Engr. Ihsan Ullah Khan

4.7K posts

Engr. Ihsan Ullah Khan banner
Engr. Ihsan Ullah Khan

Engr. Ihsan Ullah Khan

@ANPSpox

Central Spokesperson @ANPMarkaz

Islamabad Katılım Mayıs 2015
1.3K Takip Edilen15.3K Takipçiler
Engr. Ihsan Ullah Khan
موجودہ معاشی مسائل کسی بھی طور اٹھارہویں آئینی ترمیم نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ترمیم کو مزید آگے لے کر نہیں لے جایا گیا، ابھی بھی وفاق کے پاس ایسے صوبائی وزارتیں اور محکمے ہیں جن کس کا بوجھ وفاق اٹھا رہی ہے۔ یہ صوبوں کو منتقل ہوجانے چاہیئے تھے۔ صوبوں میں بھی صوبائی فنانس کمیشن بننے چاہیئے تھے۔ وفاق سے اختیارات صوبوں اور صوبوں سے مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل ہوجانے چاہیئے تھے۔ ہم نے تجویز دی ہے کہ مقامی حکومتوں کو باقاعدہ طور پر آئین کا حصہ بنایا جائے۔ احسان اللہ خان مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی #ANP | #PetrolPrices
اردو
1
11
12
186
Engr. Ihsan Ullah Khan
2021 میں عالمی سطح پر کروڈ تیل 144 ڈالر فی بیرل جبکہ پاکستان میں شرح مبادلہ 158 روپے فی ڈالر تھا۔ اس وقت پاکستان میں ڈیزل کی قیمت 170 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں تھی۔ آج اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمت تقریباً 111 ڈالر فی بیرل اور 280 ہمارا شرح مبادلہ ہے تو قیمت کسی بھی صورت 250 روپے فی لیٹر سے زيادہ نہیں بن سکتی۔ ڈھائی سو سے زيادہ یہ لوگ کیوں وصول کررہے ہیں؟ اگر یہ لوگ 100 روپے لیوی بھی لگا دیتے تو ڈیزل 320 تک جبکہ ڈیزل 350 کے لگ بھگ ہوتا، ڈیزل کی قیمت 521 روپے کس بنیاد پر رکھی گئی ہے؟ احسان اللہ خان مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی #ANP | #PetrolPrice
اردو
0
14
18
387
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Awami National Party
Awami National Party@ANPMarkaz·
گزشتہ 79 برس ملک میں جو اقتدار رہا ہے اس میں مقتدرہ قوتوں کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا حصہ مسلم لیگ کا رہا ہے۔ معلوم نہیں یہ لوگ اقتدار تک پہنچ کر اپنے ووٹرز کو کیوں بھول جاتے ہیں۔ 2014 میں یہ ہدف رکھا گیا کہ اگر آمدن 6800 ارب ہوجائے تو ملکی معیشت کے مسائل حل ہوجائیں گے لیکن اس دوران ڈی چوک میں ایک تماشہ رچایا گیا اور اس تماشے کو آگے لے جاکر جس بھنور میں ہم پھنسے ہیں، آج 11000 ارب کے ریونیو میں بھی ہم خود کو بچانے سے قاصر ہیں۔ احسان اللہ خان مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی @ANPSpox #ANP | #PetrolPrices
اردو
2
22
35
576
Engr. Ihsan Ullah Khan
خلیجی جنگ کا سراب: مسلم لیگی حکومتوں کو تسلسل سے عوامی جیبوں پر ڈاکہ ۔ حکومت نے ایک بار پھر غریب، مزدور اور سفید پوش طبقے کا خون نچوڑنے کے لیے ایک دور دراز کے بحران کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ خلیج میں جاری تنازعات کی آڑ میں، عوام کو 500 روپے فی لیٹر کی ظالمانہ قیمت قبول کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ عوام کو عالمی سپلائی چین اور غیر ملکی جنگوں کی جھوٹی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ اعداد و شمار کبھی جھوٹ نہیں بولتے، چاہے اربابِ اختیار کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ بولیں۔ آئیے "ناگزیر عالمی دباؤ" کے اس ہائبرڈ نظام کے بیانیے کو گذشتہ 4 برس کی ناکام ترین معاشی کارکردگی کے ایک حصے کو آپکے سامنے رکھتے ہیں ۔ اور حساب کتاب سے واضح کریں کہ یہ محض معاشی جبر ہے ۔ 2021 کی عالمی سطح پر کروڈ تیل کی بلند ترین قیمت پر یعنی جب خام تیل 144 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، تب پاکستان میں شرح مبادلہ 158 روپے فی ڈالر تھی۔ اس وقت عام آدمی کے لیے ڈیزل کی قیمت 150 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں تھی۔ * **موجودہ حقیقت:** آج، اگر ہم ڈالر کے مقابلے میں روپے کی 280 تک کی شدید گراوٹ کو بھی شامل کر لیں، تب بھی بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمت تقریباً 111 ڈالر فی بیرل پر آ چکی ہے۔ پاکستان کو لاجسٹک اور شپنگ میں بھی کچھ خاص اضافی بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑ رہا تو ڈیزل قیمتوں کو 521 روپے تک پہنچانا عوام کی جیب پر ڈاکے کے سوا کچھ نہی ۔ موجودہ حالات میں ممکنہ قیمت: اگر ہم شرح مبادلہ یعنی 280 روپے فی ڈالر اور عالمی سطح پر خام تیل کی موجودہ قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے درست متناسب قیمت کا حساب لگائیں، تو آج ڈیزل کی منصفانہ مارکیٹ پرائس قطعی بھی 250 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں بنتی ۔ تو پھر 250 روپے کی بنیادی قیمت کیسے 521 روپے کے کمر توڑ بوجھ میں تبدیل ہو جاتی ہے؟ فی لیٹر تقریباً 270 روپے کا یہ فرق مشرقِ وسطیٰ میں کسی جنگ کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی اور منظم چوری ہے۔ یہ ہائبرڈ ریجیم کی معاشی محاذ پر مکمل ناکامی اور اپنے خاندان شریفاں کا اپنے قریبی کارٹلز کو نوازنے کا نتیجہ ہے جو بے بنیاد ٹیکسوں، ظالمانہ پیٹرولیم لیویز، اور بے لگام اجارہ داریوں کے ذریعے اپنا منافع بڑھا رہے ہیں۔ جس طرح ماضی کی نوآبادیاتی سلطنتیں کبھی برصغیر کی دولت لوٹتی تھیں، آج کی حکمران اشرافیہ بھی سیدھے سیدھے مزدور، کسان اور عام شہری کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ بے شرم حکمران عوام کو پیٹ پر پتھر باندھنے کا درس دیتے ہیں جبکہ خود ان کے عزیز ، دوست اور خاندان امیر سے امیر ترین بنتے جارہے ہیں ۔ یہ معاشی نظام نہیں ہے؛ یہ جبر اور استحصال کی بدترین صورت ہے ۔ 521 روپے کی قیمت عالمی قیمتوں اور شرح مبادلہ مد نظر رکھ کر بھی ثابت شدہ دھوکہ ہے، جو عام آدمی کی قوتِ خرید اور استطاعت سے مکمل طور پر باہر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی بحران کے روپ میں چھپے اس من گھڑت ٹیکس کے نظام کو مسترد کیا جائے اور لوٹے گئے ایک ایک روپے کا کڑا احتساب مانگا جائے۔ پرائے شادی میں "عبداللہ دیوانہ بننے والے " ہماری آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو وفاقی حکومت کے غریب دشمن ، استحصالی اقدامات کےخلاف ایک منظم تحریک ہوگی ۔ نیچے دیے گئے ٹیبل میں واضح کیا گیا ہے کہ اس وقت قیمت کیا ہوسکتی ہے ۔ احسان اللہ خان مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی
Engr. Ihsan Ullah Khan tweet media
اردو
0
9
16
266
Engr. Ihsan Ullah Khan
ریاست نے پشتونوں کو بندوق کے علاوہ دیا ہی کیا ہے؟ پچاس سال سے یہاں بندوق کے کلچر کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ اس خطے کے لوگوں نے بمباری، گولیوں اور شہادتوں کے علاوہ آخر کیا دیکھا ہے؟ حالانکہ ہماری تاریخ میں حجرہ اور رباب تھا، ہم انتہاپسند نہیں تھے۔ ہمارے حجرے میں رباب بجتا تھا۔ لیکن مختلف مفادات کے تحت یہاں اسلحہ متعارف کرایا گیا۔ سرکاری ادارے اور بعض مذہبی جماعتیں بھی اسلحہ کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ پشاور سے موسیقی کا خاتمہ ہو گیا وہ لوگ کہاں گئے، اور انہیں کس نے مجبور کیا؟ #ANP | #AwamiNationalParty | #IhsanUllahKhan
Awami National Party@ANPMarkaz

ریاست نے پشتونوں کو بندوق کے علاوہ دیا ہی کیا ہے؟ پچاس سال سے یہاں بندوق کے کلچر کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ اس خطے کے لوگوں نے بمباری، گولیوں اور شہادتوں کے علاوہ آخر کیا دیکھا ہے؟ حالانکہ ہماری تاریخ میں حجرہ اور رباب تھا، ہم انتہاپسند نہیں تھے۔ ہمارے حجرے میں رباب بجتا تھا۔ لیکن مختلف مفادات کے تحت یہاں اسلحہ متعارف کرایا گیا۔ سرکاری ادارے اور بعض مذہبی جماعتیں بھی اسلحہ کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ پشاور سے موسیقی کا خاتمہ ہو گیا وہ لوگ کہاں گئے، اور انہیں کس نے مجبور کیا؟ #ANP | #AwamiNationalParty | #IhsanUllahKhan

اردو
0
8
23
361
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Awami National Party
Awami National Party@ANPMarkaz·
