حیدر نقوی

9K posts

حیدر نقوی banner
حیدر نقوی

حیدر نقوی

@IHN0786

پاکستان کو آپ کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی ہم سب کو ضرورت ہے۔پاکستان ہماری پہچان ہے۔ بیک اپ #قلمکارپاکستان

Katılım Eylül 2019
4K Takip Edilen6.4K Takipçiler
حیدر نقوی retweetledi
Fatima.I
Fatima.I@IFatima514·
"بہت خوبصورت اور تاریخی تجزیہ! خسرو پرویز کے تکبر سے یزید کی سفاکیت تک، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اقتدار اندھا ہوا، اس نے اصول پامال کیے۔ جنابِ مسلمؑ نے کوفہ کے چوراہے پر لاش ٹنگوا لی مگر باطل کے آگے سر نہ جھکایا۔ سلام ہو مکہ سے کوفہ تک پھیلی اس لازوال قربانی پر۔🖤 #سلام_یاحسین
افتخار حیدر نقوی@sinaqvi110

سفارتکار کا قتل ناحق آج کل سفارتکاری عروج پر ہے، فوجیں میدان جنگ میں موجود ہیں ، مگر سفارتکاری کا احترام اپنی جگہ پر موجود ہے، پچھلے سال معرکہ حق میں بھی بھارت اور پاکستان نے حملہ اور ہونے کے باوجود سفیروں کا احترام کیا گیا سفیروں اور سفارتکاری کے احترام کا قانون نیا نہیں ہے قدیم ترین ریاستی نظام میں یہ قانون جو موجود تھا اور جس پر ہمیشہ عمل ہوتا تھا جس پر خسرو پرویز جیسا شخص بھی عمل پیرا ہوا جس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تبلیغ اسلام کے لیے خط بھیجا تو اس نے کہا کہ دل چاہتا ہے کہ میں اس سفیر کو قتل کر دوں لیکن اس نے سفارت کار کو قتل تو نہ کیا لیکن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خط مبارک پھاڑ دیا اس کے بعد اس متکبر حکمران کا انجام تاریخ کا ایک حصہ ہے مگر جبر و استبداد پر مبنی ایک ریاست جو یزید ابن معاویہ نے قائم کی تھی اس نے اس اصول کو بھی توڑ ڈالا اس نے سفیر امام حسین علیہ السلام جناب مسلم بن عقیل ع کو نہ صرف گرفتار کروایا بلکہ بڑے جبر و استبداد کے ساتھ اور ظلم کے ساتھ قتل کر دیا اور بعد میں ان کے دو بیٹوں کو بھی شہید کر دیا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ریاستی قوانین کی اہمیت یزید لعین کے نزدیک بالکل نہیں تھی اور یزید لعین نے ریاستی قانون کو کیا اہمیت دیتا اس ظالم و منکر نے نبی آخر الزماں جناب رسول علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ال ع کے ساتھ جو کیا اس نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ اس شخص کے نزدیک اقتدار محض اپنے مقتولین کے انتقام اور بدلہ لینے سے زیادہ کچھ نہ تھا انتقام سے زیادہ کچھ نہ تھا اور یوں تاریخ میں شاید پہلی بار کسی سفارت کار کا قتل ہوا اور قتل بھی بڑے جبر استبداد کے ساتھ کہ پہلے کئی روز تک گلیوں میں گھسیٹا گیا پھر ان کو گورنر کے سامنے پیش کیا گیا گورنر نے ان سے بیعت طلب کی جناب مسلم بن عقیل۴ نے بیعت سے انکار کر دیا اور شدید پیاس کے باعث پانی طلب کیا ان کو پانی بھی نہیں پینے دیا گیا شاید پانی پلانے کا رواج شاید فوج یزید میں تھا ہی نہیں جناب مسلم بن عقیل۴ کو قصر امارہ پر لے جایا گیا اور کچھ تاریخ دان کہتے ہیں کہ سر تن سے جدا کر کے محل سے لاش پھینک دی گئی اور کچھ کہتے ہیں کہ زندہ پھینک دیا گیا اور اس کے بعد بھی ان کو تدفین کی اجازت نہ ملی بلکہ علامت جبر و استبداد کے طور پہ اپ کی لاش اقدس کو کوفے کی ایک چوراہے میں ٹانگ دیا گیا یہ لاش اتنے دنوں تک وہیں رہی کہ ایک ماہ بعد جب رسول ص زادیاں واقعہ کربلا کے بعد ک گرفتار ہو کر کوفہ پہنچیں تو چونکہ وہ اپنے شہداء کا حال تو پہلے دیکھ چکی تھی اور انہوں نے ایک دوسرے سے گفتگو کی اور جناب مسلم بن عقیل کی