live with khawar yousaf

2K posts

live with khawar yousaf banner
live with khawar yousaf

live with khawar yousaf

@KhawarLive

USA TV Anchor & Political Commentator Host: “Live with Khawar Yousaf” (Sun & Wed, 10 PM PKT) Politics, policy and the people who shape them

Los Angeles, CA Katılım Ekim 2019
5.5K Takip Edilen2.4K Takipçiler
live with khawar yousaf
صحافت کا نام جذباتیت نہیں بلکہ زمینی حقائق کا ادراک ہے۔ یہ کہنا کہ ایک ہی شخص کے پاس جادو کی چھڑی ہے جو جنگ بھی روک دے گا اور معیشت بھی ٹھیک کر دے گا، ایک عام سڑک پر چلنے والے شخص کی سادہ لوحی تو ہو سکتی ہے، لیکن ایک سنجیدہ تجزیہ کار کی سوچ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ: • معیشت کسی ایک فرد کی رہائی سے نہیں بلکہ طویل مدتی پالیسیوں اور استحکام سے جڑی ہے۔ • عالمی جنگیں اور تنازعات پیچیدہ جیو پولیٹکس کا نتیجہ ہوتے ہیں، جنہیں حل کرنے کے لیے صرف بیانیے نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے جوابات عوامی واہ واہ سمیٹنے کے لیے تو اچھے ہیں، لیکن ان میں وہ گہرائی اور فکر مفقود ہے جس کی توقع ایک سینئر صحافی سے کی جاتی ہے۔"
اردو
0
0
0
8
Kashif Baloch
Kashif Baloch@Skiper786·
اگر آپ کو تین آپشنز دیئے جائیں کہ جنگ بندی کروا دیں عمران خان کو رہا کریں یا معیشت ٹھیک کر دیں تو آپ کیا کریں گے؟ ثمینہ پاشا کا سوال میں عمران خان کو رہا کر دوں گا وہ جنگ بھی رکوا دے گا اور اکانومی بھی ٹھیک کر دے گا اطہر کاظمی کا جواب 🔥
اردو
113
2.9K
9.4K
98.6K
live with khawar yousaf
live with khawar yousaf@KhawarLive·
Public support can’t always be measured just by rally attendance. Many people avoid protests due to safety, work, or other constraints. A fair way to judge popularity is through transparent elections and open public opinion, not just crowd size. If there’s real support, it will show when people can express it freely.
English
0
0
0
9
چوہدری شاہد محمود
قوم یوتھ کہتی ھے خان آج بھی پاپولر ھے۔ عوام اسکی رہائی چاہتی ھے۔ جبکہ احتجاج اور جلسوں میں لوگ بلکل نہیں آتے۔ چلیں آج ایک پول کر لیتے ہیں، آپ لوگ پوری ایمانداری سے جواب دینا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کپتان رہا ہو جائے؟؟
چوہدری شاہد محمود tweet media
اردو
678
103
530
17.9K
live with khawar yousaf
live with khawar yousaf@KhawarLive·
Khawar Yousaf, riding on a horse, is a symbol of determination and adventure. There’s something timeless about it—the wind in his hair, the horizon open wide, and the steady rhythm of hooves beneath him. Whether it’s a metaphor for facing life’s challenges or simply embracing a bold journey, there’s something inspiring about seeing him riding forward, filled with purpose and confidence.
live with khawar yousaf tweet media
English
0
0
0
52
live with khawar yousaf
live with khawar yousaf@KhawarLive·
Hook: "کیا اسلام آباد دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا سکے گا؟" (Can Islamabad save the world from World War III?) Main Title: Iran-USA Peace Talks in Islamabad: The Inside Story Call to Action: "آج رات 10 بجے میرے ساتھ لائیو جڑیں" (Join me live tonight at 10 PM)
live with khawar yousaf tweet media
0
0
0
80
live with khawar yousaf
live with khawar yousaf@KhawarLive·
@RABBANImasood Yeah bro, especially in Pakistan journalism is on another level of pressure. Between censorship, political influence, and safety risks, it’s not easy for journalists to speak freely. Respect to those still trying to report the truth despite everything.
English
0
0
0
13
live with khawar yousaf
live with khawar yousaf@KhawarLive·