افغان مہاجرین کے ساتھ جو بھی غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے، ہم اس کے سخت مخالف ہیں۔ جب انہیں عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کے مفادات کے لیے یہاں لایا گیا تھا، تب کیا صورتحال تھی؟ آج سیاسی اور سفارتی مسائل کا بوجھ عام لوگوں پر ڈالا جا رہا ہے، جس سے خیبر پختونخوا کے عوام متاثر ہو رہے ہیں اور تجارتی راستے بھی بند پڑے ہیں۔ #ANP | #AwamiNatioanlParty | #IhsanUllahKhan
اردو
0
24
38
872
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Awami National Party
Awami National Party@ANPMarkaz·
ہمارے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان ( سی ای او باچا خان ٹرسٹ) نے جب “انگازی پروڈکشن” قائم کیا تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، انگازی پروڈکشن اب تک کامیابی سے جاری ہے اور اس کے ذریعے نوجوانوں کو موسیقی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ جب ہمارے معاشرے میں دوبارہ موسیقی اور ثقافت کو فروغ ملے گا تو انتہاپسندی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ #ANP | #AwamiNationalParty | #IhsanUllahKhan
اردو
2
21
45
862
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Awami National Party
Awami National Party@ANPMarkaz·
گزشتہ 13 سالوں میں یہاں نہ کوئی مؤثر گورننس رہی اور نہ ہی کوئی صنعت قائم کی گئی۔ سرمایہ کار یہاں سے چلے گئے اور بے روزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایسے حالات میں لوگوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کی ترجیحات صرف ایک قیدی کی رہائی تک محدود نظر آتی ہیں، جبکہ گورننس کا یہ عالم ہے۔ اگر پچھلے 13 سالوں میں یہاں کاروبار اور صنعت کو فروغ دیا جاتا تو نوجوانوں کو روزگار ملتا اور جرائم میں بھی کمی آتی، مگر بدقسمتی سے یہاں صنعت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ #ANP | #AwamiNationalParty | #IhsanUllahKhan
اردو
1
18
35
460
Engr. Ihsan Ullah Khan
نسیم شاہ کے حالیہ بیان کے حوالے سے جو بحث و مباحثہ ملک بھر میں جاری ہے، اس پر میرا واضح موقف یہ ہے کہ نسیم شاہ نے ایک ایسے پلیٹ فارم سے جہاں صرف کرکٹ اور کھیل کی بات ہونی چاہیے تھی، وہاں سے اپنے ذاتی سیاسی وابستگی اور سیاست میں مداخلت کی کی کوشش کی ہے ۔ یہ رویہ نہ صرف کھیل کے میدان کی توہین ہے بلکہ مجموعی طور پر انتہائی قابلِ مذمت بھی ہے البتہ میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف صاحبہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں اپنی شفقت اور وسیع القلبی کا مظاہرہ فرمائیں اور اسے کوئی ذاتی انا یا رنجش کا مسئلہ نہ بنائیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہوں یا ان کے والد محترم نواز شریف صاحب، ان دونوں نے ماضی میں متعدد ایسے بیانات دیے ہیں جن سے بعد میں رجوع کیا گیا۔ اگر نسیم شاہ نے خود اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ واضح کیا ہے کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو چکا تھا تو اس اعتراف کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اس ملک کی سیاست میں مداخلت کی بنیاد عام عوام نے نہیں رکھی۔ حالانکہ آئین اور جمہوریت کے مطابق سیاست میں مداخلت کا حق صرف عوام کا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں سیاست ہی عوام کے بغیر چل رہی ہے۔ انتخابات ووٹر کے بغیر ہو رہے ہیں اور حکومت جمہوریت اور عوامی اقتدار کے بغیر چلائی جا رہی ہے۔ کوئی کھلاڑی ہو، فوجی ہو، کلرک ہو، اسسٹنٹ کمشنر ہو، چیف سیکرٹری ہو، کپتان ہو یا جرنیل، ہر ایک کو اپنے سروس کنٹریکٹ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان معاہدوں میں سیاست کی طرف کسی قسم کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مداخلت کی بات تو چھوڑیں، حقیقت یہ ہے کہ آج سارا اقتدار ایک ہی مخصوص ٹولے کے قبضے میں ہے۔ اگر ہم اس ٹولے کو اس کے اپنے ڈومین تک محدود نہ کر سکیں تو پھر ہر شخص اپنی من مانی کرتا رہے گا اور ملک کا نظام بے لگام ہو جائے گا۔ لہٰذا اصل بات یہ ہے کہ مداخلتوں، غیر ضروری تبصروں اور ڈومین سے باہر نکلنے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سب کو اپنے اپنے ڈومین میں رہنا پڑے گا۔ یہ ممکن نہیں کہ جرنیل صاحب ڈومین سے باہر نکل آئیں اور دوسرے سرکاری ملازم الگ الگ کام کریں۔ یاد رکھیں کہ جو لوگ آپ کے لیے دو غلط کام کرتے ہیں، وہ بعد میں چار غلط کام اپنے لیے بھی کر لیتے ہیں۔ اس لیے سیاست میں مداخلت کا راستہ اوپر سے ہی ختم کرنا ہوگا۔ سیاست عوام کی ہے، عوام کے لیے ہے اور عوام کے ذریعے ہے۔ یہ ہمارا بنیادی فلسفہ ہے اور اسی پر ہم قائم ہیں۔ احسان اللہ خان
