Sabitlenmiş Tweet
M Azhar Siddique
120.7K posts

M Azhar Siddique
@AzharSiddique
Advocate Supreme Court of Pakistan, Human Rights Activist & Pro Bono Publico Lawyer, Columnist
Lahore, Pakistan Katılım Ocak 2011
8.4K Takip Edilen615.1K Takipçiler

During the hearing, Advocate Azhar Siddique, representing the petitioner, argued that increasing the duration of physical remand from 14 to 40 days under the NAB Ordinance amendment is not only unconstitutional but also a clear example of mala fide legislation.
He claimed the amendment was designed specifically to keep Imran Khan on extended remand, noting that since the ordinance’s enforcement, no other individual has been held under the extended remand. He described the legislation as personal and discriminatory.
Siddique asked the court to declare the ordinance null and void to prevent such targeted and malicious legislation in the future.
epaper.brecorder.com/2026/03/20/2-p…
English
M Azhar Siddique retweetledi

اڈیالہ جیل میں کرپشن کا احوال ایک ملاقاتی کی زبانی
میں اپنے عزیز سے ملنے ایک ماہ میں متعدد بار اڈیالہ جیل جاتا ہوں گیٹ داخلے سے ملاقات تک قدم پر رشوت کا الگ ریٹ ہے۔راجہ فیصل ، فخر جاوید ، حسنات ، حفیظ اللہ، خرم منشی اور جاوید چیف
یہ وہ نام ہے جو اڈیالہ جیل کے بیرک 3/8 ، 7/8 اور سب اہم 8/8 کو کنٹرول کرتے ہیں۔ پی سی او تک جانے کی رشوت لینا
بستر چھین کر رشوت لینا پھر بستر واپس دینا معمول ہے۔مسجد میں نماز پڑھنے کی بھی رشوت ہے، کتابیں رکھنے کی رشوت ہے۔
بیرک 3/8 میں منشیات کی فروخت
گھر کا کھانا اور ضروری سامان برائے استعمال کی بھاری رشوت لی جاتی ہے۔ ایک ملاقات پر مجھے 3 سے چار ہزار روپے دینے پڑتے ہیں۔ پی سی او والے کو رشوت نہ ملے تو وہ کال ملا کر پیچھے سے تار کھینچ دیتا ہے اور کہتا ہے نیٹ ورک کا ایشو تھا رشوت ہو تو کال ملتی ہے۔ ہر سہولت جوقیدی کا حق ہے اس حق کو لینے کے لیے رشوت دینی پڑتی ہے۔ کچھ رشوت کیش کچھ جقز کیش، ایزی پیسہ یا بی ک اکاؤنٹس میں لی جاتی ہے۔
اردو

لاہور اتھارٹی فار ہیریٹیج ری وائیول کا مقصد تاریخی ورثے کی بحالی ہے یا مخصوص حلقوں کی سیاست؟
اگر فنڈز صرف ایک ہی حلقے میں لگ رہے ہیں تو یہ ہیریٹیج نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ ہے!!
لوکل گورنمنٹ کے اختیارات کو بائی پاس کرنا اور عوامی پیسہ بغیر شفافیت کے خرچ کرنا ناقابلِ قبول ہے!!
آخر حساب کون دے گا کہ اربوں روپے کہاں اور کیوں خرچ ہو رہے ہیں؟
@GovtofPunjabPK @MaryamNSharif
#شفافیت #قانون_کی_حکمرانی #لاہور

اردو
M Azhar Siddique retweetledi

لاہور:ستھرا پنجاب پروجیکٹ میں بے ضابگیوں پروزیراعلی پنجاب کوخط لکھ دیاگیا
خط کی کاپی چیئرمین نیب،گورنر پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کوبھی ارسال
یہ خط قانون دان اظہر صدیق کی جانب سے بھجوایاگیاہے
اربوں روپے کے منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں اور شفافیت کی کمی سوالیہ نشان ہے۔متن
منصوبے میں پروکیورمنٹ قوانین کی مبینہ خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔متن
منصوبے کی فزیبلٹی، ٹینڈرنگ اور مالی ساخت کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔متن
منصوبہ ممکنہ طور پر قانونی و مالی منظوریوں کے بغیر شروع کیا گیا۔متن
پی اینڈ ڈی بورڈ کےطریقہ کار کو بائی پاس کرنے کرکےمنصوبے جاری ہوئے۔متن
مسابقتی بولی کے عمل اور ٹھیکوں کی شفاف تقسیم پربھی سوالیہ نشان ہے۔متن
اجارہ داری کی بناء پرمن پسند اور بااثر شخصیات کوٹھیکوں سے نوازاگیا۔متن
ٹھیکوں میں عوامی فنڈز اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خدشہ ہے۔متن
نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو فرانزک تحقیقات کا حکم دیاجائے۔متن
پی سی ون، ٹینڈر دستاویزات، کنٹریکٹس اور آڈٹ رپورٹس جاری کی جائیں۔متن
تحقیقات مکمل ہونے تک فنڈز کے اجرا اور منصوبے پر کام روکاجائے۔متن
مقررہ مدت میں معلومات نہ دینے پر آئینی درخواست دائر کی جائے گی۔متن @PresOfPakistan @CMShehbaz @GovtofPunjabPK @MaryamNSharif @PTIofficial @ImranKhanPTI
اردو

