𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭
15.9K posts

𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭
@JuiFsd22
ادب کیجیے ہماری خاموشی کا!! آپ کی منافقت کو چھپائے پھرتے ہیں!! 💯
Lyallpur, Pakistan Katılım Ekim 2021
10K Takip Edilen9.2K Takipçiler
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi

اس دوران انڈیا نے ہمارے اوپر حملہ کیا، ہم نے دفاع کیا، جو قابل تحسین بات ہے۔ وہ نہ پہلے ہم نے چھپائی ہے نہ آج چھپاتے ہیں کہ پاکستان نے بہتر دفاعی کارکردگی دکھائی۔
لیکن ذرا آگے تو پڑھیے جب جنگ شروع ہوئی تو وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جو پہلا بیان جاری کیا وہ یہ تھا کہ یہ انڈیا پاکستان کا باہم معاملہ ہے ہم اس میں مداخلت نہیں کریں گے، ان کی رپورٹس یہ تھی کہ انڈیا بہت طاقتور ہے اور اگر پاکستان کو وہ لپیٹ لے تو امریکہ اور مغرب کا کچھ نہیں جارہا، وہ ہندوستان کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدے کر رہا تھا اور پاکستان کے بارے میں کہا کہ یہ آپس میں لڑ رہے ہیں، لڑنے دو، پھر نریندر مودی کی درخواست پر امریکہ نے مداخلت کی، پھر جنگ بند ہوئی، پھر کہا میں نے انڈیا پاکستان کی جنگ بند کرائی ہے، کس کے درخواست پہ کی ہے؟ کیوں کی ہے؟ ان ساری چیزوں کا ادراک کیوں نہیں کیا جارہا؟ اور پھر ہم نے کہا کہ ٹرمپ صاحب کو امن نوبل انعام ملنا چاہیے، ایک طرف ستر ہزار شہداء، فلسطین کے شہدہ ہیں، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ زخمی ہیں، اتنے ہی بے گھر ہو چکے ہیں، طاقت کے زور پر ایک پورے مسلمان ملک پر قبضہ کیا جارہا ہے، اسرائیل کو مکمل تعاون دیا گیا، اس کو اسلحے کی سپورٹ دی گئی، وہ جنگ بڑھتے بڑھتے ہمارے ایران تک پہنچ گئی۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب
اردو
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi

ایوان میں سنسرشپ کی بدترین مثال
قائدجمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب اپنی پارٹی رہنماؤں کی شہادت اور قربانیوں کا ذکر کررہے تھےکہ اچانک انکی آواز غائب ہوگئی،
مولانا صاحب کی تقریر کے دوران یوٹیوب پر کارروائی بھی لائیو دکھانا بند کردی گئی اور پارلیمان میں لگی سکرین پر جو تقریر چل رہی تھی اس کی آواز وقتا فوقتا بند کردی جاتی۔
#ریاست_یا_سوتیلی_ماں

اردو
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi

مولانا کی سپورٹ کی ایک وجہ یہ بھی کہ مولانا کبھی فتنہ اور انتشار نہی پھیلاتے ان کی جماعت کا ایک بہت بڑا عالم شہید ہوا بہت لوگ دکھی تھے جزباتی ماحول تھا مگر مولانا نے اس موقع پر خارج اور دہشت گرد طالبان کو للکارا ہے آپ یہ لازمی سنیں
مولانا نے کہا کہ تم مجاہد نہیں بھگوڑے ہو،تمہھاری حیثیت بھگوڑوں کی ہے شرم نہیں آتی پاکستان کے لاکھوں علماء اسلام کو نہیں سمجھتے اور تم چند بھگوڑے اسلام کو سمجھتے ہو پاکستان کے علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا شرعا جائز نہیں ہے
مولانا فضل الرحمن نے خوارج کو طالبان دہشت گردوں کو مرتد، بھگوڑے، جاہل اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا گر کسی عمل سے پاکستان کا امیج بہتر ہوتا ہے تو اس عمل کی تعریف کرتے رہینگے
اردو
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi

حضرت شیخ دنیا سے چلے گئے ہیں اور امن کی تلاش میں بدامنی کا شکار ہو گئے ,انہوں نے پوری زندگی قوم ،ملک اور امت کو امن دینے کے لیے جدوجہد میں گزاری لیکن آج وہ خود سفاکیت اور بربریت کا شکار ہو گئے ۔
انہوں نے شہادت کا اعلیٰ مقامِ پا لیا ۔
مجھے اللہ پر اعتماد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مجرموں ، سفاکوں اور قاتلوں کو ضرور کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
ہم حکمرانوں اور ذمہ دار اداروں سے پُرزور انداز میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مفت کی تنخواہیں نہ لیں۔ ان کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ ہمارے شہید کے قاتلوں اور مجرموں کو تلاش کریں، انہیں منظرِ عام پر لا کر کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔
آج پورے ملک میں ہماری صوبائی جماعتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں مظاہرے کیے ہیں، لیکن میں بحیثیتِ امیر اعلان کرتا ہوں کہ آنے والے جمعہ المبارک کو، ان شاء اللہ، نمازِ جمعہ کے بعد پورے ملک میں تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز اور صوبائی ہیڈکوارٹرز پر زبردست مظاہرے کیے جائیں گے۔
میں ان شاء اللہ 14 مئی کو کراچی میں ایک بڑے جلسۂ عام میں شرکت کروں گا، اور ہم آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان اس جلسے میں کریں گے۔
ہم نے اس ملک کو بچایا، پاکستان آج اگر قائم ہے تو علماء ،جمعیت علماء کے موقف ،وفاق المدارس العربیہ اور ہمارے دینی مدارس کی وجہ سے قائم ہے، تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی وجہ سے قائم ہے۔
ہم پاکستان کے آئین، پاکستان کے قانون اور پاکستان کے پرامن نظام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئی بھی اسلحے کی سیاست نہیں کر رہا ،کوئی بھی بغاوت نہیں کر رہا۔ ہم قربانیاں دے رہے ہیں، ہماری لاشیں اٹھ رہی ہیں اسی پاداش میں۔
میں نے باجوڑ میں ایک ہی جلسے کے اندر اسی 80 جنازے اٹھائے ہیں۔ ہم نے وزیرستان کےجید علماء کرام ذمہ دار علماء کرام کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم نے قبائلی علاقوں میں اور ملک کے اندر یہ قربانیاں دی ہیں۔
ہم نے مولانا حسن جان جیسے ایک انتہائی شریف النفس اور امن کے طلبگار استاد کی قربانی دی ہے۔ ہم نے اپنے پارلیمنٹیرین مولانا معراج الدین کی وربانیہ دی ہے۔ ہم نے مولانا نور محمد، جو ہمارے پارلیمنٹ کے اندر تھے، ان کی قربانی دی ہے۔
کتنے علماء کرام ہیں، کراچی سے لے کر باجوڑ تک، جو اس ملک کے لیے شہید ہوئے ہیں، اللہ کے دین کا نام لیتے ہوئے، جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ کیا گناہ ہے ان لوگوں کا، سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے دین کی سربلندی چاہتے تھے اور پرامن جدوجہد کر رہے تھے۔
یہ لوگ ہمیں مشتعل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جو جید علماء کرام کی شہادتیں ہیں، یہ ہمارے پُرامن راستے کو خون آلود راستے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے رنگنا نہیں چاہتے۔ ہم امن کے داعی ہیں، امن کا پرچم بلند رکھتے ہیں۔
وَكُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ
جب بھی ان بدامنی پھیلانے والوں نے جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی، اللہ نے اسے بجھا دیا۔
یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کا طرزِ عمل اسرائیل اور صہیونیوں جیسا ہے۔ اگر مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، افغانستان میں، پاکستان میں، تو یہ امتِ مسلمہ کا طریقہ نہیں ہے۔
ہمیں استقامت کے ساتھ اپنے اکابر کے راستے پر چلنا ہے۔ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی محمود کو مرتد کہتے ہہیں ؟ اکابر علماء کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا عبدالحق کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ حضرت درخواستی کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا احمد علی لاہوری کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کو مرتد کہتے ہیں؟
ان کو مرتد کہنا اپنے آپ کو مرتد کہنا اور مرتد قرار دینا ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کو مرتد کہنا علماء کرام کو مرتد کہنا دلیل ہے کہ تم قاتل اور مرتد ہو۔تمہارا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں
ہم تمہارا راستہ نہیں اپنائیں گے۔ جو تمہارے راستے پر جائے گا وہ اسلام کا مجرم ہوگا، وہ رسول اللہ ﷺ کا مجرم ہوگا، وہ اللہ کا مجرم ہوگا۔ تم ان باتوں سے ہمیں گمراہ نہیں کرسکتے ۔
ہم اس وطن سے محبت کرتے ہیں، ہم اس وطن سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں، اور ہم اپنے وطن کو اسلام ،امن کا گہوارہ اور دینِ اسلام کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔
اختلافِ رائے ہوتو مکالمہ ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے کریں لیکن یہ کون سا دین ہے کہ اختلافِ رائے پر کسی کو قتل کر دیا جائے؟
اگر کسی عمل سے پاکستان کا امیج بہتر ہوتا ہے تو ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ،ہم اس کی تعریف کریں گے، لیکن یہ جہالت ہے، اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی تعزیتی اجتماع سے خطاب
اردو
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi
𝐍𝐚𝐣𝐞𝐞𝐛 𝐔𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐌𝐚𝐫𝐰𝐚𝐭 retweetledi