Engr. Ihsan Ullah Khan tweet media
اردو
3
11
33
456
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
ناشائستہ و نازیبا گفتگو ، اور میڈیا سے تبادلہ خیال میں "تحقیر نسواں " (Misogyny) کی اگر کوئی مجسم تصویر ہوسکتی ہے تو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، اور کئی اور ہنڈسم اور پاپولسٹ بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے ہاتھوں طاقت آنے کے بعد ان کے فیصلوں کے نتائج غیر متوقع نہیں ہوتے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ بزدلی اور یوٹرن لینے میں بھی انکا ثانی نہیں ہوتا ۔ #Populism #shallowism
اردو
0
7
13
256
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
"The long-standing imbalances in Middle East politics are on the verge of being decisively rectified." The United States and Israel — self-proclaimed champions of human rights and liberators of the oppressed — are about to receive a stern and unavoidable lesson. The Gulf countries will soon realise that supporting distant allies at the direct expense of their own neighbours carries a heavy and unsustainable cost. Iran is responding with resolute force to Western provocations carried out under the false pretext of “liberating its people.” The West and its allies are already feeling the heat. History is repeating itself: after twenty years of peddling democracy in Afghanistan, the same powers withdrew, handed the country back to the very terrorists they had condemned, and abandoned the Afghan people to the mercy of their adversaries. The Pakistan-Afghanistan conflict cannot be allowed to continue. It is high time both nations resolve this issue prudently, placing the protection of human lives above all other considerations. Pakistan’s recent aerial strikes have caused disproportionate civilian casualties and collateral damage far exceeding what is acceptable even in routine border tensions. These operations must cease immediately. China, Russia and Saudi Arabia are urged to act swiftly and decisively by intervening to broker a permanent and honourable peace between Pakistan and Afghanistan. The Doha Accord, though originally flawed and detrimental to the Afghan people, must now be revived and implemented in its entirety. It is the solemn duty of the Afghan regime to honour the Accord by immediately forming a transitional government, halting all cross-border terrorism, and fully respecting the sovereignty of its neighbours. Pakistan, for its part, must stop the bombardment of civilian populations and vital infrastructure. Peace serves the vital interests of both countries, particularly the Pashtun communities on either side of the Durand Line — communities that have endured nearly five decades of suffering as victims of foreign designs and geopolitical games. We call upon all stakeholders to join hands without delay: eradicate terrorism in all its forms, restore normalcy along the border, and expand bilateral trade to bring tangible prosperity to millions of people who have waited far too long for stability and hope. Peace is not merely an option — it is an imperative. Ihsan Ullah khan Central Spokesperson Awami National Party.
