Ch Sultan Ahmed

3.1K posts

Ch Sultan Ahmed banner
Ch Sultan Ahmed

Ch Sultan Ahmed

@ChSultan33

System needs change | Political Activist | Ex-Deputy Director CDA | Islamic Democracy is the way | Inspired by Dr. Israr Ahmed & Khalid Mehmood Abbasi

Islamabad, Pakistan Katılım Ağustos 2020
520 Takip Edilen765 Takipçiler
Ch Sultan Ahmed retweetledi
Khalid Mehmood Abbasi
Khalid Mehmood Abbasi@khalidmabbasi·
ٹرمپ کی بلی آخر تھیلے سے باہر نکل آئی ہے۔اس نے جنگ لڑی ہی اس مقصد کیلئے تھی۔ایران سے سولہ ایئر بیس،بیالیس ہوائی جہاز تباہ کروانے اور چالیس روزہ جنگ لڑنے کے بعد بھی کسی ایک ہدف کو حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد جب بے بس ہو کر مذکرات کی طرف آیا تو جوں ہی راستہ بنتا دکھائی دیا کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح پھر ہاری ہوئی پونجی کی رٹ لگاتے ہوئے "ابراہم اکارڈ" کی قوالی شروع کر بیٹھا ہے۔قوی امید ہے کہ مسلمان ممالک اس طرف کان نہیں دھریں گے کیونکہ اسراائییل کو تسلیم کرنا ملت سے غداری ہے جبکہ "ابراہم اکارڈ" کو تسلیم کرنا درحقیقت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن سے براہ راست غداری ہے۔ یہ چال اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس تدبیر کے مشابہ ہے جو جلال الدین اکبر کو اس کے مصاحبین نے "دین اکبری" کے عنوان کے تحت پڑھائی و سکھلائی تھی اور اسی باسی کڑی میں شاہجہان کے اقتدار کے آخری دنوں میں دارا شکوہ کی صورت میں دوبارہ ابال آیا تھا۔پاکستان کے موجودہ حکمرانوں سے امید ہے کہ وہ شیخ احمد سرہندی رح اور اورنگزیب عالمگیر کے کردار کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہوئے شیطانی دماغوں کے اس لطیف وار کو اپنی دانش و حکمت اور جرات و جسارت سے ناکام بنائیں گے۔ان شاءاللہ
اردو
14
54
154
4.5K
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
جو شخص دل کی نرمی سے محروم ھوگیا وہ کل کے کل خیر سے محروم ھوگیا ڈآکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ
اردو
0
3
13
271
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
*پاکستان میں عید الاضحیٰ کے 3 دنوں میں 74 لاکھ جانوروں کی قربانی، 641 ارب روپے کی حیران کن معاشی سرگرمی کے اعداد و شمار* ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عید الاضحیٰ کے تین دنوں کے دوران تقریباً 74 لاکھ جانور قربان کیے جاتے ہیں، جبکہ قربانی کے جانوروں اور اس سے جڑی سرگرمیوں پر مجموعی اخراجات کا تخمینہ 641 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم قیمتوں اور دیگر اخراجات کے لحاظ سے 539 ارب سے 752 ارب روپے (1.9 ارب سے 2.6 ارب ڈالر) کے درمیان رہتا ہے۔ آلات کی مقدار، جمع ہونے والی کھالوں کی تعداد اور عید سے قبل مارکیٹ میں گردش کرنے والی اضافی نقد رقم، ان اعداد و شمار کو ملا کر عید الاضحیٰ کی مجموعی معاشی سرگرمی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق کھالوں کی تعداد اب پہلے کی نسبت کم قابلِ اعتماد رہ گئی ہے، کیونکہ مصنوعی چمڑے کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کئی کھالیں فروخت کے بجائے دفن کر دی جاتی ہیں، تاہم یہ اب بھی مارکیٹ کے حجم کا اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں۔ *Rauf Klasra Official*
اردو
0
0
1
67
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
