Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho
6K posts

Bakhshal Thalho
@BThalho
دریاہ پہ سب سے پہلا حق دریاہ کا ھے.
Katılım Mayıs 2020
333 Takip Edilen6.5K Takipçiler
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi

”اسلام آباد کی بات چیت، جنگ، سیکولرزم اور سندھی لبرل“
تحریر ـ بخشل تھلہو @BThalho
اردو ترجمہ ـ حفیظ بلوچ
اسلام آباد مذاکرات
دنیا بھر کے عوام امن کے خواہاں ہیں، مگر غزہ اور ایران کی قیمت پر نہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا دور ختم ہوا، مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ ہر فریق اپنے مؤقف پر اڑا رہا۔ پُراعتماد اور تجربہ کار ایرانی وفد کے سامنے امریکی سائکو بے بس دکھائی دیے۔ جنگ سے نکلنے کے لیے انہیں کوئی پتلی گلی نصیب نہ ہوئی ـ سو جس طرح آئے تھے، اسی طرح لوٹ گئے۔
یہ صورت حال کچھ یوں ہے جیسے جوئے خانے پر آخرکار جواری ہی ہارتے ہیں،
گر کمائی اور نام اڈے کا ہوتا ہے۔ مذاکرات کرنے والوں کو کچھ ملا یا نہیں، مگر میزبان ملک کی تعریف کے ڈنکے ہر طرف بجتے رہے۔
سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ جملہ گردش کر رہا تھا کہ “پاکستان اپنی پیدائش سے جس نازک دور سے گزر رہا تھا، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جب دنیا خود نازک دور میں داخل ہوئی تو پاکستان پہلے سے وہاں موجود تھا، اس لیے اب وہ سردار بن بیٹھا ہے۔”
بات دراصل سادہ ہے، بڑے مالک "وڈیرے' کے مقابلے میں کارندہ "کمدار" زیادہ ہوشیار ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں، مگر شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ پاکستان نے سامراجی قوتوں پر ہمیشہ احسانات کیے ہیں۔ چین اور امریکہ کے درمیان قربت پیدا کر کے اس نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو نہ صرف نئی زندگی دی بلکہ سرد جنگ کی صورتحال ہی بدل دی، اور افغان جنگ میں کردار ادا کر کے سوویت یونین کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔
مگر اب صورتحال بدل رہی ہے۔ کہتے ہیں دو گھروں کا مہمان یا شکم سیر ہوتا ہے یا بھوکا مرتا ہے. اسی طرح پاکستان بھی زیادہ دیر تک دو متضاد قوتوں کے درمیان توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔ اسے بالآخر کسی ایک سمت کا انتخاب کرنا ہوگا ـ کیونکہ سعودی عرب اور ایران یا امریکہ اور چین کے درمیان انتخاب اس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق مذاکرات کی ناکامی سے امریکہ کا کم اور ایران کا زیادہ نقصان ہوگا، مگر ایران اس وقت ایک مختلف کیفیت میں ہے۔ 'مشکلیں مجھہ پہ پڑی اتنی کہ آساں ہوگئیں' کی طرح حالات نے اسے مزید سخت اور پُراعتماد بنا دیا ہے ، ۔ پائیلٹ ڈھونڈنے کے بہانے ایک ناکام زمینی کارروائی کے بعد اب امریکہ سمندری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
جنگ
مذاکرات ناکام ہوئے، مگر بظاہر جنگ بندی جاری ہے، ایسی جنگ بندی جسے وڈیرے کے اوباش بیٹے اسرائیل نے کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ لبنان پر بمباری، فاسفورس کے استعمال، اور حزب اللہ کے جوابی حملے یہ سب کچھ جاری ہیں۔ ایک ریاست "اسرائیل" جس کی عمر ایک صدی سے بھی کم ہے، وہ ایک ہزاروں سال پرانی تہذیب "ایران" کو مٹانے کی بات کرتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے چھپکلی مگرمچھ کو نگلنے کی کوشش کرے۔ اس کا جواب کیا نکلے یہ کہنا بہت مشکل نہیں ہے ـ