The correspondence of Sohail Afridi, Chief Minister KPK @SohailAfridiISF reflects a deeply troubling state of governance, where even the facilitation of basic prisoner rights requires high-level intervention. On the occasion of Eid-ul-Fitr, a significant religious and cultural event symbolizing compassion and family unity, the fact that directions had to be sought from the highest executive office for allowing family meetings with detainees highlights a serious administrative failure. These are not discretionary privileges, but legally recognized rights under the existing domestic legal framework!
Under the Pakistan Prison Rules, 1978, particularly Rules 544, 545–548, and Rule 1022, prisoners are entitled to meet their relatives and friends in a regulated and humane manner. Similarly, Section 40 of the Prisons Act, 1894 mandates communication and reasonable access to family members. The existence of such clear provisions leaves no room for arbitrary denial or delay. Failure to implement these provisions amounts not only to maladministration but also to a violation of statutory obligations!
Beyond domestic law, Pakistan is bound by several international human rights instruments. Article 10 of the International Covenant on Civil and Political Rights (ICCPR), to which Pakistan is a signatory, requires that all persons deprived of their liberty be treated with humanity and with respect for their inherent dignity. The United Nations Standard Minimum Rules for the Treatment of Prisoners (Nelson Mandela Rules) further emphasize the importance of maintaining prisoners’ contact with the outside world, especially with family members. Additionally, Article 5 of the Universal Declaration of Human Rights (UDHR) reinforces the prohibition against inhumane or degrading treatment!
In this context, the failure to ensure timely and lawful facilitation of family meetings is not merely an administrative lapse; it constitutes a breach of both national and international legal obligations. It raises serious concerns about the state’s commitment to the rule of law, due process, and fundamental human rights. When legal entitlements require extraordinary intervention for enforcement, it reflects systemic inefficiency and erosion of institutional responsibility!
Such situations warrant immediate corrective measures, accountability of concerned authorities, and strict adherence to both domestic laws and international standards. The protection of human dignity, particularly of those in state custody, is a core obligation of any civilized legal system and cannot be treated as optional or conditional!
@amnesty @hrw @UNHumanRights @ICRC @PresOfPakistan @CMShehbaz @GovtofPunjabPK @PTIofficial @ImranKhanPTI @Jemima_Khan
#HumanRights #RuleOfLaw #Pakistan #MandelaRules


English

اسلام و علیکم 🌿
کبھی بھی کسی انسان کی طرف سے اپنی ناقدری پر دل برداشتہ نہ ہوں، کیونکہ اصل قدر و قیمت کا تعین ہمیشہ وقت اور ربِّ کریم کرتا ہے۔ درجات زمین پر نہیں بلکہ آسمانوں میں طے ہوتے ہیں۔ اگر آپ انسانی رویّوں کی پیچیدگیوں میں الجھ جائیں گے تو پوری زندگی انہی الجھنوں میں گزر جائے گی۔ اس لیے اپنے معاملات اُس ذات کے سپرد رکھیں جو عیب اور غیب دونوں کا جاننے والا ہے۔ جب تعلق اللہ سے مضبوط ہو جاتا ہے تو زندگی کی ہر الجھن خود بخود سلجھنے لگتی ہے۔
اللہ کریم ہمیں اپنی خاص رحمتوں، حفاظت اور سکونِ قلب سے نوازے، اور ہمیں ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے۔ 🤲✨
آمین یارب العالمین 🌸
صبح بخیر ☀️

اردو
M Azhar Siddique retweetledi

Pti North west orgnised release Imran khan protest at Wilmslow Road Manchester.
#ReleaseImranKhan #ptinorthwest #asifbutt
English

سورۃ المائدہ کی آیت 51 میں اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں دوست ہیں اور جو ان کو دوست بنائے گا ان کا شمار انہی میں سے ہو گا۔ ایرانی قوم قابل تحسین ہے جو کہ صیہونیت کے خلاف چالیس سال سے برسر پیکار ہے۔ مسلم ممالک کو امریکہ کے چنگل سے نکلنا ہو گا۔ عمران خان نے بھی Absolutely not کا نعرہ لگا دیا تھا۔ عمران خان کا ذکر شروع ہوتے ہی اینکر بینش سلیم کو ہماری بات کاٹنی پڑی گئی اور بات کو آپریشن غضب للحق کی طرف بات موڑنا پڑ گئی۔
@BeenishSaleem
@PTVNewsOfficial
مکمل پروگرام لنک:
youtu.be/2sMMqpVHkEk?si…

