Dr. Democracy
10.6K posts

Dr. Democracy
@DrDemocrat86
Human Rights Activist🗣 Social Media Influencer 📷🌍 Enviromentalist♻️ 🏕🚦 Sports and healthy activities promoter ⚽️🥇🏆 Promote awareness in the society🏳🇺🇳






پنکی کوئین کی ایک اور آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں وہ کہہ رہی ہے کہ مرشد عمران کی حکومت آنے دو ۔ ایک ایک کو دیکھ لوں گی ۔ ایوان صدر میں مجھے تمغہ امتیاز بھی ملے گا ۔ آج جس مقام پر ہوں مرشد عمران کی وجہ سے ہوں ۔



🚨 EXPOSED: Pakistan Army’s GHQ Caught Running a Systematic Honey-Trap Network. "Unbelievable but true". Lieutenant Saad bin Asad (ex-Deputy Commissioner Quetta) has been openly exposed for "supplying girls" to trap and blackmail PTI MNAs all on the instructions of the establishment. When one MNA refused and exposed the whole dirty game, the mask came off. This is not one rotten apple. This is a deliberate, well-organized policy coming straight from GHQ, using women as tools to entrap, blackmail and control elected politicians. The same institution that claims to be the “defender of Pakistan” is busy running the country’s most shameful political prostitution racket. Even "Heera Mandi" would feel ashamed standing next to GHQ right now. Pakistan Army the whole nation is watching. Your so-called “honour” and “dignity” have been dragged through the mud. This is not protection of the country.. this is the worst kind of moral bankruptcy. Shame on you: @OfficialDGISPR


کوئٹہ کے سابق ڈپٹی کمشنر لیفٹیننٹ سعد بن اسد کے خلاف حالیہ سوشل میڈیا مہم انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ سعد بن اسد ایک پڑھے لکھے، باوقار اور سینئر افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں جنہوں نے اسلام آباد سمیت مختلف اہم عہدوں پر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دی ہیں۔ دستیاب واٹس ایپ اسکرین شاٹس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ صرف ایک انٹرویو ریکویسٹ کا تھا، جس میں ایک خاتون کی جانب سے ایم این اے عادل بازئی کا انٹرویو لینے کی بات کی گئی۔ سعد بن اسد نے محض ایک جان پہچان اور انسانی تعلق کی بنیاد پر #MNA کو پہلے کال کی اور خاتون صحافی کا انٹرویو کا کہا اور پھر رابطہ کروایا اور میسج میں واضح طور پر “Need Interview” اور “Will Share Questionnaire” جیسی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایم این اے صاحب نے انہی نجی واٹس ایپ میسجز کے اسکرین شاٹس سوشل میڈیا اور میڈیا پر جاری کرکے ایک سینئر افسر کی کردارکشی اور عزت خراب کرنے کی کوشش کی۔ کسی بھی شخص کی پرائیویٹ گفتگو کو اس انداز میں عوام کے سامنے لانا نہ صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ ایک باعزت شخصیت کی ساکھ متاثر کرنے کے مترادف بھی ہے۔ یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ شاید اس سارے معاملے کو غیر ضروری طور پر اچھال کر سیاسی یا سوشل میڈیا فیم حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ حقیقت میں معاملہ ایک عام پروفیشنل رابطے سے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اختلافِ رائے ہر کسی کا حق ہے، لیکن بغیر ثبوت کسی شریف اور پروفیشنل شخصیت کو متنازع بنانے کی کوشش ہرگز مناسب نہیں۔ معاشرے میں برداشت، ذمہ داری اور کردار کے احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے




ISPR Projects | ~ مشہور فوجی اثاثے "مصور عباسی " کے آزاد ڈیجیٹل چینل کے ذیلی پروپیگنڈہ چینلز جیسے “ویژن ڈیجیٹل”، “براق ڈیجیٹل” اور “خیبر ڈیجیٹل” یا " کراچی ڈیجٹل " پر عجیب و غریب “پنجابی لڑکیاں” سامنے لائی گئی ہیں۔ جو سندھ کو سندھیوں سے زیادہ، خیبر کو پشتونوں سے زیادہ اور بلوچستان کو بلوچوں سے زیادہ “جاننے” کا دعویٰ کرتی ہیں۔ درحقیقت یہ فوجی بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے بنائے گئے ذیلی پروپیگنڈا پیجز ہیں، جہاں جان بوجھ کر ایسی خواتین کو سامنے کرائے پر لایا گیا ہے جو گلیمر ، چست لباس اور انتہائی میک اپ کے ذریعے سادہ عوام کی توجہ حاصل کریں اور پھر جو من میں ائے (واٹس ایپ پر آئے ) بکیں اور ایسا بھی نہیں کہ یہ خام مال بے اثر ہو۔ ان کا اصل ہدف عام اور سیاسی شعور سے دور پنجابی عوام ہوتے ہیں۔ اب پنڈ دادان خان میں بیٹھے شکورے موچی کو ہم کیسے سمجھائیں کہ Coordinated Propaganda کیا ہوتا ہے؟ جھوٹ کو بار بار دہرا کر بیانیہ کیسے بنایا جاتا ہے؟ یا پتوکی کے غلام رسول گجرے کو کیسے بتایا جائے کہ جعلی خبریں کیا ہوتی ہیں، یہ خواتین اصل میں کون ہیں، اور مصطفیٰ ٹاور کیا ہے؟ #Balochistan


🚨🚨🚨رکنِ قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ پر سنگین الزامات عائد کر دیے اپنے خطاب میں ملک عادل خان بازئی کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے انہیں ایک لڑکی کا نمبر بھیج کر اس سے ملاقات کرنے کا کہا۔ ایم این اے کے مطابق جب انہوں نے ملاقات سے انکار کیا تو ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے مبینہ طور پر دھمکی آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “تمہارے ساتھ جو کیا "تمہارا پلازہ گرا کر " میں نے ٹھیک کیا ہے، تمہارے ساتھ یہی ہونا چاہیے”۔ ملک عادل خان بازئی نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں یہ بھی کہا گیا کہ “تمہیں دیکھ لیں گے. انہوں نے قومی اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ اس تمام معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں، تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین ہو سکے