آبنائے ہرمز اب بھی کشیدگی کا مرکز ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے دوست ممالک کے لیئے ابنائے ہرمز اب بھی بند ہے، امریکی جنگی جہاز يو ايس ايس فرينک اے پيٽرسن جی آر‘ اور ’يو ايس ايس مائیکل مرفی‘ وہاں موجود ہیں، 'سب کے لیئے یا کسی کے لیئے نہیں' کی پالیسی پہ عمل کرتے ہوئے کل سے آبنائے ہرمز کا رستہ روکے کھڑے ہیں ـ مذکرات کے دوران انہوں آبنائے ہرمز سے گذرنے کی کوشش کی مگر ایران نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر حد پار کی گئی تو جواب لازمی ہوگا۔ ایران بھی کامریڈ میر محمد علی تالپر کی طرح سمجھ چکا ہے کہ "کمینہ کبھی بھی بہادر نہیں ہو سکتا" سو امریکا کو بھی جہاز واپس موڑ کر کھڑے کرنا پڑے، چین بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل دے چکا ہے، یاد رہے کہ کل اس کے گیارہ کارگو طیارے ایران کی مدد کے لیے پہنچ چکے تھے۔ امریکہ کا مقصد آبنائے کو کھولنا اور ایران کی جانب سے بچھائی گئی سمندری بارودی مواد کو ناکارہ بنانا تھا۔ اس حوالے سے جاپان صاف انکار کر چکا ہے، آسٹریلیا بھی پیچھے ہٹ گیا ہے، جبکہ برطانیہ ہاں اور نہ کے درمیان پھنسا نظر آتا ہے۔ ویسے بھی گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کے بیانات اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران پر براہِ راست جنگ کے بعد یورپ اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے، اور امریکہ نیٹو سے نکلنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ ہنگری میں سولہ سال بعد نیتن یاہو کی حامی حکومت کو شکست ہوئی ہے۔
یوں اگرچہ جنگ مشرقِ وسطیٰ میں جاری ہے، مگر اس کے معاشی اور سیاسی اثرات دن بہ دن پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عالمی اصولوں پر مبنی نظام مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے، یا امریکہ اب بڑی طاقت نہیں رہا، یا ڈالر کی عالمی بالادستی ختم ہو گئی ہے، لیکن یہ ضرور ہے کہ ان سب کو زوال کے ابتدائی دھچکے لگ چکے ہیں، اور ایران اس عمل میں کسی حد تک “پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو” کے مصداق پیش پیش نظر آتا ہے۔
سیکولرزم
ایران کی حمایت کے معاملے پر سندھ کے لبرل حلقے جنگ کے آغاز سے ہی سرخوں (کمیونسٹوں) پر تنقید اور حملے کر رہے ہیں۔ وہ خود کو سیکولر قرار دیتے ہیں اور ہم پر تھیوکریسی کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں۔ حالانکہ مذہبی شدت پسندی کے خلاف جدوجہد کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ ایران میں اور اس سے باہر بھی انہی سرخوں نے ادا کی ہے۔ یہی وہ قوتیں تھیں جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم میں کروڑوں جانوں کی قربانی دے کر دنیا کو ہٹلری فاشزم سے نجات دلائی۔