YouTube
اردو

Advocate Azhar Siddique, representing the petitioner, contended that the petition pertained to the enforcement of fundamental rights of working women across the province and called for the immediate appointment of the women ombudsperson. He highlighted that the statutory position of the ombudsperson had remained vacant for over a year, effectively rendering the legal protections available to women under the 2010 Act inoperative.
pakistantoday.com.pk/2026/03/18/lhc…
English
M Azhar Siddique retweetledi

15 جولائی 2024، یہ دن اس لیے بھی ہمیں یاد کہ اس دن ہمارا Birthday بھی تھا۔ عمران خان کو نو مئی کے کیسز میں ریمانڈ تھا اور ہم نے ریمانڈ پر بحث کی۔ ہم نے کہا تھا کہ عمران خان کو سامنے لایا جائے اور ان کو موبائل (ویڈیو کال) کے ذریعے عدالت لایا گیا اور پراسیکیوشن نے کہہ دیا کہ اظہر صدیق عمران خان کی جانب سے وکیل نہیں ہیں تب عمران خان نے کہا تھا کہ عمران خان میرا وکیل ہے۔ پھر عمران خان کے بچوں سے ان کی بات نہیں کروائی جاتی۔ ٹویٹر کو بند کیا اس کو چیلنج کیا گیا۔ انٹرنیٹ سلو کیا فائر وال کی تنصیب کی گئی اس کو چیلنج کیا گیا۔
مکمل پروگرام لنک:
youtu.be/JTn75LgBVZg?si…

YouTube
اردو

یہ محض خط نہیں، ریاستی ناکامی کا چارج شیٹ ہے‼️
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی یہ خط و کتابت واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں قیدیوں کے بنیادی قانونی حقوق بھی انتظامیہ کی صوابدید پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ عیدالفطر جیسے مقدس موقع پر، جہاں خاندان کے ساتھ ملاقات ایک بنیادی انسانی و مذہبی حق ہے، وہاں اس کے لیے وزیراعظم کو ہدایات جاری کرنا پڑیں—یہ ریاستی نظام کی سنگین ناکامی ہے!
📜 پاکستان جیل رولز 1978 (Rules 544، 545-548، 1022)
📜 پرزنز ایکٹ 1894 (Section 40)
واضح طور پر قیدیوں کو اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق دیتے ہیں۔ پھر بھی اگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو یہ صرف غفلت نہیں بلکہ:
❗قانون کی کھلی خلاف ورزی
❗اختیارات کا ناجائز استعمال
❗اور بنیادی حقوق کی پامالی ہے
مزید یہ کہ پاکستان بین الاقوامی ذمہ داریوں کا بھی پابند ہے:
🌍 ICCPR (Article 10 – قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک)
🌍 Nelson Mandela Rules – خاندان سے رابطہ بنیادی حق
🌍 UDHR Article 5 – غیر انسانی سلوک کی ممانعت
اس کے باوجود قیدیوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنا عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے!
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ:
⚠️ ریاست اپنے ہی قوانین نافذ کرنے میں ناکام ہے
⚠️ ادارے غیر فعال اور غیر ذمہ دار ہو چکے ہیں
⚠️ قانون کی حکمرانی محض نعرہ بن چکی ہے
جب بنیادی انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے بھی اعلیٰ ترین سطح پر مداخلت درکار ہو تو یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ گورننس کا مکمل بحران ہے!
اب وقت ہے:
✔️ ذمہ داران کا تعین ہو
✔️ قانون پر فوری عملدرآمد ہو
✔️ انسانی وقار کو یقینی بنایا جائے
@amnesty @hrw @UNHumanRights @ICRC @PresOfPakistan @CMShehbaz @GovtofPunjabPK @PTIofficial @ImranKhanPTI
#HumanRights #RuleOfLaw #Pakistan #MandelaRules


اردو

عمران خان اور بشریٰ بی بی جلدی ہی جیل سے باہر ہوں گے۔ سائفر اور عدت میں نکاح جیسے کیسز ہوا ہو گئے ہیں۔ توشہ خانہ کیس بنتا ہی نہیں ہے جسے کرپشن کا پہاڑ کہا جا رہا ہے۔ توشہ خانہ کے تین کیسز ہیں۔ آج بھی میرٹ پہ کیسز لگ گئے تو ضمانت پکی ہے۔ جون سے پہلے عمران خان اور بشریٰ بی بی باہر ہوں گے۔ نیب بہانے ختم کر ے اور ڈے ٹو ڈے ٹرائل چلایا جائے تو ایک دن میں ختم ہو جائے۔
@NeoNewaUR
مکمل پروگرام لنک:
youtu.be/H77A1bYE7f0?si…

YouTube
اردو




