آمنہ شوال

8K posts

آمنہ شوال banner
آمنہ شوال

آمنہ شوال

@Aminashiwal

. “وفا آموختی از ما، بڪارِ دیگراں ڪر دی ربودی گوہرے از ما نثارِ دیگراں ڪر دی”

Pakistan Katılım Şubat 2024
0 Takip Edilen2.3K Takipçiler
آمنہ شوال
آمنہ شوال@Aminashiwal·
اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کفر کے اندر اچھائی کا تصور بھی نہیں ہے
اردو
3
1
20
815
آمنہ شوال
آمنہ شوال@Aminashiwal·
@Faiz_552 فیض یہ میڈیا والے دلال ہیں میں تو پہلے دن سے ہی ان کو دیوس سمجھتی ہوں یورپی ممالک میں کوئی شخص پیدل چلتا پھسل کر گر جائے تو یہ پاگل ہو جاتے ہیں اور اس کو ہیڈ لائن میں شامل کرتے ہیں اور ادھر یتیم خانہ چوک میں 36 بندے قتل کیے تھے لیکن کسی نے نیچے پٹی بھی نہیں چلائی
اردو
0
0
0
120
آمنہ شوال
آمنہ شوال@Aminashiwal·
اب وہی اسے گالیاں دے رہے ہیں او بھئی ایک سال تو پورا کر لیا کرو
اردو
0
0
2
585
آمنہ شوال
آمنہ شوال@Aminashiwal·
ایک صحابی رسول ﷺ کو عمر فاروق پورا سال ہر طرح سے آزمانے کے بعد کہا میں نے تیرا ظاہر بہت اچھا پایا اللّٰہ کرے تیرا باطن بھی ویسا ہی ہو لیکن یہاں ہم ایک منٹ میں اگلے بندے کو ہیرو بنا دیتے ہیں ابھی پی ٹی آئی کو ہی دیکھ لیں ایک وقت تھا پلمبر کو اپنے باپ سے بھی بڑھ کر مانتے تھے
اردو
1
1
5
708
آمنہ شوال
آمنہ شوال@Aminashiwal·
عوام کا صرف یہ ہی قصور ہے کہ انہوں نے آرمی والوں پر پریشر نہیں دیا حالانکہ عوام ہر لحاظ سے فلسطین کے کھڑی ہے کچھ لبرلز سیکولر ملحد لوگوں کے علاوہ اور کچھ لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ فلسطینی زمین کی خاطر لڑ رہے ہیں ایسے لوگ بھی اس گولہ پر پائیں جاتے ہیں
آمنہ شوال tweet media
اردو
1
0
14
771
آمنہ شوال
آمنہ شوال@Aminashiwal·
Esa pattern lgya or na lgya aik braber h 😂
آمنہ شوال tweet media
Indonesia
5
0
6
594
آمنہ شوال
آمنہ شوال@Aminashiwal·
اے خدا، میں نے آواز اٹھائی اے خدا گواہ رہنا!! 🥺😭🥺😭
Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان@SenatorMushtaq

اے خدا، میں نے آواز اٹھائی اے خدا گواہ رہنا!! شمالی غزہ اب صرف بھوک سے نہیں مر رہا ہے بلکہ پیاس سے بھی مر رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں غزہ کے لوگوں کو اپنے پیاسے بچوں کی پیاس بجھانے کے لیے پینے کا پانی نہیں ملتا۔ کیا ایسی کوئی موت ہے جو غزہ کے لوگوں پر تجربہ نہیں کیا گیا؟ کیا کوئی ایسا دھوکہ ہے جس سے غزہ کو ابھی تک مایوس نہیں کیا گیا؟ ہم جانتے ہیں کہ نہ کوئی پرواہ کرے گا اور نہ کوئی حرکت کرے گا لیکن ہم دہراتے اور لکھتے ہیں یہاں تک کہ ہم اپنے آپ کو خدا سے عذر کرتے ہیں اور ہم سب کے لیے حجت قائم کرتے ہیں تاکہ قیامت کے دن کوئی آکر یہ نہ کہے کہ اے پروردگار! میں نے نہیں سنا، اے رب میں نہیں جانتا تھا!! اے خدا، میں نے آواز اٹھائی اے خدا گواہ رہنا!! عہد نبھاؤ ۔۔ غزۃ بچاؤ احتجاج بروز اتوار، 21 جولائی، 2024 بمقام: غزہ چوک (سابقہ ڈی چوک) اسلام آباد خواتین اور بچوں کی خصوصی شرکت کا اہتمام کیجئے۔ @GovtofPakistan @CMShehbaz @OfficialDGISPR @HamidMirPA @SaveGazaPK @humairatayyaba