متنازعہ انٹرویو اور صحافتی ذمہ داری: ایک اہم سبق حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک انٹرویو نے نہ صرف عوامی توجہ حاصل کی بلکہ صحافت کے اصولوں پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس انٹرویو میں ایک معروف اداکارہ اور ایک میزبان کے درمیان ہونے والی گفتگو نے کئی لوگوں کو حیران کیا، خاص طور پر اس وجہ سے کہ سوالات کا رخ ذاتی اور نجی معاملات کی طرف جاتا دکھائی دیا۔ ایک اچھے صحافی کی پہچان صرف سوال پوچھنا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کس حد تک اخلاقیات اور احترام کو مدِنظر رکھتا ہے۔ کسی بھی فرد، خصوصاً ایک خاتون، کی نجی زندگی کو اس انداز میں موضوعِ بحث بنانا جس سے اس کی عزتِ نفس متاثر ہو، صحافتی اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اسی پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ آزادیٔ اظہار کے ساتھ ساتھ ذمہ داری اور حساسیت بھی بے حد ضروری ہے۔ اس انٹرویو کا ایک مثبت پہلو اداکارہ کا رویہ بھی ہے، جنہوں نے نہایت تحمل، وقار اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ مشکل اور غیر آرام دہ سوالات کے باوجود ان کا پُرسکون انداز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی بھی صورتحال کو عزت اور سنجیدگی سے کیسے سنبھالا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ میڈیا کے لیے ایک سبق ہے کہ سنسنی خیزی اور توجہ حاصل کرنے کی دوڑ میں بنیادی اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ صحافت کا اصل مقصد سچائی کو سامنے لانا اور معاشرے کی رہنمائی کرنا ہے، نہ کہ کسی کی ذاتی زندگی کو متنازعہ بنا کر پیش کرنا۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ میڈیا کا کردار کتنا اہم اور حساس ہے۔ اگر صحافت اپنی حدود میں رہ کر کام کرے تو نہ صرف معاشرے کا اعتماد بحال رہتا ہے بلکہ ایک مثبت اور مہذب ماحول بھی پروان چڑھتا ہے
live with khawar yousaf tweet media
اردو
1
0
2
80
live with khawar yousaf
live with khawar yousaf@KhawarLive·
I understand your point, and it makes sense. Journalism really shouldn’t be based on speculation, and highlighting principles is important—especially when someone may not be fully aware of them. I think tone matters just as much as the message so that it’s received in the right way. And yes, being a journalist definitely isn’t easy.
English
1
0
0
30
Rabbani MASOOD
Rabbani MASOOD@RABBANImasood·
@KhawarLive You’re right this isn’t hidden, I only hinted at it. Journalism shouldn’t rely on speculation. I’m not targeting anyone personally, just highlighting the principles since he seems unaware. After all being a journalist isn’t easy.
English
1
0
0
67
live with khawar yousaf
live with khawar yousaf@KhawarLive·
I get what you’re saying, but let’s not jump to conclusions without solid facts. If there are real concerns about someone’s actions behind the scenes, those should be addressed with proper evidence and responsible questioning—not just speculation. That’s what good journalism is supposed to be about.
English
1
1
1
20
Rabbani MASOOD
Rabbani MASOOD@RABBANImasood·
@KhawarLive بھائی اگر پروفیشنل صحافی ہو تو یہی سوال تو ان صاحب سے بنتے تھے چلیں وہ عورت تو اسی کام میں مصروف ہے یہ صاحب بھی پسِ پردہ کیا کیا گل کھلاتے ہیں توبہ توبہ
اردو
1
0
0
48
live with khawar yousaf
live with khawar yousaf@KhawarLive·
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر عالمی سیاست کا اہم موضوع بن چکی ہے۔ حالیہ پیش رفت میں امریکہ نے ایک سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے مذاکرات پر آمادہ ہونے کا انتظار کرے گا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب مزید رعایت دینے کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دوسری جانب ایران کی خاموشی اور غیر یقینی رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر کسی معاہدے کی طرف بڑھنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ ممکنہ طور پر بہتر شرائط کے حصول کے لیے وقت لے رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کو بڑھایا ہے بلکہ پورے خطے میں بے چینی کی فضا بھی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ تعطل طویل ہو گیا تو اس کے اثرات عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈی، پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں سفارتکاری ہی واحد راستہ دکھائی دیتی ہے، تاہم دونوں فریقوں کی ضد اور سخت رویہ اس عمل کو مشکل بنا رہا ہے، جس سے یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے
live with khawar yousaf tweet media
اردو
0
0
0
42