زوجہ حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے اپنی بہن بنت رسول جناب زینب ابن علی سلام اللہ علیہا سے کہا لگتا ہے کہ کوفے میں شاید لوگوں کی تدفین کا رواج ہی نہیں ہے میرا سلام ہو اس سفیر پر جو محبت حسین۴ میں شہید ہوا جس نے جبر سہا لیکن بیعت سے انکار کیا اور کہا کہ میرا امیر تو حسین۴ ابن علی۴ ہے اور سلام ہو حسین۴ ابن علی۴ پر ، السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام 😭😭 (از قلم مہتاب حیدر تھہیم) ❤️#سلام_یاحسینؑ❤️

اردو
1
2
16
269
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
*حُسین علیہ السلام نے مکہ کو ترک کیا، حج کو ناتمام چھوڑا اور قیام کا آغاز کیا تاکہ مسلمانوں کو سبق دیں کہ جب ظلم و ستم و استبداد انکی سرنوشت پر غالب آٸے اور عوام الناس کی لگام جاہلیت کے ہاتھ میں ہو تو مذہبی رسومات اور تعظیمی شعاٸر کہ جس نے اپنی روح، اپنا مفہوم اور اپنی جہت کھو دی ہو، بیکار اور بےثمر ہیں، اسیر قوم کو کعبہ کے گرد گھومنا کوٸی فاٸدہ نہیں پہنچاتا* ۔ ڈاکٹر علی شریعتی ؒ ❤️#سلام_یاحسینؑ❤️
اردو
12
19
51
1.6K
حیدر نقوی
حیدر نقوی@IHN0786·
@ajkhan5033 عمران خان کی تصویر لگا کر قوم میں جھوٹ کے ذریعہ منافرت پھیلانے والا بیغیرت کبھی تحریک انصاف کا پورٹر نہیں ہو سکتا۔
اردو
1
2
4
87
Abdul Jabbar Khan
Abdul Jabbar Khan@ajkhan5033·
کیا فقہ جعفریہ کو ماننے والے لوگ قربانی کرتے ہیں ۔
اردو
54
0
11
11.6K
حیدر نقوی retweetledi
Ali Naqvi
Ali Naqvi@ali31313naqvi__·
@ajkhan5033 فقہ حنفی والے فقہ جعفریہ کے قدموں میں بیٹھا کرتے تھے 👇
Ali Naqvi tweet media
اردو
11
5
13
972
حیدر نقوی retweetledi
Fatima.I
Fatima.I@IFatima514·
فقہ جعفریہ میں قربانی سنت ہے۔ لیکن یاد رکھیں، ہم اس حسینؑ کے ماننے والے ہیں جس نے اسلام بچانے کے لیے کربلا میں اپنا پورا کنبہ قربان کر دیا۔ جس مکتبِ فکر کی بنیاد ہی "قربانی" پر ہو، ان سے قربانی کا پوچھنا جہالت ہے۔ تفرقہ بازی چھوڑیں اور تاریخ پڑھیں۔
Abdul Jabbar Khan@ajkhan5033

کیا فقہ جعفریہ کو ماننے والے لوگ قربانی کرتے ہیں ۔

اردو
6
8
16
581
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
سفارتکار کا قتل ناحق آج کل سفارتکاری عروج پر ہے، فوجیں میدان جنگ میں موجود ہیں ، مگر سفارتکاری کا احترام اپنی جگہ پر موجود ہے، پچھلے سال معرکہ حق میں بھی بھارت اور پاکستان نے حملہ اور ہونے کے باوجود سفیروں کا احترام کیا گیا سفیروں اور سفارتکاری کے احترام کا قانون نیا نہیں ہے قدیم ترین ریاستی نظام میں یہ قانون جو موجود تھا اور جس پر ہمیشہ عمل ہوتا تھا جس پر خسرو پرویز جیسا شخص بھی عمل پیرا ہوا جس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تبلیغ اسلام کے لیے خط بھیجا تو اس نے کہا کہ دل چاہتا ہے کہ میں اس سفیر کو قتل کر دوں لیکن اس نے سفارت کار کو قتل تو نہ کیا لیکن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خط مبارک پھاڑ دیا اس کے بعد اس متکبر حکمران کا انجام تاریخ کا ایک حصہ ہے مگر جبر و استبداد پر مبنی ایک ریاست جو یزید ابن معاویہ نے قائم کی تھی اس نے اس اصول کو بھی توڑ ڈالا اس نے سفیر امام حسین علیہ السلام جناب مسلم بن عقیل ع کو نہ صرف گرفتار کروایا بلکہ بڑے جبر و استبداد کے ساتھ اور ظلم کے ساتھ قتل کر دیا اور بعد میں ان کے دو بیٹوں کو بھی شہید کر دیا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ریاستی قوانین کی اہمیت یزید لعین کے نزدیک بالکل نہیں تھی اور یزید