اردو
0
0
4
449
Jannat Mahad
Jannat Mahad@JannatMahad·
کسی نے مجھے سے کہا ناشتے میں ابلا انڈا.بریڈ کے دو سلائس اور فریش جوس لیا کرو. امیروں والی فیلینگ آتی ہے... میں نے آج 8 بجے ابلا انڈا .سلائس اور بعد میں جوس پیا... 10 بجے مجھے پھر بھوک لگ گئی . ابھی میں نے پھر پراٹھا بنایا.رات کا بچا سالن نکالا. ایک کپ چائے .ساتھ آملیٹ بنایا. رج کے ناشتہ کیا . . .پائی اسی غریب ہی چنگے آں..... 👑❤️
Jannat Mahad tweet media
اردو
37
6
83
6K
اقصیٰ نور
اقصیٰ نور@S_ig__ma·
فائینلی پہنچ گئی۔۔۔۔۔۔۔ اب پڑھ کر دیکھتے ہیں کیسی ہے😻
اقصیٰ نور tweet mediaاقصیٰ نور tweet media
اردو
6
0
4
532
آمنہ شوال
آمنہ شوال@Aminashiwal·
اکاونٹ کی ریچ حکومت کی طرح گر گئی ہے ۔۔۔😨
اردو
7
0
23
698
Qaiser Ahmed Raja
Qaiser Ahmed Raja@qaiseraraja·
اس کذاب کو دفاع کہاں کہاں کرو گے؟ اس نے اہلبیت کی شان میں جو گستاخیاں کی ہیں وہی اس کی قبر میں آگ بھرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس نے خود کو زندہ علی کہا اس نے روحانی خزائن(18) میں خود کو حسین بن علی سے بڑھ کر کہا اس نے اپنی بیٹی کو سیدۃ النساء کے مقابلے میں جنتی خواتین کی سردار کہا میرے لیئے سب سے مشکل لکھنا یہ ہے کہ اس ملعون نے یہاں تک لکھ دیا کہ اس نے جنابِ سیدہ کی ران پر سر رکھا (میں یہ جملہ لکھنے کی بجائے زمین میں گڑنا زیادہ پسند کرتا اگر اس جہنمی کے چہرے کی کالک عیاں کرنا مقصود نہ ہوتا)۔ یہ قرآن کے خلاف ہے کیونکہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں سے نجاست کو دور کیا لیکن یہ نجس انھیں ماں کہہ کر ایسی جسارت کر رہا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ اگر جنابِ حسین بن علی کے بارے میں اس کا یہ شعر عقیدت پر مبنی ہے تو تم لوگ مرزے سے یہ عقیدت کیوں رکھتے؟ تم لوگ کیوں نہیں کہتے کہ مرزے جیسے سینکڑوں تم لوگوں کے گریبان میں پڑے ہوتے ہیں؟
MindRoasterMir@mindroastermeer

