Muhammad Hanif Gul

5.7K posts

Muhammad Hanif Gul banner
Muhammad Hanif Gul

Muhammad Hanif Gul

@Hanif_GulPk

Civil servant, teacher, human rights activist, long distance runner and a democracy lover. Retweets are not endorsement except when human rights are violated.

Pakistan Katılım Aralık 2016
581 Takip Edilen1.2K Takipçiler
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
Justin Gaethje’s Victory Over Ilia Topuria Proves Khabib’s Unmatched Dominance: In the main event of UFC Freedom 250, Justin Gaethje defeated Ilia Topuria via fourth-round TKO (corner stoppage) to claim the UFC lightweight championship. Leading up to the fight, Topuria who had held two-division champion status was widely regarded as a legitimate threat to Islam Makhachev and even the legendary Khabib Nurmagomedov, widely considered the most dominant undefeated fighter in MMA history. While the American fanbase often shows bias against Khabib and his team, the reality remains undeniable: they are the best fighters on the planet, and they prove it every time they step into the Octagon. Opinions are subjective, but since the era of Fedor Emelianenko, no fighter has come close to replicating the sheer dominance Khabib displayed over his opponents. To believe that someone like Topuria could defeat Khabib is not just simplistic it reflects a fundamentally low fight IQ. Gaethje’s decisive victory only reinforces what has been clear all along: Khabib was operating on an entirely different level. @TeamKhabib @FaizanM29817532 @ufcfreedom
Muhammad Hanif Gul tweet media
English
0
0
0
274
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
@SYahyaHussaini تو کارکردگی کا معیار ریکارڈز کے علاوہ ہے کیا؟ اگر ایک کھلاڑی سنچریاں اور نصف سنچریاں بناتا ہے۔ اکثر ٹیم کو جتواتا بھی ہے۔ لیکن باقی سارے پرچی ہوں اور پراپیگنڈہ کرنے والے صحافیوں کے پسندیدہ ہوں جبکہ ریکارڈ ان کا واجبی ہو تو کیا اچھے کھلاڑیوں کے بجائے انہیں کھلایا جائے ؟
اردو
0
0
0
54
Syed Yahya Hussaini
Syed Yahya Hussaini@SYahyaHussaini·
اعداد و شمار/ریکارڈز کا کرکٹ میں بٹرا عمل دخل ہے۔ افسوس پچھلے سالوں کے دوران PCB کرکٹ کو نیچے لانے میں ان سہاروں سے ہماری کرکٹ کو بے سہارا کیا گیا۔ اہلیت /صلاحیت کا کوئی نعم البدل نہیں۔PCBکو اپنے ریکارڈز کے لئے کھیلنے والے کرکٹرز کیساتھ/ریکارڈ بیچنے والوں سے بھی پیچھا چھٹراناہوگا
اردو
12
4
52
4.4K
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
Once the untouchable Mr. 360, AB de Villiers has now been demoted to Mr. 420 after daring to place Jasprit Bumrah (a fine bowler, no doubt) above the holy trinity of Wasim, Waqar, and Steyn. In the grand cathedral of cricket nostalgia, this isn't just a bad take; it's blasphemy dressed in an IPL jersey. Fans have rightly concluded that no sane cricketer could genuinely believe Bumrah outranks the gods of reverse swing and raw pace unless his bank account was doing the thinking. Forget the stats, the conditions, or the era; AB's real crime is having a preference that smells suspiciously like a paid endorsement. And for that, his 360 degree genius now rotates straight into a 420 degree fraud. @DaleSteyn62 @wasimakramlive @waqyounis99 @ABdeVilliers17 @TheRealPCB @BCBtigers @StatsCricket