لعین نے ریاستی قانون کو کیا اہمیت دیتا اس ظالم و منکر نے نبی آخر الزماں جناب رسول علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ال ع کے ساتھ جو کیا اس نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ اس شخص کے نزدیک اقتدار محض اپنے مقتولین کے انتقام اور بدلہ لینے سے زیادہ کچھ نہ تھا انتقام سے زیادہ کچھ نہ تھا اور یوں تاریخ میں شاید پہلی بار کسی سفارت کار کا قتل ہوا اور قتل بھی بڑے جبر استبداد کے ساتھ کہ پہلے کئی روز تک گلیوں میں گھسیٹا گیا پھر ان کو گورنر کے سامنے پیش کیا گیا گورنر نے ان سے بیعت طلب کی جناب مسلم بن عقیل۴ نے بیعت سے انکار کر دیا اور شدید پیاس کے باعث پانی طلب کیا ان کو پانی بھی نہیں پینے دیا گیا شاید پانی پلانے کا رواج شاید فوج یزید میں تھا ہی نہیں جناب مسلم بن عقیل۴ کو قصر امارہ پر لے جایا گیا اور کچھ تاریخ دان کہتے ہیں کہ سر تن سے جدا کر کے محل سے لاش پھینک دی گئی اور کچھ کہتے ہیں کہ زندہ پھینک دیا گیا اور اس کے بعد بھی ان کو تدفین کی اجازت نہ ملی بلکہ علامت جبر و استبداد کے طور پہ اپ کی لاش اقدس کو کوفے کی ایک چوراہے میں ٹانگ دیا گیا یہ لاش اتنے دنوں تک وہیں رہی کہ ایک ماہ بعد جب رسول ص زادیاں واقعہ کربلا کے بعد ک گرفتار ہو کر کوفہ پہنچیں تو چونکہ وہ اپنے شہداء کا حال تو پہلے دیکھ چکی تھی اور انہوں نے ایک دوسرے سے گفتگو کی اور جناب مسلم بن عقیل کی زوجہ حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے اپنی بہن بنت رسول جناب زینب ابن علی سلام اللہ علیہا سے کہا لگتا ہے کہ کوفے میں شاید لوگوں کی تدفین کا رواج ہی نہیں ہے میرا سلام ہو اس سفیر پر جو محبت حسین۴ میں شہید ہوا جس نے جبر سہا لیکن بیعت سے انکار کیا اور کہا کہ میرا امیر تو حسین۴ ابن علی۴ ہے اور سلام ہو حسین۴ ابن علی۴ پر ، السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام 😭😭 (از قلم مہتاب حیدر تھہیم) ❤️#سلام_یاحسینؑ❤️
اردو
9
21
54
3.8K
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
@m_Naeem_Mughal1 وہی منہ سے نکلے گا جو آپ کے منہ سے نکلا تھا۔۔۔ آپ کے اپنے والد کے مرنے پر۔
اردو
2
2
9
149
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
ایک صاحب حج کیلئے گئے۔ وہاں اتفاق سے بیمار ہوئے۔ باوجود علاج کے افاقہ نہ ہو رہا تھا۔ صحن مطاف میں بیٹھ کر اپنے دوست کو لاہور فون کیا۔ "یار اک دیگ داتا صاب تے چڑھا دے تے میرے آستے دعا کر کہ بیماری ختم ہو جاوے۔" یہ بھی اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں شاید۔ 🤦‍♂️😂🤦‍♂️ اب آتے ہیں اس کے دینی پہلو کی طرف۔ اللہ کا گھر جسے حضرت ابراہیم ع نے تعمیر کیا، لوگوں کو حج کیلئے بلایا، جس بلاوے پر آج بھی ہر مسلمان تلبیہ کہتے ہوئے جاتا ہے، مرکز ہے تمام روحانیت کا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں معصومین علیہم السلام جب کھڑے ہوتے تھے، تو خشک پتے کی طرح جسم زرد ہو جاتے اور کانپتے ہوئے عبادت کیا کرتے تھے۔یہ وہی مقام ہے جس کو رسول اللہ ص نے اپنا پسندیدہ ترین مقام قرار دیا۔یہ وہ گھر ہے جس کا طواف رسول اللہ ص بھی کیا کرتے تھے۔ اب اگر کوئی شخص شک میں مبتلاء ہو کر اس گھر کا رخ کرے تو وہاں سے وہ فیض بھی ویسا ہی حاصل کر پاتا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جب حج کر لو تو شک بھی مت کرو کہ کوئی گناہ باقی بچ گیا ہے۔ اللہ سب کو ہدایت دے۔ آمین لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَشَرِيْكَ لَكَ۔
اردو
