Assadullah Baloch

1.8K posts

Assadullah Baloch

Assadullah Baloch

@AssadullahBaloc

Turbat-based Journalist covering Makran, Balochistan. Quoted in @indyurdu, @dw_urdu @VOANews. Occasional contributor to @magzineTAJZIAT, @nayadaurpk_urdu, Sujag

Kech Turbat Balochistan Katılım Ağustos 2013
278 Takip Edilen1.7K Takipçiler
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کے پیش نظر سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے کراچی پریس کلب جانے والے راستوں کو بلاک کردیا ہے۔ کل بھٹو کی برسی تھی جنہیں پاکستان کا سب سے بڑا جمہوری لیڈر مانا جاتا ہے۔
Assadullah Baloch tweet media
اردو
0
0
2
89
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
کئی سال پرانی ایک ہندوستانی فلم میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو دیکھا جا سکتا ہے۔
اردو
0
0
1
126
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
بیابیا بہار اتکگ پدا دور شانتلے آواز کنت کیچ دشت
اردو
0
0
3
92
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
@GohramAslamB جب بلوچستان کی قسمت کے فیصلے ہی بلوچستان سے باہر بیٹھ کر کیے جاتے ہیں تو "بلوچستان امور کے ماہر" بھی پنڈی، لاہور اور اسلام آباد ہی میں پیدا ہوں گے۔ یہ آپ کو بلوچستان کی تاریخی ثقافت اور دیگر قومی نوعیت کے اہم معاملات پر بھاشن دیتے ہوئے بھی ملیں گے۔
اردو
1
0
1
166
Gohram Aslam Baloch
Gohram Aslam Baloch@GohramAslamB·
بلوچستان کے مسئلے پر اسلام آباد میں بیٹھ کر زمینی حقائق سے کٹ کر کیے گئے تجزیے نہ کبھی بلوچستان کے درد کی صحیح ترجمانی کر سکے ہیں، نہ ہی سننے والوں کو اصل صورتِ حال سمجھا سکے ہیں۔اسی لیے آج بھی ہر دوسرے شخص کا سوال وہی ہے: “. بلوچستان کا مسئلہ آخر ہے کیا” Indigenous Voices Matter
اردو
1
0
3
488
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
ہوشاپ تربت کے رہائشی راشد علی پریس کانفرنس کے زریعے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کررہے ہیں
اردو
0
0
0
360
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
@Senator_Baloch @Intekhabhd انتخاب اور بلوچستان کے دیگر مقامی اخبارات نے اب صحافت والا کام دھندہ چھوڑ دیا ہے، جب تک ان کے اشتہارات پر بات نہیں آئے گی یوں ہی چلتا رہے گا، آپ سمیت سیاسی لوگ فی الحال خاموش رہیں
اردو
0
0
1
197
Sana Ullah BALOCH
Sana Ullah BALOCH@Senator_Baloch·
امید ہے کہ @Intekhabhd ھمارا عوامی موقف بھی سامنے لاۓ گا 👇 حکومت #بلوچستان کا ترجمان 2 دن بعد ان سوالات کا جواب نہیں دے سکا - اور بلوچستان کے عوام کے ٹیکس کی 6 ارب کی رقم سے کراچی سے خریدی گئی دال چاول کو وزیراعلی کی سخاوت قرادینے پر مصحر- 1. کیا “#رمضان” جیسا مقدس مہینہ “#آفت” ہے ؟ کیونکہ 6 ارب کی دال چاول کی خریداری “ایمرجنسی” میں کی گئی ہے - 2- کیا اس دال چاول کی 6 ارب کی خریداری @BaluchistanPPRA کے قوانین کے تحت کی گئی اور کب ٹینڈر ہوے تھے- 3- کیا بلوچستان کے #تاجر دال چاول کی فراہمی بھی نہیں کرسکتے کہ #کراچی کے ایک کمپنی کو ساری سپلائی بغیر شفاف عمل کے دے دی گئی- 4- کیا وفاقی حکومت نے رمضان پیکج براہراست مستحقین کے اکاؤنٹ میں کی یا انہوں نے بھی دال چاول خرید کر لوگوں کے گھروں میں اربوں روپے ٹرانسپورٹ کی مد میں ہڑپ کر لیئے ؟ 5- سرحدات کی بندش، امن و امن کی مخدوش صورتحال سے دوچار تاجروں و کاروباری حضرات جو بلوچستان میں روزگار اور اربوں روپے ٹیکس دیتے ہیں یہ 6 ارب صوبے سے باہر نکلنے سے مقامی معیشت اور تباہ ہوگی- میری کوئی زاتی بغض نہیں - سرفراز صاحب بیکڑ، ڈیرہ بگٹی میں اپنی جیب سے 3 لاکھہ دنبے سجی کرکے پورے بلوچستان کے مستحقین میں تقسیم کریں ھمیں خوشی ہوگی - لیکن یہ 6 ارب بلوچستان کی عوام کے ٹیکس کی رقم ہے کسی کی جائیداد نہیں - یہ رقم 23 لاکھ اسکول سے محروم صوبے کے بچوں کے ہیں - یہ رقم صوبے کے 20 لاکھ بیروزگار نوجوانوں کے ہیں - قومیں خیرات سے نہیں شفافیت سے بنتیں ترقی کرتی ہیں -
Daily Intekhab@Intekhabhd

