Sabitlenmiş Tweet
Ch zahid Hayat
31K posts

Ch zahid Hayat
@ChZahidPak
, Special representative at Jehan Pakistan Islamabad
Katılım Ağustos 2018
464 Takip Edilen1.4K Takipçiler
Ch zahid Hayat retweetledi

پوری قوم کو یوم معرکہ حق مبارک۔۔اج کے دن ہماری بہادر مسلح افواج نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے عزائم خاک میں ملاتے ہوئے انھیں عبرتناک شکست سے دو چار کیا ۔اپریشن بنیان مرصوص میں واقعی پوری قوم دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور اس معرکہ حق کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص اجاگر ہوا سبز پاسپورٹ کی عزت بحال ہوئی اور آج پاکستان کی قومی قیادت دنیا میں قیام امن کےلیے اپنا غیر معمولی کردار ادا کررہی ہے ۔۔
پاکستان ذندہ باد

اردو
Ch zahid Hayat retweetledi
Ch zahid Hayat retweetledi
Ch zahid Hayat retweetledi
Ch zahid Hayat retweetledi
Ch zahid Hayat retweetledi
Ch zahid Hayat retweetledi
Ch zahid Hayat retweetledi

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان بٹگرام میں جلسے سے خطاب کررہے تھے کہ ایک شخص نے انہیں مخاطب کرکے بتایا کہ پوری تحصیل میں ایک بھی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے جس پرحافظ نعیم الرحمان نے چلاتے ہوئے کہا ،یہ کیسا نظام ہے وزیراعلیٰ صاحب؟ صوبائی اور مرکزی حکومت سے جواب طلبی ضرور کریں مگر پہلے خود احتسابی۔ آپ بچیوں کو پڑھائیں گے نہیں تو لیڈی ڈاکٹر کیا مریخ سے آئیں گی؟ کیا یہ سچ نہیں کہ بٹگرام کے بیشتر علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں؟ باقاعدہ جرگہ ہوتا ہے ،اجتماعی طور پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ خواتین ووٹ کاسٹ نہیں کریں گی؟ PK-28 میں سب امیدواروں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا۔ ضلع بٹگرام میں 2013 کے عام انتخابات میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز میں سے صرف چار فیصد نے ووٹ کاسٹ کیا۔اس کا ذمہ دار کون ہے؟ آپ اپنی خواتین کو انسان نہیں سمجھیں گے تو پھر لیڈی ڈاکٹر اور دیگر سہولیات کیسے میسر ہوں گی؟

اردو
Ch zahid Hayat retweetledi

انہیں لگا تھا پاکستان کے امریکہ سے چاہے جتنے اچھے تعلقات ہوجائیں ، جونہی جنگ کا آغاز ہوگا تو امریکہ پاکستان سے یا تو زمینی اڈے مانگے گا یا پھر پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب کر کے پھر سے پاکستان کو سائڈ لائن کردے گا ۔
لیکن اس جنگ کے دوران بھی اور آج وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کے بیان نے واضح کردیا کہ نا صرف امریکہ پاکستان کے بطور ثالث کردار سے اتفاق کرتا ہے بلکہ دوبارہ مذاکرت کے لیے بھی پاکستان آنا پسند کرے گا۔
پھر دشمنوں کا خیال تھا کہ ایران پہ جنگ مسلط ہونے کے بعد پاکستان میں شیعہ سنی فساد برپا ہوجائے گا ، پاکستان کو امریکی کیمپ میں جانے کا طعنہ مارا جائے گا اور انتشار کی آگ بھڑکائی جائے گی ۔
لیکن ہوا اس کے برعکس ، دوران جنگ ایران میں پاکستان زِندہ باد ریلیاں نکالی جاتی رہیں اور جب بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ ہوا تو خود ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے حق میں پوسٹ کر کے پاکستان زِندہ باد کا نعرہ لگایا ۔
دشمنوں کا ایک اور پلان تھا کہ اگر پاکستان ایران کو راضی رکھتا ہے اور ساتھ ہی ایران سے عرب ریاستوں پر حملہ ہوتا ہے تو یقیناً پاکستان کا سعودیہ سے دفاعی معاہدہ ختم ہونے کا امکان بڑھ جائے گا اور پاکستان کا دیرینہ ساتھی سعودی عرب پاکستان سے ناراض ہوجائے گا۔
لیکن دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان نے سعودی عرب کو اس تمام امن مذاکرات میں انگیج رکھا ، سعودی عرب میں اپنی ایئرفورس تعینات کی ، اور اس وقت پورے عرب سوشل میڈیا میں پاکستان کے گن گائے جارہے ہیں ۔ یعنی دشمن یہاں بھی ناکام ہوا
اب اس وقت صورتحال کچھ یوں ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان سعودیہ میں ہیں، فیلڈ مارشل ایران میں جبکہ وہائٹ ہاؤس سے پاکستان کی تعریفوں کے بیانات جاری ہورہے ہیں ، دشمنوں نے ہمیں تین محاذوں پہ پھنسانے کا بہت مضبوط پلان بنایا تھا ، اللّٰہ نے ہمیں تینوں محاذوں پہ کامیابی نصیب کی ، پاکستان کا دشمن یہ بھول گیا تھا کہ جِسے اللہ پاک عزت دے رہا ہو اُسے کائنات کی کوئی طاقت ذلیل نہیں کر سکتی اور جس کے مقدر میں اللہ نے ذلالت لکھ دی ہو وہ دنیا کی تمام طاقتیں رکھے ہوئے بھی اپنے تمام شیطانی ارادوں سمیت ذلیل و خوار ہوکر رہتا ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد

اردو
Ch zahid Hayat retweetledi

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا اہم ٹویٹ۔۔!!
میں مذاکرات کے اس عمل کو آسان بنانے میں دوست اور برادر ملک پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہوں اور پاکستانی قوم کو سلام پیش کرتا ہوں، مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ہمارے پاس حسنِ نیت اور ضروری ارادہ موجود ہے، لیکن گزشتہ دو جنگوں کے تجربات کی وجہ سے ہمیں فریقِ مقابل پر اعتماد نہیں ہے، میرے ساتھیوں نے ایرانی وفد میں آگے بڑھنے کے لئے مثبت تجاویز پیش کیں، لیکن آخرکار فریقِ مقابل(امریکہ) اس دورِ مذاکرات میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا، امریکہ نے ہماری منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے، اور اب وقت ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد جیت سکتا ہے یا نہیں، ہم ہر حال میں باوقار سفارت کاری کو فوجی جدوجہد کے ساتھ ایک اور راستہ سمجھتے ہیں تاکہ ملتِ ایران کے حقوق حاصل کیے جا سکیں، ایرانی عوام کی 40 روزہ قومی دفاع کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لئے ہم ایک لمحے کے لئے بھی کوششوں سے دستبردار نہیں ہوں گے، ایران 90 ملین جانوں پر مشتمل ایک جسم ہے، میں پوری بہادر ایرانی قوم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے رہبرِ معظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سڑکوں پر آ کر اپنے بیٹوں کی حمایت کی اور اپنی دعاؤں سے ہمیں تقویت دی، میں ان طویل اور مسلسل 21 گھنٹے کے مذاکرات میں شریک اپنے ساتھیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
زندہ و پائندہ باد ایرانِ عزیز۔۔!!

اردو
Ch zahid Hayat retweetledi

پاکستان کا کوئی ایک صحافی بتا دیں نظامی بھائی جس سے توقع کی جا سکتی ہو کہ وہ اتنے بڑے عالمی ایشو پر ملنے والی معلومات کو ذمہ دارانہ خبر کی صورت میں شائع کریگا۔۔۔۔ ابھی چند منٹ پہلے عاصمہ شیرازی صاحبہ جیسی سینئر صحافی نے بھی شہباز شریف کے ہنگامی دورہ سعودی عرب کی جعلی خبر X پر ڈالی۔۔۔ 30 سیکنڈ میں متعلقہ حکومتی ذمہ داران کو تردید کرنا پڑی۔۔۔
آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستانی صحافیوں نے اپنی ساکھ خود زیرو کی ہے۔
حکومت اور ریاست سو فیصد درست کر رہے ہیں کہ کسی کو پاس نہیں پھٹکنے دے رہے۔ کوئی یوتھیا ہے تو کوئی پٹواری، کوئی عسکری ہے تو کوئی جیالہ ہے۔
صحافی ہیں کہاں؟
Majid Nizami@majidsnizami
امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں ہو رہے ہیں لیکن دنیا میں ان مذاکرات سے متعلق تازہ ترین احوال جاننے کیلئے سی این این، بی بی سی، الجزیرہ جیسے خبر رساں اداروں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مستند خبر کے لیے عالمی خبر رساں اداروں میں سے کوئی بھی پاکستانی میڈیا نہیں دیکھ رہا۔ اگر کوئی اسے کامیاب میڈیا مینجمنٹ سمجھتا ہے تو میڈیا سے متعلق اس کے بنیادی فہم پر سوالیہ نشان ہے۔۔۔
Punjab, Pakistan 🇵🇰 اردو
Ch zahid Hayat retweetledi