English
0
4
8
505
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Aimal Wali Khan
Aimal Wali Khan@AimalWali·
Deeply pained to see the police force protesting in Khyber Pakhtunkhwa. The rising terror in the province & martyrdom of brave officers in Lakki Marwat is extremely concerning. I express my heartfelt solidarity with the fallen heroes and their families. I am proud of our courageous @KP_Police1 bravely battling terrorism. The ANP will always stand firmly behind our valiant police force.
English
54
175
755
27K
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، امن و امان کی ابتر صورتحال اور سرحدی صوبوں کی معاشی بدحالی پر وفاقی حکومت کی بے عملی کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ تجارت کی فوری بحالی اور اہم وزارتی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ اے این پی کے مرکزی ترجمان احسان اللہ خان نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کے آبائی علاقے میں مسلح طالبان کی جانب سے کھلے عام ناکہ بندیاں، شہریوں کی تلاشی اور خوف و ہراس پھیلانا صوبے میں ریاستی رِٹ کے مکمل خاتمے کا ثبوت ہے۔ پولیس کی موقع پر آمد کے باوجود مسلح عناصر کا پراسرار طور پر غائب ہو جانا کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا ان عناصر کی شناخت، گاڑیاں اور نقل و حرکت کے راستے ریاستی اداروں کو معلوم نہیں، یا یہ دانستہ غفلت کسی منظم پالیسی کا حصہ ہے؟ احسان اللہ خان نے کہا کہ آج پورا خیبر پختونخوا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ چند روز قبل وفاقی حکومت نے افغانستان پر کارروائیوں کا جواز سرحد پار ٹی ٹی پی خطرات کو قرار دیا، تاہم اگر خطرات واقعی بیرونی ہیں تو پشاور جیسے مرکزی شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر یہی عناصر کھلے عام کیسے سرگرم ہیں؟ سڑکوں پر گشت، ناکہ بندیاں اور عوام کی تذلیل وفاقی پالیسیوں کے دوغلے پن اور من پسند عملداری کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون عوام کو مسلسل طاقت کے کھیل میں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت مکمل طور پر غائب اور گورننس کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ ریاستی رِٹ کمزور ہو چکی ہے اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اے این پی کا موقف ہے کہ دہشت گردی کسی سرحد کی پیداوار نہیں بلکہ غلط پالیسیوں، دوغلے رویّوں اور نام نہاد اسٹریٹیجک گیمز کا نتیجہ ہے۔ غیر ریاستی عناصر کے ذریعے عسکریت پسندی کو ریاستی سرپرستی دینا نہ صرف پشتون دشمن بلکہ انسانیت دشمن عمل ہے، جو خطے کے مستقبل کے خلاف سازش کے مترادف ہے۔ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب جاری تنازعات نے پشتون عوام کو دہائیوں سے بدترین نقصانات سے دوچار کر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرے جبکہ کابل حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر تعاون کرے۔ اے این پی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیرِ دفاع کو غیر ضروری سیاسی بیانات کے بجائے اپنی آئینی ذمہ داریوں تک محدود رکھا جائے، جبکہ وزارتِ خارجہ کو ہائبرڈ نظام کی مبینہ اتھارٹی سے نکال کر ایک کل وقتی اور اہل وزیر کے سپرد کیا جائے۔ بیان میں اسحاق ڈار کی معاشی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ اپریل 2022 کے بعد آنے والی تینوں حکومتیں معاشی طور پر ناکام رہیں، جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تجارت کی بندش نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سرحدی علاقوں میں بے روزگاری بڑھنے کے باعث نوجوان معاوضہ لے کر عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اے این پی نے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت فوری طور پر بحال کی جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور تشدد کے رجحان کا خاتمہ ہو۔ اے این پی نے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے پارلیمان کی نگرانی میں ایک جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہو اور اس کی سربراہی ایک قابل اور غیر جانبدار شخصیت کو سونپی جائے۔ یہ کمیٹی دہشت گردی، سرحدی پالیسی، افغانستان کے ساتھ تعلقات اور خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ ڈرامے اب بند ہونے چاہئیں۔ ریاست اپنی رِٹ بحال کرے، حکومت ذمہ داری قبول کرے اور پشتون عوام کو مزید تجربہ گاہ نہ بنایا جائے۔ پارلیمان کی بالادستی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے اہم فیصلے عوامی اعتماد کے ساتھ لیے جا سکیں۔ #ANP | #AwamiNationalParty | #EngrIhsanUllahKhan