English
0
0
0
37
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
۹ جون کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی وزیر ٹرانسپورٹ صالح الجسر اور ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر ارالوغلو کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب، اردن، شام اور ترکی کے درمیان ایک جدید ریلوے لائن تعمیر کی جائے گی۔ یہ منصوبہ اس لیے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے خطے میں لاجسٹک بحران پیدا کر دیا ہے۔ ترکی اس سے قبل اپریل 2026 میں اردن اور شام کے ساتھ سہ فریقی معاہدہ کر چکا ہے۔ اس میں سعودی عرب کا شامل ہونا ترکی کی کامیاب اور دوررس سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ سلطنت عثمانیہ کے دور کی حجاز ریلوے کی جدید شکل ہے، جو پہلی جنگ عظیم میں برطانوی جاسوس لارنس آف عربیہ کے حملوں سے تباہ ہو گئی تھی۔ ترکی اس سے قبل عراق کے راستے سعودی عرب تک مال گاڑیاں چلانے کا کامیاب تجربہ بھی کر چکا ہے۔ یہ یادداشت بھارت کے لیے بھی ایک دھچکا ہے، کیونکہ اس کا یورپ تک ریل رابطے کا منصوبہ عملی شکل نہ لے سکا۔ وہ منصوبہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی پر منحصر تھا، جسے امریکہ اور یورپ آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ تاہم، غزہ میں اسرائیلی مظالم اور ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ نے خطے کا توازن یکسر بدل دیا ہے۔ پاکستان بھی اس منصوبے میں شامل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ایران کے ساتھ ریل لائن کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ افغانستان اور وسطی ایشیا سے ریل رابطہ پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ریلوے کا معیار چین اور کوریا جیسا نہیں، لیکن کم از کم ایران اور بھارت کی طرح 120-150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی قابلِ بھروسہ ریلوے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دنیا میں نئے اتحاد بن رہے ہیں اور خطے ریلوے کو سمندری راستوں کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ریلوے کی تعمیرِ نو کے لیے کوئی دوررس منصوبہ بندی نہیں ہو رہی، جب کہ نئی دنیا میں جدید ریلوے کا ہونا قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
Muhammad Hanif Gul tweet media
اردو
0
0
0
135
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
This is the IPL that has forced you to pick Bumrah as a bowler over the great Wasim Akram and equally great Dale Steyn. Money talks was heard of, but money robs someone of the honour, integrity and truthfulness is something that the lucrative IPL contracts are revealing. Ordinary Indian players are picked over greats of the game not just by you but by everyone.
English
0
0
0
6
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
پنجاب کے گورنر جناب سردار سلیم حیدر خان سے گورنر ہاؤس پنجاب میں پاکستان ریلوے اکیڈمی کے زیر تربیتی افسران کے وفد کے ہمراہ ملاقات۔
Muhammad Hanif Gul tweet mediaMuhammad Hanif Gul tweet mediaMuhammad Hanif Gul tweet mediaMuhammad Hanif Gul tweet media
اردو
0
0
0
17
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