اس کے برعکس یہ بات سب پر عیاں ہے کہ مذہبی شدت پسندی کا دوسرا رخ لبرل ازم ھی ہے۔ یہی مغربی، کلین شیو لبرل تھے اور ہیں جنہوں نے نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی ادوار میں برصغیر کے روادار سماج کو مذہبی انتہا پسندی کی دلدل میں دھکیلا، اور القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کو پروان چڑھایا، جن کے خلاف ایران خود مسلسل برسرِ پیکار رہا ہے۔
لہٰذا مذہب سے خوف ہم مارکسسٹوں کو نہیں، بلکہ لبرل دہریوں کو ہوتا ہے۔ ہم سیکولر ہیں، اور ہمارے نزدیک سیکولرازم کا مطلب مذہب سے نہیں بلکہ مذہب کی آزادی ہے۔ ایک مذہبی شخص جو دوسرے کو بھی اپنے عقائد رکھنے کی آزادی دیتا ہے، وہ اس غیر جمہوری لبرل دہریے سے زیادہ سیکولر ہے جو دوسروں کو یہ حق دینے سے انکار کرتا ہے۔
ہمارا ماننا ہے کہ جو جمہوری نہیں، وہ حقیقی معنوں میں سیکولر بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ سوشلزم، جمہوریت اور سیکولرازم ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی ھٹ جائے تو باقی بھی قائم نہیں رہ سکتے۔
اسی لیے ہم سائنسی سوچ کے حامی ہیں. ھم مذہب کے نہیں، بلکہ آئزن ہاور ڈاکٹرائن کے مخالف ہیں۔ ہم دین کے خلاف نہیں، بلکہ دین کے سوداگروں اور ٹھیکیداروں کے مخالف ہیں۔
سندھی لبرل اور ثقافت سے بیگانگی
“نپولین نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ دنیا میں صرف دو طاقتیں ہیں، ایک تلوار کی اور دوسری انسانی روح کی۔ جب ان دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے تو آخرکار شکست تلوار ہی کی ہوتی ہے۔ ایران میں امریکہ کی ناکامی کی اصل وجہ بھی یہی تھی کہ اس کا سامنا انسانی روح سے تھا۔”
یہ الفاظ سبطِ حسن نے اپنی کتاب انقلابِ ایران میں کوئی سینتالیس برس پہلے لکھے تھے، مگر اس وقت بھی اور آج بھی امریکہ کی ناکامی کا سبب وہی ہے، یعنی انسانی روح اور ثقافت، جن سے ایرانی معاشرہ اپنی کمزور مادی حالت کے باوجود سرشار ہے۔
دنیا کے کسی بھی ملک کا لبرل یا قدامت پسند فرد ہو، وہ اکثر ٹرمپ کی طرح ان ثقافتی اقدار کی قدر کرنے میں ناکام رہتا ہے، اور اگر قدر کرتا بھی ہے تو مودی کی طرح اسے مسخ کر کے اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ بس روایت باقی رہتی ہے روح نہیں.
سندھ کے فار لیفٹ مارکسسٹوں اور لبرل دانشوروں کا المیہ یہ ہے کہ ان کی ترقی پسندی بے جڑ اور غیر عوامی ہے۔ ان کی تمام تر وابستگی مغرب کے ساتھ ہے، جبکہ اپنی ثقافتی اقدار کے لیے ان کے پاس طنز اور تمسخر محفوظ ہے۔ اس رجحان کو عموماً “سائنٹفِسزم” کہا جاتا ہے، جس سے مراد، مؤرخ رچرڈ جی اولسن کے مطابق، “سائنسی خیالات، طریقوں اور رویوں کو انسانی، سماجی اور سیاسی معاملات پر بلا سوچے سمجھے نافذ کرنے کی کوشش” ہے۔ سوشل ڈارونزم، جسے نازی ازم نے بھی استعمال کیا، اسی بیماری کی ایک اور علامت ہے۔
مشہور بنگالی فلم ساز ستیہ جیت رے کی فلم “اگنتک” اس رجحان کا نہایت عمدہ تجزیہ پیش کرتی ہے۔ لبرل حضرات ہمیں اپنے “جاہل” بزرگوں کی جائز اولاد ہونے پر طعنہ دیتے ہیں، مگر خود لارڈ میکالے کی فکری اولاد ہوتے ہیں۔ وہ مارئی کے اپنے لوگوں سے محبت کو محض “ہوم سکنیس” قرار دیتے ہیں، اور جھوٹی فضیلت کو حقیقی اخلاقیات پر ترجیح دیتے ہیں۔