انڈین را پاکستان میں دھشت گردی کو سپورٹ کرتا ھے جب بھی بغاوت کا عمل شروع تو اس ملک کو غیر کا ملک سمجنے سے سے گی جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کے اندر کہاں جمہوریت آئی ھے دھشت گردی کے خلاف جنگ کیون ناکام ھے
اردو
0
1
9
281
Ch Sultan Ahmed retweetledi
Mahtab Aziz
Mahtab Aziz@mahtab2010·
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا اور پچاس ویں امام، "پرنس شاہ رحیم آغا خان"، اس وقت پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کا استقبال کسی ملک کے صدر یا وزیرِ اعظم کی طرح ریڈ کارپٹ، گارڈ آف آنر اور 21 توپوں کی سلامتی جیسے روایتی شاہی پروٹوکول سے کیا گیا ہے۔ صرف پاکستان میں ہی ایسا نہیں ہوا، دنیا کے اکثر ممالک انہیں "سربراہِ مملکت" (Head of State) کے برابر پروٹوکول اور سفارتی استثنیٰ (Diplomatic Immunity) دیا جاتا ہے۔ یہاں سوال جنم لیتا ہے کہ ایک ایسی شخصیت جس کے پاس کوئی خطہِ زمین ہے نہ کوئی اپنی فوج، وہ عالمی سیاست مین کوئی کردار رکھتی ہے، وہ اس مقام تک کیسے پہنچی؟؟ اس راز کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے بند پَردوں کو ہٹا کر اس داستان کے تانے بانے دیکھنا ہوں گے۔ اسماعیلی، اہل تشیع کی ایک اہم شاخ ہیں۔ آٹھویں صدی عیسوی میں چھٹے امام، حضرت جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے اسماعیل بن جعفر کی پیروی کرنے والے "اسماعیلی" کہلائے۔ تاریخ میں ان کا سب سے سنہری دور "خلافتِ فاطمیہ" تھا، جس نے مصر، شمالی افریقہ اور شام پر صدیوں تک حکومت کی اور قاہرہ کی مشہورِ زمانہ "الجامعۃ الازہر" کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی تھی۔ اس حکومت کا خاتمہ صلاح الدین ایوبی ک ہاتھوں ہوا تھا۔ بعد میں یہ ایران منتقل ہو گئے، صفوی دور حکومت میں معتوب رہے، اور صدیوں بعد، انیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان ایران کے شاہی دربار سے وابستہ ہوا۔ 1818ء میں ایران کے "قاجار بادشاہ"، فتح علی شاہ نے اسماعیلیوں کے 46 ویں امام، حسن علی شاہ کو اپنا دماد بنایا اور پہلی بار "آغا خان" کا شاہی لقب دیا۔ لیکن یہ تعلقات جلد ہی ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی تنازع کی نذر ہو گئے۔ ایران کی قاجار حکومت اور آغا خان اول کے درمیان جھگڑے کی اصل بنیاد انکے برطانوی سلطنت (انگریزوں) کے ساتھ بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات بنے۔ یہ وہ دور تھا جب برطانوی سلطنت خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلا رہی تھی اور ایران اس نوآبادیاتی طاقت کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا تھا۔ آغا خان اول کے انگریزوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط نے قاجار دربار میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے، جس کے نتیجے میں اختلافات اتنے بڑھے کہ مسلح تصادم کی نوبت آ گئی۔ ایران میں اپنے سیاسی حریفوں سے شکست کھانے کے بعد آغا خان اول کو 1840ء کی دہائی میں ایران چھوڑ کر افغانستان اور پھر وہاں سے برطانوی ہندوستان ہجرت کرنی پڑی، یہ وہ دور تھا جب انگریز ہندوستان پر اپنے پاؤں جما رہا تھا اور اسے سندھ اور سرحد (کے پی کے) میں وفاداروں کی ضرورت تھی۔ آغا خان اول نے برطانوی افواج کی فوجی اور سیاسی مدد کی، جس کے بدلے انگریز حکومت نے انہیں نہ صرف پناہ دی بلکہ "ہز ہائینس" (His Highness) کا شاہی خطاب دے کر بمبئی (موجودہ ممبئی) میں مستقل طور پر آباد کر دیا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان انگریزوں کی سرپرستی میں برصغیر کے مسلمانوں کا بااثر رہنما بن کر ابھرا۔ سرسید کی تعلیمی مہم میں آغا خان سوئم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اداروں کے قیام میں کردار ادا کیا۔ آغا خان سوم (سر سلطان محمد شاہ) کو 1906ء میں قائم ہونے والی "آل انڈیا مسلم لیگ" کا پہلا مستقل صدر بنایا گیا۔ شملہ میں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے وائسرائے سے ملاقات کی۔ گول میز کانفرنسوں میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی میں پیش پیش رہے۔ چونکہ وہ انگریزوں کے بہت قریبی اور معتمد تھے، اس لیے انہیں عالمی سطح پر برطانوی راج کی سرپرستی حاصل رہی۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد، جب خلافتِ عثمانیہ اور ینگ ترکس کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ تھے، تو انہی آغا خان سوئم نے ینگ ترکس (Young Turks) کے نمائندے اور ترکی کے وزیرِ اعظم عصمت انونو کو خط لکھ کر "خلافت کو برقرار رکھنے" کی اپیل کی۔ "مصطفیٰ کمال" (اتاترک) نے آغا خان کے انگریزوں کے ساتھ گہرے روابط کی بنیاد پر وجہ سے اس خط کو "برطانوی سازش" اور "ترکی اندرونی معاملات" میں مستقل مداخلت کی راہ قرار دیا، اور پھر اسی خط کو بہانہ بنا کر مارچ 1924ء میں خلافت کے خاتمے کا اعلان کر کر دیا۔ موقف اختیار کیا کہ جب تک خلاف کا دارہ قائم رہے گا برطانوی ایجنٹوں کی مداخلت ختم نہیں ہو سکے گی۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں اس خاندان نے اپنی رہائش اور سرمائے کا رخ برصغیر اور برطانیہ سے موڑ کر فرانس کی طرف کرنا شروع کر دیا۔ برطانیہ کے بجائے فرانس کو اپنا مستقل مسکن بنانے کے پیچھے گہری سٹریٹجک اور ذاتی وجوہات تھیں۔ برطانیہ اس وقت ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت تھا اور وہاں رہ کر کام کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ آغا خان خاندان دنیا بھر میں موجود اپنے مریدین (جو مختلف نوآبادیات میں پھیلے ہوئے تھے) کی نظر میں برطانوی پالیسیوں کا رنگ الیکٹڈ نظر آتا۔ فرانس نے انہیں ایک ایسا "غیر جانبدار" اور بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں سے وہ کسی ایک سیاسی بلاک کا حصہ بنے بغیر اپنے عالمی نیٹ ورک کو چلا سکتے تھے۔ مزید برآں، فرانس کا ماحول، وہاں کی اشرافیہ کا طرزِ زندگی اور پیرس کی عالمی سفارتی مرکزیت اس خاندان کے عالمی وژن کے عین مطابق تھی، جس کے لیے یہ خاندان منتقل طور پر فرانس منتقل ہوگیا۔ پیرس کے مضافات "ایگلیمو اسٹیٹ" (Aiglemont estate) میں ان کا مستقل ہیڈکوارٹر اور عالیشان شاہی محل قائم ہوا۔ یہیں سے مغرب اور خاص طور پر فرانس کا وہ دوہرا معیار اور منافقت کھل کر سامنے آتی ہے جو موجودہ عالمی نظام کا خاصہ ہے۔ فرانسیسی حکومت اپنی سخت ترین سیکولر پالیسیوں (Laïcité) کے تحت عام مسلم تارکینِ وطن، پناہ گزینوں اور غریب مسلمانوں کے خلاف انتہائی سخت قوانین نافذ کرتی ہے۔ وہاں حجاب پر پابندی لگائی جاتی ہے، داڑھی یا روایتی مسلم شناخت کو عوامی مقامات پر جرم کی طرح دیکھا جاتا ہے اور مسلم کمیونٹیز کو پسماندہ رکھنے کے لیے ریاستی قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن جب باری کسی کھرب پتی مذہبی پیشوا کی آتی ہے، تو یہی سیکولر قوانین موم کی ناک بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ فرانس جیسے سیکولر ملک میں بیٹھ کر اپنی مذہبی پیشوائی کا نیٹ ورک پوری دنیا میں چلاتے ہیں، اور اس پر فرانس کے سخت ترین سیکولر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔مغرب کا یہ دوہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ ان کے ہاں قانون، تہذیب اور سیکولرازم کی پابندیاں صرف غریب اور کمزور مسلمانوں کے لیے ہیں، جبکہ ارب پتی اور بااثر شخصیات کے لیے تمام قوانین اور نظریات یکسر بدل دیے جاتے ہیں۔ آغا خان فیملی کا شمار فرانس کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان میں ہوتا ہے، وہ وہاں کے مہنگے ترین ریمپ اور گھوڑوں کی ریس کے فارمز کے مالک ہیں، اور ان کا سرمایہ فرانسیسی معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ فرانسیسی اعلیٰ اشرافیہ کا ناگزیر حصہ مانے جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں پرنس شاہ رحیم آغا خان "سربراہِ مملکت" کا پروٹوکول ملتا ہے۔ ان کا کھربوں ڈالر پر محیط "آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک" (AKDN) ہے۔ یہ نیٹ ورک دنیا کے درجنوں ممالک میں تعلیم، صحت اور مائیکرو فنانس کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں کے ساتھ باقاعدہ دو طرفہ سفارتی معاہدے کر رکھے ہیں، جس کے تحت انہیں ایک خودمختار ریاست کی طرح حقوق اور سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ دنیا کے سیاسی ایوانوں میں عزت اور پروٹوکول حاصل کرنے کے لیے زمین کی سرحدوں سے زیادہ دولت، اچھے تعلقات اور اسمارٹ ڈپلومیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مغرب اور مشرق کا کوئی فرق نہیں۔
Mahtab Aziz tweet mediaMahtab Aziz tweet media
اردو
16
104
395
57.3K
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
سوال یہ کہ ان خوارج کو تیار کرنے والی فیکٹری کون سی ھے اسے بند کرنا ھوگا
Markhor Khyber Pakhtunkhwa@MarkhorKPK1

خوارج دہشت گردی کی حقیقت: دھوکہ دہی، تشدد اور عدم استحکام کا منظم ایجنڈا فتنۂ خوارج ایک منظم دہشت گرد گروہ ہے جو اپنے پرتشدد، غیر انسانی اور تباہ کن اقدامات کے ذریعے معاشرے کے کسی بھی طبقے کو محفوظ نہیں رہنے دیتا۔ یہ عناصر جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈے کو ہتھیار بنا کر حالات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کو “مذہبی جواز” دینے کے لیے اسلامی تعلیمات کا چنیدہ اور گمراہ کن استعمال کرتے ہیں، حالانکہ ان کا اسلام کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ بے شمار بے گناہ انسانوں کے قتل کا ذمہ دار ہے اور اسکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر معاشرے کو مفلوج اور ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کا مقصد خوف، بدامنی اور انارکی پھیلانا ہے، جس کے باعث یہ امن، انسانیت اور ریاستی استحکام کے کھلے دشمن ہیں۔ یہ وہ گروہ ہے جو گھروں کو ویران، بچوں کو یتیم، خواتین کو بیوہ اور خاندانوں کو دائمی صدموں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ان کے ہاتھوں مائیں اپنے جگر گوشوں سے محروم ہو جاتی ہیں اور پورے معاشرے میں خوف، بے یقینی اور بدامنی پھیل جاتی ہے۔ یہ بلا تفریق تشدد کے ذریعے خاندانوں کو تباہ اور معاشرے کو مسلسل خوف و اضطراب میں مبتلا رکھتے ہیں، جبکہ ان کے نزدیک انسانی جان، اخلاقی اصول اور معاشرتی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں اور ان کی کارروائیاں نہ کسی مذہب سے مطابقت رکھتی ہیں اور نہ ہی کسی انسانی یا اخلاقی ضابطے سے۔ ان کی قیادت اور نیٹ ورک، بشمول خارجی نور ولی، افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے سرگرم ہے، جہاں سے انہیں سہولتیں اور معاونت حاصل ہوتی ہے۔ جہاں وہ اور اس کا خاندان پُرامن و محفوظ زندگی بسر کر رہے جبکہ وہ نوجوانوں کو گمراہ کن نعروں کے ذریعے تشدد کی طرف اکساتے ہیں۔ یہ گروہ دہشت گردی کو ایک منظم کاروبار کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اپنے مفادات کے لیے انسانی جانوں کو قربان کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی اطلاعات کے مطابق خوارج نور ولی کو ماہانہ 43,000 امریکی ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ نام نہاد “جہاد” درحقیقت ایک منظم مالی کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ خوارج نور ولی کا پاکستان کے خلاف تخریبی و تباہ کن ایجنڈا غیر ملکی خفیہ اداروں کے مفادات سے ہم آہنگ ہے، اور اس کا واحد مقصد پاکستانی معاشرے میں بدامنی، انتشار اور عدم استحکام کو فروغ دینا ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے 1800 سے زائد علما نے (پیغامِ پاکستان) کے تحت نور ولی کی نام نہاد تحریک کو مسترد کرتے ہوئے اسے خوارج قرار دیا ہے اور اس کے تمام افعال کو شرعاً ناجائز اور حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ عناصر کسی بھی مقدس موقع یا مذہبی حرمت کا لحاظ نہیں رکھتے، چاہے رمضان ہو، عیدین ہوں یا جمعہ—یہ اپنی پرتشدد کارروائیوں سے باز نہیں آتے اور بارہا موقع سے فائدہ اٹھا کر حملے کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ مکمل طور پر غیر قابلِ اعتماد، دھوکہ باز اور جھوٹے ہیں۔ اسلام امن، رواداری اور انسانی جان کے احترام کا دین ہے، جبکہ یہ خوارج صرف فساد فی الارض، خونریزی اور انتشار کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کا طرزِ عمل اسلام کی بنیادی تعلیمات کی صریح نفی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ان دہشت گرد عناصر کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہیں۔ یہ بہادر سپاہی دراصل امن کے محافظ اور قوم کے حقیقی مجاہدین ہیں۔ عوام ان خوارج کے ایجنڈے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یقیناً ان دہشت گرد عناصر اور ان کے بیرونی و اندرونی سرپرستوں کا ایجنڈا ناکامی سے دوچار ہوگا، اور پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔

اردو
0
0
2
58
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
مسلمانوں کا عروج زوال اور اغیار غلبہ تاریخ کے تناظر میں KhalidMehmoodAbbasi
اردو
0
4
11
204
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
جب کوئی نادان مفکرین نوجوان کے خون کو جہاد کے نام پے ریاست کے خلاف جوش دلا رھے ھوتے ھیں اور ان کے پاس نہ کوئی منظم جماعت اور اگلا لائحہ عمل ھوتا ھے اصل میں القائدہ داعش کے لیے میٹریل تیار کرنے کا موجب بنتے ھیں
اردو
0
6
18
348
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
*دھماکا خودکش تھا، 30 کلو سے زائد بارودی مواد استعمال ہوا، ابتدائی پولیس رپورٹ* دھماکے میں جاں بحق افراد کی 18 لاشیں سول ہسپتال منتقل کردی گئی جبکہ 30 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں جنہیں مختلف ہسپتالوں کو منتقل کیا گیا ہے، ابتدائی خبر دشمن کی یہ بزدلانہ کارروائیوں سے ھماری عوام اور فوج کے حوصلے پست نھی ہون گے انشاللہ
اردو
0
10
16
571
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
شیطانی نیٹ ورک کیا ھے اور شیطان کیسے انسان کو شکار کرتا ھے وہ ھے تھری ڈبلیو www اپنی زبان میں کہیں گے زن زر زمین مطلب زانی ٹولہ شرابی ٹولہ اور پیسے کا بھوکا ٹولہ
اردو
0
11
18
310
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
▪️پراجیکٹ عمران خان کیا تھا؟ ون پیج سیاست کا ایک سیاہ باب ▪️کیا پاکستان ون پارٹی سسٹم کی طرف بڑھ رہا ہے؟ ▪️ابھرتا پاکستان یا بوسیدہ سیاسی نظام؟ پاکستان کا رخ کس طرف؟ ▪️جمہوریت خطرے میں؟ پاکستان کے مستقبل پر ایک اہم مکالمہ عبدالقیوم صدیقی اور خالد محمود عباسی کے ساتھ @khalidmabbasi @QayyumReports