15
16
57
3K
حیدر نقوی retweetledi
Nasir Kassi. ناصر کاسی
my tweet While everyone else was lamenting, commenting on how dangerous an Iran war could be, I stated that the war is already over. Trump is stuck and is looking for a safe exit to satisfy the American public. Trump is doing exactly that, and the terms will be set by Iran
Nasir Kassi. ناصر کاسی@nasir_kassi

Trump used the distraction to mask the Epstein files, but Iran’s strike stunned the US & Israel, who underestimated them. Trump’s now wary; the war’s over. He’ll avoid more folly, only keeping tensions high

English
3
6
10
354
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
"لسان اللہ" کی زبان مبارک سے ایسا ہی کلام صادر ہوتا ہے۔ ایک بار حضرت عمر رض کے دور میں مولا علی علیہ السلام طواف کر رہے تھے۔ایک اعرابی کو دیکھا جو خواتین کی طرف متوجہ تھا۔آپ ع نے منع فرمایا۔اگلے چکر میں اسے اسی رویہ کیساتھ دیکھا تو مولا ع نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا۔وہ روتا ہوا باہر گیا اور جناب عمر سے شکایت کی۔ جب معاملہ معلوم ہوا جناب عمر نے تاریخی الفاظ ادا کئے۔ "تجھے عین اللہ نے دیکھا، یداللہ نے سزا دی، اب عمر کیا کرے؟"
اردو
4
13
20
519
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
ہمارے نزدیک۔ حضرت ابراہیم (ع) عراق کے قدیم شہر "اُر" (Ur) میں پیدا ہوئے، جو کلدانیوں کی سرزمین بابل (Babylon) کے قریب تھا۔ آپ تقریبا چار ہزار سال قبل (تقریباً 2160 ق م) پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام (تاریخی روایات کے مطابق) تارخ تھا جبکہ آزر چچا کا نام تھا، اور آپ بت پرست معاشرے میں پیدا ہوئے۔ روایات کے مطابق، نمرود کو پیشگوئی کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی سلطنت کو ختم کر دے گا۔ اس ڈر سے نمرود نے تمام نومولود بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابراہیم (ع) کی والدہ نے آپ کو ایک غار میں چھپا کر پالا، جہاں آپ نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام گزارے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کی عمر دنوں میں ہفتوں اور ہفتوں میں دنوں کے حساب سے بڑھتی تھی، اور اللہ کے حکم سے غار میں ہی آپ کی پرورش ہوئی۔ یہ سب آپ کو قصص الانبیاء (حیات القلوب کی پہلی جلد) میں بھی ایسے ہی ملے گا۔
اردو
6
15
34
638
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
عربی کے کچھ قواعد رائج ہیں۔ عرب میں چچا کو بھی ابی کہا جاتا ہے، جب باپ نہ رہے۔خاندان کے سربراہ کے طور پر۔ اب یہ میں نے تفسیر اہلسنت سے لی ہے سورہ انعام وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةًۚ-اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(74) اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے فرمایا، کیا تم بتوں کو (اپنا) معبود بناتے ہو۔ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔ تفسیر : صراط الجنان { وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ: اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ سے فرمایا۔