وہ خود کو حقیقت پسند کہتے ہیں، مگر ان کی حقیقت ایک سوکھی اور چوسی ہوئی گنڈیری کی طرح امکانات کے رس سے خالی ہوتی ہے۔ بورژوا انفرادیت اور موضوعیت پسندی ان کا شعار ہوتی ہے۔ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا کے خود ہی خالق اور اپنی فلم کے خود ہیرو ہوتے ہیں۔ ان کے خیالات میں ان کا اپنا دیس اور اس کے لوگ غائب ہوتے ہیں، کیونکہ لبرل دانشور اپنے عوام کو حکمرانوں کی نظر سے دیکھتا ہے اور یوں ثقافتی طور پر خود کو حاکم طبقے سے جوڑ کر اپنے ہی لوگوں سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔
وہ مغربی سائنس اور ثقافت میں ہر خوبی تلاش کرتے ہیں اور اپنی ثقافت میں ہر برائی۔ جس طرح ایک انتہا پسند قوم پرست اپنے والدین کو اس لیے غدار سمجھتا ہے کہ وہ اس کے نظریات سے متفق نہیں ہوتے، اسی طرح ایک خودساختہ لبرل یا فار لیفٹ فرد اپنی قوم کو جہالت کا گڑھا سمجھتا ہے، اور یوں وہ اپنی ہی قوم کی روح سے بیگانہ اور قومی روح ان خودساختہ لبرل دانشوروں سے بیگانی ہوتی ہے۔
یہ لوگ بظاہر ہر طرف سے ترقی پسند ہوتے ہیں، مگر ایک موڑ یا نقطے پر ایسی ٹھوکر کھاتے ہیں کہ ان کی تمام ترقی پسندی بکھر جاتی ہے۔ وہ ماحولیاتی تباہی پر لکھتے ہیں، دریاؤں کے لیے آنسو بہاتے ہیں، مگر کوئلے کے حق میں تقریریں بھی دیتے ہیں۔ وہ مظلوموں کی بات کرتے ہیں، مگر رات کے اندھیرے میں ہٹلر اور ٹرمپ جیسے کرداروں کی حمایت کر جاتے ہیں۔
وہ تاریخ سے سیکھنے کی بات کرتے ہیں، مگر صوفی شاہ عنایت جیسے کرداروں کو بھی فرضی قرار دیتے ہیں۔ وہ عوام کی بات تو کرتے ہیں، مگر عوام پر اعتماد نہیں رکھتے، اسی لیے نجات کو عوام کی اجتماعی جدوجہد کے بجائے کسی معجزاتی شخصیت یا طاقتور حکمران میں تلاش کرتے ہیں۔
وہ سندھ میں سائنسدانوں کی کمی کا سبب نوآبادیاتی ڈھانچے کے بجائے صوفی روایت کو ٹھہراتے ہیں، اور ویدانت اور تصوف کے انقلابی جوہر کو اس کی ظاہری شکل(دیو مالائی قصے، مذھب، خیال پسندی اور فرار) پر قربان کر دیتے ہیں۔ وہ ایسے ڈاکٹر ہیں جو بیماری سے نفرت کے بہانے مریض کو ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ مرض کی تفصیل بیان کرتے لمبی جذباتی تقریریں کرتے ہیں، مگر علاج کرنے سے قاصر رہتے ہیں، اور جب یہی بیمار معاشرہ اپنے طریقوں سے علاج ڈھونڈتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔
کسی بھی سنجیدہ تجزیے یا حکمتِ عملی کے لیے ضروری ہے کہ ایک مارکسسٹ، لبرل کی طرح ریاست اور سماج کے فرق کو مٹا نہ دے، بلکہ اپنی تاریخی اور ثقافتی جدوجہد پر قائم رہے۔ کوئی تنگ نظر مذہبی شخص شاہ عبداللطیف کو نگل نہیں سکتا۔ ہندوستان پر چاہے اورنگزیب ہو یا مودی، اور بھلے آج کے دارا شکوہ یا سرمد کو قتل کر دیا جائے، مگر ہندوستان کی روح کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح ایران میں بھی وقتی تنگ نظری اس کی تہذیبی گہرائی کو مٹا نہیں سکتی۔
ہم سب جدیدیت کے قائل ہیں، مگر اس کی حدود سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔ جدیدیت نے شعور اور منطق کو بلند کیا، مگر یہ بھی واضح کیا کہ شعور، چاہے فرد کا ہو یا گروہ کا یا کائناتی،مگر وہہ انسانی وجود کی کل حقیقت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، بالکل ایسے جیسے سمندر کے اندر چھپا پہاڑ جس کی صرف چوٹی ہی سطح سے نظر آتی ہے۔