چارلس ولیم ہڈسن: برطانوی ہند کے نامور ریلوے انجینئر چارلس ولیم ہڈسن، برطانوی ہند کے دور کے ایک مایہ ناز ریلوے انجینئر تھے۔ وہ ۶ ستمبر ۱۸۵۱ کو برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کوپر ہل کالج سے حاصل کی اور بعد ازاں معروف فرم میسرز جان ایرڈ اینڈ سنز میں بطور فاؤنڈیشنل انجینئر تربیت پائی۔ محض ۲۲ سال کی عمر میں، ۱۸۷۳ میں، ہڈسن نے برطانوی ہند کے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی مہارت اور ذہانت کو دیکھتے ہوئے انھیں ریلوے محکمے میں تعینات کر دیا گیا۔ بطور اسسٹنٹ انجینئر، انھوں نے راجپوتانہ، ترہوٹ اور انڈس ویلی ریلوے پر خدمات انجام دیں اور وسیع تجربہ حاصل کیا۔ ۱۸۸۲ میں انھیں ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے پر ترقی ملی۔ جب جیمز بیل کی تعمیر کردہ بولان ریلوے ۱۸۸۹ میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوئی تو نئی لائن کی تعمیر کی ذمہ داری ہڈسن کے سپرد کی گئی۔ بیل جیسے نامور انجینئر کے نقشِ قدم پر چلنا آسان نہ تھا، لیکن ناہموار جغرافیے اور مشکل حالات کے باوجود ہڈسن نے غیر معمولی مہارت اور محنت سے بولان ریلوے تعمیر کی۔ اس منصوبے میں ۱۷ انتہائی مشکل سرنگیں اور درجنوں پل شامل تھے۔ بولان میں واقع پونیر سرنگ آج بھی ہڈسن کی پیشہ ورانہ لیاقت اور جاں فشانی کا ثبوت ہے۔ ان کامیابیوں کے اعتراف میں، ۱۸۹۶ میں ہڈسن کو کنسلٹنگ انجینئر مقرر کیا گیا۔ اسی دوران وہ مدراس حکومت کے جوائنٹ سیکرٹری بھی رہے۔ بعد ازاں وہ ریلوے کنسٹرکشن آف انڈیا کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے، جس کے تحت ان کے پاس الہ آباد–فیض آباد ریلوے کے انجینئر ان چیف کا اضافی چارج بھی تھا۔ اسی عہدے پر رہتے ہوئے انھوں نے دریائے گنگا پر مشہور کرزن پل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا — یہ پل بھی جیمز بیل کی وضع کردہ تکنیک سے بنایا گیا تھا۔ اپنی شاندار خدمات کی بدولت ہڈسن ۱۹۰۴ سے ۱۹۰۶ تک کونسل آف انسٹی ٹیوشن آف سول انجینئرز کے منتخب رکن رہے۔ وہ ۱۹۰۶ میں ریٹائر ہوئے اور ۱۵ فروری ۱۹۱۰ کو لندن کے ایلنگ میں محض ۵۸ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہڈسن کے بنائے ہوئے سٹرکچرز آج بھی پاکستان اور بھارت میں موجود ہیں اور ان کے شاندار کارناموں کے خاموش گواہ ہیں۔
Muhammad Hanif Gul tweet mediaMuhammad Hanif Gul tweet media
اردو
0
0
0
34
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
پاکستان میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے ارتقا میں بے شمار گمنام ہیرو شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے نام نہ صرف عام عوام بلکہ خود ریلوے کے ملازمین میں بھی مشہور نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان گمنام شخصیات کو تاریخ کی دھول سے نکال کر پاکستان کی تاریخ کا لازمی جزو بنایا جائے۔ یہ درست ہے کہ انگریز ایک قابض قوت تھے، لیکن تمام انگریز یکساں سامراجی ذہن کے نہیں تھے۔ جو تھے، ان میں سے کچھ مقامی لوگوں کے لیے ہمدردی بھی رکھتے تھے اور اپنا کام دلجمعی سے انجام دیتے تھے۔ برصغیر دریاؤں کے سنگم پر پروان چڑھنے والی تہذیب ہے۔ گنگا، جمنا، برہم پتر، سندھ ہو یا چناب ان کے کناروں پر اس خطے کی تہذیب نے جنم لیا۔ یہ دریا قدرتی رکاوٹ تھے، جس کی وجہ سے ایک خطے میں بسنے کے باوجود مقامی لوگوں میں رابطے کے امکانات محدود تھے۔ انگریزوں کی آمد کے بعد جب برصغیر میں ریلوے کی تعمیر کا آغاز ہوا تو سب سے بڑا امتحان ان دریاؤں کو عبور کرنا تھا۔ اس چیلنج کا جواب تھا اپنے وقت کا لاجواب پل انجینئر جیمز بیل۔ جیمز ۱۸۴۱ میں اسکاٹ لینڈ کے مقام وِک میں پیدا ہوا اور اس نے سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۱۸۶۸ میں، محض ۲۷ سال کی عمر میں، اس نے انڈین پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ میں بطور اسسٹنٹ انجینئر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ جیمز بے حد ذہین تھا۔ بڑے ڈھانچے تعمیر کرنے میں اس کی خاص دلچسپی اور استعداد کو دیکھتے ہوئے اسے ریلوے میں منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا کردار کسی مافوق الفطرت کردار سے کم نہ تھا۔ جیمز نے اپنی مہارت کا لوہا دریائے ستلج پر ایمپریس برج اور دریائے چناب پر شیر شاہ برج کی تعمیر سے منوایا۔ لیکن اس کی اصل کمال یہ تھی کہ اس نے دریائی پل بنانے کی انتہائی موثر تکنیک اور ڈیزائن پر کام کیا، جو آج بھی ریلوے کے تمام پلوں کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے۔ بیل بنڈ (Bell’s Bunds) کے ذریعے دریائی پانی کے وسیع بہاؤ کو ڈیزائن کے تحت ایک تنگ راستے سے موثر طریقے سے گزارا جاتا ہے اور اس مقصد کے لیے پلوں کے ساتھ پتھروں اور بڑے بڑے پتھروں (بولڈرز) کی مدد سے مخصوص گھوڑے کی نعل نما ڈھانچے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ ۱۸۷۹ میں جب افغانستان میں روسی مداخلت کا خطرہ لاحق ہوا اور کوئٹہ کے لیے ریلوے لائن تعمیر کرنا ناگزیر ہو گیا تو تاج برطانیہ نے ہنگامی بنیادوں پر یہ کام جیمز بیل کے سپرد کیا۔ بیل نے فوری طور پر رک (سکھر) سے بولان تک لائن بچھانے کا کام شروع کیا۔ اُس دور کے وسائل اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے یہ نہایت مشکل کام تھا۔ جیمز نے ۲۱۵ کلومیٹر طویل ٹریک محض ۱۰۱ دنوں میں مکمل کر کے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ بدقسمتی سے بیل کی تعمیر کردہ لائن ۱۸۸۹ میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہو گئی۔ موجودہ لائن برطانوی حکومت کی تیسری کوشش تھی، جو آج تک قائم ہے۔ لیکن جیمز بیل نے جس مستعدی اور رفتار سے ابتدائی لائن تعمیر کی، وہ انجینئرنگ کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔ ۱۸۹۲ میں برطانوی حکومت نے جیمز کو کنسلٹنگ انجینئر مقرر کیا، جہاں وہ ۱۸۹۶ میں اپنی ریٹائرمنٹ تک تعینات رہے۔ جیمز اس دور کا ایسا ریلوے انجینئر تھا جس کی شہرت افسانوی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور مصنف رڈیارڈ کپلنگ کی مختصر کہانی The Bridge Builder کا کردار فنڈلیسن دراصل جیمز بیل کی زندگی پر مبنی ہے۔ یہ کردار اپنی زندگی کا بڑا حصہ دریائے گنگا پر کاشی پل کی تعمیر میں صرف کرتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ریلوے کا یہ ماہر پل انجینئر واپس انگلستان لوٹ گیا اور کینٹ میں سکونت پذیر ہوا۔ ۱۹۱۳ میں، پہلی جنگ عظیم کے آغاز سے قبل، یہ افسانوی کردار ۷۲ سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔ اگرچہ پاکستان میں جیمز بیل کے بارے میں مکمل خاموشی ہے، لیکن شیر شاہ برج کے نیچے سے گزرتی دریائے چناب کی لہریں آج بھی اس کی بے مثال مہارت کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔
Muhammad Hanif Gul tweet media
اردو
0
0
1
57
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
Imran Khan is certainly the best cricketer from Pakistan and one of the top five to ever play the game, alongside Sobers, Bradman, Kallis, and Tendulkar. Pakistan also produced Jahangir Khan, who is arguably the country's best sportsperson. His statistical achievements are superior to Imran's, but the sport he played is not on the same level as cricket. The same applies to Shahbaz Ahmed, a legendary hockey player and a worthy equivalent to the great Khan. Yet again, hockey does not carry the same global weight as cricket. Therefore, Imran Khan's claim to being Pakistan's greatest sportsperson is much stronger than that of his competitors.