Engr. Ihsan Ullah Khan tweet mediaEngr. Ihsan Ullah Khan tweet mediaEngr. Ihsan Ullah Khan tweet media
اردو
1
12
28
285
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Aimal Wali Khan
Aimal Wali Khan@AimalWali·
Initially @PTIofficial proclaimed when victorious this IDEOT would be their masiha, the IDEOT turned his back on them and now he is a failure on their part and a masiha of the @pmln_org part. Just asking @CMShehbaz and the @pmln_org Is he still a nominee for the noble peace award or no? BTW he loves the field martial way too much, Is this love mutual? What I see is a Maniac ruining the whole world. Is there any insanity left in the world? Does this world have any norms left, any values left, any laws there? Where are the organisations responsible? No religion promotes war. The world must unite against war and violence, in other words, against Israel and the U.S. Bullies are mostly cowards and we have to stand against them. May this world rest in peace. Ameen.
English
70
109
409
24.6K
Engr. Ihsan Ullah Khan
Engr. Ihsan Ullah Khan@ANPSpox·
عوامی نیشنل پارٹی کی اسلام آباد میں عورت آزادی مارچ پر ریاستی تشدد کی شدید مذمت. Awami National Party strongly condemns state violence on Aurat Azadi march in Islamabad: Ihsan Ullah Khan اسلام آباد — عوامی نیشنل پارٹ اپنے مرکزی ترجمان کی وساطت سے، آج کے 'عورت آزادی مارچ' کے پرامن شرکاء پر اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے طاقت کے بے دریغ استعمال کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ Islamabad — The Awami National Party , through its central spokesperson, strongly condemns the wanton use of force by the Islamabad police and administration on the peaceful participants of the 'Women's Freedom March' today. پرامن اور غیر متشدد اجتماع کے اپنے آئینی حق کا استعمال کرنے والی خواتین، سول سوسائٹی کے ارکان اور کارکنوں کے خلاف اس طرح کے جابرانہ اقدامات جمہوری اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور قطعی ناقابل قبول ہیں۔ Such repressive measures against women, civil society members and activists exercising their constitutional right to peaceful and non-violent assembly are a clear violation of democratic principles and absolutely unacceptable. یہ مارچ صنفی مساوات، انصاف اور انسانی حقوق کی وکالت کرتا ہے—اور اے این پی بھی انہی اقدار کی علمبردار ہے۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر نہتے شہریوں کے خلاف آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کرنا جمہوری روایات کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کا تحفظ کرے اور پرامن مظاہروں میں سہولت فراہم کرے، نہ کہ پسے ہوئے طبقات کی آواز کو دبائے۔ The march advocates for gender equality, justice and human rights—and the ANP stands for these values. Using dictatorial tactics against innocent citizens on the occasion of International Women's Day is tantamount to hollowing out democratic traditions. It is the responsibility of the state to protect citizens and facilitate peaceful protests, not suppress the voices of oppressed classes. اے این پی نے ہمیشہ خواتین، مظلوموں اور محنت کش طبقے کے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ ہم عورت آزادی مارچ کے منتظمین اور شرکاء کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ANP has always fought for the rights of women, the oppressed and the working class. We express our full solidarity with the organizers and participants of the Aurat Azadi March. ہم ان واقعات کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، اور اس واقعے کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بغیر کسی تفریق کے تمام شہریوں کے لیے آزادیِ اظہارِ رائے اور اجتماع کے حق کو یقینی بنائے ۔