
Ch Sultan Ahmed
3.1K posts

Ch Sultan Ahmed
@ChSultan33
System needs change | Political Activist | Ex-Deputy Director CDA | Islamic Democracy is the way | Inspired by Dr. Israr Ahmed & Khalid Mehmood Abbasi
Islamabad, Pakistan Katılım Ağustos 2020
520 Takip Edilen765 Takipçiler
Ch Sultan Ahmed retweetledi

ٹرمپ کی بلی آخر تھیلے سے باہر نکل آئی ہے۔اس نے جنگ لڑی ہی اس مقصد کیلئے تھی۔ایران سے سولہ ایئر بیس،بیالیس ہوائی جہاز تباہ کروانے اور چالیس روزہ جنگ لڑنے کے بعد بھی کسی ایک ہدف کو حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد جب بے بس ہو کر مذکرات کی طرف آیا تو جوں ہی راستہ بنتا دکھائی دیا کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح پھر ہاری ہوئی پونجی کی رٹ لگاتے ہوئے "ابراہم اکارڈ" کی قوالی شروع کر بیٹھا ہے۔قوی امید ہے کہ مسلمان ممالک اس طرف کان نہیں دھریں گے کیونکہ اسراائییل کو تسلیم کرنا ملت سے غداری ہے جبکہ "ابراہم اکارڈ" کو تسلیم کرنا درحقیقت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن سے براہ راست غداری ہے۔
یہ چال اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس تدبیر کے مشابہ ہے جو جلال الدین اکبر کو اس کے مصاحبین نے "دین اکبری" کے عنوان کے تحت پڑھائی و سکھلائی تھی اور اسی باسی کڑی میں شاہجہان کے اقتدار کے آخری دنوں میں دارا شکوہ کی صورت میں دوبارہ ابال آیا تھا۔پاکستان کے موجودہ حکمرانوں سے امید ہے کہ وہ شیخ احمد سرہندی رح اور اورنگزیب عالمگیر کے کردار کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہوئے شیطانی دماغوں کے اس لطیف وار کو اپنی دانش و حکمت اور جرات و جسارت سے ناکام بنائیں گے۔ان شاءاللہ
اردو

*پاکستان میں عید الاضحیٰ کے 3 دنوں میں 74 لاکھ جانوروں کی قربانی، 641 ارب روپے کی حیران کن معاشی سرگرمی کے اعداد و شمار*
ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عید الاضحیٰ کے تین دنوں کے دوران تقریباً 74 لاکھ جانور قربان کیے جاتے ہیں، جبکہ قربانی کے جانوروں اور اس سے جڑی سرگرمیوں پر مجموعی اخراجات کا تخمینہ 641 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم قیمتوں اور دیگر اخراجات کے لحاظ سے 539 ارب سے 752 ارب روپے (1.9 ارب سے 2.6 ارب ڈالر) کے درمیان رہتا ہے۔ آلات کی مقدار، جمع ہونے والی کھالوں کی تعداد اور عید سے قبل مارکیٹ میں گردش کرنے والی اضافی نقد رقم، ان اعداد و شمار کو ملا کر عید الاضحیٰ کی مجموعی معاشی سرگرمی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق کھالوں کی تعداد اب پہلے کی نسبت کم قابلِ اعتماد رہ گئی ہے، کیونکہ مصنوعی چمڑے کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کئی کھالیں فروخت کے بجائے دفن کر دی جاتی ہیں، تاہم یہ اب بھی مارکیٹ کے حجم کا اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں۔
*Rauf Klasra Official*
اردو

جتنے مظالم انڈیا کا ھندو وہاں کے مسلمانوں پے کر رھا ھے خاص کر کشمیر میں تو اللہ کا قانون زیادہ دیر تک ظلم پے خاموش نھی رہتا
Sadia Khalid@SadiasOfficial
بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی بڑھتی مقبولیت سے مودی سرکار گھبرا گئی ڈبوں میں کاکروچ بند کر کے انہیں مارنے کی ویڈیوز بنائی جا رہی😂 طنز سے شروع ہونے والی تحریک اب ڈیجیٹل احتجاج بن گئی لگتا ہے سری لنکا ، نیپال بنگلہ دیش کی طرح اب بھارت کا تختہ پلٹے گا
اردو

یہ بے غیرت بے حیا لوگوں کا کے پاپولر ھونے کا آسان طریقہ ھے جب آخرت کی بجاے صرف دنیا مطلوب ھو تو پھر جو جی چاھے کرتے رھو
Alamgir Zeb@AlamgirZeb132
میں حیران ہوں ایسی کونسی سی تصویر ہیں جس سے یہ اداکارہ بھڑک اٹھی 😳🤔
اردو
Ch Sultan Ahmed retweetledi

