی چیخیں نہیں پہنچ رہیں۔ کچھ لوگوں کے کان تو سننے سے معذور ہو چکے ہیں، ان کے ضمیر Resonance کا شکار ہو چکے ہیں — وہ نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں، نہ شرماتے ہیں۔ سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اس خونریزی پر **مکمل خاموشی** اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کی آنکھیں بند ہیں، ان کے کان بند ہیں، اور ان کا ضمیر مردہ ہو چکا ہے۔ وہ صرف تماشائی بن کر بیٹھے ہیں جبکہ ہمارے لوگ نشانے پر ہیں۔ یہ خاموشی غفلت نہیں، بلکہ **سازش** کا حصہ لگتی ہے۔ **ہمارا
اردو
1
25
50
473
Engr. Ihsan Ullah Khan
په تیارو کې چې د لمر په لورې درومي دا مزل دے د ریښتینو لارویانو لار د مینې که هر څو اغزنه ښکاري دا سفر دے د ازل د عاشقانو مونږ ته سولې او د مینې سبق ياد دا مسلک دے له پخوا د مینانو ته د خِرد خبرې مه کړه په محفل کې دلته راج دے د وحشت د سالارانو دا احسان چې په رڼا باندې شېدا دے شمعه بله دے په لار د ملنګانو دا چې دار ته په خندا روان دي ګوره دا کاروان د باچا خان د پلویانو احسان
PS
5
30
62
1.6K
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Awami National Party
Awami National Party@ANPMarkaz·
اے این پی تمام پختون قبائل کو اپنے سروں کا تاج سمجھتی ہے، قبائلی عوام کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کسی صورت قبول نہیں، احسان اللہ خان #ANP | #AwamiNationalParty | #IhsanUllahKhan
Awami National Party tweet media
اردو
10
35
97
4.2K
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
اسمروجہ اصول، فیشن اور روایات تو لباس، رہن سہن اور ظاہری چیزوں کے لیے ہوتے ہیں؛ شاعری ان تمام مادی اور سطحی حدود سے بہت بالاتر اور ماورا ہے۔ شاعری کو کسی مروجہ قانون یا شرائط کے ترازو میں تولنا ہی اصولی طور پر غلط ہے۔ نہ تو گائیکی اور ترنم اس کا حقیقی معیار ہیں اور نہ ہی محض تکنیکی مہارتیں کسی کو بڑا شاعر بنا سکتی ہیں، کیونکہ یہ چیزیں تو کوئی بھی مشق سے سیکھ سکتا ہے۔ سچی اور بڑی شاعری کسی موروثی ورثے کی مرہونِ منت بھی نہیں ہوتی، بلکہ اس کا سارا مدار صرف اور صرف 'نادر اور بلند خیالات' پر ہوتا ہے۔ یہی اچھوتی، آزاد اور ماورا فکر کلام کو لازوال بناتی ہے۔
اردو
0
0
0
13
Shireen khan
Shireen khan@ShireenKhanUtk·
@ANPSpox علامہ اقبال اور خوشحال خان خٹک کے موازنے کا کوئی تک بنتا ہی نہیں ھے۔ خوشحال خان خٹک کس حیثیت میں علامہ اقبال سے بڑے ہیں؟ پختون کلچر میں خوشحال خان خٹک کی کتنی غزلیں، یا شاعری مروج ہے یا لوگ گاتے گنگناتے ہیں؟
اردو
2
0
0
38
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
@ShireenKhanUtk خوشحال خان خٹک ایک منفرد اور اچھوتے خیالات کے مالک شاعر تھے۔ انہوں نے کئی ایسے موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے جن کی نظیر فارسی ادب میں بھی نہیں ملتی۔ اور قطعیت کے ساتھ تو درجہ کرنی ہی نہیں چاہیے ۔ کئی علما کے نزدیک میر انیس ، میرے تقی میر دے بڑے شاعر ہے ۔
اردو
0
0
1
26
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
@JUIAnswersBack صوفی ہونے سے خیالات روحانی ضرور ہوجاتے ہیں مگر نادر نہیں ، آپکی پہلی بات سے اتفاق ہے ۔ غالب کے ہاں آپکو "حافظ" ملے گا۔ ہمارے استاد @UsmanQazi1 نادرالخیال شعرا کے بارے کافی علم رکھتے ہیں ۔
اردو
0
0
1
25
JUI Answers Back
JUI Answers Back@JUIAnswersBack·