ماؤ نے ثقافتی انقلاب برپا کیا، مگر کیا وہ چینی عوام میں سے کنفیوشس کے اثرات ختم کر سکا؟ جواب ہے: نہیں۔ ثقافتی تبدیلی کا عمل سیاسی تبدیلی سے کہیں زیادہ وسیع، گہرا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ اسے کسی ایک فرمان یا مرکزی کمیٹی کے فیصلے سے مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اسی لیے یہ جنگ صرف ایران کی ریاست نہیں لڑ رہی، بلکہ اس کا معاشرہ اور عوام بھی لڑ رہے ہیں، اور ہیمنگوے کے “بوڑھا اور سمندر” کی طرح اعلان کر رہے ہیں: "تم ہمیں تباہ تو کر سکتے ہو، مگر شکست نہیں دے سکتے۔"
#Irán #IranWar #Ceasefire #Talks #Liberals #SoCalledLiberals #SindhiLiberals #BakhshalThalho #RoshniPublication
@BThalho @IndusMatters @Siddiquimajid @fidahjatoi02 @johnhussainpres @ssimam01 @FearlessWolfess @Advjalila @soulat_pasha @Roshnipub @Halarnawaz

اردو
Bakhshal Thalho retweetledi

آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں کچی آبادیوں کے مکینوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں بریمام کے متاثرہ افراد، عوامی نمائندے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران کچی آبادی کے رہائشیوں کے وکلاء نے عدالت کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیا اور جبری بے دخلی و گھروں کی مسماری کے خلاف دلائل دیے۔
عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پہلے سے جاری اسٹیے آرڈر کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت تاحکمِ ثانی کچی آبادیوں میں گھروں کی مسماری کا عمل روکا جائے گا، جس سے متاثرہ خاندانوں کو وقتی ریلیف ملا ہے۔
متاثرین اور ان کے وکلاء نے اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ آئندہ سماعت میں مزید قانونی نکات پر بحث متوقع
اردو
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi

سی ڈی اے سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے علامہ اقبال کالونی کو بے دخل کر رہی ہے، جو فی الحال اسلام آباد کی سب سےبڑی مسیحی بستیوں میں سے ایک ہے۔اس وقت سینکڑوں محنت کش خاندانوں کو بے گھر کیاجا رہا ہے اور انہیں کوئی متبادل انتظام فراہم نہیں کیا گیا۔
#HousingForAll
اردو

یہ اس دھرتی کے اچھے نصیب کہ آپ جیسے فنکار نے یہان کا سیر کیا. الوداع ان تمام دلوں سے جن کو آپ کے گیتوں نے زندگی اور تازگی دی.
#AshaBhosle

اردو
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi

A mapping study presented at the National Press Club in Islamabad has ignited a debate over the federal capital’s housing policy, claiming that nearly a fifth of the city’s population lives in informal settlements ignored by the state for decades. Activists argue that while the city has grown rapidly, the Capital Development Authority is operating on obsolete data that effectively "erases" hundreds of thousands of working-class citizens from the official map.
#Islamabad
English
Bakhshal Thalho retweetledi
Bakhshal Thalho retweetledi

