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا اور پچاس ویں امام، "پرنس شاہ رحیم آغا خان"، اس وقت پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کا استقبال کسی ملک کے صدر یا وزیرِ اعظم کی طرح ریڈ کارپٹ، گارڈ آف آنر اور 21 توپوں کی سلامتی جیسے روایتی شاہی پروٹوکول سے کیا گیا ہے۔
صرف پاکستان میں ہی ایسا نہیں ہوا، دنیا کے اکثر ممالک انہیں "سربراہِ مملکت" (Head of State) کے برابر پروٹوکول اور سفارتی استثنیٰ (Diplomatic Immunity) دیا جاتا ہے۔
یہاں سوال جنم لیتا ہے کہ ایک ایسی شخصیت جس کے پاس کوئی خطہِ زمین ہے نہ کوئی اپنی فوج، وہ عالمی سیاست مین کوئی کردار رکھتی ہے، وہ اس مقام تک کیسے پہنچی؟؟
اس راز کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے بند پَردوں کو ہٹا کر اس داستان کے تانے بانے دیکھنا ہوں گے۔
اسماعیلی، اہل تشیع کی ایک اہم شاخ ہیں۔ آٹھویں صدی عیسوی میں چھٹے امام، حضرت جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے اسماعیل بن جعفر کی پیروی کرنے والے "اسماعیلی" کہلائے۔ تاریخ میں ان کا سب سے سنہری دور "خلافتِ فاطمیہ" تھا، جس نے مصر، شمالی افریقہ اور شام پر صدیوں تک حکومت کی اور قاہرہ کی مشہورِ زمانہ "الجامعۃ الازہر" کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی تھی۔ اس حکومت کا خاتمہ صلاح الدین ایوبی ک ہاتھوں ہوا تھا۔
بعد میں یہ ایران منتقل ہو گئے، صفوی دور حکومت میں معتوب رہے، اور صدیوں بعد، انیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان ایران کے شاہی دربار سے وابستہ ہوا۔ 1818ء میں ایران کے "قاجار بادشاہ"، فتح علی شاہ نے اسماعیلیوں کے 46 ویں امام، حسن علی شاہ کو اپنا دماد بنایا اور پہلی بار "آغا خان" کا شاہی لقب دیا۔
لیکن یہ تعلقات جلد ہی ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی تنازع کی نذر ہو گئے۔ ایران کی قاجار حکومت اور آغا خان اول کے درمیان جھگڑے کی اصل بنیاد انکے برطانوی سلطنت (انگریزوں) کے ساتھ بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات بنے۔ یہ وہ دور تھا جب برطانوی سلطنت خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلا رہی تھی اور ایران اس نوآبادیاتی طاقت کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا تھا۔
آغا خان اول کے انگریزوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط نے قاجار دربار میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے، جس کے نتیجے میں اختلافات اتنے بڑھے کہ مسلح تصادم کی نوبت آ گئی۔ ایران میں اپنے سیاسی حریفوں سے شکست کھانے کے بعد آغا خان اول کو 1840ء کی دہائی میں ایران چھوڑ کر افغانستان اور پھر وہاں سے برطانوی ہندوستان ہجرت کرنی پڑی، یہ وہ دور تھا جب انگریز ہندوستان پر اپنے پاؤں جما رہا تھا اور اسے سندھ اور سرحد (کے پی کے) میں وفاداروں کی ضرورت تھی۔ آغا خان اول نے برطانوی افواج کی فوجی اور سیاسی مدد کی، جس کے بدلے انگریز حکومت نے انہیں نہ صرف پناہ دی بلکہ "ہز ہائینس" (His Highness) کا شاہی خطاب دے کر بمبئی (موجودہ ممبئی) میں مستقل طور پر آباد کر دیا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان انگریزوں کی سرپرستی میں برصغیر کے مسلمانوں کا بااثر رہنما بن کر ابھرا۔ سرسید کی تعلیمی مہم میں آغا خان سوئم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اداروں کے قیام میں کردار ادا کیا۔ آغا خان سوم (سر سلطان محمد شاہ) کو 1906ء میں قائم ہونے والی "آل انڈیا مسلم لیگ" کا پہلا مستقل صدر بنایا گیا۔ شملہ میں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے وائسرائے سے ملاقات کی۔ گول میز کانفرنسوں میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی میں پیش پیش رہے۔ چونکہ وہ انگریزوں کے بہت قریبی اور معتمد تھے، اس لیے انہیں عالمی سطح پر برطانوی راج کی سرپرستی حاصل رہی۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد، جب خلافتِ عثمانیہ اور ینگ ترکس کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ تھے، تو انہی آغا خان سوئم نے ینگ ترکس (Young Turks) کے نمائندے اور ترکی کے وزیرِ اعظم عصمت انونو کو خط لکھ کر "خلافت کو برقرار رکھنے" کی اپیل کی۔ "مصطفیٰ کمال" (اتاترک) نے آغا خان کے انگریزوں کے ساتھ گہرے روابط کی بنیاد پر وجہ سے اس خط کو "برطانوی سازش" اور "ترکی اندرونی معاملات" میں مستقل مداخلت کی راہ قرار دیا، اور پھر اسی خط کو بہانہ بنا کر مارچ 1924ء میں خلافت کے خاتمے کا اعلان کر کر دیا۔ موقف اختیار کیا کہ جب تک خلاف کا دارہ قائم رہے گا برطانوی ایجنٹوں کی مداخلت ختم نہیں ہو سکے گی۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں اس خاندان نے اپنی رہائش اور سرمائے کا رخ برصغیر اور برطانیہ سے موڑ کر فرانس کی طرف کرنا شروع کر دیا۔ برطانیہ کے بجائے فرانس کو اپنا مستقل مسکن بنانے کے پیچھے گہری سٹریٹجک اور ذاتی وجوہات تھیں۔ برطانیہ اس وقت ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت تھا اور وہاں رہ کر کام کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ آغا خان خاندان دنیا بھر میں موجود اپنے مریدین (جو مختلف نوآبادیات میں پھیلے ہوئے تھے) کی نظر میں برطانوی پالیسیوں کا رنگ الیکٹڈ نظر آتا۔
فرانس نے انہیں ایک ایسا "غیر جانبدار" اور بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں سے وہ کسی ایک سیاسی بلاک کا حصہ بنے بغیر اپنے عالمی نیٹ ورک کو چلا سکتے تھے۔ مزید برآں، فرانس کا ماحول، وہاں کی اشرافیہ کا طرزِ زندگی اور پیرس کی عالمی سفارتی مرکزیت اس خاندان کے عالمی وژن کے عین مطابق تھی، جس کے لیے یہ خاندان منتقل طور پر فرانس منتقل ہوگیا۔ پیرس کے مضافات "ایگلیمو اسٹیٹ" (Aiglemont estate) میں ان کا مستقل ہیڈکوارٹر اور عالیشان شاہی محل قائم ہوا۔
یہیں سے مغرب اور خاص طور پر فرانس کا وہ دوہرا معیار اور منافقت کھل کر سامنے آتی ہے جو موجودہ عالمی نظام کا خاصہ ہے۔ فرانسیسی حکومت اپنی سخت ترین سیکولر پالیسیوں (Laïcité) کے تحت عام مسلم تارکینِ وطن، پناہ گزینوں اور غریب مسلمانوں کے خلاف انتہائی سخت قوانین نافذ کرتی ہے۔ وہاں حجاب پر پابندی لگائی جاتی ہے، داڑھی یا روایتی مسلم شناخت کو عوامی مقامات پر جرم کی طرح دیکھا جاتا ہے اور مسلم کمیونٹیز کو پسماندہ رکھنے کے لیے ریاستی قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن جب باری کسی کھرب پتی مذہبی پیشوا کی آتی ہے، تو یہی سیکولر قوانین موم کی ناک بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ فرانس جیسے سیکولر ملک میں بیٹھ کر اپنی مذہبی پیشوائی کا نیٹ ورک پوری دنیا میں چلاتے ہیں، اور اس پر فرانس کے سخت ترین سیکولر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔مغرب کا یہ دوہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ ان کے ہاں قانون، تہذیب اور سیکولرازم کی پابندیاں صرف غریب اور کمزور مسلمانوں کے لیے ہیں، جبکہ ارب پتی اور بااثر شخصیات کے لیے تمام قوانین اور نظریات یکسر بدل دیے جاتے ہیں۔
آغا خان فیملی کا شمار فرانس کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان میں ہوتا ہے، وہ وہاں کے مہنگے ترین ریمپ اور گھوڑوں کی ریس کے فارمز کے مالک ہیں، اور ان کا سرمایہ فرانسیسی معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ فرانسیسی اعلیٰ اشرافیہ کا ناگزیر حصہ مانے جاتے ہیں۔
پوری دنیا میں پرنس شاہ رحیم آغا خان "سربراہِ مملکت" کا پروٹوکول ملتا ہے۔
ان کا کھربوں ڈالر پر محیط "آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک" (AKDN) ہے۔ یہ نیٹ ورک دنیا کے درجنوں ممالک میں تعلیم، صحت اور مائیکرو فنانس کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں کے ساتھ باقاعدہ دو طرفہ سفارتی معاہدے کر رکھے ہیں، جس کے تحت انہیں ایک خودمختار ریاست کی طرح حقوق اور سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ دنیا کے سیاسی ایوانوں میں عزت اور پروٹوکول حاصل کرنے کے لیے زمین کی سرحدوں سے زیادہ دولت، اچھے تعلقات اور اسمارٹ ڈپلومیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مغرب اور مشرق کا کوئی فرق نہیں۔