اردو
0
24
45
1.2K
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
ترقی اتنی ھوئی ھے کہ دنیا ھی بدل گئی ھے ھم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جب شان بیان کرتے ھیں تو کہتے ھیں ان کی زلفیں ایسی تھیں ان کا اخلاق ایسا تھا اس میں کوئی شک نھی لیکن مغربی مفکرین نے آپ صلی اللہ کی کون سی شان بیان کی تو ایچ ای ویلز نے کہا انسانی حریت،اخوت ، مساوات کے وعظ توحضرت عیسیٰ کے ہاں بھی بھت سنے لیکن ان اصولوں پے ایک معاشرہ تشکیل تاریخ انسانی میں پہلی دفعہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا اسی طرح ڈاکٹر مائکل ہارٹ اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی نمبر ون کامیاب ہستی دونوں سیکولر اور مذھبی میدان میں قرار دیتے ھیں یہ ھے سوشل گھاٹ اور ھمیشہ اس میں رکاوٹ کون بنا ھمارا روایت پسند حلقہ
اردو
0
9
22
396
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
کپتان کے گلے جو بیٹی انگریزی قانون کے زریعے ڈالی تھی ابھی تک انھیں کے پاس پل رھی ھے پرویز مشرف سے لیکر 2022 تک رجیم وھی تھی جنہوں یہ پروجیکٹ لانچ کیا تھا یہی ڈاکٹر اسرار احمد نے پیشین گوئی کی تھی ریاست کے خلاف جو بات کرے وہ غدار وطن ھوتا ھے ریاست اسے معاف نھی کرتی
اردو
3
11
25
442
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
@vazims1 معزرت بس موبائل جب خود کوریکشن کرتا ھے دوبارہ نظر میں نھی آیا
اردو
1
0
1
3
Patriot Pakistani
Patriot Pakistani@vazims1·
@ChSultan33 میں بحمد اللہ تعالی انگلش بھی سمھجھتا ہوں، تھوڑی سی عربی بھی لیکن اردو میں بولنا اور لکھنا میرا فخر ہے۔ آپ اس کی ٹانگیں تو نہ توڑیں۔ 🤣🤣🤣🤣😜😜😜😜😜 بھائی مہربانی کرو اردو کا قتل عام نہ کرو۔ "ارب" لکھو، "عرب" نہیں، یہ آپ اہل عرب کو پاکستانی معیشت میں گھسیڑ رہے ہو۔
اردو
1
0
0
8
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
پاکستان کا روزانہ کا خرچہ 36 عرب روپے ھے اس میں سے صرف 12 عرب ملک کی سڑکیں پل تنخواہیں ، کرپشن اور دیگر حکومتی اخراجات ھوتے ھیں باقی 24 عرب روپے سود ادا ھوتا ھے جو اسلام میں حرام ھے جیسے سور حرام ھے ھم کہتے ھیں ھماری معشیت ٹھیک نھی ھوتی جب اللہ اور اس کے رسول سے جنگ جاری رکھیں گے تو معیشت کیا خاک ٹھیک ھوگی
اردو
7
90
125
2.7K
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
دنیا کی امامت حاصل کرنے کے اللہ نے قرآن میں کچھ تقاضوں کا ذکر کیا ھے وہ مصلے کی امامت نھیں دنیا کی بادشاھی جو اجکل امریکہ کے پاس ھے اس کو حاصل کرنے کا واحد زریعہ اللہ کا دین اور قرآن ھے جس میں اللہ کے احکامات ھیں جن پے عمل کرنے کے انعام کے طور پے اللہ امامت عطاء فرماے گا جیسے حضرت ابرہیم کو سب امتحانوں کے بعد ملی تھی
اردو
0
7
28
469
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
وہ ایران کی رجیم چینچ کر کے ھمارے بارڈر تک پہنچنا چاھتے تھے نھی پہنچ سکے لیکن پاکسان جاکر اسرائیل کے سر پے بیٹھ گیا ھے صرف 14 کلو میٹر دور اسرائیل سے یہ ھوتی ھے اللہ کی قدرت اور مدد الحمداللہ
اردو
0
0
1
133
Ch Sultan Ahmed
Ch Sultan Ahmed@ChSultan33·
اگر تمام مسلمان ملک اسرائیلی مصنوعات پے پابندی لگا دیں شام کی طرح اور لگانی بھی چاھیے یہ غیرت ایمانی کا تقاضا ھے تو دنیا میں کچھ نتائج چاھے نہ نکلیں اللہ تو راضی ھوگا اور آخرت میں اجر ثواب کا موجب بنے گا
Ch Sultan Ahmed tweet media
اردو
0
1
4
99