English
0
0
1
36
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
کرنل سر کیوسک والٹن: پاکستان میں ریلوے کی ترقی میں اہم کردار کرنل سر کیوسک والٹن کا شمار پاکستان میں ریلوے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔ جان برنٹن کی طرح ان کی خدمات بھی نمایاں ہیں۔ کیوسک والٹن 1878ء میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو انجینئرنگ کے میدان میں پورے برطانیہ میں پہچانا جاتا تھا۔ ان کے والد ٹی جی والٹن تاج برطانیہ کے ممتاز عہدیدار تھے، جبکہ ان کے دادا فریڈرک والٹن مشہور صنعت کار اور موجد تھے۔ کرنل والٹن نے کلفٹن کالج سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں رائل ملٹری اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہوں نے ملٹری انجینئرنگ میں خصوصی مہارت حاصل کی۔ 1897ء میں انہوں نے رائل کمیشن حاصل کیا اور پہلی جنگ عظیم میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے ملک کی خدمات انجام دیں۔ جنگ میں شاندار کارکردگی پر انہیں امتیازی خدمات کے اعزاز (Distinguished Service Order) اور لیجن آف آنر (Legion of Honour) سے نوازا گیا۔ نیز بیلجیم کی حکومت نے بھی انہیں 1925ء میں آرڈر آف دی کراؤن (Order of the Crown) عطا کیا۔ والٹن پہلی بار 1899ء میں بطور فوجی افسر برٹش انڈیا آئے، لیکن ان کی اصل وجہ شہرت فوج نہیں بلکہ ریلوے ہے۔ وہ 1924ء سے 1932ء تک نارتھ ویسٹرن ریلوے کے ایجنٹ رہے۔ اسی دوران انہوں نے 1926ء میں لائلپور (موجودہ فیصل آباد) میں ریلوے ٹریننگ اسکول قائم کیا۔ بعد میں اس اسکول کو لاہور میں والٹن نامی مقام پر منتقل کیا گیا، جہاں 1929ء میں اسی مقصد کے لیے ایک خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی۔ 1933ء میں کرنل والٹن کو نارتھ انڈیا فلائنگ کلب کا سربراہ مقرر کیا گیا اور اسی دوران انہوں نے والٹن ایئرفیلڈ قائم کیا۔ انہی خدمات کے باعث لاہور کا یہ پورا علاقہ انہی کے نام سے موسوم ہے اور آج بھی والٹن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عوامی خدمات کے سلسلے میں انہیں نائٹ کے اعزازی خطاب سے بھی نوازا گیا۔ 1933ء میں ریلوے سے ریٹائرمنٹ کے بعد والٹن نے چرچ مشنری سوسائٹی کے اعزازی سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ان کا انتقال 1966ء میں 88 برس کی عمر میں ہوا۔ والٹن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے علاوہ برٹش انڈیا میں دیگر تربیتی ادارے بھی قائم کیے گئے۔ دہرہ دون میں ریلوے اسٹاف کالج قائم ہوا، جسے بعد میں ملٹری اکیڈمی میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی طرح چنداسی انسٹی ٹیوٹ 1925ء میں قائم کیا گیا اور اسے سٹاف کالج کے متبادل کے طور پر اعلیٰ سطحی تربیت کے لیے استعمال کیا گیا۔ آزادی کے بعد بھارت نے 1952ء میں وڈودرا (گجرات) میں نیشنل اکیڈمی آف انڈین ریلوے قائم کی۔ لاہور میں واقع کرنل والٹن کا قائم کردہ ادارہ آزادی کے بعد اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام ریلوے ماہرین کا تربیتی ادارہ بنا، جو آج بھی کام کر رہا ہے۔ کرنل والٹن کی تعمیر کردہ عمارت آج بھی پوری رونق اور آب و تاب سے قائم ہے اور یہ ادارہ پاکستان ریلوے کی تربیت کا فریضہ بخوبی انجام دے رہا ہے۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے بھارت کی طرز پر جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جائے۔ کرنل والٹن نے لاہور میں برصغیر کا بہترین تربیتی ادارہ بنایا تھا اور آج بھی والٹن برصغیر میں ریلوے کے بہترین تربیتی ادارے کے طور پر دوبارہ ابھر سکتا ہے۔
Muhammad Hanif Gul tweet media
اردو
1
0
1
71
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
@AussiesArmy Michael Bevan in ODIs, Virat Kohli and Javed Miandad for both ODIs and tests, Mike Hussey in all three formats. All four are dependable.