ایران، سعودیہ، چائنہ اور امریکہ میں موجود پاکستانی دفاعی اتاشی کو دنیا بھر سے تہنیتی پیغامات اور پاکستان کے لئے خیر سگالی کے پیغامات مل رہے ہیں.
پاکستانی دفاعی اتاشیوں نے مارخور کو بتایا ہے کہ دنیا بھر کے سفارتی حلقے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو Soldier Statesman اور وزیراعظم شھباز شریف کو سیاسی ثالث کہہ کر مخاطب کررہے ہیں.
اللہ پاکستان کی عزت اور رتبے میں برکت عطا فرمائے
اردو
Ch zahid Hayat retweetledi
Ch zahid Hayat retweetledi

اس تاریخی کردار پر وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے دعائیں اور قوم کا سلام۔ 🫡
Ansar Abbasi@AnsarAAbbasi
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ الحمدللہ
اردو
Ch zahid Hayat retweetledi
Ch zahid Hayat retweetledi
Ch zahid Hayat retweetledi

اور ہم سب دیکھیں گے
محترمہ فضیلہ عباسی صاحب کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت دیدی ہے، روٹین میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ملزم عبوری ضمانت دائر کرے تو اسی دن یا اگلے دن اس کی درخواست مقرر کرکے اسے عبوری ضمانت دی جاتی ہے لیکن میرے سمیت عوام کیلئے خوشی اور اطمینان اس بات کا کہ ایک مرتبہ پھر یہ قوم قانون کو ناک کی موم کی طرح مڑتے ہوئے اور استعمال ہوتے دیکھے گی کیونکہ مجھے ایمان کی حد تک یقین ہے کہ پاکستان میں وہ طاقت پیدا ہی نہیں ہوئی جو محترمہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی صاحبہ کیخلاف کوئی حکم جاری کر سکے، انہیں گرفتار کر سکے یا ان کا ٹرائل کر سکے۔
اور ہم سب ایسا ہی دیکھیں گے۔

