
Aamer Khan
41.4K posts

















ولی خان اور آج کا پاکستان ولی خان انتہا کے مستقبل شناس تھے۔ ضعیف ہوئے۔ بیمار رہنے لگے۔ ایک مرتبہ مولانا فضل الرحمان مزاج پرسی کے لئے گئے۔ ولی بابا نے آؤ بھگت کی۔ لڑکوں کو دوڑایا کہ مولانا صاحب کی مہمان داری میں کوئی کمی کوتاہی نہ آئے۔ پھر مولانا سے گفتگو کرنے لگے۔ مولانا سے پوچھا کہ بیٹا یہ بتاؤ کہ یہ جو افغانستان میں جنگ ہوئی یہ ک فر اور اسلام کی لڑائی تھی یا روس اور امریکہ کی۔ تب تک تو بات کھلی چکی تھی۔ مولانا بولے کہ بابا یہ تو امریکا اور روس کی لڑائی تھئ۔ اگلا سوال کیا کہ روسی کتنے مرے اس جنگ میں۔ مولانا نے کہا اتنے۔ اور امریکی کتنے مرے؟ وہ تو بابا کوئی نہیں مرا۔ امریکیوں کی طرف سے کون مرا؟ زیادہ تر قبائلی پشتون اور باقی پاکستان کے لوگ۔ تب ولی خان نے کہا کہ بیٹا یہی بات جب ہم آپ کے والد صاحب کو سمجھاتے تھے کہ مفتی صاحب یہ جہاد نہیں فساد ہے تو ہم پہ فتوے لگتے تھے۔ ہم نے مفتی صاحب کو یہ بھی عرض کی تھی کہ مفتی صاحب اس خطے کے لوگ پیدائشی مسلمان ہیں۔ ان کے اندر زور زبردستی مزید اسلام نہ گھسائیں۔ یہ اضافی اسلام ان کے اندر خراب ہوجائے گا اور اس خراب اسلام کو نکالنے کے لئے اس سے زیادہ خون خرابہ کرنا پڑے گا۔ تو بات یہ ہے۔ کہ یہ وہ اضافی اسلام ہے جو اندر جا کے خراب ہو چکا ہے۔