کر بلائیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر’’ کر بلائیست سیر ہر آنم * صد حسین است در گریبانم‘‘ پراعتراض کیا جاتا ہے کہ آپؑ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی توہین کی ہے ۔ اعتراض سیاق و سباق پڑھے اور سمجھے بغیر کیا گیا ہے اس شعر پر حضرت امام حسین ؓ کی توہین کا الزام لگانا ایسی ہی بدیانتی ہے جیسے کوئی سورۃ النساء کی آیت نمبر44کا یہ پہلا حصہ ۔ لَا تَقرَبُوا الصَّلٰوۃ (تم نماز کے قریب نہ جاؤ)(النساء:44)تو پڑھ دے کہ نماز کے قریب نہ جاؤ اور اگلے حصہ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی (جب تم پر مدہوشی کی کیفیت ہو) (النساء:44)کے ذکر کو چھوڑ دے۔پس اس شعر سے پہلے اور بعد کے اشعار پڑھنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں قطعًا حضرت امام حسین ؓ کی توہین نہیں کی جا رہی بلکہ عشق الٰہی کی کیفیات بیان کی جا رہی ہیں۔ مذکورہ شعر سے قبل کا مضمون عشقِ الٰہی کی کیفیات پر مشتمل ہے یہ شعر جو یہاں اعتراض کے طور پر پیش کیا گیاہے اس سے پہلے اشعار کا مضمون عشقِ الٰہی کی کیفیات پر مشتمل ہے اور حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے بتایا ہے کہ آپ بھی ان کشتگانِ حبِّ خدا میں شامل ہیں اور اس زمانہ میں اس کار زارِ عشق کے قتیل ؑ ہیں۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:۔ بالخصوص آں سخن کہ از دلدار ۔۔۔خاصیت دارد اندریں اسرار دلدار کی وہ باتیں جو اسرار کے طور پر عشق پیدا کرنے والی خاصیت اپنے اندر رکھتی ہیں کشتہ او نہ یک نہ دو نہ ہزار ۔۔۔ایں قتیلان او بروں ز شمار اس دلدار کے فدائی صرف ایک دو یا ہزار انسان ہی نہیں ہیں بلکہ اس کے کشتے بے شمار ہیں۔ ہر زمانے قتیل تازہ بخواست۔۔۔غازہ روئے او دم شہداست ہر وقت وہ ایک نیا قتیل چاہتا ہے اس کے چہرہ کا غازہ شہیدوں کا خون ہوتا ہے ایں سعادت چو بود قسمت ما ۔۔۔رفتہ رفتہ رسید نوبت ما یہ سعادت چونکہ ہماری قسمت میں تھی رفتہ رفتہ ہماری نوبت بھی آپہنچی۔ ان سے اگلا شعر یہ ہے کربلائے ست سیر ہر آنم ۔۔۔ صد حسینؓ است در گریبانم میں ہر وقت گویاکربلا میں پھرتا ہوں اور سینکڑوں حسینؓ میرے دل میں پنہاں ہیں۔ (نزول المسیح ۔ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 476) ’’صد حسین است در گریبانم ‘‘کی تشریح آخری شعر میں آپ ؑ نے میدانِ کربلا کے کرب وبلا اور اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ثبات قدم اور قربانیوں کی کیفیات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں ان کیفیات میں سے آپ گذر رہے ہیں۔ پس یہاں نہ اس میدانِ کربلا کا ذکر ہے نہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا۔ بلکہ یہ دونوں نام مستعار لے کر بطور استعارہ استعمال کئے ہیں ۔ اور شعر وادب میں استعارہ کو ظاہر پر محمول کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح شعر کا قرینہ بتاتا ہے کہ اس میں لفظ ’’ گریبان ‘‘ کا استعارہ دل کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ گریبان سے مراد قمیص وکرتہ کا گلا نہیں بلکہ عشقِ خدا سے معمور وہ دل ہے جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسے کشتگانِ حبِّ خدا کی محبت سینکڑوں دفعہ نہیں، ہزار ، لاکھ بار بسی ہوئی ہے۔ شعر و ادب کا یہ خاصّہ اور حسن ہے کہ چاہے کسی زبان کے ہوں ان میں مجاز اور استعارے استعمال ہوتے ہیں ۔ علّامہ ملّا نوعی کا ایک ہم معنی شعر حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے ان اشعار میں رہ عشق خدا میں اپنی مشکلات وتکالیف کے بیان کے لئے کربلا اور حسینؓ اور گریبان کے استعارے اسی طرح استعمال فرمائے ہیں جس طرح علاّمہ ملا ّ نوعیؒ نے اپنے اس شعر میں استعمال فرمائے کہکربلائے عشقم ولب تشنہ سرتا پائے من ۔۔۔صد حسینؓ  کشتہ در ہر گوشہ صحرائے من(دیوان علاّمہ نوعی)کہ میں عشق کا کربلا ہوں اور سراپا تشنہ محبت ہوں اور میرے دل کے ہر گوشے میں سینکڑوں حسینؓ قتل ہوتے ہیں۔اس شعر میں بھی کربلا اور حسینؓ کے استعاروں سے مراد میدانِ کربلاکے کرب وبلا اور حسینؓ سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی استقامت اور قربانیوں کی کیفیات ہی کا اظہارمقصود ہے نہ کہ حضرت حسینؓ پر فضیلت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اور دل کے لئے صحرا کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ ان استعاروں کو ظاہر پر محمول کر کے ان کو ناجائز قرار دینے والا یا ان کی وجہ سے صاحبِ شعر کو ہدفِ اعتراض بنانے والا کوئی جاہل ہی ہو سکتا ہے۔ کہ جس کو شعر وادب کا ادراک ہی نہیں یا پھر ایسا کور باطن ہو سکتا ہے جو دن کو بھی رات ہی سمجھتا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی شان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ’’ حسین رضی اللہ عنہ طاہر ومطہّر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے معمور کرتا ہے ۔ اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرّہ کینہ رکھنا اس سے ، موجبِ سلبِ ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔ تباہ ہوگیا وہ دل جو اس شخص کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتاہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبتِ الٰہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوبصورت انسان کا نقش ۔ یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں، کون جانتا ہے ان کی قدر مگر وہی جو انہی میں سے ہے ۔ دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔ یہی وجہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا ۔ دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی تا حسین رضی اللہ عنہ سے بھی محبت کی جاتی۔ ‘‘ (فتاویٰ احمدیہ ۔ حصہ دوم صفحہ 42) پھر فرمایا :۔ ’’ حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما خدا کے برگزیدہ اور صاحبِ کمال اور صاحبِ عفت اور عصمت اور ائمّۃ الہدٰی تھے اور وہ بلاشبہ دونوں معنوں کے رو سے آنحضرت ﷺ کے آل تھے۔ ‘‘ (تریاق القلوب ۔ روحانی خزائن جلد 15صفحہ 365,364 حاشیہ( askahmadiyyat.org/2020/11/20/%D8…

اردو
55
70
219
27.1K
Nameless
Nameless@iunknownboy·
@Aminashiwal How can I say ? 😏 I don't want to go to jail 😫
English
1
0
0
62