Punjab, Pakistan 🇵🇰 اردو
Ch zahid Hayat retweetledi

جب قلم کو ہتھکڑی لگی
ترازو /محمد بلال غوری
بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات کی کوریج کے لیئے ڈھاکہ جاتے ہوئے ایسی کیفیت طاری تھی جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔گاہے فیض کے االفاظ یاد آتے”خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد“تو دفعتاًاقبال کا تخیل ڈھارس بندھاتا کہ ”آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک“۔7اور8فروری 2026ء کی درمیانی شب اسی اُدھیڑ بن میں کراچی کے جناح انٹر نیشنل ایئر پورٹ پہنچے۔بورڈنگ کا مرحلہ طے ہوا تو امیگریشن کی گھڑی آگئی۔میرے آگے حبیب اکرم کھڑے تھے،کہنے لگے،ممکن ہے آف لوڈ کردیا جاؤں،اگر ایسا ہوا تو تھوڑا بہت احتجاج کرنا تاکہ عزت رہ جائے۔میں نے کہا،تھوڑا کیوں میاں!روئیں گے ہم ہزار بار،کوئی ہمیں ستائے کیوں؟امیگریشن حکام نے انہیں کلیئر کردیا تو میں نے کف افسوس ملتے ہوئے کہا،احتجاج کا موقع نہیں ملا۔کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ یہ گلہ محض چند ساعتوں کا مہمان ہے۔ان کے فوراً بعد میری باری آئی،امیگریشن افسر نے جیسے ہی پاسپورٹ نمبر درج کیا،مجھے گھور کر دیکھا،جیسے یہ یقین کرنے کی کوشش کررہا ہو کہ شکل سے تو اتناخوفناک ملزم نہیں لگتا۔اور پھر کہا،آپ میرے ساتھ آجائیں۔ایئر پورٹ پر قائم ایف آئی اے کے دفتر میں لے جاکر نہ صرف موبائل فون تحویل میں لے لیئے گئے بلکہ مجھے باقاعدہ گرفتار کرکے ہتھکڑی لگادی گئی اور پھر اگلے 16,17گھنٹے اسی کیفیت میں گذرے۔پہلے تو امیگریشن حکام سخت احکامات کے پیش نظرمجھے کوئی بھگوڑا فوجی افسر سمجھ رہے تھے کیونکہ ان کے مطابق میرا نام Passport Control List (PCL) میں تھا جسے اسٹاپ لسٹ بھی کہا جاتاہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ تحویل میں لیکر ہتھکڑی لگائی جائے اور ہمارے حوالے کیا جائے۔میرے صحافی دوست بھی اس اچانک افتاد پرپریشان تھے مگر میں نے انہیں کہا کہ آپ بے فکر ہوکر جائیں،میرے ساتھ جو سلوک ہوگا،میں سامنا کرنے کو تیار ہوں۔البتہ بعد ازاں ازراہ تفنن بعض دوستوں سے یہ بات ضرور ہوئی کہ حبیب اکرم جیسے بزعم خود انقلابی دوست ہمیں اسٹیبلشمنٹ کا ساتھی سمجھتے ہیں مگر اب اس سلوک کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا ”حبیب“کون ہے اور ”رقیب“کسے سمجھا جاتا ہے۔وہاں سب سے بڑی پریشانی بے یقینی کیفیت کی تھی۔آپ حوالات میں ہوں یا جیل میں، کم از کم یہ تو اندازہ ہوتا ہے کہ اب یہاں رہنا ہے تو انسان ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔مگر ایک صوفے پر یوں غیر معینہ وقت تک بیٹھنا محال ہوجاتا ہے۔گلہ پیاس سے چٹخ رہا تھا مگر میں پانی پینے میں احتیاط سے کام لے رہا تھا کیونکہ رفع حاجت کے لیئے اجازت طلب کرنا پڑتی اور پھر کوئی اہلکار پہرہ دینے کے لیئے ساتھ جاتا توایسی ناخوشگوار صورتحال سے گریز ہی بہتر تھا۔بارہ بجے کے قریب امیگریشن حکام کی شفٹ بدل گئی۔نئے آنے والے نوجوان افسر خاصے خوش اخلاق تھے اور انہوں نے یہ واضح کیا کہ آپ جیسے پڑھے لکھے شخص سے اس سلوک کا کوئی جواز نہیں مگر ہم احکامات کی تعمیل پر مجبور ہیں۔رات بھر جو مسافر امیگریشن کے سلسلہ میں آرہے تھے،وہ بھی ہتھکڑی دیکھ کر شش و پنج میں مبتلا ہوجاتے کہ بظاہر مہذب اور باوقار نظر آنے والے اس شخص نے آخر ایسا کونسا جرم سرزد کیا ہے؟کچھ لوگوں نے تو پہچان لیا اور پوچھا،کیا آپ بلال غوری ہیں؟میں نے اثبات میں سرہلایا تو استفسار کیا کہ یہ کیا ماجراہے؟میں کیا بتاتا،مجھے تو خود معلوم نہیں تھا کہ اس تذلیل و تحقیر کا سبب کیا ہے۔کوئی مقدمہ نہیں،کوئی انکوائری نہیں،کوئی الزام نہیں تو پھر کیوں روکا گیا؟چلیں،آپ نے بیرون ملک نہیں جانے دیا،مگر گرفتار کرنے کا کیا جواز تھا؟تحویل میں لینا ضروری تھا تو ہتھکڑی لگانے کی کیا منطق؟کیا یہ محض اتفاق ہے کہ دائیں ہاتھ میں ہتھکڑی پہنائی گئی جس نے بر سہابرس تک قلم تھامنا ہی سیکھا۔ نہ کسی کی آمد پر قصیدے لکھے نہ کسی کی رُخصتی پر مرثیہ خوانی کی۔نام آوری کے جنوں میں مبتلا نہیں ہوا۔شہرت و ناموری کا روگ نہیں پالا۔پانے کے خمار اور کھونے کے آزارکو خود سے دور رکھا۔خوف زوال اور شوق کمال سے بے نیازی اختیارکی۔کسی خوف اور طمع کے بغیر جو محسوس کیا،وہی تحریر کیا تو پھر ایک قلمی مزدور سے یہ سلوک کیوں کیا گیا؟
رات بھر انہی سوچوں میں اُلجھا رہا۔چونکہ یہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات تھی اس لیئے اندیشہ یہ تھا کہ متعلقہ حکام چھٹی پر ہوں گے اور شاید کئی دن یہاں اسی حالت میں گذارنے پڑیں۔صبح آٹھ بجے ایک بار پھر امیگریشن حکام کی شفٹ تبدیل ہوگئی۔رات فرائض سرانجام دینے والے عملے نے جہاں دیگر معاملات صبح آنے والے افسروں کے حوالے کیئے،وہاں مجھے بھی ان کے سپرد کردیا گیا۔تقریباً گیارہ بجے جب ایف آئی آے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اس کمرے میں تشریف لائے اور مجھے اس حالت میں دیکھنے کے بعد اپنے عملے کو بھیجا کہ صاحب کو دوسرے کمرے میں لے جاکر عزت سے بٹھاؤ اور چائے پلاؤ تو تب اندازہ ہوا کہ ہواؤں کا رُخ بدل گیا ہے۔اور پھر یکے بعد دیگرے متعلقہ افسروں کی آمد اور معذرت کا سلسلہ شروع ہوگیا مگر تین بجے کے قریب باضابطہ طور پر رہائی ملی اور پھر اگلے دن صبح کی فلائٹ سے میں ڈھاکہ روانہ ہوا۔یہ سب کیوں ہوا؟کس کے کہنے پر ہوا؟کون ذمہ دار ہے؟میرا جرم کیا تھا؟ابھی تک ان سوالات کے براہ راست تو کیا باالواسطہ جواب بھی نہیں مل پائے۔میں اپنے کالم میں ذاتی دکھ اور مسائل بیان کرنے کے حق میں نہیں۔آج کچھ تفصیل بھی محض اس لیئے بیان کی ہے نظام کو درست کیا جاسکے۔ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ECLکی تو قانونی طور پر گنجائش موجود ہے اور وفاقی کابینہ اس میں نام شامل کرنے یا نکالنے کی منظوری دیتی ہے۔سوال یہ ہے کہ Passport Control List (PCL) یا اس جیسی دیگر فہرستوں کی قانونی حیثیت کیا ہے؟کیا یہاں جنگل کا نظام ہے کہ جو،جب،جس کا نام چاہے اس قسم کی فہرستوں میں ڈال کر بھول جائے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو؟کیا اس کے لیئے کوئی باضابطہ طریقہ کار نہیں ہونا چاہئے؟اور جس شخص کا نام شامل کیا جارہا ہے،اسے نوٹس جاری کرکے اپنے دفاع کا موقع دیا جائے؟

