Sabitlenmiş Tweet
فہیم
42K posts

فہیم
@Faheem4j
ومن یکن یطعن فی معاویہ فزاک کلب من کلاب الھاویہ حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پرطعن کرنیوالا دوزح کاکتاھے (فتاوی رضویہ ج29 ص264) ( نسیم الریاض ج 4 ص 565)
Katılım Kasım 2009
1.9K Takip Edilen2.8K Takipçiler
فہیم retweetledi
فہیم retweetledi
فہیم retweetledi

WE STAND AGAINST THE WAQF BILL
مسلمانوں کے اوقاف پر حملہ ہرگز برداشت نہیں!
Waqf properties are a sacred trust, not for sale, not for compromise. Defending them is our religious, legal, and moral responsibility.
— Chief Islamic Justice (Qadi al Qudaat Fil Hind) & The Grand Mufti of India
Mufti Asjad Raza Khan Qadiri (Hafidahullah)
Join the Official WhatsApp Channel of Huzur Qaid-e Millat: muftiasjadraza.com/join



فہیم retweetledi
فہیم retweetledi

امام بُخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا صحابہ کرام علیہم الرضوان کو امامت کروانے والی حدیث مبارکہ کا ترجمہ الباب:
بَابُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ
سے کیا - الإمام عبدالرحمن بن أحمد بن رجب الحنبلي رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی شرح فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب میں اس حدیث مبارکہ کو نقل کرنے کے بعد امام ابوبکر بن السمعانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت اور اعلمیت پر اہل سنت کا اجماع ہو چکا ہے

اردو
فہیم retweetledi

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا شیخین کریمین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے علمی استفادہ :
محدث حافظ ابن البر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ روایت لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا
" جب عالم سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور وہ کتاب اللہ میں مذکور ہو تو اسے بیان کرے اگر کتاب اللّٰہ میں نہ ملے اور رسول اللہ ﷺ سے مروی ہو تو وہ بیان کرے اور اگر کتاب اللّٰہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں ظاہراً مذکور نہ ہو اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ و حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہو تو وہ ذکر کرے اور اگر کتاب اللّٰہ، سنت رسول اللہ ﷺ اور کلام حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ و حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ میں بھی اس مسئلہ تک رسائی نہ ہو تو پھر اپنی رائے پر اجتہاد کر لے "
( جامع بیان العلم والفضلہ رقم 1600 )

اردو
فہیم retweetledi

فہیم retweetledi

حافظ ابو بکر محمد بن حسین آجری بغدادی ( متوفی 360 ہجری) اپنی تصنیف الشریعہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ
رسول کریم ﷺ کے کاتب سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پر اللہ رحم فرمائے آپ اللّٰہ کے حکم سے وحی الٰہی قرآن پاک لکھا کرتے تھے
( الشریعہ کتابت فضائل معاویہ جلد 5 صفحہ 2431)
تفضیلی روافض کے شیخ طاہر القادری نے وحی لکھنے والوں کی تعداد کے بارے میں لکھا ہے کہ انکی تعداد چالیس تک شمار کی گئی ہے جن میں زیادہ مشہور کے نام یہ لکھے ہیں
حضرت ابوبکر
حضرتِ عمر
حضرت عثمان
حضرت علی
حضرت ابی بن کعب
حضرت عبداللہ بن ابی سرح حضرت زبیر بن عوام
حضرت خالد بن سعید بن عاص حضرت ابان بن سعید
حضرت حنظلہ بن ربیع
حضرت معقیب بن ابی فاطمہ حضرت عبداللہ بن ارقم
حضرت شرجیل بن حسنہ
حضرت عبداللہ بن رواحہ
حضرت عامر بن فہیرہ
حضرت عمر بن عاص
حضرت ثابت بن قیس
حضرت مغیرہ بن شعبہ
حضرت خالد بن ولید
حضرت معاویہ بن ابی سفیان
حضرت زید بن ثابت
رضوان اللہ تعالی اجمعین
(اسیرت الرسول کی شخصی و رسالتی اہمیت ص59)
تفضیلی روافض کے مجدد صاحب کے اس حوالے سے بھی یہ ثابت ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتب وحی ہیں ۔

اردو
فہیم retweetledi

اس (رافضیوں کے ماموں) کی سنیں یہ خبیث کہتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا اجتہاد غلط تھا لیکن مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو شہید کرنے والا ابن ملجم ملعون کا اجتہاد صحیح تھا ( معاذ اللہ)
یہ خبیث بھی مرزا انجینئر جہلمی کا امام ہے اور یہ بات کہ ابن ملجم ملعون نے اجتہاد کیا تھا سب سے پہلے ابن حزم نے کہی تھی اس بڈھے نے یہ بات ابن حزم سے سرقہ کی ہے لیکن اس کا نام نہیں بتایا
✍️ لسان المیزان
اردو
فہیم retweetledi

فہیم retweetledi
فہیم retweetledi
فہیم retweetledi
فہیم retweetledi
فہیم retweetledi
فہیم retweetledi

