Sabitlenmiş Tweet
نائیک
22.8K posts

نائیک retweetledi

دلچسپ بات یہ ہے کہ سب کو پتہ ہے کہ فتح کا فیصلہ ووٹ پر مبنی نہیں ، حوصلہ افزا بات پھر بھی یہ ہے کہ لوگ سیاسی عمل سے لاتعلق نہیں ہوۓ ۔ وہ کہتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں وہ تو کریں گے۔
Ahmad Warraich@ahmadwaraichh
کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ جو ووٹ ڈالیں گے تو وہی نتیجہ آئے گا؟
اردو
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi

ایک جونیئر ڈپلومیٹ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے چند ملازمین۔۔۔
Rodium-A@RodiumInsights
جتنے غور اور ادب سے غلام ان متحرمہ کو سن رہے ہیں اتنی توجہ تو شاید انہوں نے اپنی والدہ کو بھی نہیں سنا ہو گا ۔
اردو
نائیک retweetledi

پشاور ایئرپورٹ سے براہِ راست!!
پشاور ہائی کورٹ کے واضح حکم کے باوجود مجھے ایف آئی اے امیگریشن حکام نے پشاور ایئرپورٹ پر روک لیا۔ میں یونیورسٹی آف ٹوبنگن، جرمنی کی دعوت پر ایک اہم تعلیمی و تحقیقی دورے کے لیے روانہ ہو رہا تھا، جس کا مقصد خیبر پختونخوا کی جامعات اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کو حتمی شکل دینا تھا۔
اس اقدام نے نہ صرف عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی ہے بلکہ صوبے کے نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے ایک اہم موقع کو بھی متاثر کیا ہے۔
اردو
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi

راولاکوٹ میں سول کپڑوں میں مقامی لوگوں کی جانب سے پکڑے گئے مسلح افراد میں سے ایک کی جیب سے پاکستان رینجرز کا کارڈ برآمد ہوا ہے۔سکیورٹی اداروں اور حکومت کو اس معاملے میں تحقیق کرنی چاہیے کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ان لوگوں کے پکڑے جانے سے چند گھنٹے قبل راولاکوٹ میں کورممبر جوائنٹ ایکشن کمیٹی عمر نزیر کشمیری پر نامعلوم افراد کی جانب سے ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ زخمی اور ان کا ایک ساتھی جاں بحق ہوا تھا۔

اردو
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi

ڈان کے سابق سئینر صحافی طارق سعید کی رپورٹ:
آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹر حفیظ کاکڑ کنسلٹنٹ پلاسٹک سرجن کے مطابق ڈاکٹر ماہنور کی حالت بہت بہتر ہے ۔بلوچستان پولیس کے ساتھ مقابلہ میں ت ی ز ا ب پھینکنے والا ملزم ہسپتال کا لفٹ آپریٹر مقابلہ میں پار کر دیا گیا ہے
جب میں ڈاکٹر تک پہنچا تو تیزاب کے اثر سے ان کے کپڑے متاثر ہو چکے تھے اور وہ شدید تکلیف میں تھیں۔ انسانی ہمدردی اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے میں نے فوری طور پر اپنی قمیض اتار کر انہیں ڈھانپ دیا۔ اسی دوران میں بھی تیزاب کے اثرات سے زخمی ہوگیا۔” یہ جملہ وارڈ بوائے عبدالزاق ترہ کئی کا ہے۔
کوئٹہ کے سول اسپتال میں اُس لمحے خاموشی ٹوٹ گئی جب وارڈ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر ت ی زاب پھینکنے کی کوشش کی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے فوراً بعد اسپتال کا ماحول افراتفری کا شکار ہو گیا۔
اسی دوران وارڈ بوائے عبدالرزاق نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے متاثرہ ڈاکٹر کی طرف بڑھ کر اپنی قمیض استعمال کی تاکہ مزید تیزاب کے اثرات کو روکا جا سکے۔ اس کوشش میں وہ خود بھی زخمی ہوئے، تاہم انہوں نے سب سے پہلے مریضہ کی حفاظت کو ترجیح دی۔

اردو
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi
نائیک retweetledi

تم 14000 نہیں 14 لاکھ فورسز لاؤ۔۔
کشمیری سرینڈر نہیں کریں گے۔۔
ہمیں ہمارا حق چاہئیے۔
#RightsMovementAJK
اردو

