English
0
0
1
72
Aussies Army🏏🦘
Aussies Army🏏🦘@AussiesArmy·
Which batter would you pick to save your life in a run chase?
English
87
1
115
67.8K
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
Breaking the Bradman Code: Reimagining Cricket’s Greatest via the "Equivalent Run" Metric For over a century, cricket fans have accepted an immutable truth: Sir Don Bradman is the greatest player to ever touch a bat, and his Test average of 99.94 is a statistical peak that will never be reached, let alone surpassed. But what happens when we remove the arbitrary boundary between batting and bowling? How do you compare 15,000 Test runs against 800 Test wickets? By applying an advanced, multi-variable Run-Equivalence Model, we have completely rebuilt the Test cricket leaderboard from scratch. The results are nothing short of revolutionary—including a new number-one cricketer of all time. The Formula: Redefining "Equivalent Runs" To create a level playing field, we converted every fundamental metric of Test cricket success into a single currency: Runs. The model uses four core rules: The Wicket Standard: Historically, the global average for a team innings hovers around 300 runs for 10 wickets. Therefore, 1 wicket is mathematically valued at 32 equivalent runs. The 6+ Wicket "Not Out" Rule: To mirror a batsman’s "not out" (which keeps their average high by not adding to their innings denominator), any bowling innings where a bowler takes 6 or more wickets is treated as a bowling "not out" and subtracted from their total innings count. The Match-Winner Premium: To reward elite, match-defining impact, players are awarded 200 additional runs for every Player of the Match (PotM) award. The Series-Dominator Premium: Players receive 400 additional runs for every Player of the Series (PotS) award. The ultimate ranking is determined by Total Equivalent Runs divided by Total Effective Innings. The Definitive Top 50 Test Cricketers (Per-Innings Efficiency) RankPlayer (Country)Base Eq. RunsAccolade BonusTotal RunsEffective InningsRuns per Innings 1Muttiah Muralitharan (SL)26,8618,20035,06135299.61 2Sir Don Bradman (AUS)*6,99606,9968087.45 3Ravichandran Ashwin (IND)20,6877,00027,68735079.11 4Shane Warne (AUS)25,2346,60031,83443173.86 5Jacques Kallis (SA)22,1228,20030,32241972.37 6Sir Richard Hadlee (NZ)15,2243,20018,42426569.52 7Imran Khan (PAK)14,8413,40018,24126768.32 8Dale Steyn (SA)15,2993,00018,29927167.52 9Anil Kumble (IND)22,2343,60025,83439066.24 10Wasim Akram (PAK)16,3314,60020,93131366.87 11Sir Garfield Sobers (WI)*16,330016,33030553.54 12Glenn McGrath (AUS)19,1393,80022,93935165.35 13Malcolm Marshall (WI)13,3223,20016,52225165.82 14Curtly Ambrose (WI)13,0533,20016,25324865.54 15Waqar Younis (PAK)12,8202,80015,62024563.76 16James Anderson (ENG)23,3743,40026,77443661.41 17Allan Donald (SA)11,2342,00013,23421860.71 18Saeed Ajmal (PAK)6,1471,0007,14711960.06 19Ravindra Jadeja (IND)11,2113,40014,61122465.23 20Dennis Lillee (AUS)*12,012012,01223451.33 21Shaun Pollock (SA)14,9123,00017,91229560.72 22Ian Botham (ENG)17,3224,00021,32235360.40 23Steve Smith (AUS)9,6853,40013,08519567.10 24Courtney Walsh (WI)17,2112,40019,61133858.02 25Kapil Dev (IND)22,0452,80024,84543656.98 26Stuart Broad (ENG)21,2132,40023,61342156.09 27Graeme Swann (ENG)9,5301,80011,33019558.10 28Joe Root (ENG)11,9403,80015,74027357.65 29Ben Stokes (ENG)6,5403,4009,94017457.12 30Nathan Lyon (AUS)19,2342,20021,43438855.24 31Kumar Sangakkara (SL)12,4003,60016,00025562.74 32Ricky Ponting (AUS)13,3784,00017,37829059.92 33Sachin Tendulkar (IND)16,0123,80019,81233559.14 34Brian Lara (WI)11,9532,80014,75324959.25 35Harbhajan Singh (IND)15,3212,00017,32131255.51 36Joel Garner (WI)9,0121,20010,21218654.90 37Virat Kohli (IND)9,1502,40011,55019858.33 38Kagiso Rabada (SA)10,3212,00012,32121956.26 39Chaminda Vaas (SL)13,2111,80015,01127354.98 40Mitch Johnson (AUS)11,3241,80013,12423555.84 41Shakib Al Hasan (BAN)9,1221,60010,72219455.26 42Chris Cairns (NZ)8,2411,4009,64117555.09 43Trent Boult (NZ)11,0121,40012,41222954.20 44Tim Southee (NZ)13,2141,60014,81427753.47 45Sydney Barnes (ENG)*6,21106,21112649.29 46Jason Gillespie (AUS)9,1128009,91219351.35 47Fred Trueman (ENG)*10,211010,21121547.49 48Michael Holding (WI)8,3216008,92117850.11 49Bob Willis (ENG)10,61260011,21222549.83 50Mitchell Starc (AUS)12,3111,20013,51126750.60 Crucial Takeaways from the New Hierarchy 1. The Crown Changes Hands: Murali at the Summit For decades, Muttiah Muralitharan has been recognized as a volume king, but this model proves his per-innings efficiency was actually the greatest the world has ever seen. Thanks to his 800 wickets (worth 25,600 runs) and an astonishing 11 Player of the Series awards, he generated a staggering 99.61 equivalent runs per innings. He successfully dethrones Bradman by turning a bowling inning into a relentless point-scoring machine. 2. The Power of Match Winners Because a single world-class bowler can take 4 or 5 wickets in an innings, they routinely output the equivalent of a 128 to 160-run batting masterclass. When you factor in the "6+ wicket not out" rule, destructive strike-bowlers like Dale Steyn, Shane Warne, and Richard Hadlee easily clear the efficiency hurdles of traditional batting giants like Sachin Tendulkar or Brian Lara. 3. The Modern All-Rounder Vault The undisputed king of the modern all-rounder metric is Jacques Kallis. Holding the record with 23 Player of the Match awards, Kallis injected a massive 8,200 accolade-equivalent runs into his profile, ranking 5th all-time. Close behind is Ravichandran Ashwin, whose lethal combination of lower-order runs, mountain of wickets, and 11 Player of the Series titles pushes him to an elite 3rd place overall. Conclusion When we judge cricket not by the limits of a single discipline, but by a player’s holistic ability to generate win-conditions for their country, the leaderboard changes completely. Don Bradman remains a terrifying statistical outlier—but by converting wickets and match-winning awards into runs, Muttiah Muralitharan stands alone as the most impactful cricketer in Test history. @cricvizanalyst @cricinfowickets
English
0
0
0
101
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
@Cricwick Imran Khan, a match winner both with the bat and ball, a captain who can lead from the front and inject the winning mindset. A peak Imran Khan is equal to two players in the team. Wasim Akram is close second but he lacks in leadership credentials.