اردو
Ch zahid Hayat retweetledi

ایان علی کی طرح ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف کارروائی بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے گی۔محترمہ کی پہنچ بہت اوپر تک ہے۔سولہ سال پہلے2010میں جب ڈاکٹر فضیلہ قاضی کا F10/2 میں کلینک ہوا کرتا تھا ،امریکہ پلٹ خاتون رُخسانہ رشید سے فیس اور ٹریٹمنٹ کے معاملے پر تکرار ہوئی تو اسے یرغمال بنالیا کہ پیمنٹ کے بغیر نہیں جاسکتی۔ اس نے 15پر کال کی ،پولیس اہلکار آگئے تو ڈاکٹر فضیلہ قاضی نے دیدہ دلیری سے ان اہلکاروں کو بھی اپنے سکیورٹی گارڈزکے ذریعے کمرے میں قید کردیا۔اسلام آباد انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں نے اضافی نفری لے جاکر یرغمالیوں کو رہا کروایا واقعہ کا مقدمہ تو درج ہوا مگر محترمہ کو گرفتار کرنے کی جرات نہ کی جاسکی۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی،کلائمکس تو ابھی باقی ہے ۔ملزمہ کو گرفتار کرکے پیش کیئے بغیر ضمانت نہیں ہوسکتی تھی مگر سول جج رائے لیاقت کھرل نے ضمانت منظور کرلی،پولیس اور وکلا منہ دیکھتے رہ گئے۔بعد ازاں وہ سول جج ترقی کرکے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بن گئے
اردو
Ch zahid Hayat retweetledi