} یہ آیت مشرکینِ عرب پر حجت ہے جو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قابلِ تعظیم جانتے تھے اور اُن کی فضیلت کے معترف تھے انہیں دکھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت پرستی کو کتنا بڑا عیب اور گمراہی بتاتے ہیں اور اپنے چچا آزر سے فرما رہے ہیں کہ کیا تم بتوں کو اپنا معبود بناتے ہو؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔ تو جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بتوں سے اس قدر نفرت کرتے ہیں تو اے اہلِ مکہ! اگر تم ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کومانتے ہو تو تم بھی بت پرستی چھوڑ دو۔ اس میں ترجمہ لفظ سے لفظ کا کیا گیا ہے لیکن تفسیر میں اسے چچا لکھا ہے۔ دوسرا مسئلہ کہ میں نے اسے بلاک کیوں کیا؟ تو جناب ایسے شخص کو کہ جو فقط اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کیلئے غلط احادیث اور غلط تاویل کرے، اس سے بحث کرنا تو دور میں بات کرنا پسند نہیں کرتا۔ اس لنک👇 پر یہ تفسیر موجود ہے۔بلکہ کئی تفاسیر میں چچا ہی مذکور ہے۔ dawateislami.net/quran/surah-al…
Ahmed Raza@Raza156911Ahmed

واذ قال ابراہیم لابیہ آذر اتتخذو اصناما سورہ انعام 74 قرآن کہہ رہا ہے ابراہیم کا باپ آذر تھا ملاں ذاکر جھوٹ بول رہا ہے کذاب اور آپ اسے لاجواب کہہ رہی ہیں اس کو بولو مجھے انبلاک کرے یوں بچوں کو اپنی مرضی کے دلائل دینا مردانگی نہیں

اردو
5
11
27
1.2K
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
1۔ والنٹیرز بغیر قیادت اور نظم و ضبط کے بکھری ہوئی بھیڑوں کے مانند ہیں۔ 2۔ ہر ایک اپنے دماغ سے سوچتا ہے،سوچ ہمیشہ ذاتی تجزیہ پر منحصر ہوتی ہے،جبکہ تجزیہ اہلیت کا متقاضی ہے،جو سب کے پاس نہیں۔ 3۔ قیادت یا تو روپوش ہے یا پھر سمجھوتہ کر چکی۔دونوں صورتوں میں عام عوام میں مقبولیت کھو بیٹھی۔جن پر بھروسہ ہے،وہ قید میں ہیں یا پھر نظربند۔ 4۔ جو نوجوان میڈیا میں کردار ادا کر رہے ہیں،ان کے پاس بنیادی معلومات نہیں، اگر ہیں تو انہیں بیان کرنے کا ڈھنگ نہیں، نتیجہ اختلافات دشمنی میں بدل رہے ہیں۔ 5۔ ادارے کسی بھی ریاست کا بنیادی جزو ہوتے ہیں۔سیاسی وابستگیوں میں اداروں کو ہدف بنانا انتہائی غیرمناسب رویہ ہے۔شخصیات پر تنقید کرنا حق ہے،لیکن اداروں کو نشانہ بنانا مستقبل میں سب کیلئے نقصاندہ ہو گا۔ 6۔ غیر آئینی حکومت کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ کل ملک و قوم کا کیا ہو گا، وہ "آج" جی لینا چاہتے ہیں۔اس کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ یعنی کچھ بھی۔اس لئے عام ورکر بہت زیادہ غیر محفوظ ہے۔یہ حالات تشویشناک ہیں۔ 7۔ جو لوگ اس وقت بنیادی قیادت فراہم کر سکتے ہیں،وہ عام لوگ ہیں مگر ان کے پاس وسائل اور سامنا کرنے کیلئے مناسب قوت کی سخت کمی ہے۔ 8۔ سوشل میڈیا پر لگائے نعرے کبھی انقلاب نہیں لاتے۔یہ سوچ ہی غلط فہمی پر مبنی ہے۔میدان عمل میں نکلے بغیر یہ ناممکن ہے۔البتہ سوشل میڈیا کا استعمال فقط کوآرڈینیشن اور ذہن سازی تک محدود رکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ یہ چند بنیادی قیاسات اور مفروضہ جات ہیں مگر تجربہ کی بنیاد پر بہت اہم نکات خیال کرتا ہوں۔
اردو
7
9
14
269
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
سوال تو یہ ہونا چاہئیے تھا بھائی کہ اعلان نبوت سے بھی پہلے کون کون ایمان لا چکا تھا۔ جیسے جناب عبدالمطلب ع نے پہچان لیا اور دعاؤں میں توسل اختیار کیا۔ جناب ابوطالب ع، کہ جنہوں نے اپنے کاروبار کو بھی چھوڑا مگر محافظت پر آنچ نہ آنے دی۔ جناب ورقہ بن نوفل، کہ جنہوں نے خواہش ظاہر کی کہ کاش وہ مدد بھی کر پاتے، مگر موت نے مہلت نہ دی۔ جناب خدیجہ س ع، جنہوں نے اعلان سے پہلے ہی ایمان کا اظہار کیا۔ جناب امیرالمومنین علی ع سے کیا تقابل کہ انہیں اللہ نے اپنے علاوہ گواہ قرار دیا۔ ♥️