English
3
0
26
1.6K
Cricwick
Cricwick@Cricwick·
If you had the chance to bring one of these four cricketers into Pakistan current ODI team, who would you pick❓ 🤔
Cricwick tweet media
English
450
18
536
64.2K
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
جان برنٹن پاکستان ریلوے کی تاریخ کا ایک اہم اور کلیدی کردار ہیں، مگر افسوس کہ ان کی شہرت پاکستان میں سر گنگا رام جیسی نہیں ہے۔ حالانکہ برنٹن کا کام اپنی نوعیت اور اثرات کے لحاظ سے کہیں بڑے پیمانے پر ہے۔ جان برنٹن ۱۸۱۲ میں انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں پیدا ہوئے اور پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر تھے۔ انہوں نے برطانیہ میں برمنگھم اور مانچسٹر ریلوے پر کام کیا۔ ۱۸۵۷ میں ان کی تعیناتی سندھ (کراچی) میں بطور چیف ریذیڈنٹ انجینئر ہوئی، جہاں انہوں نے موجودہ پاکستان کی پہلی ریلوے لائن کی تعمیر کا آغاز ۱۸۵۸ میں کیا۔ یہ لائن کراچی سے کوٹری تک تعمیر کی گئی اور ۱۸۶۲ میں مکمل ہوئی۔ پہلی ٹرین سروس کا آغاز اس رفتار سے ہوا کہ ٹرین ۲۰ میل فی گھنٹہ چلتی تھی، چار اسٹیشنوں پر رکتی تھی، اور کل فاصلہ آٹھ گھنٹوں میں طے کرتی تھی۔ اس سے پہلے اونٹوں کے قافلے یہ سفر پانچ دنوں میں مکمل کرتے تھے ۔ یہ ایک حقیقی انقلاب تھا۔ اس لائن پر پہلا سٹیم انجن برنٹن نے خود کمشنر سندھ سر فرئیر کے ہمراہ چلایا۔ اس تعمیر پر انہیں میڈل سے نوازا گیا۔ بعد ازاں برنٹن نے ۱۸۶۳ سے ۱۸۶۶ تک تین سالوں میں انڈس ویلی ریلوے کا سروے مکمل کیا، جس کی بنیاد پر کوٹری سے ملتان تک ریلوے لائن تعمیر کی گئی۔ سروے کی تکمیل کے بعد جان برنٹن انگلستان واپس چلے گئے اور وہاں ۲۰ سال تک انجینئر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ۱۸۹۸ میں ۸۶ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ چیف انجینئر جان برنٹن بلاشبہ پاکستان ریلوے کے معمار اور بانی کا درجہ رکھتے ہیں۔
Muhammad Hanif Gul tweet media
اردو
0
0
0
46
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
@AjayJadeja171 If Hindu players of Indian team wants to kiss their religious text, no one has any objection. The problem is when this is forced upon non-Hindu players. Or those Indians object who believe that secular character of Indian state should be respected.
English
0
0
0
33
Ajay Jadeja
Ajay Jadeja@AjayJadeja171·
Iranian 🇮🇷 Football team kissed Quran before their flight to Mexico for the FIFA World Cup 2026 🫪 Now, just imagine Indian 🇮🇳 Cricketers kissing the Bhagwat Geeta and then the outrage 🙃
English
840
4K
18K
516.9K
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
Today, I completed the 5K Twin Park run from Lawrence Garden to Race Course Park. It was truly enjoyable in the company of friends. Running after a long break is always a challenge, but my fellow runners motivated me to push through. Although my pace was considerably slow, I still managed to clock my fastest 5K of 2026.
Muhammad Hanif Gul tweet media
English
0
0
0
19
Muhammad Hanif Gul
Muhammad Hanif Gul@Hanif_GulPk·
Air Link is one of the largest mobile phone manufacturers of Pakistan , while Hisense is a Chinese electronics company with global sales of $31 billion USD. These two companies are now entering a new phase of partnership. A major event organized at the Expo Centre in Lahore to launch this historic partnership. It is a pleasure to be part of this occasion. Collaborations and partnerships like this not only strengthen bilateral relations between Pakistan and China but also create opportunities for the people of Pakistan to advance in industrial production and generate jobs for the youth.
Muhammad Hanif Gul tweet mediaMuhammad Hanif Gul tweet mediaMuhammad Hanif Gul tweet media
English
0
0
1
33