@ANPSpox ایسے ہی درجنوں خیالات خوشحال خٹک کی بھی جمع کی گئی ہے جو ہو بہو قدیم فارسی کلام میں موجود ہیں ،جمیل یوسفزئی نے جمع کیا ہے،بیسوں اشعار ہیں اقبال اور خوشحال دونوں کے شاعری کا ڈومین الگ ہیں دونوں بڑے ہیں رحمان بابا صوفی شاعر ہے آپ کیسے ان کو کمتر کر رہے ہیں
اردو
1
0
1
60
Ijaz Khan
Ijaz Khan@ijazkhan·
@ANPSpox Someone should tell him Iqbal respected Khushal so much that a Punjabi lady Dr. Khadija fid her PhD on Khushal Baba on the advice if Iqbal. Khushal Rehman Iqbal are in no competition & all r great poets in their own right
English
4
0
1
106
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
"زیست مشکل ہے، اسے اور بھی مشکل نہ بنا " زندگی اپنی جبلت میں مشکل سہی، مگر انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وجود کے کرب کو جہنم بنانے میں بیرونی حوادث سے زیادہ ہماری اپنی خود ساختہ زنجیروں کا ہاتھ رہا ہے۔ ہر خطے اور سماج کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، بلکہ دنیا کے کئی گوشوں میں تو ہم سے کہیں بڑھ کر مصائب کی دھوپ تپ رہی ہے، لیکن خود کو فکری و نفسیاتی بیڑیوں میں جکڑ کر اپنے ہی زخموں میں اضافہ کرنے کے ہنر میں ہمارا معاشرہ منفرد و یکتا ہے۔ اب تو گھٹن ایک عمومی چلن بن گیا ہے، خیالِ تازہ کے لیے کوئی در، کوئی روزن دستیاب نہیں، اور دھیمک زدہ فکر و خیال نے انسانوں کو آسیب بنا دیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آئینے کا استعمال کم ہو گیا ہے؛ ورنہ پہلے پہل کب ایسا تھا؟ لڑکپن کے زینے پر پہنچتے ہی جیب میں ایک چھوٹا سا آئینہ ضرور ہوتا تھا، کیونکہ تب شاید لوگ خود سے ڈرتے نہیں تھے ۔ ہم نے ایک ایسے معاشرے کو تخلیق کیاہے، جو خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے؛ اور یقیناً یہ وہ زندگی نہیں جس کے ہم مستحق تھے۔ المیوں اور حوادث سے غموں کے سائے گہرے ضرور ہوتے ہیں، مگر یہ محض ایک ادھورا سچ ہے، کیونکہ انسانی خمیر کا یہ ایک غیر اختیاری اور مابعد الطبیعیاتی پہلو ہے کہ وہ شدید ترین تاریکی میں بھی روشنی کی کرن اور غموں کے سائے میں بھی مسرت کا کوئی نہ کوئی اشارہ پا لیتا ہے، مگر ہم نے اس فطری ورثے کو خود اپنے ہاتھوں سے مسخ کر دیا ہے۔ آج ہماری فکری تقسیم اس وحشت ناک نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں اخلاقیات کے تمام پیمانے الٹ گئے ہیں اور اب مظلوموں و محکوموں کے بطن سے انھی کے اپنے ظالموں نے جنم لے لیا ہے۔ تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو ایک دور وہ تھا جب ہر قبیلے کا اپنا ایک الگ دیوتا ہوتا تھا، مگر ان کے مقابل کھڑی شیطانی قوت سب کے لیے یکساں تصور کی جاتی تھی؛ ماضی میں دیوتاؤں پر ملکیت کا دعویٰ ہوا کرتا تھا، مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مقابلہ اور مسابقت اپنی اپنی مظلومیت کو لے کر ہو رہا ہے۔ معاشرے میں ایک ایسا تاریک کھیل شروع ہو چکا ہے جہاں ہر گروہ یہ ثابت کرنے کی دوڑ میں ہے کہ اس کا دکھ دوسرے سے بڑا اور اس کا زخم دوسرے سے گہرا ہے۔ اسی فکری پستی اور اندھی دشنام طرازی کا ایک دلدوز باب آج پختون سیاسی بیانیے کے صفحات پر رقم ہو رہا ہے، جہاں تحرک اور نظریے کی جگہ متبذل عداوت نے لے لی ہے۔ سیاسی آویزش جب تہذیبی رشتوں سے کٹ جائے، تو تاریخ کے مآخذ اور اسلاف کی روایات پامال ہونے لگتی ہیں۔ مروجہ کشمکش میں پشتونولی کے وضع کردہ تمام اخلاقی ضابطے اس شرمناک نہج پر روند دیے گئے ہیں جہاں فخرِ افغان باچا خان اور رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان جیسی عبقری اور تاریخ ساز قامتوں کو لایعنی اور نازیبا الفاظ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ​یہ زوال محض کسی جذباتی کج روی کا نےیجہ نہیں ، بلکہ اس فکری بانجھ پن کا نوحہ ہے جو کسی بھی زندہ تہذیب کے تخلیقی جوہر کو گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ عمرانیات اور سیاسی شعور کے کسی بھی قاری کے لیے اس سے بڑا فکری المیہ کیا ہوگا کہ اس ہرزہ سرائی پر دوسری طرف کے صفوں میں چھائی مجرمانہ خاموشی اور درپردہ پزیرائی کو مصلحت کا نام دے دیا گیا ہے۔ کسی ایک صاحبِ قلم یا ذمہ دار فرد نے بھی ان اخلاق سوز رویوں کی فکری ناکہ بندی نہیں کی۔ یہ تغافل گواہ ہے کہ پندارِ حق کے سراب نے ہم سب سے اسلاف کے احترام اور اخلاقی جرات کی وہ آخری تہذیبی جڑ بھی کاٹ دی ہے جو کسی قوم کو تاریخ کے حافظے میں زندہ رکھتی ہے۔ ​ اگر ہم پچھلی 35 برس سے زائد، فکری، سیاسی اور سماجی سفر کا بے لاگ اور بے رحم احتساب کریں، تو یہ تلخ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہم نے ایک پائیدار فکری مقدمہ قائم کرنے کے بجائے، اپنے معاشرے کی عمارت کو ہمیشہ فرضی خدشات اور جذباتی سیاسی خواہشات کے ریتلے ستونوں پر استوار کیا۔ اسی فکری دیوالیہ پن کا نتیجہ ہے کہ آج استدلال اور شائستگی کا میدان تو ویران ہے، مگر دشنام طرازی کے نئے نئے اسالیب کی ایجاد میں ہر گروہ کمالِ فن کا دعویٰ دار ہے، جہاں کان کسی ایک بھلی، متوازن اور تعمیری بات کو سننے کے لیے ترس گئے ہیں۔ ​اس ہمہ گیر انحطاط کا نقطۂ عروج وہ فکری جمود ہے جہاں ہر دھڑا اپنے پندارِ حق کے اس زعمِ باطل میں مبتلا ہے کہ گویا وہ "مقامِ محمود" پر فائز ہو چکا ہے۔ تاریخ اور فلسفے کی رو سے، جب کوئی گروہ خود کو مبرّا عن الخطا اور سچائی کا واحد اجارہ دار فرض کر لے، تو وہاں علم کی نمو رک جاتی ہے، بحث دم توڑ دیتی ہے اور مکالمے کا جنازہ نکل جاتا ہے؛ کیونکہ مکالمہ تو نام ہی پندارِ حق کے بت کو توڑنے، اپنی غلطی کے اعتراف اور تفہیمِ باہمی کی گنجائش پیدا کرنے کا ہے۔ چلتے چلتے حمایت علی شاعر کا شعر ضرور پڑھیے گا۔ اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا احسان اللہ خان
اردو
1
3
13
221
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
په تیارو کې چې د لمر په لورې درومي دا مزل دے د ریښتینو لارویانو لار د مینې که هر څو اغزنه ښکاري دا سفر دے د ازل د عاشقانو مونږ ته سولې او د مینې سبق ياد دا مسلک دے له پخوا د مینانو ته د خِرد خبرې مه کړه په محفل کې دلته راج دے د وحشت د سالارانو دا احسان چې په رڼا باندې شېدا دے شمعه بله دے په لار د ملنګانو دا چې دار ته په خندا روان دي ګوره دا کاروان د باچا خان د پلویانو احسانپه تیارو کې چې د لمر په لورې درومي دا مزل دے د ریښتینو لارویانو لار د مینې که هر څو اغزنه ښکاري دا سفر دے د ازل د عاشقانو مونږ ته سولې او د مینې سبق ياد دا مسلک دے له پخوا د مینانو ته د خِرد خبرې مه کړه په محفل کې دلته راج دے د وحشت د سالارانو دا احسان چې په رڼا باندې شېدا دے شمعه بله دے په لار د ملنګانو دا چې دار ته په خندا روان دي ګوره دا کاروان د باچا خان د پلویانو احسانپه تیارو کې چې د لمر په لورې درومي دا مزل دے د ریښتینو لارویانو لار د مینې که هر څو اغزنه ښکاري دا سفر دے د ازل د عاشقانو مونږ ته سولې او د مینې سبق ياد دا مسلک دے له پخوا د مینانو ته د خِرد خبرې مه کړه په محفل کې دلته راج دے د وحشت د سالارانو دا احسان چې په رڼا باندې شېدا دے شمعه بله دے په لار د ملنګانو دا چې دار ته په خندا روان دي ګوره دا کاروان د باچا خان د پلویانو احسان