اردو
0
2
2
101
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
@KamranAshr83088 @MariaBalochPK تین سال تک صرف اقرباء میں دعوت ہوئی تو سب سے پہلے ایمان لانے والے اہل خاندان ہونگے۔ یہ مردوں، بچوں اور عورتوں میں الگ الگ کیوں لکھواتے ہیں؟ کوئی وجہ؟
اردو
1
2
2
96
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
حضرت ابوطالبً اپنے ساتھ ایک بچے کو لئے ہوئے باہر آئے جو سورج کی طرح درخشاں تھا۔ آپ کے گرد کئی بچے تھے، ابوطالب نے اس بچے کو گود میں لے کر اس کی پیٹھ کعبہ سے چسپاں کردی ،بچے نے آپ کی انگلی تھام لی۔ اور حضرت ابوطالب نے دعا مانگی کہ ائے محمد کے رب تجھے واسطہ ہے اس کریم کا کہ قحط نے تمام انس و جاں کو تباہ حال کر دیا ہے تو بارش برسا تاکہ قحط ختم ہو اس وقت آسمان پر بادل کا کہیں نشان تک نہ تھا، اچانک اس قدر بارش ہوئی کہ تمام قرب وجوار اور وادیاں جل تھل ہوگئیں ۔ ایسے میں ابوطالبؑ نے یہ اشعار کہے: وابیض یستسقی الغمام بوجھہ ثمالُ الیتامیٰ عصمة الارامل یلوذبہ الہلاّک من آل ہاشم فہم عندہ من نعمة فواضلِ و میزان عدل لا یخیس شعیرةً ووزان صدقٍ وزنہ غیر ہائلٍ ” وہ نورانی چہرہ جس کا واسطہ دے کر پانی طلب کیا جاتا ہے ، وہ یتیموں کا فریاد رس اور بیواؤں کی پناہ گاہ ہے، بنی ہاشم کے فقراء اسی کی پناہ حاصل کرتے ہیں اور اسی کے پاس ناز و نعمت کے لئے زیادہ جاتے ہیں، وہ عدالت کی ایسی میزان ہے جس کا وزن ایک بال کے برابر بھی خطا نہیں کرتا اور اس کا وزن سچا وزن ہے جس میں جھوٹا دعویٰ نہیں کیا گیا ہے” ۔ شہرستانی ”ملل ونحل” (جلد 2 صفحہ 249) حاشیہ کتاب”الفصل” (جلد 3 صفحہ 225) میں جناب عبد المطلب کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”وہ چیزیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ مقام رسالت اور شرف نبوت سے واقف تھے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب مکہ میں زبر دست قحط پڑا اور دوسال تک بارش نہیں ہوئی تو اپنے بیٹے ابو طالب کو حکم دیا کہ گہوارے میں موجود شیرخوار کو لے آئیں ۔ آپ انھیں اپنے دونوں ہاتھوں پر اٹھا کر کعبہ کے پاس آئے اور آسمان کی طرف بلند کر کے کہا: خدایا! اس بچے کے حق کی قسم اور۔ دوسری تیسر ی مرتبہ بھی آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا :خدا! اس بچے کے حق کی قسم ،ہم پر مسلسل اور موسلا دھار بارش کا نزول فرما۔تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ آسمان پر بادل چھا گئے اور بارش ہونے لگی یہاں تک کہ لوگ مسجد کے خراب ہونے سے خوفزدہ ہوگئے اس وقت ابوطالبً نے اپنا قصیدہ ٔ لامیہ (جس کے ہر شعر کے آخر میں لام ہے) پڑھا جس کامطلع ہے : وابیض یستسقی الغمام بوجہہ ثمال الیتامیٰ عصمة للارامل پھر اس قصیدے کے بقیہ اشعار نقل کئے ہیں۔ مختصر یہ کہ جناب حضرت ابوطالبؑ کے اشعار عرب کے مورخین اور ادباء دونوں نے اپنی اپنی کتابوں میں محفوظ رکھے ہیں۔ ان اشعار کا کتابوں اور عربوں کے درمیان محفوظ رہنا ان کے معیاری ہونے کی دلیل ہے۔ شاعر کا کلام نہ صرف یہ کہ اس کے عقیدہ کا پتہ دیتے ہیں بلکہ ان سے اس کے فکر کی بلندی کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ جناب حضرت ابوطالبؑ کے اشعار سے آپؑ کے موحّد اور موءمن ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ پیغمبرِ اکرم سے آپؑ کی محبت اور عقیدت مندی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهم❤️❣️❤
اردو
6
17
40
814