بغض سرفراز لاعلاج رہے گا، شاہد رند کا ثناء بلوچ کے بیان پر ردعمل ثنا بلوچ نے لکھا تھا کہ بلوچستان حکومت نے مقدس رمضان کوایمرجنسی قرار دے کر6 ارب کے دال چاول خریدے لیکن میڈیا خاموش کیونکہ بلوچستان پر بولنا منع ہے dailyintekhab.pk/archives/545124

اردو
8
22
112
9K
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
ڈیرہ بگٹی کا ایک غریب بچہ بلوچی شعر گنگاتے ہوئے یہ اس زمانہ کی ڈیرہ بگٹی ہے جب یہاں سونا اگلتا نہیں تھا
اردو
1
13
63
2.4K
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
tajziat.com/article/15955 بلوچستان کی سیاسی تجربہ گاہ میں ایک بار پھر دہراتی ہوئی تاریخ کی بازگشت اسد بلوچ 18 فروری 2026
اردو
0
4
15
1.5K
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
بلیدہ کے رہائشی خان محمد ولد یلان نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔حامد علی سرگودھا یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد چھٹیوں پر جب گھر آیا تو تب سے لاپتہ ہیں، ان کی تمام سرگرمیوں سے لاتعلقی برتنے کا اعلان کرتے ہیں، والدہ کی پریس کانفرنس۔
اردو
0
0
1
493
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
facebook.com/share/p/188BJx… نوٹ: اس تحریر کو پاکستان کے کسی بھی نمایاں یا قومی سطح کے میڈیا پلیٹ فارم نے اشاعت کے لیے قبول نہیں کیا۔ بلوچستان میں عورتوں کی جبری گمشدگیاں: شورش، ریاست اور ایک خطرناک موڑ اسد بلوچ
اردو
0
0
1
246
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
خواتین کی براہِ راست مسلح جدوجہد میں شمولیت کو محض ایک عسکری پیش رفت کے طور پر دیکھنا ایک سنگین تجزیاتی غلطی ہوگی۔ گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو ماؤں اور بہنوں کے سامنے لاپتہ کرنا، بعد ازاں ان کی لاشیں ملنا اور مردوں خصوصاً قوم پرست جماعتوں کی پرامن سیاسی tajziat.com/article/15940
اردو
0
2
11
15.8K
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
@Sarbazi4 اور اب نیا دور سمیت پاکستان کی میڈیا میں بلوچستان پر زبان بندی ہے۔
اردو
1
0
0
163
Razzak_ Sarbazi
Razzak_ Sarbazi@Sarbazi4·
بی ایل اے مسلح تنظیم سے عوامی محاذ بن چکی، جس کی شاخیں پہاڑوں سے دور محلیوں، دراز گلیوں میں پھیل ہوئی ہیں۔ قسط 3 بی ایل اے میں ناسازگار وقت اور نامواقف معاملات پر پیدا ہونے والے اختلافات سے دراڑیں پڑتی گئیں۔ سال 2016 تک اختلافات کا انبار لگ چکا تھا۔ دونوں جانب پڑی گرہیں جن کو کھولنا مشکل تھا، کاٹنا آسان۔ اسلم بلوچ جو قلبی امراض کا شکار تھا، سبی میں ایک کارروائی کے دوران شدید زخمی ہوتا ہے۔ علاج کی فوری ضرورت ('بِلا ناغہ علاج' اسلم بلوچ کے الفاظ) کے تحت وہ سربراہ کی رضامندی کے بغیر پڑوسی ملک چلے جاتے ہیں۔ جو ان کے اور حیر بیار مری کے درمیان کربناک بحران اور تنظیمی رشتے کا آخری دن ثابت ہوتا ہے۔ یہ 2017 کا سال تھا اور ماہ دسمبر۔ بی ایل اے کا نیا چیپٹر 2018 میں کھُلتا ہے۔ ایک نئی تصویر سامنے آتی ہے جس میں حیر بیار مری اور اسلم بلوچ ایک نقطے سے، دو مختلف راستوں پر چلتے نظر آتے ہیں، ایک دوسرے کی طرف پشت کیے، فاصلہ بڑھاتے ہوئے۔ جو اس تنظیم میں، سربراہ سے سپاہی تک، کنٹرول سے کمانڈ تک، کمک کاروں سے رابطہ کاروں تک، بنیادی تبدیلیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ کیمپوں میں نئی وفاداریاں جنم لیتی ہیں۔ نظریاتی کرب جب سکون کی کروٹیں لیتا ہے تو بڑا دھڑا اسلم بلوچ کی قیادت میں آ چکا تھا۔ یہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے طویل تنظیمی رشتوں کا خاتمہ تھا۔ اسلم بلوچ کو قیادت کیلئے ایک سال کا عرصہ ملتا ہے۔ چیلنجوں سے نمٹنا، تنظیم کا مورال بلند کرنا، بی ایل اے کی روایتی کارروائیوں، فوجی کانواؤں پر چھوٹے حملوں، گیس پائپ لائنوں کو دھماکوں سے اڑانے کی روایت جو کئی سالوں سے گوریلا حکمت عملی کا اہم حصہ بنی رہی، وہ خودکش حملوں سے بدل دی گئی۔ کراچی میں 6 سال قبل چینی قونصل خانہ پر 23 نومبر 2018 کو حملہ ان کی آخری کارروائی تھی۔ اس حملے کے ایک ماہ دو دن بعد قندھار میں 25 دسمبر کے دن ان کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ نوابزادہ حیر بیار مری سے علیحدگی کے ایک سال بعد اس نے مزاحمت سے ہمیشہ کیلئے رخصت لے لی۔ اسلم بلوچ کو قیادت کیلئے زیادہ مہلت نہیں ملی۔ جتنا وقت ملا، اس کا بیشتر حصہ تنظیم کے اندر اور باہر رشتوں کو ازسرنو بحال کرنے پر صرف ہوتا ہے۔ ہنوز یہ مسلح تنظیم ابھی اپنی پرانی شکل میں تھی جس کو اُن کے بعد بشیر زیب محفوظ پناہ گاہوں، خفیہ گوشوں، شہری زندگی سے دور، حاشیہ سے باہر نکال لائے۔ 13 سال قبل 2011 میں ' بشیر زیب سے وقت لے لو، اس کا انٹرویو کرتا ہوں'، ایک دوست سے، جو بعدازاں جرمنی منتقل ہوا، میں نے کہا۔ ماہ و دن، اتنا عرصہ گزرا اور واقعات یک بہ یک، وقفہ لیے بغیر حادثات بن کر متواتر پیش آئے کہ اس دن کی تاریخ کو اب کیلنڈر پر یادگاری دائرے میں قید کرنا آسان نہیں۔ بہت ساری، ڈھیر یادداشتیں تاریکی اور فراموشی کے مقام پر منتقل ہو گئی ہیں۔ وہ دوست ان دنوں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی سینٹرل کمیٹی کا رکن اور پروفیشنل قوم پرست کارکن تھا۔ 'کماش ( بشیر زیب) سے پوچھ کر بتاتا ہوں'، جواب دیتے ہوئے اس کے چہرے پر دلی اطمینان اور خوشگوار تاثر ابھرا۔ 'کماش' یعنی بزرگ، بڑا، قابل احترام کا لفظ، زور دے کر، بے پایاں احترام سے، اس نے ادا کیا تھا۔ بشیر زیب، بی ایس او آزاد کو، ایک سرگرم طلبہ تنظیم کو، 2006 سے 2011 کے دوران پانچ سال تک کبھی پس منظر سے، کبھی منظر عام پر آ کر، چیئرمین رہ کر چلاتے رہے۔ جب 6 سال قبل بی ایل اے کے سربراہ بنے، ان کو ان کے پس منظر کا وہ طولانی طالب علمانہ تجربہ کام آیا جو نوجوانوں سے براہ راست ان کو جوڑتا تھا۔ بلوچ نوجوانوں کا وہ دور افتادہ غصہ جو ہلکی آنچ پر پکتا آ رہا تھا، وہ اس سے واقف تھا۔ وہ 6 سال میں بلوچستان کو سیاہ و سفید بنا کر پیش کرنے والے پاکستانی میڈیا کے پرائم ٹائم کا موضوع بن چکا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے اداروں کی خبروں، تصویروں اور تجزیوں سے بلوچ کا سیاہ و سفید کے سوا اور کسی رنگ میں عکس پانا محال ہے۔ یہ باخبر میڈیا، اس دن سمیعہ، شاری اور ماہل بلوچ جب فدائی بنیں، 'معصومیت' سے، 'وہاں کیا ہوا؟' پوچھتا ہوا، حیران تھا۔ بشیر زیب نے جب بی ایل اے کی قیادت سنبھال لی، اس نے بلوچ عسکری تنظیم کو اسلم بلوچ کے خود کش حملوں کی میراث سمیت محفوظ گوشوں سے نکال کر عوامی محاذ کی طرح جس کی شاخیں دور محلوں، دراز گلیوں میں پھیلی ہوتی ہیں، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن جیسی شکل دے دی۔ بے آب و گیاہ زمین پر اگنے والے درخت کے مانند جس کی پانی سے سیراب ہونے والی جڑیں زیر زمین پیاس بجھا رہی ہوتی ہیں اور سطح زمین پر آنکھ بہت کچھ نہیں دیکھ پاتی؛ بی ایل اے بی ایس او بن چکی ہے۔ جنگجو عوام کے درمیان موجود ہے۔ روزمرہ کی مصروفیات میں مشغول، عوام کے بہاؤ کا حصہ بن کر نظروں سے اوجھل ہے۔ نوٹ : یہ آرٹیکل 26 اکتوبر 2024 کو “ نیا دور “ میں شائع ہوچکا ہے۔
Razzak_ Sarbazi tweet media
اردو
1
0
28
8.8K
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
tajziat.com/article/15940 بلوچستان کی شورش: طاقت، انکار اور بڑھتا ہوا تصادم، ایک تجزیاتی مطالعہ تحریر! اسد بلوچ شکریہ تجزیات
اردو
0
0
1
174
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
facebook.com/share/p/1DHyyG… تربت (Balochistan دَروَر) اربوں روپے کی بجٹ، 35 سال کا عرصہ، 30 کلومیٹر پر مشتمل تربت بلیدہ روڈ کا شاندار افتتاح کل کیا جائے گا
اردو
0
0
0
148
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی شخصیت ڈاکٹر حیدر سنگھور مرحوم کے نواسہ سلال ہوت نے لندن میں کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کرلیا۔
اردو
0
0
4
264
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
کرکی تجابان ضلع کیچ کے رہائشی خواتین خیرالنسا اور ھانی دلوش کی جبری گمشدگی کے خلاف تربت میں سی پیک شاہراہ پر ایک دفعہ پھر دھرنا شروع، دو دن قبل مقامی انتظامیہ نے خواتین کو بازیاب کرانے کی تحریری یقین دہانی کرائی تھی۔
اردو
0
1
0
349
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
صدام محراب کی جبری گمشدگی کے خلاف تربت پریس کلب میں ان کے اہل خانہ کی پریس کانفرنس۔ صدام ولد محراب کو 22 جولائی 2025 میں تربت سے اغوا کیا گیا تھا۔
اردو
0
0
1
133
Assadullah Baloch
Assadullah Baloch@AssadullahBaloc·
خواتین سمیت چار افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف تربت تجابان میں تین دن سے سی پیک شاہراہ ایم 8 پر دھرنا دیا جارہا ہے۔
اردو
0
12
56
2.9K