Engr. Ihsan Ullah Khan tweet media
PS
2
10
36
411
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
ژوند بې سازه دی مزه نشته ملنګه په رباب کې دې نغمه نشته ملنګه په کچکول کې دې پراته کهکشانونه کوټڼۍ کې دې ډېوه نشته ملنګه غلامۍ تورې پنجرې نه د وتلو د دې خلکو اراده نشته ملنګه د پرون سره مارکسسټان سپين تالب ان شول سلامته....... نظریه...... نشته..... ملنګه خپل سپېڅلي باباګان يې ټول بربنډ کړل یو کارکن هم سنجیده نشته ملنګه انقلاب يې داسې ځای کې دی ښخ کړی چې د ګور يې نښانه نشته ملنګه سعود بنګښ Lyrics: Saud Bangash Music & Composition: Ehsaan Label: SilkRoute Records. Listen to Jwand Be Saaza de Maza Nishta Malanga. by Indus Reverie (Ehsaan) on #SoundCloud on.soundcloud.com/ZabJYfjb0dV6Uj…
PS
0
12
27
1.6K
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
مدام به دغه شانې نه یم، بدل به شم مدام به دغه شانې نه یم، بدل به شم دې عاجزۍ ته مې کوز مه ګوره، چې خه به نه شي د. کائنات. را لرزو لو په تکل. به. شم Lyrics: Afrasiab Khattak MUsic & Composition: Ehsaan Listen to Moudam Ba Dagha Shaane. by Indus Reverie (Ehsaan) on #SoundCloud on.soundcloud.com/wheTzu3knRVPIQ…
2
17
43
3.3K
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Aimal Wali Khan
Aimal Wali Khan@AimalWali·
ایک طرف ملک بھر میں جشن منایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف بنوں سے آنے والی خبریں اور ویڈیوز واضح کر رہی ہیں کہ پشتونوں کی زندگیاں ریاستِ پاکستان کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ ہم بارہا مطالبہ کر رہے ہیں کہ دہشتگردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں، مگر آج بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذمہ داران ایک دوسرے پر الزامات لگا کر آگے بڑھ جائیں گے، اور ہم لاشیں ہی اٹھاتے رہیں گے۔ جشن پختون بھی منانا چاہتے ہیں، لیکن ایک ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن بھی قائم کیا جائے تاکہ کم از کم ہمیں اپنے قاتلوں کا تو علم ہو سکے کہ گزشتہ 50 سال سے ہمیں کس نے مارا؟ اللہ بنوں کے شہداء کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو صحتِ کاملہ نصیب فرمائے۔
اردو
76
219
720
29.1K
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
"کوچه‌های بی‌صدا، کتاب‌های خسته" کوچه‌های بی‌صدا، کتاب‌های خسته شهری که در سکوت، چشمانِ خود بسته آوازی در گلو، یخ‌زده در سرما این بغضِ بی‌نفس، مانده در این دل‌ها در سینه‌ها هنوز، جرقه‌ای نهان است در خاکِ سردِ شب، آتش جوان است زمستان است، اما ریشه‌ها بیدارند در زیرِ این خاک، امید را می‌کارند تبر به شاخه زد، اما تنه زنده‌ست در دلِ این تاریکی، خورشید آینده‌ست احسان #SoundCloud on.soundcloud.com/fF565lln6636wC…
Mardan, Pakistan 🇵🇰 فارسی
0
4
8
992
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Awami National Party
Awami National Party@ANPMarkaz·
جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان نے خود امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا۔ پاکستان کو جنگی پالیسیوں سے دور رہتے ہوئے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔ #ANP | #AimalWaliKhan
اردو
2
30
82
1.4K
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Awami National Party
Awami National Party@ANPMarkaz·
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینٹ اجلاس میں خطاب: 🟥 اگر پاکستان عالمی تنازعات میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تو ہمیں اپنے اندرونی مسائل پر بھی اسی سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے 🟥 چار سدہ میں ایک عالم دین مولانا شیخ ادریس صاحب کی شہادت ہوئی، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے 🟥 حال ہی میں حیات آباد میں دہشت گردوں کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، مالاکنڈ، سوات اور بونیر جیسے علاقے ریاست کے مکمل کنٹرول میں کیوں نہیں؟ 🟥 پختون قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں، مگر آج بھی یہ سوال موجود ہے کہ دہشت گردوں کو واپس لا کر کس پالیسی کے تحت آباد کیا گیا اور ریاستی رٹ کہاں ہے؟ 🟥 اے پی ایس کے واقعے کے بعد پشاور میں ہونے والے جرگے میں بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان میں واضح طور پر یہ بات شامل تھی کہ سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی 🟥 لیکن افسوس ہے کہ جنہوں نے ہزاروں دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کیا، اور جنہوں نے سہولت کاری کی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ 🟥 ہمیں آج تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن معاہدوں کے تحت یہ سب کچھ کیا گیا۔ 🟥 ہر حملے کے بعد یہی کہا جاتا ہے کہ یہ افغانستان سے ہوا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ریاست کا کنٹرول کہاں ہے؟ 🟥 میری طرف سے صرف یہ درخواست ہے کہ اگر کسی کو طبی سہولت درکار ہو تو اسے فوری طور پر ڈاکٹر اور مناسب طبی سہولت فراہم کی جائے 🟥 اگر بیرونِ ملک علاج یا معائنے کے بیانات کا مسئلہ ہے تو ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اندر جا کر بشریٰ بی بی اور عمران خان سے ملاقات کرے اور حقائق قوم کے سامنے پیش کرے 🟥ہم ماضی میں بھی جب کسی کو صحت کا مسئلہ ہوتا تھا تو سیاست سے بالاتر ہو کر انسانیت کی بنیاد پر اس کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ 🟥 کیا ڈی آئی خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، کرک اور ہنگو جیسے علاقوں میں ریاستی رٹ موجود ہے؟ 🟥 آج بھی کہیں “گڈ اور بیڈ” کی تقسیم جاری ہے، کہیں امن کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں 🟥 مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ میں اپنے مسائل لے کر کہاں جاؤں۔ صوبہ وفاق کی طرف بھیجتا ہے اور وفاق صوبے کی طرف۔ عوام کو فٹبال بنا دیا گیا ہے 🟥 میں گزارش کرتا ہوں کہ ان مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے 🟥 پاکستان کی بہتری اسی میں ہے کہ ہم جنگی سوچ کو ختم کر کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کریں اور تجارت کو فروغ دیں 🟥 ملک میں مہنگائی، تیل کی قیمتوں اور معاشی مسائل پر بھی فوری غور کیا جائے کیونکہ عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں #AimalWaliKhan | #ANP | #SenateOfPakistan @AimalWali
اردو
5
60
137
1.7K