اسماعیلی شیعہ!
امام جعفر صادق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زندگی میں اپنے بڑے بیٹے اسماعیل کو امامت میں اپنا جانشین بنایا تھا اور وہ انکی زندگی میں فوت ہو گئے ا تو امام جعفر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پیروکار ان سے برگشتہ ہو گئے اور کہا کہ جعفر ( رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ) نے جھوٹ بولا یہ امام نہیں ہیں کیونکہ امام جھوٹ نہیں بولتا
اسلئے امام جعفر صادق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو (بقول روافض) یہ فکر لاحق ہوئی کہ لوگ کیا کہیں گے اگر امام جعفر صادق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بعد اللّٰہ نے اسکے بیٹے اسماعیل کو امام بنایا تھا تو وہ انکی زندگی میں فوت کیوں ہو گیا ؟ اسلئے امام جعفر صادق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اللّٰہ نے ہی اسماعیل کو میرے بعد امام بنایا تھا مگر اسمیں اللّٰہ کو بداء یعنی مغالطہ ہو گیا ہے لہٰذا میرے بعد موسیٰ رضا امام ہو گا
شیخ الصدوق ابوجعفر القمی رافضی " اعتقادات صدوق" میں لکھتا ہے کہ
امام جعفر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ سے ایسا بداء ( یعنی مغالطہ) نہیں ہوا جیسا کہ میرے بیٹے اسماعیل کے بارے میں ہوا
یہ اسماعیلی شیعہ امام جعفر صادق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے اسی بیٹے کو امام مانتے ہیں جو انکی زندگی میں فوت ہو گئے تھے انکے بعد والوں کو نہیں -
روافض کا عقیدہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کو " بداء" یعنی مغالطہ لاحق ہوتا رہتا ہے یہ ہے روافض کی اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخیاں جو انہوں نے گھڑ گھڑ کر ائمہ اہل بیت سے منسوب کی اور اپنا عقیدہ بنا لیا

اردو
فہیم retweetledi

فہیم retweetledi

سیدنا امام حسن مجتبی اور سیدنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے بیعت کا انکار یوں ہے جیسے چمکتے ہوئے سورج کا انکار کرنا جو کہ صرف اندھا ہی کر سکتا ہے -
اب چلتے ہیں اس بیعت حسنین کریمین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے حوالے سے دلائل کی طرف جو کہ اہل سنت و جماعت کی کتب مثلاً
مصنف ابن ابی شیبہ
سنن الکبری
تاریخ مدینہ دمشق
المستدرک علی الصحیحین
فتح الباری
المعرفۃ والتاریخ
میں تفصیلاً درج ہے - لیکن آج ہم ممدوح روافض طاہر القادری کی کتب کا حوالہ بھی دیں گے اور روافض کی کتب کا بھی -
روافض کے ممدوح ڈاکٹر طاہر القادری اپنی کتاب " ذکر شہادت امام حسین احادیث نبوی کی روشنی میں تحریر کرتے ہیں کہ
" حضرت معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر حضرت حسن بن علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بیعت کر لینے کے بعد ایک شخص انکے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا آپ نے مسلمانوں کا منہ کالا کر دیا ہے "
شیخ مفید چوتھی صدی ہجری کا شیعوں کا ممتاز عالم ہے یہ شیخ مفید نے ایک کتاب لکھی ائمہ اہل بیت کی سوانح حیات پر اور اس کتاب کا نام رکھا " تذکرہ الاطہار" اس کتاب میں شیخ مفید لکھتا ہے کہ
" جب امام حسن علیہ السّلام فوت ہو گئے تو عراق کے شیعہ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو اپنی معاویہ کی بیعت توڑ دینے اور آپکی بیعت کرنے کے بارے میں لکھا - آپ انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے اور معاویہ کے درمیان ایک عہد و پیمان ہے میرے لئے مدت سے پہلے اسے توڑنا جائز نہیں "
فی الحال کے لئے یہ دو حوالے کافی ہیں یہ ثابت کرنے کیلئے کہ یہ بیعت نہ صرف ہوئی بلکہ قائم بھی رہی - جو انکار کرتا ہے اسے دلیل سے انکار کرنا چاہئے نہ کہ اپنی عقل کے گھوڑے پر سوار ہو کر بس بلا دلیل لکھتے چلے جانا - دعویٰ بلا دلیل کوئی معنی نہیں رکھتا یہ ہر شعور رکھنے والا جانتا ہے -
اب ہمارے موصوف سے چند سوالات ہیں دیکھتے ہیں جواب دیتے ہیں یا نہیں
حضرت امام حسن رضی اللّٰه عنہ نے اپنے نانا جان کی امت باغی گروہ کے حوالے کیوں کی ؟
پوری امت ( معاذ اللہ) جہنم کی طرف بلانے والے باغی گروہ کے حوالے کردینے والوں کا شرعی حکم ؟
حضرات حسنین کریمین رضی اللّٰه عنہما حضرت معاویہ رضی اللّٰه عنہ کی طرف سے سالانہ کئی کئی لاکھ نذرانہ کیوں قبول فرماتے تھے ؟



اردو
فہیم retweetledi
فہیم retweetledi