اردو


*دھماکا خودکش تھا، 30 کلو سے زائد بارودی مواد استعمال ہوا، ابتدائی پولیس رپورٹ*
دھماکے میں جاں بحق افراد کی 18 لاشیں سول ہسپتال منتقل کردی گئی جبکہ 30 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں جنہیں مختلف ہسپتالوں کو منتقل کیا گیا ہے، ابتدائی خبر
دشمن کی یہ بزدلانہ کارروائیوں سے ھماری عوام اور فوج کے حوصلے پست نھی ہون گے انشاللہ
اردو

▪️پراجیکٹ عمران خان کیا تھا؟ ون پیج سیاست کا ایک سیاہ باب
▪️کیا پاکستان ون پارٹی سسٹم کی طرف بڑھ رہا ہے؟
▪️ابھرتا پاکستان یا بوسیدہ سیاسی نظام؟ پاکستان کا رخ کس طرف؟
▪️جمہوریت خطرے میں؟ پاکستان کے مستقبل پر ایک اہم مکالمہ
عبدالقیوم صدیقی اور خالد محمود
عباسی کے ساتھ
@khalidmabbasi
@QayyumReports
اردو

ترقی اتنی ھوئی ھے کہ دنیا ھی بدل گئی ھے
ھم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جب شان بیان کرتے ھیں تو کہتے ھیں ان کی زلفیں ایسی تھیں ان کا اخلاق ایسا تھا اس میں کوئی شک نھی لیکن مغربی مفکرین نے آپ صلی اللہ کی کون سی شان بیان کی تو ایچ ای ویلز نے کہا انسانی حریت،اخوت ، مساوات کے وعظ توحضرت عیسیٰ کے ہاں بھی بھت سنے لیکن ان اصولوں پے ایک معاشرہ تشکیل تاریخ انسانی میں پہلی دفعہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا اسی طرح ڈاکٹر مائکل ہارٹ اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی نمبر ون کامیاب ہستی دونوں سیکولر اور مذھبی میدان میں قرار دیتے ھیں
یہ ھے سوشل گھاٹ اور ھمیشہ اس میں رکاوٹ کون بنا ھمارا روایت پسند حلقہ
اردو

@vazims1 معزرت بس موبائل جب خود کوریکشن کرتا ھے دوبارہ نظر میں نھی آیا
اردو

@ChSultan33 میں بحمد اللہ تعالی انگلش بھی سمھجھتا ہوں، تھوڑی سی عربی بھی لیکن اردو میں بولنا اور لکھنا میرا فخر ہے۔ آپ اس کی ٹانگیں تو نہ توڑیں۔ 🤣🤣🤣🤣😜😜😜😜😜
بھائی مہربانی کرو اردو کا قتل عام نہ کرو۔
"ارب" لکھو، "عرب" نہیں، یہ آپ اہل عرب کو پاکستانی معیشت میں گھسیڑ رہے ہو۔
اردو

پاکستان کا روزانہ کا خرچہ 36 عرب روپے ھے اس میں سے صرف 12 عرب ملک کی سڑکیں پل تنخواہیں ، کرپشن اور دیگر حکومتی اخراجات ھوتے ھیں باقی 24 عرب روپے سود ادا ھوتا ھے جو اسلام میں حرام ھے جیسے سور حرام ھے ھم کہتے ھیں ھماری معشیت ٹھیک نھی ھوتی جب اللہ اور اس کے رسول سے جنگ جاری رکھیں گے تو معیشت کیا خاک ٹھیک ھوگی
اردو

دنیا کی امامت حاصل کرنے کے اللہ نے قرآن میں کچھ تقاضوں کا ذکر کیا ھے وہ مصلے کی امامت نھیں دنیا کی بادشاھی جو اجکل امریکہ کے پاس ھے
اس کو حاصل کرنے کا واحد زریعہ اللہ کا دین اور قرآن ھے جس میں اللہ کے احکامات ھیں جن پے عمل کرنے کے انعام کے طور پے اللہ امامت عطاء فرماے گا جیسے حضرت ابرہیم کو سب امتحانوں کے بعد ملی تھی
اردو
