بقلم خود
44K posts

بقلم خود
@BQKhud
آزاد مگر قید، شاعر مگر بے وزن، بلبل مگر خاموش، مسلمان مگر منافق



گائیز میرا تازہ بقلم خود لکھا کلام 👇 سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں


ہمارے بچپن میں دریک کا درخت بہت زیادہ پایا جاتا تھا ۔ ٹنڈ کرانے کے بعد دریک کے درکنو ( درخت کا بیر جیسا پھل) سے شامت آ جاتی تھی ۔ دوست یار درکنو سے ٹنڈ کا نشانہ لیا کرتے تھے ۔۔ بچھو کے کاٹ جانے پر دریک کے پتوں سے علاج کیا جاتا تھا ۔۔ پھر دریک کا درخت بھی ماضی کی ایک کہانی بن کر رہ گیا 😞

**دریک (Melia azedarach): تپتی دھوپ میں قدرت کا ٹھنڈا سایہ!** کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے بدلتے ہوئے موسموں اور بڑھتی ہوئی تپش کے لیے **"دریک"** کا درخت کسی نعمت سے کم نہیں؟ موسمیاتی تبدیلیوں اور سموگ کے اس دور میں، یہ درخت نہ صرف ہماری زمین کا محافظ ہے بلکہ فضا کو صاف رکھنے کا ایک سستا اور بہترین ذریعہ بھی ہے۔ ### **دریک کی شجرکاری کیوں ضروری ہے؟** * **🌍 فضائی آلودگی کا خاتمہ:** یہ درخت سالانہ **30 کلو گرام** تک کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے، جو اسے سموگ اور فضائی آلودگی کے خلاف ایک بہترین ڈھال بناتا ہے۔ * **❄️ قدرتی ایئر کنڈیشنر:** اس کی گھنی چھاؤں اور پتوں سے ہونے والا اخراجِ بخارات تپتی گرمی میں گرد و نواح کے درجہ حرارت کو نمایاں حد تک کم رکھتا ہے۔ * **💧 پانی کی بچت اور سخت جانی:** یہ ایک "سخت جان" درخت ہے جو پاکستان کے میدانی، پتھریلی اور خشک علاقوں میں پانی کی کمی کے باوجود تیزی سے بڑھتا ہے۔ * **🛡️ قدرتی کیڑے مار دوا:** دریک کے کڑوے پتے اور پھل قدرتی طور پر کیڑے مار خصوصیات رکھتے ہیں۔ یہ فصلوں کو نقصان دہ کیڑوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ * **🌸 خوشبو اور خوبصورتی:** بہار کے موسم میں اس پر لگنے والے جامنی پھول نہ صرف فضا کو مہکاتے ہیں بلکہ شہد کی مکھیوں اور پرندوں کے لیے بہترین مسکن فراہم کرتے ہیں۔ **آئیے! پاکستان کو ایک بار پھر سرسبز و شاداب بنانے اور آنے والی نسلوں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے اپنے حصے کا ایک "دریک" ضرور لگائیں۔** #GreenPakistan #ClimateChange #PlantForPakistan #NaturalCooling #دریک_لگائیں #سرسبز_پاکستان #شجرکاری_مہم #ماحول_دوست

آپ مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اگر مرد بھی ظرف بڑا کرتے ہوئے عورت کو اپناتے ہوئے اس کی اولاد کیلئے بھی دل وسیع کر لیں تو بہت سے ناگہانی واقعات نہ ہوں

مرحوم والد صاحب کی امجد اسلام امجد سے نہیں بنتی تھی، ایک دفعہ امجد صاحب ہمارے شہر تشریف لائے تو والد صاحب کیساتھ تند و تلخ بحث بلکہ مناظرہ ہو گیا ۔ اگلی صبح انھوں نے والد صاحب کے اوپر ایک کالم اخبار میں لکھ دیا اور یوں امجد صاحب کا تذکرہ ہمارے گھر میں تقریبا ممنوع ہو گیا