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
جنابِ حضرت ابوطالبً کے نعتیہ اشعار مومن آل ابراہیم، عمِ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم ،ناصرِ اسلام جنابِ حضرت ابوطالب علیہ الصلواۃ و السلام نے رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش اور حفاظت کے سلسلے میں جو خدمات انجام دی ہیں وہ ‘اپنی مثال آپ’ ہیں۔ بلکہ خود خلاق عالم رب العزت نے ان کی خدمات کا ذکر اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ سورۃ بلد اور سورۃ والضحیٰ کی تفاسیر میں جنابِ حضرت ابوطالبً کی نصرت و جاں نثاری کا ذکر ملتا ہے۔ آپؑ نے نہ صرف یہ کہ شمع نبوّت کی حفاظت کی بلکہ حضور پاک رحمتہ اللعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کی اس طرح پرورش فرمائی کہ قرآن کو کہنا پڑا “اٙلٙم یٙجِدکٙ یٙتِیمًا فاٰوٰی-(میرے حبیب) کیا ہم نے آپ کو یتیم پاکر آپ کی سرپرستی نہیں کی؟” جب حضور رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم نے مکہ کی سر زمین پر لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا شروع کیا تو مکہ کے تمام قبائل قریش کے چھوٹے بڑے سارے قبیلے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالف ہوگئے ۔ اس وقت جنابِ حضرت ابوطالبؑ نے ہی آپؐ کی پشت پناہی کی اور آپؐ کے ساتھ کھڑے رہے۔ انھیں کی قربانیاں تھیں جس نے شجر اسلام کو مرجھانے سے محفوظ رکھا۔ آنحضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کی پرورش سے لے کر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کی تبلیغ کے دوران اور پھر شعبِ ابوطالب میں ہر مقام پر جنابِ حضرت ابوطالبؑ کی خدمات نظر آتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جنابِ حضرت ابوطالبً اپنے بھتیجے سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ متعدد مواقع پر آپؑ نے اپنے بچوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال کر آنحضرتؐ کی جان حفاظت فرمائی۔ ان کی اس محبت کا اندازہ ان اشعار سے بھی ہوتا ہے جو آپ نے اپنے بھتیجے اور اس کے مشن کے لئے کہے ہیں۔ سرورِ کائنات کی شان میں جو مدحیہ اشعار جنابِ حضرت ابوطالبً نے ارشاد فرماے ہیں ان کا ذکر بہت سی شیعہ اور سنی کتابوں میں ملتا ہے ۔علامہ امینیؓ نے اپنی مشہور کتاب الغدیر کی آٹھویں جلد میں اہل تسنن کی کتابوں سے جنابِ حضرت ابوطالبً کے اشعار جمع کیے ہیں۔ انھوں نے اہل تسنن کی مندرجہ ذیل کتابوں سے جمع کر کے یہ ذخیرہ کیا ہے – تاریخ ابن کثیر، فتح الباری،بلوغ العرب،تاریخ ابو الفدا، سیرة النبوی، شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید وغیرہ۔ اس کتاب سے کچھ اشعار یہاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ وَ اللهِ لَنْ يَصِلُوْا إِلَيْكَ بِجَمْعِهِمْ حَتَّى أُوَسَّدَ فِي التُّرَابِ دَفِيْنًا قسم خدا کی (اے میرے بھتیجے) یہ کفّار تم تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میری پشت میری قبر کی مٹی سے نہ جا ملے اور مجھ کو زمین میں دفن نہیں کردیا جاے۔ فَاصْدَعْ بِأَامْرِكَ مَا عَلَيْكَ غَضَاضَةً وَ ابْشِرْ وَ قِرَّ بِذَاكَ مِنْهُ عُيُوْنًا. پس تم اپنے کام کو مکمل کرو اور کسی کا خوف نہ رکھو۔ اپنی تبلیغ سے لوگوں کو بشارت دیتے رہو اور اس کے ذریعے سے آنکھوں کو سرور اور ٹھنڈک پہنچاتے رہو۔ وَ دَعَوْتَنِيْ وَ زَعَمْتُ أَنَّكَ نَاصِحِيْ وَ لَقَدْ صَدَقْتَ وَ كُنْتَ قَبْلَ أَمِيْنًا. تم نے مجھے (اسلام کی)دعوت دی جس کی میں تصدیق کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم میری خیر چاہنے والے امین اور ناصح ہو۔ وَ لَقَدْ عَلِمْتُ أَانَّ دِيْنَ مُحَمَّدٍ مِنْ خیر ادیان البریة دیناً۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ جتنے بھی دین انسانوں میں موجود ہیں ان سب سے بہتر دین- محمّدؐ کا دین ہے۔ لَمْ تَعْلَمُوا أَنَّا وَجَدْنَا مُحَمَّداً نَبِيّاً كَمُوسَى خُطَّ فِي أَوَّلِ الْكُتُبِ. (اے قریش!) کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے محمّدؐ کو ویسا ہی نبی پایا ہے جیسے نبی موسیٰ تھے، اور ان کا بھی ذکر گزشتہ کتابوں میں موجود ہے۔ وَ أَنَّ عَلَيْهِ فِي الْعِبَادِ مَحَبَّةً وَ لاَ سِنَّ فِيْمَنْ خَصَّهُ اللهُ فِي الْحُبِّ. اور یہ کہ ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت ہے اور یہ محبت ہونا بھی چاہیے کیوں کہ اللّٰہ نے ان کو اپنی محبّت کے لیے چن لیا ہے۔ الغدیر- (جلد 8 علاّمہ امینی) خوش قسمتی سے ایک کتاب ‘دیوانِ ابوطالب’ کے نام سے اردو زبان کے ترجمہ میں بھی موجود ہے جس کو ڈاکٹر محمد التونجی نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے یہ شعر بطور نمونہ پیش کر رہے ہیں۔ اٙنتٙ الرّٙسُولُ رٙسُول اللّٰهِ نٙعلٙمُہ عٙلٙیکٙ نٙزٙل مِن ذِی العِزِّةِ الکُتُب ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ ہی رسول برحق ہیں،جسے خدا وند عالم نے مبعوث بہ رسالت فرمایا ہے اور اس عزت والے خدا نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے۔ اسی طرح دیگر مشہور کتابوں میں ان اشعار کا ذکر ہے۔ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ابن عرفطہ سے نقل کیا ہے: جب مکہ میں قحط پڑا، قریش نے حضرت ابوطالبً سے کہا کہ وادیاں سوکھ گئی ہیں ،ہم روٹی روٹی کو محتاج ہوگئے ہیں ۔ ہمارے ساتھ آیئے تاکہ نماز استسقاء پڑھیں۔ 👇👇
اردو
6
14
26
631
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
@irumrae پوری قوم کو یہ واقعی جاہل ہی سمجھتے ہیں کیا؟ میری تو لندن میں کیا، پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں۔۔۔۔۔ سے لیکر۔۔۔۔ بینک کی بغیر علم میں لائے بغیر ادائیگیوں تک۔۔۔ 😂😂
اردو
1
4
14
129
حیدر نقوی retweetledi
افتخار حیدر نقوی
اَلسَّــــــلَام عَلَــــــــــــيْكُمُ وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ صبح بخیر دوستو فرمان امیرالمومنین مولا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے.حد سے بڑھی ہوئی کاوش,جھگڑا لُو پن,کج روی اور اختلاف.تو جو بےجا تعمق و کاوش کرتا ہے, وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جو جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے, وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جو حق سے منہ موڑ لیتا ہے.وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جو حق کی خلاف ورزی کرتا ہے, اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے,شک کی بھی چار شاخیں ہیں,کٹھ حجتی خوف سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی.چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑ ے کو شیوہ بنالیا,اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا,وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جو شک و شبہہ میں سر گرداں رہتا ہے.اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کردیا.وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا۔ (اقتباس از نہج البلاغہ)
اردو
13
17
35
563