We demand an immediate and impartial investigation into these incidents, and strict action should be taken against the officials responsible for the incident. The government should ensure the right to freedom of expression and assembly for all citizens without any discrimination. احسان اللہ خان مرکزی ترجمان، عوامی نیشنل پارٹی
Engr. Ihsan Ullah Khan tweet media
0
5
27
270
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Aimal Wali Khan
Aimal Wali Khan@AimalWali·
تاریخ کے کٹہرے میں ہم سب نے کھڑا ہونا ہے۔ 2021 سے لے کر 2026 تک ہم مسلسل کہتے آئے کہ یہ خوش فہمی نہ پالیں کہ افغانستان میں آپ کی “دوست حکومت” آگئی ہے۔ دہشتگرد کبھی دوست نہیں ہوتا، دہشتگرد صرف دہشتگرد ہوتا ہے۔ ہم نے خبردار کیا تھا کہ نظریاتی وابستگیوں اور وقتی مفادات کی بنیاد پر بنائی گئی پالیسیاں آخرکار ریاست اور عوام دونوں کو نقصان پہنچائیں گی۔ آج وہی عناصر، جنہیں کل تزویراتی گہرائی یا دوستی کا نام دیا جارہا تھا، نہ جانے کس کس عنوان سے آپریشنوں کی زد میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے تاریخ سے کچھ سیکھا؟ جب تک ریاستی پالیسی کی بنیاد یہ نہیں ہوگی کہ دہشتگرد کا نہ کوئی دوست ہوتا ہے، نہ کوئی مذہب، نہ کوئی قوم تب تک ہم یہی غلطیاں دہراتے رہیں گے۔ تب تک ہمارے اپنے لوگ بے گھر ہوں گے، ہمارے بازار ویران ہوں گے اور ہمارے نوجوان قبروں اور کیمپوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے۔ ریاست کی ذمہ داری وقتی بیانیہ بنانا نہیں، مستقل اصول اپنانا ہے۔ اور اصول صرف ایک ہونا چاہیے: دہشتگردی کے خلاف بلاامتیاز، غیرمشروط اور دوٹوک موقف۔ ورنہ تاریخ صرف یاد نہیں رکھتی، فیصلہ بھی سناتی ہے۔
اردو
186
239
1.1K
66.8K
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Aimal Wali Khan
Aimal Wali Khan@AimalWali·
The massive hike in petrol and diesel prices is unacceptable and crushing for the common man. This burden falls squarely on families, farmers, transporters, and the poor, while elites remain shielded. The government must immediately reverse this decision, provide real relief by slashing non-development expenditure, and drastically reduce the petroleum levy.
English
55
164
605
23.7K
Engr. Ihsan Ullah Khan retweetledi
Awami National Party
Awami National Party@ANPMarkaz·
تاریخ کے کٹہرے میں ہم سب نے کھڑے ہونا ہے۔ 2021 سے لے کر 2026 تک ہم مسلسل کہتے آئے کہ یہ خوش فہمی نہ پالیں کہ افغانستان میں آپ کی “دوست حکومت” آگئی ہے۔ دہشتگرد کبھی دوست نہیں ہوتا، دہشتگرد صرف دہشتگرد ہوتا ہے۔ ہم نے خبردار کیا تھا کہ نظریاتی وابستگیوں اور وقتی مفادات کی بنیاد پر بنائی گئی پالیسیاں آخرکار ریاست اور عوام دونوں کو نقصان پہنچائیں گی۔ آج وہی عناصر، جنہیں کل تزویراتی گہرائی یا دوستی کا نام دیا جارہا تھا، نہ جانے کس کس عنوان سے آپریشنوں کی زد میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے تاریخ سے کچھ سیکھا؟ جب تک ریاستی پالیسی کی بنیاد یہ نہیں ہوگی کہ دہشتگرد کا نہ کوئی دوست ہوتا ہے، نہ کوئی مذہب، نہ کوئی قوم تب تک ہم یہی غلطیاں دہراتے رہیں گے۔ تب تک ہمارے اپنے لوگ بے گھر ہوں گے، ہمارے بازار ویران ہوں گے اور ہمارے نوجوان قبروں اور کیمپوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے۔ ریاست کی ذمہ داری وقتی بیانیہ بنانا نہیں، مستقل اصول اپنانا ہے۔ اور اصول صرف ایک ہونا چاہیے: دہشتگردی کے خلاف بلاامتیاز، غیرمشروط اور دوٹوک موقف۔ ورنہ تاریخ صرف یاد نہیں رکھتی، فیصلہ بھی سناتی ہے۔ @AimalWali #ANP | #AimalWaliKhan #anp4peace
اردو
18
69
272
9.5K